سورہ رحمن

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قمر سورۂ رحمن واقعہ
سوره الرحمن.jpg
ترتیب کتابت: 55
پارہ : 27
نزول
ترتیب نزول: 97
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 78
الفاظ: 352
حروف: 1648

سورہ الرحمن جسے قرآن کی دلہن کہا جاتا ہے، قرآن مجید کی 55ویں سورت ہے جو 27ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا نام اللہ تعالی کی صفات میں سے ایک ہے جسے سورت کی ابتدائی کلمہ سے لیا ہے۔ اس سورت کا مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ قرآن کی سب سے چھوٹی آیت بھی اسی سورت کی 64ویں آیت: «مُدْهَامَّتَانِ»ہے۔

سورہ الرحمن میں اللہ تعالی کی دنیا اور آخرت میں بعض نعمتوں کو شمار کیا ہے اور اس سورت میں قیامت ہونے کی کیفیت اور خصوصیت اور اعمال کی حساب و کتاب کا طریقہ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی ہر نعمت بیان کرنے کے بعد اپنے بندے سے فَبأَیِّ آلاءِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ(ترجمہ: سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟) کی آیت سے اقرار لیتا ہے۔ یہ آیت 31 بار تکرار ہوئی ہے۔ اور امام صادقؑ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس آیت کے بعد «لا بِشَيْءٍ مِنْ الائِكَ رَبِّ اُكَذِّبُ:«پروردگارا تمہاری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتا ہوں» کی عبارت پڑھی جائے

روایات کے مطابق جو شخص سورہ الرحمن کی تلاوت کرے تو اللہ اسے شکرگزاری کا موقع فراہم کرتا ہے اور اگر اسی دن یا رات کو دنیا سے چلا جائے تو شہید شمار ہوگا۔ سورہ رحمن ایران میں اکثر ترحیم کی مجالس میں بھی تلاوت کرتے ہیں؛ اور فارسی ادب میں بھی ضرب المثل کہی جاتی ہے «فلانی بوی الرحمانش بلند شدہ است» (فلانی کے سورہ رحمن کی بو آرہی ہے۔) یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کی موت قریب ہو۔

تعارف

خط ثلث میں سورہ الرحمن کی 78ویں آیت
  • نام

اس سورت کی ابتداء اللہ کے ناموں میں سے الرحمن سے ہوئی ہے اس لئے اسے الرحمن کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے دیگر نام «آلاء» (جمع ألی) نعمت کے معنی میں ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ کی نعمتیں بیان ہوئی ہیں۔[1] سورہ الرحمن کو قرآن کی دلہن بھی کہا گیا ہے۔ یہ لقب پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ علیہم السلام کی بعض روایات میں ذکر ہوا ہے۔[2]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ رحمن مکی سورتوں میں سے ہے یا مدنی؛ اس بارے میں اختلاف ہے؛ بعض اسے مکی قرار دیتے ہیں[3] جبکہ بعض اسے مدنی کہلاتے ہیں۔[4]علوم قرآن کے ماہرین میں سے محمدہادی معرفت نے اس سورت کو مکی ہونے کی دلائل کو ضعیف قرار دیا ہے اور سورہ الرحمن کو مدنی شمار کرتے ہیں۔[5] ان کے مطابق یہ سورت ترتیب نزول کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی 97ویں سورت ہے۔[6] جبکہ قرآن مجید کے موجودہ مصحف میں 55ویں سورت ہے جو 27ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

سورہ الرحمن میں 78 آیات، 352کلمات اور 1648 حروف ہیں۔ اور حجم کے اعتبار سے یہ سورت مفصلات سورتوں میں شامل ہے اور تقریبا ایک پارے کا آٹھواں حصے پر محیط ہے۔ یعنی ایک حزب کا نصف حصہ۔[7] حروف مقطعہ کے علاوہ قرآن کی سب سے چھوٹی آیت سورہ الرحمن کی 64ویں آیت: «مُدْهَامَّتَانِ: گہرا سبز رنگ» ہے۔[8]

