سورہ واقعہ

ویکی شیعہ سے
رحمن سورۂ واقعہ حدید
ترتیب کتابت: 56
پارہ : 27
نزول
ترتیب نزول: 48
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 96
الفاظ: 370
حروف: 1756

سورہ واقعہ قرآن مجید کی 56ویں سورت جس کا شمار مکی سورتوں میں ہوتا ہے اور قرآن مجید کے 27ویں پارے میں واقع ہے۔ «واقعہ» قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے جو اس سورت کی پہلی آیت میں آیا ہے۔ سورہ واقعہ میں قیامت کے دن اور اس کے واقعات کے بارے میں تذکرہ ہوا ہے۔ اور قیامت کے دن لوگوں کو تین گروہ؛ اصحاب یمین، اصحاب شِمال اور سابقون میں تقسیم کیا ہے اور ان کے مقام اور انکا ثواب یا عقاب کے بارے میں بھی تذکرہ کیا ہے۔ تفاسیر میں تیسرا گروہ (سابقون) سے مراد امام علیؑ لیا ہے جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ پر ایمان لانے میں دوسروں پر سبقت لی۔ اس سورت کی تلاوت کے بارے میں بہت ساری فضائل بیان ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کسی نے سورہ واقعہ کی تلاوت کی تو اس کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ غافلوں میں سے نہیں ہے۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو واقعہ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے اور اس سورت کی پہلی آیت میں یہ لفظ آیا ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ واقعہ مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی 44ویں سورت ہے جبکہ قرآن مجید کے موجودہ مصحف میں 56ویں سورت قرار پائی ہے[2] اور قرآن مجید کے 27ویں پارے میں واقع ہوئی ہے۔

  • آیات اور کلمات کی تعداد

سورہ واقعہ میں 96 آیات، 370 کلمات اور 1765 حروف پائے جاتے ہیں۔ اور حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے۔[3]

مضمون

سورہ واقعہ میں قیامت کے دن لوگوں کا دوبارہ زندہ ہونا بیان ہوا ہے۔ شروع میں قیامت کے بعض واقعات جیسے زمین کی حالت دگرگون ہونا، زمین پر زلزلہ اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونے کا ذکر ہوا ہے اور پھر لوگوں کو تین گروہ سابقون، اصحاب يمين اور اصحاب شِمال میں تقسیم کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کا انجام بھی بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد، الله کی ربوبیت، معاد اور قرآن مجید کے منکر؛ اصحاب شمال کے خلاف استدلال کرتے ہوئے سورت کے آخر میں احتضار کی حالت اور موت آنے کی یادآوری کی گئی ہے۔[4]

سورہ واقعہ کے مضامین[5]
 
 
 
 
قیامت حتمی ہونے اور انسانوں کا انجام مختلف ہونے کو ثابت کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نتیجہ: آیہ ۹۵-۹۶
قیامت کی حقانیت میں کوئی تردید نہیں
 
دوسرا گفتار: آیہ ۵۷-۹۴
قیامت ہونے کی دلائل اور انسانوں کو سزا
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۵۶
قیامت کے انسانوں کا تین گروہ میں تقسیم ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی دلیل: آیہ ۵۷-۶۲
انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے میں ان کے خالق کی قدرت
 
مقدمہ: آیہ ۱-۱۰
قیامت کے دن لوگوں کا تین گروہ میں تقسیم ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری دلیل: آیہ ۶۳-۸۰
قیامت ہونا انسانی زندگی میں اللہ کی ربوبیت کا لازمہ ہے
 
پہلا گروہ: آیہ ۱۱-۲۶
اللہ کے درگاہ کے مقرب بندوں کا اجر
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری دلیل: آیہ ۸۱-۹۴
انسانی موت کو روکنا ناممکن ہونا
 
دوسرا گروہ: آیہ ۲۷-۴۰
سعادتمند لوگوں کا اجر؛ اصاحب یمین
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گروہ: آیہ ۴۱-۵۶
بدبخت بوگوں کی سزا؛ اصحاب شمال

