حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل

امام زین العابدین علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
(چوتھے امام سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام زین العابدین علیہ السلام
قبرستان بقیع.JPG
قبرستان بقیع
منصب شیعوں کے چوتھے امام
نام علی بن الحسینؑ
کنیت ابو الحسن، ابو الحسین، ابو محمد، ابو عبداللہ
القاب زین العابدین، سید الساجدین، ذوالثَّفنات
تاریخ ولادت 5 شعبان، سنہ 38 ہجری
جائے ولادت مدینہ
مدت امامت 35 سال (61-95 ھ)
شہادت 25 محرم، سنہ 95 ہجری
سبب شہادت مسمومیت ولید بن عبدالملک کے حکم سے
مدفن بقیع، مدینہ
رہائش مدینہ
والد ماجد امام حسینؑ
والدہ ماجدہ شہر بانو
ازواج ام عبداللہ ...
اولاد محمد، عبداللہ، حسن، حسین اکبر، زید، عمر، حسین الاصغر، عبد الرحمن، سلیمان، علی، خدیجہ، محمد الاصغر، فاطمہ، علّیہ، ام کلثوم
عمر 57 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


علی بن حسین بن علی بن ابی‌ طالب (38-95 ھ)، امام سجاد و زین العابدین کے نام سے مشہور، شیعوں کے چوتھے امام اور امام حسینؑ کے فرزند ہیں۔ آپ 35 سال امامت کے عہدے پر فائز رہے۔ امام سجادؑ واقعہ کربلا میں حاضر تھے لیکن بیماری کی وجہ سے جنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عمر بن سعد کے سپاہی آپ کو اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ و شام لے گئے۔ کوفہ اور شام میں آپ کے دیئے گئے خطبات کے باعث لوگ اہل بیتؑ کے مقام و منزلت سے زیادہ آگاہ ہوئے۔

واقعہ حرہ، تحریک توابین اور قیام مختار آپ کے دور امامت میں رونما ہوئے۔ امام سجادؑ کی دعاؤں اور مناجات کو صحیفہ سجادیہ میں جمع کیا گیا ہے۔ خدا اور خلق خدا کی نسبت انسان کی ذمہ داریوں سے متعلق کتاب، رسالۃ الحقوق بھی آپ سے منسوب ہے۔

شیعہ احادیث کے مطابق امام سجادؑ کو ولید بن عبد الملک کے حکم سے مسموم کرکے شہید کیا گیا۔ آپ امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے ساتھ قبرستان بقیع میں مدفون ہیں۔

نسب، لقب، کنیت

علی بن حسین بن علی بن ابی طالب، معروف بہ امام سجاد اور امام زین العابدین، شیعیان آل رسولؐ کے چوتھے امام اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے فرزند ہیں۔

اختلافی مسائل میں سے ایک آپ کی والدہ شہر بانو کا نام اور نسب ہے۔ آپ کی والدہ کے لئے متعدد نام نقل ہوئے ہیں اور شہر بانو، شہر بانویہ، شاہ زنان اور جہان شاہ ان ہی ناموں میں شامل ہیں۔

بعض محققین یزدگر کی بیٹی شہر بانو کو امام سجاد کی والدہ تسلیم نہیں کرتے ہیں اور دلائل و قرائن کی بنا پر ایسی روایات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کی والدہ ان اوصاف کی مالک نہیں تھیں۔[1]

امام سجادؑ اپنے زمانے میں علي الخیر، علي الاصغر اور علي العابد کے نام سے مشہور تھے۔ [2]

کنیت و لقب

امام علی بن الحسینؑ کی کنیات "ابو الحسن"، "ابو الحسین"، "ابو محمّد" اور "ابو عبداللہ" ہیں۔ [3]

آپ کے القاب میں زین العابدین، سید الساجدین، سجاد، ہاشمی، علوی، مدنی، قرشی اور علی اکبر شامل ہیں۔[4]

زین العابدین : ابن عباس کی رسول خدا سے منقول روایت کے مطابق قیامت کے دن منادی ندا دے گا: زین العابدین کہاں ہے .....تو گویا میں صفوف کے درمیان علی بن الحسین کے چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔[5] دیگر روایت کے مطابق ایک شب آپ محراب عبادت میں عبادت الہی میں مصروف تھے کہ شیطان ایک سانپ کی شکل میں ظاہر ہو کر آپکو عبادت الہی سے منحرف کرنے کی کوشش کی لیکن آپ کی خدا کی جانب توجہ میں کوئی فرق نہیں پڑا تو غیب سے منادی نے تین مرتبہ ندا دی: انت زین العابدین......۔[6]

"ذوالثَّفنات" آپ کے دیگر القاب میں سے ہے جو امام سجادؑ کو دیا گیا ہے (کیونکہ عبادت اور نماز و سجود کی کثرت کی وجہ سے آپ کے اعضائے سجدہ (مساجد) پر اونٹ کے گھٹنوں کی طرح گھٹے پڑ گئے تھے)۔[7]