مضمون

ڈانمارک میں بحر بالٹیک اور بحر شمال کے آپس میں ملنے کی جگہ؛ ان دو سمندروں کا پانی ایک دوسرے سے مخلوط نہیں ہوا ہے۔ بعض نے ان دو سمندروں کا پانی نہ ملنے کو بعض نے «مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ» کا مصداق قرار دیا ہے۔

سورہ الرحمن میں دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کی بعض نعمتوں کو بیان کیا ہے دوسرے لفظوں میں یہ سورہ اللہ کی رحمانیت کی صفت بیان کرتی ہے۔[9]اس سورت میں بیان شدہ مطالب کو تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

دنیوی نعمتیں: دنیوی بعض نعمتیں جیسے قرآن کریم کی تعلیم، جن و انس کی خلقت، گھاس اور درختوں کی خلقت، آسمان کی تخلیق، قوانین کی حاکمیت، زمین کی خصوصیات کے ساتھ تخلیق، میوے، پھول، معطر جڑی بوٹیوں کی خلقت، میٹھے اور کھارا پانی والے سمندر کی آپس میں ملاوٹ اور سمندر میں موجود نعمتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔(آیات 1سے 30 تک)

قیامت برپا ہونا: دینوی نظام مٹ جانے اور قیام برپا ہونے اور اس کی خصوصیات، حساب و کتاب اور جزا و سزا کی طرف اشارہ کیا ہے۔(آیات 30 سے 31 تک)۔

اخروی نعمتیں: جہنم کے عذاب کی طرف مختصر اشارہ کرنے کے بعد نیک لوگوں کے لیے نعمتیں گنا شروع کیا ہے جن میں سب سے اہم بہشتی نعمتیں: باغ‌ات، چشمے، پھل، حسین اور باوفا ہمسر، بیان ہوئی ہیں۔(آیات 31 سے 78 تک)[10]

سورہ الرحمن کے مضامین[11]
 
 
 
 
دنیا اور آخرت میں جن و انس پر اللہ کی نعمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نتیجہ؛ آیہ ۷۸
اللہ کی نعمتیں بابرکت اور ہمیشگی ہیں
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۳۱-۷۷
آخرت میں جن اور انس پر اللہ کی نعمتیں
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۳۰
دنیا میں جن اور انس پر اللہ کی نعمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۱-۳۴
آخرت میں جن اور انس کے اعمال کی جانچ پڑتال
 
پہلی نعمت؛ آیہ ۱-۴
قرآن کی تعلیم اور اس کا بیان
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳۵-۴۰
قیامت کا قیام اور دنیا کا نظام ختم ہونا
 
دوسری نعمت؛ آیہ ۵-۹
آسمان پر اللہ کی نعمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۴۱-۴۵
گناہگاورں پر عذاب‌
 
تیسری نعمت؛ آیہ ۱۰-۱۳
زمین پر اللہ کی نعمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۴۶-۶۱
مخلصوں کے لیے جنت میں دو باغ اور ان کی نعمتیں
 
چوتھی نعمت؛ آیہ ۱۴-۱۶
جن اور انس کی خلقت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۶۲-۷۷
بہشت میں مومنوں کے دو باغ
 
پانچویں نعمت؛ آیہ ۱۷-۱۸
دو مشرق اور دو مغرب قرار دینا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹی نعمت؛ آیہ ۱۹-۲۵
سمندر میں اللہ کی نعمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتویں نعمت؛ آیہ ۲۶-۳۰
تمام موجودات کی ضروریات پوری کرنا