سابقون سے مراد

تفصیلی مضمون: سابقون
سورہ واقعہ کی 7ویں سے 10ویں آیت تک کی آیات مشہور آیات میں سے ہیں جن میں قیامت کے دن لوگوں کو تین گروہ میں تقسیم کیا ہے اور دسویں آیت میں تیسرے گروہ کا دو بار ذکر کیا ہے: «السابقون السابقون»
اس آیت کے بارے میں مفسروں کے درمیان بہت بحث ہوئی ہے۔[6] سیدمحمدحسین طباطبایی قرآن مجید کی دوسری دو آیات سے یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ پہلے «سابقون» سے مراد نیک کاموں میں سبقت لینے والے اور دوسرے «سابقون» سے مراد اللہ تعالی کی مغفرت تک پہنچنے میں سبقت لینے والے ہیں؛ کیونکہ نیک کاموں میں سبقت لینا اللہ تعالی کی مغفرت میں سبقت لینے کے باعث بنتا ہے۔[7]اسی طرح کہا گیا ہے کہ سابقون سے مراد امام علیؑ ہیں جنہوں نے رسول اللہ پر ایمان لانے میں دوسروں پر سبقت لی ہے۔[8]

فضیلت اور خصوصیات

سورہ واقعہ کی فضیلت اور خصوصیات میں بہت ساری باتیں بیان ہوئی ہیں؛ تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص سورہ واقعہ کی تلاوت کرے تو اس کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ غافلوں میں سے نہیں ہے۔[9] اسی طرح روایات میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ جو کوئی سورہ واقعہ کی تلاوت کرے گا کبھی وہ فقر اور تنگدسی میں مبتلا نہیں ہوگا۔[10]امام صادقؑ کی ایک حدیث کے مطابق سورہ واقعہ امیرالمومنینؑ کی سورت ہے جو بھی اس سورت کو پڑھے گا وہ ان کے دوستوں میں سے ہوگا۔[11]

