بت شکنی کا واقعہ

ویکی شیعہ سے
(داستان بت شکنی سے رجوع مکرر)
شیعوں کے پہلے امام
امام علی علیہ السلام
حیات طیبہ
یوم‌ الدارشعب ابی‌ طالبلیلۃ المبیتواقعہ غدیرمختصر زندگی نامہ
علمی میراث
نہج‌البلاغہغرر الحکمخطبہ شقشقیہبغیر الف کا خطبہبغیر نقطہ کا خطبہحرم
فضائل
آیہ ولایتآیہ اہل‌الذکرآیہ شراءآیہ اولی‌الامرآیہ تطہیرآیہ مباہلہآیہ مودتآیہ صادقینحدیث مدینہ‌العلمحدیث رایتحدیث سفینہحدیث کساءخطبہ غدیرحدیث منزلتحدیث یوم‌الدارحدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایتصالح المؤمنینحدیث تہنیتبت شکنی کا واقعہ
اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترسلمان فارسیابوذر غفاریمقدادعبید اللہ بن ابی رافعحجر بن عدیمزید


بت شکنی کا واقعہ یا کَسْرِ اَصْنام کا واقعہ، اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں کعبہ میں موجود بت امام علیؑ کے ہاتھوں توڑے گئے۔ اس واقعے میں پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علیؑ کو کعبہ کے بتوں کو توڑنے کے لئے اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور آپؑ نے ھبل جیسے بتوں کو نیچے گرایا۔ یہ واقعہ شیعہ و اہل سنت دونوں کی کتابوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ واقعہ لیلۃ المبیت یا فتح مکہ کے موقع پر پیش آیا۔

بت شکنی کا واقعہ قرآن مجید کی آیات «وَ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کاَنَ زَهوقًا» اور «وَ رَفَعْناهُ مَكاناً عَلِيًّا» کا سبب نزول بھی شمار ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد رسول اللہؐ نے حضرت ابراہیم کو سب سے پہلا بت شکن اور امام علیؐ کو آخری بت شکن کے طور پر معرفی کیا ہے۔ بعض روایات میں امام علیؑ کو «کسر الاصنام» (بتوں کو توڑنے والا) کے لقب سے یاد کیا ہے۔

بت شکنی کا واقعہ امام علیؑ کے فضائل میں شمار ہوتا ہے۔ خلیفہ دوم کی جانب سے اپنے بعد خلیفہ معین کرنے کے لئے بنائی گئی چھ رکنی کمیٹی میں حضرت علیؑ نے اسی واقعے کے ذریعے اپنی برتری اور فضیلت پر استدلال کیا۔ اسی طرح اہل سنت کے بعض منابع میں گناہ کے ذرایع کو نابود کرنے کے لزوم پر اسی واقعہ سے استدلال ہوا ہے۔

واقعہ کی تفصیل

بت شکنی کا واقعہ یا کسر اصنام کا ماجرا یا «حدیث کسر الاصنام» [1] اس واقعہ کو کہتے ہیں جس میں رسول خداؐ نے حضرت علیؑ کو خانہ کعبہ کی چھت پر موجود بتوں کو توڑنے کے لئے اپنے دوش پر اٹھایا۔[2] اس واقعہ میں ہبل جیسے کچھ بتوں کی سرنگونی کا تذکرہ ملتا ہے۔[3] البتہ اس واقعہ کی تفصیلات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

کچھ روایتوں کے مطابق پہلے حضرت علیؑ نے چاہا کہ حضورؐ کو اپنے کاندھوں پر اٹھائیں لیکن آپ اٹھا نہیں سکے، اس لئے حضرت علیؑ خود دوش پیغمبر پر سوار ہوئے[4] اور بتوں کو کعبہ کے اوپر سے زمین پر گرادیا۔ دوسری کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ نے شروع میں حضور اکرمؐ سے اپنے کاندھوں پر سوار ہونے کی گزارش کی تو آپ نے فرمایا کہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا۔[5] جابر بن عبداللہ انصاری کے بقول یہ بار رسالت کی سنگینی کی وجہ سے تھا۔[6] اسی طرح اس بارے میں دوسری وجوہات بھی ذکر ہوئی ہیں [7] ایک اور نقل کے مطابق حضور اکرمؐ نے شروع میں ہی حضرت علیؑ سے اپنے کاندھوں پر سوار ہونے کا حکم دیا۔[8]