شأن نزول

بعض مفسروں نے قریش کے مشرکوں کا رحمن کے نام سے ناآشنا ہونااس سورت کا شان نزول قرار دیا ہے؛ جب اللہ کو سجدہ کرنے کے بارے میں سورہ فرقان کی 60ویں آیت جب نازل ہوئی تو انہوں نے کہا کہ رحمن کون ہے اور کیا ہے؟ اللہ تعالی نے ان کے جواب میں سورہ الرحمن نازل کیا۔[12] بعض کا کہنا ہے کہ امام صادقؑ کی ایک روایت کے مطابق سورہ رحمن اہلبیتؑ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔[13]

دو دریا اور لؤلؤ و مرجان

امام صادقؑ کی ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ آیہ شریفہ «مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْ‌زَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ(ترجمہ: اسی نے دو دریا جاری کئے جو آپس میں مل رہے ہیں۔ان دونوں کے درمیان ایک فاصلہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔) میں دو دریاوں سے مراد علیؑ اور فاطمہؑ) جبکہ يَخْرُ‌جُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْ‌جَانُ(ترجمہ: ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں) میں لؤلؤ و مرجان سے مراد امام حسنؑ اور امام حسینؑ ہیں۔[14] یہ تفسیر، شیعہ کتب تفسیر جیسے طبرسی کی مجمع البیان اور سنی کتب تفسیر جیسے؛ سیوطی کی تفسیر الدرالمنثور میں آئی ہے۔[15]

مشہور آیات

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ(ترجمہ: کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے؟) اس سے پہلے والی آیات میں آیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے مقام سے خوف کھاتے ہیں انہیں دو بہشت اور اس کی نعمتیں وافر مقدار میں ملیں گی۔ اور اس آیت میں یہ بیان ہوتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ اللہ سے خوف کھانے کے ذریعے اللہ پر احسان کیا ہے اور احسان کا جواب احسان کے سوا کچھ نہیں ہے۔[16] امام صادقؑ کی ایک روایت کے مطابق یہ آیت اچھے اور برے کافر اور مؤمن کے بارے میں ہے اور جو بھی دوسرے سے نیکی کرے گا وہ اس نیکی کا بدلہ دے اور بدلہ یہی نہیں ہے کہ وہ اسی مقدار میں نیکی کرے بلکہ اس سے زیادہ دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر دوسرا شخص پہلے والے کی نیکی کے برابر نیکی کرے تو پہلے والے کی نیکی زیادہ اور برتر ہوگی کیونکہ نیکی کا آغاز اس نے ؛ اسی لیے دوسرے شخص کو پہلے والے سے زیادہ نیکی کرنا چاہیے تاکہ احسان میں دونوں برابر ہوسکیں۔[17]

سورہ الرحمن عام رسومات میں

سورہ الرحمن ان سورتوں میں سے ایک ہے جسے اسلامی معاشرے میں زیادہ تلاوت کرتے ہیں۔ اس سورت کو بعض ممالک جیسے ایران اور پاکستان میں زیادہ تلاوت کرتے ہیں۔

مجالس ترحیم میں تلاوت

دایران میں مجلس ترحیم اور فاتحہ خوانی میں خطیب کے خطاب سے پہلے قاری سورہ الرحمن کی تلاوت کرتا ہے۔ بعض محافل میں قاری کی طرف سے «فَبأَیِّ آلاءِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ» کی تلاوت کے بعد وہاں پر موجود دوسرے افراد «لَا بِشَیْ‏ءٍ مِنْ آلَائِکَ رَبِّ أُکَذِّبُ» کو سب مل کر دہراتے ہیں۔ مجلس ترحیم میں اس طرح سے سورہ رحمن کو زیادہ پڑھنے کے بعض لوگ مخالف بھی تھے ان کا کہنا تھا کہ سورہ الرحمن سے ایران میں مجلس ترحیم کا تصور ذہن میں آجاتا ہے اور یہ دنیوی اور اخروی نعمتوں کے تذکرے سے بھرے سورت کے ساتھ مناسب نہیں ہے۔[18]

