مسودہ:والدین کی قضا نماز
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
والدین کی قضا نماز سے مراد وہ واجب نمازیں ہیں جو والد یا والدہ اپنی زندگی میں ادا نہ کر سکے ہوں اور ان کی وفات کے بعد بعض صورتوں میں ان نمازوں کی قضا اولاد کے ذمے آتی ہے۔[1] شیعہ فقہ کی رو سے والد کی قضا نمازوں کا ادا کرنا بڑے بیٹے پر واجب ہونے کے اصل حکم پر فقہاء کا اتفاق ہے۔[2] البتہ اس بات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ بڑا بیٹا کسے کہا جائے۔ بعض فقہاء کے نزدیک بڑا بیٹا وہ ہے جو والد یا والدہ کی وفات کے وقت زندہ موجود سب سے بڑا بیٹا ہو۔[3] جبکہ بعض دیگر فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر سب سے بڑا بیٹا والد کی زندگی ہی میں وفات پا جائے تو والد کی قضا نمازیں دوسرے بیٹوں پر واجب نہیں ہوتیں۔[4]
اولاد پر والدہ کی قضا نمازوں کے واجب ہونے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے، جس کی بنیاد اس مسئلے سے متعلق روایات کے مختلف مضامین ہیں۔[5] سید ابو القاسم خوئی اور دیگر بعض فقہاء والدہ کی قضا نمازوں کو اولاد پر واجب نہیں سمجھتے۔[6] اس کے برعکس بعض فقہاء، جیسے محقق حلی، شہید اول اور سید محمد کاظم یزدی[7] وغیرہ اولاد پر والدہ کی قضا نمازوں کو بھی واجب قرار دیتے ہیں۔[8] امام خمینی[9] اور سید علی سیستانی[10] بھی اولاد پر والدہ کی قضا نمازوں کو واجب نہیں سمجھتے، اگرچہ بعض صورتوں میں احتیاط یا استحباب کا فتوی دیتے ہیں۔[11] جبکہ سید علی حسینی خامنہ ای والدہ کی قضا نمازوں کو بھی واجب قرار دیتے ہیں۔[12]
اس مسئلے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ والدین کی کون سی نوعیت کی فوت شدہ نمازوں کی قضا اولاد کے ذمے واجب ہے؟۔ بعض فقہاء، جیسے محقق حلی، شہید اول اور شہید ثانی کے نزدیک صرف وہ نمازیں واجب القضا ہیں جو غیر ارادی طور پر ترک ہوئی ہوں۔[13] اسی رائے کو سید محمد کاظم یزدی[14] اور سید علی حسینی سیستانی[15] نے بھی اختیار کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں اکثر فقہاء، جن میں سید ابو القاسم خوئی[16] اور امام خمینی[17] شامل ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر نمازیں جان بوجھ کر بھی ترک کی گئی ہوں تب بھی ان کی قضا بڑے بیٹے پر واجب ہے۔ ایک اور نظریہ یہ ہے کہ صرف وہ نمازیں بڑے بیٹے پر واجب القضا ہیں جو مرض الموت کے دوران ترک ہوئی ہوں۔[18]
والدین کی قضا نمازوں کی ذمہ داری کا یہ مطلب نہیں کہ بڑا بیٹا خود ہی تمام نمازیں ادا کرے۔ بعض فقہی آراء کے مطابق وہ کسی دوسرے شخص کو اجرت دے کر بھی یہ نمازیں ادا کرا سکتا ہے۔[19] اسی طرح بعض حالات میں اگر کوئی شخص بلا معاوضہ والدین کی قضا نمازیں ادا کر دے یا مرحوم کی وصیت کے مطابق ان کی قضا نمازوں کا انتظام کر دیا جائے تو بیٹے کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔[20] سید علی حسینی سیستانی کے فتوے کے مطابق اگر بڑا بیٹا کسی خاص شرعی سبب کی بنا پر وراثت سے محروم ہو تو اس پر والد کی قضا نمازیں واجب نہیں ہوتیں۔[21] اسی طرح اگر کوئی نابالغ لیکن سمجھ دار بچہ (ممیز) نماز صحیح طریقے سے ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ بھی والدین کی قضا نمازیں ادا کرسکتا ہے۔[22]
والدین کے قضاء روزوں کے احکام بعض جہات سے قضا نمازوں کے احکام سے ایک جیسے ہیں، اگرچہ بعض فقہاء کی رائے اس سلسلے میں مختلف ہے۔ سید علی حسینی سیستانی کے نزدیک بعض صورتوں میں روزے کی قضا کے بجائے ایک مُدّ طعام (تقریباً 750 گرام خوراک) دینا کافی ہے۔[23]
حوالہ جات
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص99؛ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1374شمسی، ج7، ص136؛ خوئی، موسوعۃ الامام خوئی، 1418ھ، ج16، ص263۔
- ↑ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1374شمسی، ج7، ص136؛ خوئی، موسوعۃ الامام خوئی، 1418ھ، ج16، ص263۔
- ↑ خامنہای، رسالہ آموزشی (عبادات)، انتشارات اسلامی، ص227۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص103؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص238۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: خویی، موسوعۃ الامام خوئی، 1418ھ، ج16، ص263۔
- ↑ خویی، موسوعۃ الامام خوئی، 1418ھ، ج16، ص264۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص99۔
- ↑ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1374شمسی، ج7، ص136۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص237۔
- ↑ منہاج الصالحین، 1443ھ، ج1، ص223۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص237؛ حسینی سیستانی، منہاج الصالحین، 1443ھ، ج1، ص223۔
- ↑ خامنہای، «نماز قضا، نماز استیجاری، نماز قضای پدر و مادر»، وبسایت خامنہای۔
- ↑ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1374شمسی، ج7، ص138۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص99۔
- ↑ حسینی سیستانی، منہاج الصالحین، 1443ھ، ج1، ص223۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص99۔
- ↑ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص237۔
- ↑ حکیم، مستمسک العروۃ الوثقی، 1374شمسی، ج7، ص138۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص105؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1392شمسی، ج1، ص238۔
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، 1421ھ، ج3، ص 102 و 105۔
- ↑ حسینی سیستانی، منہاج الصالحین، 1443ھ، ج1، ص223۔
- ↑ گلپایگانی، احکام اموات، 1412ھ، ص123۔
- ↑ حسینی سیستانی، منہاج الصالحین، 1443ھ، ج1، ص305۔
مآخذ
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسۃ تنظیم و نشر آثار الامام الخمینی، 1392ہجری شمسی۔
- طباطبایی یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، قم، مؤسسہ نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین، 1421ھ۔
- خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، قم، مؤسسۃ احیاء آثار الامام الخوئی، 1418ھ۔
- حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، دار التفسیر، 1374ہجری شمسی۔
- حسینی سیستانی، سید علی، منہاج الصالحین، مکتب آیۃاللہ السیستانی، 1443ھ۔
- خامنہای، سید علی، «نماز قضا، نماز استیجاری، نماز قضای پدر و مادر»(نماز قضا، استیجاری نماز، ماں باپ کی قضا نماز)، خامنہ ای ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 26 اگست 2014ء، تاریخ مشاہدہ: 5 جون 2023ء۔
- گلپایگانی، محمدرضا، احکام اموات، تدوین: محمدباقر حسينى زفرہاى، ناشر: دار القرآن الكريم، پہلی اشاعت، 1412ھ۔