سورہ قدر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
علق سورۂ قدر بینہ
سوره قدر.jpg
ترتیب کتابت: 97
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 25
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 5
الفاظ: 30
حروف: 114

سورہ قدر [سُوْرَةُ الْقَدْرِ] کو اس مناسبت سے سورہ قدر کہا جاتا ہے کہ خداوند متعال نے اس کی ابتدائی آیت میں شب قدر کی قسم کھائی ہے۔ یہ سورت بیان کرتی ہے کہ قرآن کریم شب قدر میں نازل ہوا ہے۔ حجم و کمیت کے لحاظ سے مفصلات نیز اوساط کے زمرے میں آتی ہے اور قرآن کریم کی چھوٹی سورتوں میں سے ہے جو تیسویں پارے کی ردیف میں مندرج ہے اور اس پارے کے تیسرے حزب کے آخر میں مندرج ہوئی ہے۔

نام

  • اس سورت کو سورہ قدر کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدائی آیت میں پروردگار متعال کا ارشاد ہوا ہے:
"﴿1﴾" ترجمہ: ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔
  • اس سورت کا دوسرا نام سورہ انا انزلنا ہے؛ کیونکہ یہ فقرہ اس سورت کے آغاز میں آیا ہے۔

کوائف

  • اس سورت کی آیات کی تعداد 5 اور قراءِ مکہ و شام کی رائے کے مطابق 6 ہے اور اول الذکر عدد معمول اور مشہور ہے۔
  • یہ سورت ترتیب مصحف کے لحاظ سے قرآن کریم کی ستانوےویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے پچیسویں سورت ہے اور مکی سورتوں میں سے ہے۔
  • یہ سورت حجم و کمیت کے لحاظ سے مفصلات نیز اوساط کے زمرے میں آتی ہے اور قرآن کریم کی چھوٹی سورتوں میں سے ہے جو تیسویں پارے کی ردیف میں مندرج ہے اور اس پارے کے تیسرے حزب کے آخر میں مندرج ہوئی ہے۔

مفاہیم

  • سورہ قدر بیان کرتی ہے کہ قرآن شب قدر میں نازل ہوا ہے جبکہ سورہ بقرہ کی آیت 182 میں ارشاد ہوتا ہے کہ نزول قرآن کا مہینہ رمضان المبارک ہے نیز سورہ دخان کی پہلی آیت میں خداوند متعال بیان فرماتا ہے کہ قرآن ایک مبارک شب میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم شب قدر (یعنی ماہ رمضان کے آخری عشرے کی کسی طاق رات) میں نازل ہوا ہے۔
  • نیز سورہ قدر شب قدر کی عظمت و فضیلت اور برکات بیان کرتی ہے جو تقدیر کے تعین اور فرشتوں کے نزول کی رات ہے۔[1]
سورہ قدر کے مضامین[2]
 
 
 
شب قدر کی اہمیت اور خصوصیات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی خصوصیت؛ آیہ۱-۲
شب قدر میں قرآن کا نزول
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری خصوصیت؛ آیہ۳
شب قدر ہزار مہینوں سے افضل
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری خصوصیت؛ آیہ۴
شب قدر میں تمام امور کی تقدیر لکھنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی خصوصیت؛ آیہ۵
شب قدر میں مومنوں پر اللہ کا لطف ہونا
 
 
 


متن سورہ

سوره قدر
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿1﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿2﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿3﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿4﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿5﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بےشک ہم نے اس (قرآن) کوشبِ قدر میں نازل کیا۔ (1) اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (3) اس میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کی اجازت سے (سال بھر کی) ہر بات کا حکم لے کر اترتے ہیں۔ (4) وہ (رات) سراسر سلامتی ہے طلوعِ صبح تک۔ (5)


پچھلی سورت:
سورہ علق
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ بینہ
سورہ 97

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1266.
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