کعبہ کی چھت سے حضرت علی کے نیچے آنے کی کیفیت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ کچھ احادیث کے مطابق حضرت علیؑ کعبہ کی چھت سے کودے اور اس وقت کعبہ کی چھت چالیس زراع[یادداشت 1] کی ہوتی تھی[9] لیکن آپ کو کوئی چوٹ نہیں لگی۔[10] دوسرے نقل کے مطابق، رسول خداؐ نے علیؑ سے فرمایا کہ جبرئیل نے تمہیں کعبہ کی چھت سے نیچے اتارا۔[11] عمر بن خطاب سے ایک نقل کے مطابق جب امام علیؑ نے بتوں کو توڑا تو پیغمبر اکرمؐ نے ان سے کہا، اے علی نیچے اترو، علی ایک پرندے کی مانند نیچے آئے اور عمر ہمیشہ اس طرح کی آرزو کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ جس اللہ کو علی مانتے تھے اس نے علی کو گرنے نہیں دیا۔[12]

کچھ روایات میں ہے کہ حضور اکرمؐ اس موقع پر آیہ «وَ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کاَنَ زَهوقًا»[13] کی تلاوت فرما رہے تھے۔[14] اس لحاظ سے کسر اصنام کے واقعہ کو اس آیت کا سبب نزول بھی بیان کیا گیا ہے۔[15] اسی طرح ابن شہر آشوب کی نقل کردہ روایت کی بنیاد پر آیہ «وَ رَفَعْناہ مَكاناً عَلِيًّا»[16] اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔[17]

بت شکنی کا واقعہ شیعہ[18] و سنی[19] دونوں کتب میں نقل ہوا ہے۔ عبداللہ بن عباس،[20] جابر بن عبداللہ انصاری[21] اور ابو مریم[22] نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ علامہ امینی نے الغدیر میں ان علمائے اہل سنت کی فہرست ذکر کی ہے جنھوں نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔[23]

فضیلت شمار ہونا

کعبہ میں موجود بتوں کو توڑنے کے واقعہ کی عکاسی، جو تیرہویں صدی ہجری میں سلطان مراد (سلسلہ عثمانیہ کے تیسرے حاکم) کے حکم سے سید سلیمان کسیم پاشا نے تیار کی۔

پیغمبر اکرمؐ کے ذریعہ حضرت علیؑ کو اپنے کاندھوں پر سوار کرنا امیر المومنینؑ کی مخصوص فضیلتوں میں شمار کیا گیا ہے۔[24] یہ واقعہ، فضائل کی کتابوں میں[25] اور شعراء کے اشعار و قصائد میں بھی آیا ہے۔[26]

اس واقعہ کے بعد رسول اللہؐ نے حضرت ابراہیمؑ کو پہلا بت شکن اور حضرت علیؑ کو آخری بت شکن قرار دیا۔[27] کچھ روایتوں میں حضرت علیؑ کو «کاسِر الاصنام» (بتوں کو توڑنے والا) کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔[28] اہل سنت عالم دین سبط ابن جوزی (متوفی 654ھ) اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں امام علی کا نام علی رکھنے کے بارے میں ایک قول نقل کرتے ہیں جس کے تحت امامؑ کی ماں نے ان کا جو نام رکھا تھا وہ حیدر تھا اور بت شکنی کے لئے دوش رسالت پر چڑھے تھے اس وجہ سے آپ کو «علی» (بلند مرتبہ) نام دیا گیا ہے اور ابن جوزی کا کہنا ہے امام علیؑ کی ماں نے پیدائش کے وقت آپ کا نام علی رکھا۔[29]

چھ رکنی شورا میں بت شکنی کا تذکرہ

حضرت علیؑ بت شکنی واقعہ پر فخر کرتے تھے[30] اور کہتے تھے: میں تھا جس نے مہر نبوت (دوش رسالت پر نبوت کا نشان) پر قدم رکھا۔[31] خلیفہ دوم کے بعد خلیفہ معین کرنے کے لئے بنائی جانے والی چھ رکنی شورا میں آپ نے سب سے اقرار لیا کہ آپ کے سوا کوئی اس فضیلت کا حامل نہیں ہے۔[32] اسی طرح کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب آرزو کرتے تھے کہ کاش یہ فضیلت مجھے مل گئی ہوتی۔[33]

واقعہ کا وقت اور تاریخ

اکثر کتب میں اس واقعہ کی تاریخ کا تذکرہ نہیں ہے اور صرف اس کے رات میں ہونے [34] اور خفیہ ہونے[35] پر اکتفاء کی گئی ہے۔ اس کے باوجود کچھ کتب میں اس کے شب ہجرت [36] (جس رات علیؑ پیغمبر اکرمؐ کے بستر پر سوئے اور آنحضرتؑ مکہ سے نکل گئے) یا فتح مکہ[37] کے موقعہ پر ہونے کا تذکرہ ہے۔ علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں امام صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ، نوروز کے دن پیش آیا۔[38] البتہ بحار الانوار میں دوسرے مقام پر کوشش کی ہے کہ اس میں متعدد روایات کو ایک ساتھ جمع کریں۔[39]