مجالس ترحیم میں زیادہ پڑھنے کی وجہ سے فارسی میں یہ محاورہ بھی رائج ہوا جب کوئی شخص مرنے کے قریب ہو تو کہا جاتا ہے:«فلانی بوی الرحمانش بلند شدہ۔»[19] (اس کے سورہ رحمن کی بو پھیلنے لگی ہے)

ہنرمندوں کے آثار میں سورہ الرحمن

ایک چھوٹے قالین پر سورہ رحمن کا کتیبہ جسے ایرانی ہنرمند حجت الله خدایاری نے تیار کیا۔

سورہ الرحمن کی طرف ہنرمندوں کی توجہ بھی جلب ہوئی ہے اور اس قالیچے پر سورہ رحمن کی ایک آیت «فَبأَیِّ آلاءِ رَبِّکُما تُکَذِّبان» کے ساتھ اس کتیبہ پر درج ہے۔ اس میں خط ثلث، نسخ اور خط تزیینی استعمال ہوا ہے اور ہر کتیبہ کے اندر اسی آیت سے مربوط تصاویر بھی نظر آتے ہیں۔ اس قالیچے کو بنانے والا حجت اللہ خدایاری تبریزی ہے جنہوں نے 1375 ہجری شمسی میں اسے پایہ تکمیل کو پہنچایا اور اب یہ قالیچہ آستان قدس رضوی کے عجائب گھر میں موجود ہے۔[20]

فضیلت اور خصوصیات

بعض روایات کے مطابق، اگر کوئی شخص سورہ الرحمن کی تلاوت کرے تو اللہ تعالی اس کی کمزوری اور ناتوانی پر رحم کرے گا، اور اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنے کی توفیق ملے گی۔[21]اسی طرح منقول ہے کہ جو بھی آیہ «فبای الاء ربکما تکذبان» کے بعد «لابشیء من الائک رب اکذب» پڑھے اور وہ اگر اسی دن یا اسی رات کو وفات پائے تو شہید کی موت مرے گا۔[22]امام رضاؑ کی زیارت کی نماز میں بھی دوسری رکعت میں سوره حمد کے بعد پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔[23]

سخت کاموں میں آسانی، آنکھوں کے درد سے نجات اور انسان کی حفاظت سورہ رحمن کی خصوصیات میں سے ہیں۔[24]

متن اور ترجمہ

سورہ رحمن
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الرَّحْمَنُ ﴿1﴾ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ﴿2﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿3﴾ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿4﴾ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ﴿5﴾ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ ﴿6﴾ وَالسَّمَاء رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ ﴿7﴾ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿8﴾ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ ﴿9﴾ وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ ﴿10﴾ فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ ﴿11﴾ وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ ﴿12﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿13﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ﴿14﴾ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ ﴿15﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿16﴾ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ﴿17﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿18﴾ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿19﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿20﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿21﴾ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ﴿22﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿23﴾ وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ﴿24﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿25﴾ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ﴿26﴾ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿27﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿28﴾ يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ﴿29﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿30﴾ سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَا الثَّقَلَانِ ﴿31﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿32﴾ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ ﴿33﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿34﴾ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ ﴿35﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿36﴾ فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاء فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ ﴿37﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿38﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ ﴿39﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿40﴾ يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ ﴿41﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿42﴾ هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ ﴿43﴾ يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ ﴿44﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿45﴾ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ﴿46﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿47﴾ ذَوَاتَا أَفْنَانٍ ﴿48﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿49﴾ فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ ﴿50﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿51﴾ فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ ﴿52﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿53﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ ﴿54﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿55﴾ فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿56﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿57﴾ كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ ﴿58﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿59﴾ هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿60﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿61﴾ وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ ﴿62﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿63﴾ مُدْهَامَّتَانِ ﴿64﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿65﴾ فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ ﴿66﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿67﴾ فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ﴿68﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿69﴾ فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ ﴿70﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿71﴾ حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ﴿72﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿73﴾ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ ﴿74﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿75﴾ مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ﴿76﴾ فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿77﴾ تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ﴿78﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

