مجہول المالک

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

مجہول المالک، اس مال کو کہا جاتا ہے جس کے مالک کا علم نہ ہو یا اس کے مالک یا اس کے وارثین تک رسائی ممکن نہ ہو۔ مشہور شیعہ فقہاء کے مطابق مجہول‌ المالک مال کو حاکم شرع کی اجازت سے مالک کی طرف سے صدقہ دینا واجب ہے اور حاکم شرع کی اجازت کے بغیر اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔ فقہ میں مجہول المالک مال کے کچھ مصادیق ذکر ہوئے ہیں؛ ان میں سے ایک وہ قرضہ ہے جسے واپس کرنے کے لئے اس کے مالک تک رسائی ممکن نہ ہو۔

تعریف اور حکم شرعی

مجہول‌ المالک اس مال کو کہا جاتا ہے جس کے مالک یا اس کے رہنے کی جگہ کا علم نہ ہو اور اس تک یا اس کے وارثوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔[1]

شیعہ فقہاء کے مطابق مجہول المالک مال کو اس کے مالک تک پہنچانے سے ناامید ہونے کے بعد اس کے مالک کی طرف سے صدقہ دینا واجب ہے۔ البتہ بعض فقہاء جیسے صاحب جواہر[2] اور امام خمینی[3] اس بات کے معتقد ہیں کہ اس کام کے لئے حاکم شرع سے اجازت لینا بھی واجب ہے۔ ان کے مقابلے میں آیۃ اللہ خوئی مجہول‌ المالک مال کو اس کے مالک کی طرف سے صدقہ دینے میں حاکم شرع کی اجازت کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔[4] عراق میں مقیم معاصر مرجع تقلید آیۃ اللہ بشیر نجفی اس مسئلے میں بطور احتیاط مستحب حاکم شرع کی اجازت کو ضروری سمجھتے ہیں۔[5]

اسی طرح کہا گیا ہے کہ احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجہول المالک اموال کا اختیار حاکم شرع کے پاس ہے اور وہ جس طرح مصلحت دیکھے تصرف کر سکتا ہے۔[6]