دانشنامہ امیرالمؤمنین میں روایات کی تحقیق کے بعد یہ احتمال دیا ہے کہ یہ واقعہ شب ہجرت میں رونما ہونا زیادہ قوی ہے۔[40] اسی طرح علامہ مجلسی نے یہ احتمال دیا ہے بت شکنی چند مرتبہ انجام پایا ہے۔[41]

نتائج

روایات کی بنیاد پر امام علیؑ کے ہاتھوں بت شکنی سبب بنی کہ اس کے بعد مشرکین، بتوں کو کعبہ میں نہ رکھیں۔[42] اہل سنت کے بعض مآخذ میں اس واقعہ کو گناہوں کے وسائل نابود کرنے کے لازم ہونے پر دلیل بناکر پیش کیا گیا ہے۔[43]

حوالہ جات

  1. علامہ حلی، نہج الحق، 1982ء، ص223۔
  2. شوشتری، إحقاق الحق، 1409ھ، ج18، ص162۔
  3. حسکانی، شواہد التنزیل، 1411ھ، ج1، ص453–454؛ ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135۔
  4. نسائی، سنن نسائی، 1411ھ، ج5، ص142–143؛ ابی یعلی، مسند، 1410ھ، ج1، ص251-252۔
  5. بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج3، ص579-580۔
  6. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135۔
  7. صدوق، معانی الأخبار، 1403ھ، ص350–352؛ بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج3، ص576–578؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص82-84۔
  8. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص136، 141۔
  9. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص141۔
  10. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1422ھ، ج2، ص398۔
  11. بحرانی، البرہان، 1415ھ، ج3، ص580۔
  12. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج38، ص77 منقول از منابع اہل سنت
  13. سورہ اسراء، آيہ81۔
  14. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1422ھ، ج2، ص398؛ ج3، ص6۔
  15. حسکانی، شواہد التنزیل، 1411ھ، ج1، ص453–454؛ ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص86۔
  16. سورہ مریم، آیہ 57۔
  17. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135۔
  18. برای نمونہ: ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135–142؛ شوشتری، إحقاق الحق، 1409ھ، ج18، ص162-168۔
  19. ابن ابی شیبہ، المصنف، 1429ھ، ج13، ص146–147؛ ابن حنبل، مسند، 1416ھ، ج2، ص73–74؛ بزار، مسند بزار، 1409ھ، ج4، ص21–22؛ نسائی، سنن نسائی، 1411ھ، ج5، ص142–143؛ ابی یعلی، مسند، 1410ھ، ج1، ص251-252؛ طبری، تہذیب الآثار، مسند علی بن ابی طالب(ع)، بی تا، ص236-240؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1422ھ، ج2، ص398، ج3، ص6۔
  20. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص136، 141۔
  21. حسکانی، شواہد التنزیل، 1411ھ، ج1، ص453؛ ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135۔
  22. برای نمونہ: ابن ابی شیبہ، المصنف، 1429ھ، ج13، ص146–147؛ ابن حنبل، مسند، 1416ھ، ج2، ص73–74؛ بزار، مسند بزار، 1409ھ، ج4، ص21–22؛ نسائی، سنن نسائی، 1411ھ، ج5، ص142–143؛ ابی یعلی، مسند، 1410ھ، ج1، ص251-252۔
  23. امینی، الغدیر، 1416ھ، ج7، ص18–24۔
  24. نسائی، سنن نسائی، 1411ھ، ج5، ص142؛ بستی، کتاب المراتب، 1421ھ، ص124۔
  25. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135–142؛ شوشتری، إحقاق الحق، 1409ھ، ج18، ص162-168۔
  26. بکری، الأنوار، 1411ھ، ص148؛ حر عاملی، إثبات الہداۃ، 1425ھ، ج3، ص424۔
  27. ابن شاذان، الفضائل، 1363ش، ص97؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص85۔
  28. ابن شاذان، الروضۃ، 1423ھ، ص31۔
  29. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، 1418ھ، ص15.
  30. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص136؛ ابن شاذان، الفضائل، 1363ش، ص85۔
  31. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص136۔
  32. طبرسی، الإحتجاج، 1403ھ، ج1، ص138؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج31، ص334، 379؛ بحرانی، حلیۃ الأبرار، 1411ھ، ج2، ص329۔
  33. ابن شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص136۔
  34. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1422ھ، ج2، ص398؛ ابن شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص141.
  35. ابن حنبل، مسند، 1416ھ، ج2، ص73–74؛ بزار، مسند بزار، 1409ھ، ج4، ص21–22؛ ابی یعلی، مسند، 1410ھ، ج1، ص251۔
  36. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، 1422ھ، ج3، ص6۔
  37. ابن شہر آشوب، مناقب، 1379ھ، ج2، ص135، 140؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص86۔
  38. مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص86۔
  39. مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج56، ص138۔
  40. محمدی ری شہری، دانشنامہ امیرالمومنین، 1389ش، ج1، ص223.
  41. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج56، ص138.
  42. ابن شاذان، الفضائل، 1363ش، ص97؛ مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج38، ص85۔
  43. طبری، تہذیب الآثار، مسند علی بن ابی طالب (ع)، بی تا، ص238-240۔