خدائے رحمٰن۔ (1) نے قرآن کی تعلیم دی۔ (2) اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ (3) اسی نے اسے بولنا (مافی الضمیر بیان کرنا) سکھایا۔ (4) سورج اور چاند ایک (خاص) حساب کے پابند ہیں۔ (5) اور سبزیاں، بیلیں اور درخت (اسی کو) سجدہ کرتے ہیں۔ (6) اس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان (عدل) رکھ دی۔ (7) تاکہ تم میزان (تولنے) میں زیادتی نہ کرو۔ (8) اور انصاف کے ساتھ ٹھیک طریقہ پر تولو اور وزن (تولنے) میں کمی نہ کرو۔ (9) اور اس نے زمین کو تمام مخلوق کیلئے بنایا۔ (10) اس میں (ہر طرح کے) میوے ہیں اور کھجور کے غلافوں والے درخت ہیں۔ (11) اور بھوسہ والا اناج بھی اور خوشبودار پھول بھی۔ (12) سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (13) اس نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔ (14) اور جنات کو پیدا کیا آگ کے شعلہ سے۔ (15) سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (16) وہی دونوں مشرقوں کا پروردگار ہے اور وہی دونوں مغربوں کا مالک و پروردگار ہے۔ (17) سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (18) اسی نے دو دریا جاری کئے جو آپس میں مل رہے ہیں۔ (19) ان دونوں کے درمیان ایک فاصلہ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ (20) سو(اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (21) ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ (22) سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ (23) اور اسی کے لئے وہ (جہاز) ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کی طرح اٹھے ہوئے ہیں۔ (24) سو (اے جن و انس) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (25) جو بھی روئے زمین پر ہیں وہ سب فنا ہونے والے ہیں۔ (26) اور آپ(ص) کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو عظمت و اکرام والی ہے۔ (27) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (28) آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں وہ ہر روز (بلکہ ہر آن) ایک نئی شان میں ہے۔ (29) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (30) اے جن وانس ہم عنقریب (تمہاری خبر لینے کیلئے) تمہاری طرف متوجہ ہو نے والے ہیں۔ (31) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (32) اے گروہِ جن و انس! اگر تم سے ہو سکے تو تم آسمانوں اور زمین کی حدود سے باہر نکل جاؤ (لیکن) تم طاقت اور زور کے بغیر نہیں نکل سکتے۔ (33) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (34) تم دونوں پر آگ کاشعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم اپنا بچاؤ نہ کر سکو گے۔ (35) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (36) (اس وقت کیا حالت ہوگی) جب آسمان پھٹ جائے گا اور (رنگے ہوئے) سرخ چمڑے کی طرح لال ہو جائے گا۔ (37) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (38) پس اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔ (39) تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (40) مجرم اپنے چہروں (اپنی علامتوں) سے پہچان لئے جائیں گے اور پھر پیشانیوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے (اور جہنم میں پھینک دئیے جائیں گے)۔ (41) سو تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (42) یہی وہ دوزخ ہے جسے مجرم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ (43) وہ (مجرم) اس (دوزخ) اور اس کے انتہائی کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔ (44) پس اے جن و انس! سو تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (45) اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو باغ ہیں۔ (46) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ۔ (47) دونوں باغ بہت سی شاخوں والے۔ (48) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں جھٹلاؤگے؟ (49) ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔ (50) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قِسمیں ہوں گی۔ (52) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ (53) وہ ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے۔ (54) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (55) اور دونوں باغوں کے تیار پھل (ان کے) بہت ہی نزدیک ہوں گے۔ (56) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (57) ان جنتوں میں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہوں گی جن کو ان (جنتیوں) سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے۔ (58) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (59) وہ(حوریں) ایسی ہوں گی جیسے یاقوت اور مرجان۔ (60) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ (61) نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہے؟ (62) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (63) ان دونوں باغوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہیں۔ (64) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (65) دونوں گہرے سبز سیاہی مائل۔ (66) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دو باغوں میں دو چشمے ہوں گے جوش مارتے ہوئے۔ (68) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (69) ان میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔ (70) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے؟ (71) ان میں اچھی سیرت و صورت والی (حوریں) ہوں گی۔ (72) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (73) ان (جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے انہیں چھوا بھی نہیں ہوگا۔ (74) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (75) وہ (جنتی لوگ) سبز رنگ کے بچھونوں اور خوبصورت گدوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ (76) پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ (77) بابرکت ہے تمہارے پروردگار کانام جو بڑی عظمت اور کرا مت والا ہے۔ (78)