مصادیق

فقہی کتابوں میں بعض موارد کو مجہول المالک مال کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے من جملہ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • لُقَطہ (گم شدہ مال): گم شدہ مال کی مالیت اگر ایک درہم سے زیادہ ہو تو اس مال کے پیدا کرنے والے پر فرض ہے ایک سال تک اس کا اعلان کرے اگر اس مدت کے بعد اس کے مالک کا پتہ نہ چلے تو ان امور میں سے ایک کو انجام دے: اپنے لئے رکھ لے، مالک کی طرف سے صدقہ دے، بطور امانت محفوظ رکھے[7] یا حاکم شرع کے حوالہ کر دے۔[8] گفتہ شدہ سپردن آن بہ حاکم شرع از باب مجہول المالک بودن است۔[9]
  • سود کا مال، غصبی، چوری اور جوے کی کمائی: وہ اموال جو ربا، غصب، چوری یا جوے کے ذریعے حاصل ہو اگر ان کے مالک کا پتہ نہ ہو اور اس تک پہنچنے کی کوئی امید بھی نہ ہو تو مجہول المالک‌ کے حکم میں ہیں۔[10]
  • آثار قدیمہ اور عتیقہ جات: بعض فقہا کے مطابق آثار قدیمہ اگر کسی ایسی زمین سے ملے جس کا کوئی مالک نہ ہو یا بنجر زمین جسے آباد کرنے کے لئے خریدی گئی ہو اور یہ جانتا ہو کہ کسی مسلمان کا ہے لیکن اسے نہ جانتا ہو تو مجہول المالک کے حکم میں ہے۔[11]
  • غائب شخص سے لیا ہو قرض: وہ قرضہ جسے واپس دینے کی تاریخ آگئی ہو لیکن قرض دینے والے تک رسائی نہ ہو اسے حاکم شرع کو دے دینا واجب ہے اگر حاکم شرع موجود نہ ہو تو مشہور کے مطابق یہ بھی مجہول المالک کے حکم میں ہے اور اسے اس کے مالک کی طرف سے صدقہ دینا واجب ہے۔[12]
  • لا وارث اموال: ان اشخاص کے اموال جن کا کوئی وارث نہ ہو مجہول المالک شمار ہو گی۔[13]
  • عارضی بنجر زمین (وہ زمین‌ جو پہلے آباد تھی لیک اب بنجر ہو گئی ہو): اس قسم کی زمینوں میں سے ایک وہ زمین ہے جس کے مالک کا پتہ نہ ہو۔ معاصر فقیہ اور قانون دان سید مصطفی محقق داماد کے مطابق بعض فقہاء اس قسم کی زمین کو بھی مجہول‌ المالک کے حکم میں قرار دیتے ہیں، لیکن مشہور فقہاء اس قسم کی زمینوں کو قابل تملک قرار دیتے ہیں۔[14]
  • سرکاری اموال: بعض فقہاء کے مطابق وہ اموالی جو حکومتی اداروں کی ملکیت میں ہے مجہول المالک‌ کے حکم میں ہے کیونکہ ان کے مطابق حکومت ان اموال کا مالک بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔[15]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سیفی مازندرانی، دلیل تحریر الوسیلۃ - الوقف، ۱۴۳۰ق، ص۴۳۴۔
  2. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶ش، ج۳۸، ص۳۳۶۔
  3. امام خمینی، رسالہ توضیح المسائل، ص۴۶۶۔
  4. خویی، موسوعۃ الامام الخویی، مؤسسۃ الامام الخوئی الاسلامیۃ، ج۳۵، ص۷۸۸،
  5. نجفی، بحوث فقہیۃ معاصرۃ، ۱۴۲۷ق، ص۱۰۴۔
  6. سنایی و دیگران، «مدیریت اموال مجہول‌المالک با توجہ بہ شرایط جامعہ امروزی»، ص۴۶۰۔
  7. محقق داماد یزدی، قواعد فقہ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۶۲؛ قانون مدنی، مادہ ۱۶۲ اصلاحی و ۱۶۳ اصلاحی۔
  8. حائری، «لقطہ و مجہول المالک(۳)»،۱۳۸۸ش، ص۴۲۔
  9. حائری، «لقطہ و مجہول المالک(۳)»،۱۳۸۸ش، ص۵۲۔
  10. علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج۱۰، ص۲۰۹و۲۱۰؛ سیفی مازندرانی، دلیل تحریر الوسیلۃ: فقہ الربا، ۱۴۳۰ق، ص۱۳۳۔
  11. ہاشمی شاہرودی، «آثار باستانی»، ج۱، ص۱۰۶۔
  12. ہاشمی شاہرودی، «دَین»، ج۳، ص۶۸۱؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۲ش، ج۲۵، ص۴۴۔
  13. محقق داماد یزدی، وصیت: تحلیل فقہی و حقوقی، ۱۴۲۰ق، ص۱۲۳۔
  14. محقق داماد یزدی، قواعد فقہ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۴۳۔
  15. نجفی، بحوث فقہیۃ معاصرۃ، ۱۴۲۷ق، ص۸۶-۹۹۔


مآخذ

  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، تحریر الوسیلہ، قم، دارالعلم، بےتا۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، رسالہ توضیح المسائل امام خمینی، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۱ہجری شمسی۔
  • حائری، سید کاظم، «لقطہ و مجہول‌المالک(۳)»، در فصل‌نامہ فقہ اہل بیت(ع)، شمارہ ۵۸و۵۹، تابستان و پاییز ۱۳۸۸ہجری شمسی۔
  • خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخوئی، مؤسسۃ الامام الخوئی الاسلامیۃ، بےتا۔
  • سنایی، حسین، و دیگران، «مدیریت اموال مجہول المالک با توجہ بہ شرایط جامعہ امروزی»، پژوہش‌ہای فقہی، دورہ ۱۵، شمارہ۳، پاییز ۱۳۹۸ہجری شمسی۔
  • سیفی مازندرانی، علی‌اکبر، دلیل تحریر الوسیلۃ - الوقف، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ اول، ۱۴۳۰ھ۔
  • سیفی مازندرانی، علی‌اکبر، دلیل تحریر الوسیلۃ - فقہ الربا، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، چاپ اول، ۱۴۳۰ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔
  • قانون مدنی جمہوری اسلامی ایران۔
  • محقق داماد یزدی، سید مصطفی، قواعد فقہ، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، چاپ دوازدہم، ۱۴۰۶ھ۔
  • محقق داماد یزدی، سید مصطفی، وصیت: تحلیل فقہی و حقوقی، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ھ۔
  • نجفی، بشیر حسین، بحوث فقہیۃ معاصرۃ، نجف، دفتر آیت اللہ نجفی، چاپ اول، ۱۴۲۷ھ۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام‌، تصحیح علی آخوندی‌، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۳۶۲ہجری شمسی۔
  • ہاشمی شاہرودی، سید محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت(ع)، قم، دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بیت(ع)، ج۱و۲و۳، چاپ اول،۱۴۲۶ھ۔