متن اور ترجمہ

سورہ واقعہ
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ﴿1﴾ لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ﴿2﴾ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ ﴿3﴾ إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا ﴿4﴾ وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ﴿5﴾ فَكَانَتْ هَبَاء مُّنبَثًّا ﴿6﴾ وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً ﴿7﴾ فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ ﴿8﴾ وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ﴿9﴾ وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ ﴿10﴾ أُوْلَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ﴿11﴾ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ ﴿12﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿13﴾ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ﴿14﴾ عَلَى سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ﴿15﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ﴿16﴾ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ ﴿17﴾ بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ ﴿18﴾ لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ ﴿19﴾ وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ ﴿20﴾ وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ ﴿21﴾ وَحُورٌ عِينٌ ﴿22﴾ كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ ﴿23﴾ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿24﴾ لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ﴿25﴾ إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا ﴿26﴾ وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ ﴿27﴾ فِي سِدْرٍ مَّخْضُودٍ ﴿28﴾ وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ ﴿29﴾ وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ ﴿30﴾ وَمَاء مَّسْكُوبٍ ﴿31﴾ وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ ﴿32﴾ لَّا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ ﴿33﴾ وَفُرُشٍ مَّرْفُوعَةٍ ﴿34﴾ إِنَّا أَنشَأْنَاهُنَّ إِنشَاء ﴿35﴾ فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا ﴿36﴾ عُرُبًا أَتْرَابًا ﴿37﴾ لِّأَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿38﴾ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿39﴾ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ﴿40﴾ وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ﴿41﴾ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ﴿42﴾ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ﴿43﴾ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ﴿44﴾ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُتْرَفِينَ ﴿45﴾ وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ﴿46﴾ وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿47﴾ أَوَ آبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿48﴾ قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ﴿49﴾ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ ﴿50﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ﴿51﴾ لَآكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ ﴿52﴾ فَمَالِؤُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ﴿53﴾ فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ﴿54﴾ فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ ﴿55﴾ هَذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ﴿56﴾ نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ﴿57﴾ أَفَرَأَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ﴿58﴾ أَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ ﴿59﴾ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ ﴿60﴾ عَلَى أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿61﴾ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَى فَلَوْلَا تَذكَّرُونَ ﴿62﴾ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ﴿63﴾ أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ ﴿64﴾ لَوْ نَشَاء لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ ﴿65﴾ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ﴿66﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ﴿67﴾ أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاء الَّذِي تَشْرَبُونَ ﴿68﴾ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ ﴿69﴾ لَوْ نَشَاء جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ ﴿70﴾ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ ﴿71﴾ أَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنشِؤُونَ ﴿72﴾ نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِّلْمُقْوِينَ ﴿73﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿74﴾ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ﴿75﴾ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ﴿76﴾ إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ﴿77﴾ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ﴿78﴾ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ﴿79﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿80﴾ أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿81﴾ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ﴿82﴾ فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿83﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ﴿84﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿85﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿86﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿87﴾ فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿88﴾ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ ﴿89﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿90﴾ فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ ﴿91﴾ وَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ ﴿92﴾ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيمٍ ﴿93﴾ وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ ﴿94﴾ إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ﴿95﴾ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ﴿96﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جب واقعہ ہو نے والی (قیامت) واقع ہو جائے گی۔ (1) جس کے واقع ہو نے میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ (2) وہ (کسی کو) پست کرنے والی اور (کسی کو) بلند کرنے والی ہوگی۔ (3) جب زمین بالکل ہلا ڈالی جائے گی۔ (4) اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ (5) (اور) پراگندہ غبار کی طرح ہو جائیں گے۔ (6) اورتم لوگ تین قسم کے ہو جاؤ گے۔ (7) پس (ایک قِسم) دائیں ہاتھ والوں کی ہوگی وہ دائیں ہاتھ والے کیا اچھے ہیں؟ (8) اور(دوسری قِسم) بائیں ہاتھ والوں کی ہوگی اور بائیں ہاتھ والے کیا برے ہیں؟ (9) اور (تیسری قِسم) سبقت کرنے والوں کی ہوگی وہ تو سبقت کرنے والے ہی ہیں۔ (10) وہی لوگ خاص مقرب (بارگاہ) ہیں۔ (11) (یہ لوگ) عیش و آرام کے باغوں میں ہوں گے۔ (12) ان کی بڑی جماعت اگلوں میں سے ہوگی۔ (13) اور بہت تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔ (14) مرصع تختوں پر تکیہ لگائے۔ (15) آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ (16) ان کے پاس ایسے غلمان (نوخیز لڑکے) ہوں گے جو ہمیشہ غلمان ہی رہیں گے۔ (17) (شرابِ طہور سے بھرے ہو ئے) آبخورے، آفتابے اور پاک و صاف شراب کے پیالے (یعنی جام، صراحی سبو و ساغر) لئے گردش کر رہے ہوں گے۔ (18) جس سے نہ دردِ سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا۔ (19) اور وہ (غلمان) طرح طرح کے پھل پیش کریں گے وہ جسے چاہیں چن لیں۔ (20) اور پرندوں پرندوں کے گوشت بھی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ (21) (اور ان کیلئے) گوری رنگت والی غزال چشم حوریں بھی ہوں گی۔ (22) جو چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی طرح (حسین) ہوں گی۔ (23) یہ سب کچھ ان کے ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔ (24) وہ اس میں کوئی فضول اور گناہ والی بات نہیں سنیں گے۔ (25) مگر صرف سلام و دعا کی آواز آئے گی۔ (26) اور وہ دائیں ہاتھ والے اور وہ دائیں والے کیا اچھے ہیں۔ (27) وہ ایسی بیری کے درختوں میں ہوں گے جن میں کانٹے نہیں ہوں گے۔ (28) اورتہہ بہ تہہ کیلوں میں۔ (29) اور (دور تک) پھیلے ہوئے سایوں میں۔ (30) اور بہتے ہوئے پانی میں۔ (31) اور بہت سے پھلوں میں۔ (32) جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ کوئی روک ٹوک ہوگی۔ (33) اور اونچے بچھونوں پر ہوں گے۔ (34) ہم نے (حوروں) کو خاص نئے سرے سے پیدا کیا ہے۔ (35) پھر ان کو کنواریاں بنایا ہے۔ (36) (اور) پیار کرنے والیاں اور ہم عمر ہیں۔ (37) یہ سب نعمتیں دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔ (38) ایک بڑی جماعت اگلوں میں سے۔ (39) اور ایک بڑی جماعت پچھلوں میں سے ہے۔ (40) اور بائیں ہاتھ والے اور کیا برے ہیں بائیں ہاتھ والے۔ (41) وہ لو کی لپٹ (سخت تپش) اور کھولتے ہوئے پانی۔ (42) اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔ (43) جو نہ ٹھنڈا ہوگااور نہ نفع بخش۔ (44) (کیونکہ) وہ اس سے پہلے (دنیا میں) خوشحال (اور عیش و عشرت میں) تھے۔ (45) اور وہ بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ (46) اور کہتے تھے کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) اور کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی (اٹھائے جائیں گے؟) (48) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ بےشک اگلے اور پچھلے۔ (49) سب ایک دن کے مقرروقت پر اکٹھے کئے جائیں گے۔ (50) پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو۔ (51) تم (تلخ ترین درخت) زقوم سے کھاؤ گے۔ (52) اور اسی سے (اپنے) پیٹ بھرو گے۔ (53) اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی پیو گے۔ (54) جس طرح سخت پیاسے اونٹ (بےتحاشا) پانی پیتے ہیں۔ (55) جزا و سزا کے دن یہ ان کی مہمانی ہوگی۔ (56) ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے پھر تم (قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے؟ (57) کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔ (58) کیا تم اسے(آدمی بنا کر) پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے و الے ہیں۔ (59) ہم نے ہی تمہارے درمیان موت (کا نظام) مقرر کیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں۔ (60) کہ ہم تمہاری جگہ تم جیسے اور لوگ پیدا کر دیں اور تم کو ایسی صورت میں (یا ایسے عالَم میں) پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے۔ (61) اور تم (اپنی) پہلی پیدائش کو تو جانتے ہی ہو پھر نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟ (62) کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ تم جو کچھ (بیج) بوتے ہو۔ (63) کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ (64) اگر ہم چاہیں تو اس (پیداوار) کو (خشک کر کے) چُورا چُورا کر دیں تو تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ (65) کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ (66) بلکہ ہم بالکل محروم ہو گئے۔ (67) کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو۔ (68) کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم (اس کے) اتارنے والے ہیں؟ (69) اگر ہم چاہتے تو اسے سخت بھاری بنا دیتے پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے؟ (70) کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔ (71) آیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔ (72) ہم نے ہی اسے یاددہانی کا ذریعہ اور مسافروں کیلئے فائدہ کی چیز بنایا ہے۔ (73) پس تم اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔ (74) پس میں ستاروں کے (ڈو بنے کے) مقامات کی قَسم کھاتا ہوں۔ (75) اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قَسم ہے۔ (76) بےشک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے۔ (77) نگاہوں سے پوشیدہ ایک کتاب کے اندر ہے۔ (78) اسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا۔ (79) یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ (80) کیا تم اس کتاب سے بےاعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور تم نے اپنے حصہ کی روزی یہی قرار دی ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو۔ (82) (اگر تم کسی کے محکوم نہیں) تو جب (مرنے والے کی) روح حلق تک پہنچ جاتی ہے۔ (83) اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔ (84) اور اس وقت ہم تم سے زیادہ مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھتے نہیں۔ (85) پس اگر تمہیں کوئی جزا و سزا ملنے والی نہیں ہے۔ (86) تو پھر اس (روح) کو کیوں واپس لوٹا نہیں لیتے اگر تم (اس انکار میں) سچے ہو۔ (87) پس اگر وہ (مرنے والا) مقربین میں سے ہے۔ (88) تو اس کے لئے راحت، خوشبودار عذاب اور نعمت بھری جنت ہے۔ (89) اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہے (تواس سے کہا جاتا ہے)۔ (90) تمہارے لئے سلامتی ہو تو اصحاب الیمین میں سے ہے۔ (91) اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔ (92) تو پھر اس کی مہمانی کھولتے ہوئے پانی سے ہوگی۔ (93) اور دوزخ کی تپش (اور) اس میں داخلہ ہے۔ (94) (جو کچھ بیان ہوا) بےشک یہ حق الیقین (قطعی حق) ہے۔ (95) پس اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔ (96)

پچھلی سورت: سورہ رحمن سورہ واقعہ اگلی سورت:سورہ حدید

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۶ش، ج۲، ص۱۲۵۴.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  3. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۶ش، ج۲، ص۱۲۵۴.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۱۵.
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش
  6. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۱۷.
  7. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۱۷.
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۱۷.
  9. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۳۲۱.
  10. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۳۲۱.
  11. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۷.

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، بہ کوشش بہاء الدین خرم شاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷شمسی ہجری۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم، دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ھ.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ھ.
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔

بیرونی روابط

سورہ واقعہ کی تلاوت