پچھلی سورت: سورہ قمر سورہ رحمن اگلی سورت:سورہ واقعہ

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس



حوالہ جات

  1. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۳.
  2. سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۱۴۰؛ طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، آستان قدس رضوی، ج۲۴، ص۵۴.
  3. یعقوبی، تاریخ، ۱۹۶۰م، ج۲، ص۳۳؛ ابن‎ندیم، الفهرست، دارالمعرفة، ص۳۸؛ سیوطی، الاتقان فی علوم القرآن، ۱۳۸۰ش، ج۱، ص۴۹.
  4. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، آستان قدس رضوی، ج۲۴، ص۵۳.
  5. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۷۹.
  6. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  7. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۵۳.
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۳، ص۱۷۶.
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۳، ص۹۶.
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۳، ص۹۱.
  11. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  12. بحرانی، البرهان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۲۸۰.
  13. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج ۵، ص۲۳۰.
  14. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۷ش، ج ۲، ص ۳۴۴.
  15. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، آستان قدس رضوی، ج۲۴، ص۷۸؛ سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۱۴۲و ۱۴۳.
  16. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۱۹، ص۱۱۰.
  17. طبرسی، مجمع البیان، ج۲۴، ص۱۱۲.
  18. از تلاوت «الرحمن» در مجالس عروسی لاہور تا «بوی الرحمانش بلند شدہ» در ایران، خبرگزاری ایکنا.
  19. خرمشاہی، اصطلاحات قرآنی در محاورہ فارسی، ۱۳۷۳ش، ص۲۷ و ۲۸.
  20. قالیچہ ہای کتیبہ ای با مضمون قرآنی، مندرج در سایت موزہ آستان قدس رضوی (۱۸ خرداد ۱۳۹۳ش)، تاریخ بازبینی (۷ شہریور ۱۳۹۵ش.
  21. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، آستان قدس رضوی، ج۲۴، ص۵۴.
  22. صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۱۶.
  23. مفاتیح الجنان، ص۸۱۵.
  24. بحرانی، البرهان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۲۳۸؛ طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، آستان قدس رضوی، ج۲۴، ص۵۵.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران، دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶شمسی۔
  • ابن‎ندیم، الفہرست، بیروت، دارالمعرفۃ، بی‎تا.
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ھ.
  • خرمشاہی، اصطلاحات قرآنی در محاورہ فارسی، مجلہ بینات، قم، مؤسسہ معارف اسلامی امام رضا (ع)، ش۱، ۱۳۷۳شمسی۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷شمسی۔
  • سیوطی، جلال‌الدین عبدالرحمن، الاتقان فی علوم القرآن، ترجمہ، مہدی حائری قزوینی، تہران، امیرکبیر، ۱۳۸۰شمسی۔
  • سیوطی، جلال‌الدین عبدالرحمن، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ.
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، بہ تحقیق صادق حسن‌زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴ء.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ: بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، قم، دارالکتاب، ۱۳۶۷شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، ترجمہ ابومحمد وکیلی، تہران، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱شمسی۔
  • مفاتیح الجنان، ترجمہ موسوی دامغانی، انتشارات آستان قدس، چاپ یازدہم.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴شمسی۔
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دارصادر بیروت، ۱۹۶۰م، ج۲، ص۳۳.

بیرونی روابط