نوٹ

  1. ہر زراع کو 45 سے 75 سینٹی میٹر تک بیان کیا گیا ہے۔(عاملی بیاضی، الأوزان و المقادیر، 1381ھ، ص56۔)

مآخذ

  • ابن ابی شیبہ، عبداللہ بن محمد، المصنف لابن ابی شیبہ، تحقیق اسامۃ بن ابراہیم بن محمد، قاہرہ، فاروق الحدیثۃ للطباعۃ و النشر، 1429ھ۔
  • ابن جوزی، یوسف بن حسام، تذکرۃ الخواص، قم، منشورات الشریف الرضی، 1418ھ۔
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند الامام احمد بن حنبل، تحقیق شعیب الارنووط و عادل مرشد، بیروت، موسسۃ الرسالہ، 1416ھ۔
  • ابن شاذان، شاذان بن جبرئیل قمی، الروضۃ فی فضائل أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب(ع)، تحقیق علی شکرچی، قم، مکتبۃ الأمین، 1423ھ۔
  • ابن شاذان، شاذان بن جبرئیل قمی، الفضائل، قم، رضی، چاپ دوم، 1363ش۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب(ع)، قم، علامہ، 1379ھ۔
  • ابی یعلی، احمد بن علی، مسند ابی یعلی الموصلی، تحقیق حسین سلیم اسد، دمشق، دارالمأمون للتراث، چاپ دوم، 1410ھ۔
  • امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، 1416ھ۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، تحقیق واحد تحقیقات اسلامی بنیاد بعثت، قم، موسسہ بعثت، 1415ھ۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، حلیۃ الأبرار فی أحوال محمد و آلہ الأطہار(ع)، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، 1411ھ۔
  • بزار، احمد بن عمرو بن عبدالخالق، البحر الزخار (مسند بزار)، تحقیق محفوظ الرحمن زین اللہ، بیروت، موسسۃ علوم القرآن، 1409ھ۔
  • بستی، اسماعیل بن أحمد، کتاب المراتب فی فضائل أمیرالمؤمنین و سید الوصیین(ع)، تحقیق محمدرضا انصاری قمی، قم، دلیل ما، 1421ھ۔
  • بکری، احمد بن عبداللہ، الأنوار و مفتاح السرور و الأفکار فی مولد النبی المختار، قم، رضی، 1411ھ۔
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ دوم، 1422ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الہداۃ بالنصوص و المعجزات، بیروت، اعلمی، 1425ھ۔
  • حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمد باقر محمودی، تہران، وزرات فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1411ھ۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن، تحقیق صفوان عدنان داوودی، بیروت، دار القلم، 1412ھ۔
  • شوشتری، نوراللہ، إحقاق الحق و إزہاق الباطل، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1409ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، تحقیق علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1403ھ۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الإحتجاج علی أہل اللجاج، تحقیق محمد باقر خرسان، مشہد، نشر مرتضی، 1403ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تہذیب الآثار و تفصیل الثابت عن رسول اللہ(ص) من الاخبار، مسند علی بن ابی طالب، تحقیق محمود محمد شاکر، قاہرہ، مطبعۃ المدنی، بی تا۔
  • عاملی بیاضی، ابراہیم سلیمان، الأوزان و المقادیر، بیروت، بی نا، 1381ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، تعلیق عین اللہ حسنی ارموی، بیروت، دارالکتاب اللبنانی، 1982ء۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • نسائی، احمد بن شعیب، سنن الکبری (سنن نسائی)، تحقیق عبدالغفار سلیمان البنداری و حسن سید کسروی، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1411ھ۔