انگشتریوں کے نقش

امام سجاد علیہ السلام کی انگشتریوں کے لئے تین نقش منقول ہیں:

آپؑ امام حسینؑ کی وہ انگشتری پہن لیا کرتے تھے جس پر "إِنَ‏ اللَّهَ‏ بالِغُ‏ أَمْرِه" (یعنی خداوند متعال اپنا امر و فرمان انجام تک پہنچا دیتا ہے) کا نقش تھا۔[8] آپؑ کی دوسری انگشتریوں کے نقش "وَما تَوْفِیقِی‏ إِلَّا بِاللَّه"،[9] اور"خَزِی‏ وَشَقِی‏ قَاتِلُ الْحُسَینِ بْنِ عَلِی"۔[10]۔[11]

ولادت اور شہادت

امام سجادؑ:


"وَ أَمّا حَقّ وَلَدِكَ فَتَعْلَمُ أَنّهُ مِنْكَ وَمُضَافٌ إِلَيْكَ فِي عَاجِلِ الدّنْيَا بِخَيْرِهِ وَشَرّهِ وَأَنّكَ مَسْئُولٌ عَمّا وُلّيتَهُ مِنْ حُسْنِ الْأَدَبِ وَالدّلَالَةِ عَلَى رَبّهِ وَالْمَعُونَةِ لَهُ عَلَى طَاعَتِهِ فِيكَ وَفِي نَفْسِهِ فَمُثَابٌ عَلَى ذَلِكَ وَمُعَاقَبٌ"۔
(ترجمہ: اور تم پر تمہاری اولاد کہ حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تم سے ہے اور اس دنیا کی نیکی اور بدی میں میں تم سے پیوستہ ہے۔ اور تم ـ خدا کے حکم کے مطابق، اس پر اپنی ولایت کے پیش نظر، اس کی عمدہ پرورش کرنے، نیک آداب سکھانے اور خدائے عزوجل کی طرف راہنمائی کرنے اور خدا کی فرمانبرداری میں اس کی مدد کرنے میں اپنے حوالے سے بھی اور اس کے حوالے سے بھی، جوابدہ ہو؛ اور اس ذمہ داری کے عوض جزا اور سزا پاؤگے۔

رسالۂ حقوق امام سجادؑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2 صفحہ 621 کے بعد۔

ولادت

مشہور قول کے مطابق امام سجادؑ سنہ 38 ہجری[12] میں پیدا ہوئے نیز33ہجری قمری 36 ہجری قمری [13] اور37 ہجری قمری [14] بھی منقول ہیں ۔

ولادت کا مہینہ جمادی الثانی [15] میں جمعہ[16] یا جمعرات [17] کا دن اور تاریخ 15 [18] ذکر کی جاتی ہے جبکہ 9 شعبان[19] اور 5 شعبان[20] بھی نقل ہوئی ہے۔

آئمہ طاہرین میں سے حضرت علی ع کے ساتھ 2 سال،[21] ، حضرت امام حسن کے ساتھ 10 سال ،[22] یا 12سال[23]، حضرت امام حسین ع کے ساتھ 10 سال[24] اور 11سال [25] کے ساتھ رہنے کی مدت منقول ہے۔اپنے والد کی شہادت کے بعد34 [26] یا35 سال[27] زندہ رہے ۔ِآپ کا مقام ولادت اتفاقی طور پر مدینہ مذکور ہے ۔

شہادت

آپ کی شہادت اموی حاکم ولید بن عبد الملک کے زہر دینے سے ہوئی۔[28]۔ آپ کی شہادت کا سال 95 ہجری قمری [29] بعض نے 94 ہجری قمری[30] 92ہجری قمری[31] 93ہجری قمری[32] اور شہادت کی مشہور تاریخ18[33] محرم[34] بروز ہفتہ [35] لکھی گئی ہے بعض نے 14ربیع الاول[36] بدھ[37] بھی ذکر کی ہے۔

شہادت کے وقت عمر مبارک مشہور57 سال ہے[38]اور 59 سال[39] چار مہینے اور کچھ دن [40] بھی مذکور ہے۔

آپ نے امام علی علیہ السلام، امام حسن مجتبی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسولؐ کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

اہل سنت کی تاریخی روایات کے راوی محمد بن عمر الواقدی، نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: "علی بن الحسین (زین العابدینؑ نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی" اور اس کے بعد رقمطراز ہے: "اس لحاظ سے امام سجادؑ 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والد امام حسینؑ کی خدمت میں حاضر تھے۔[41]

نیز زہری نے بھی کہا ہے کہ علی بن الحسینؑ 23 سال کے سن کے ساتھ کربلا میں اپنے والد کے ہمراہ تھے۔[42]

امام سجادؑ سنہ 94 (یا 95) ہجری میں اس زہر کے ذریعے جام شہادت نوش کرگئے جو ولید بن عبدالملک کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔[43] آپؑ کو جنت البقیع میں چچا امام حسن مجتبیؑ کے پہلو میں دفن کردیئے گئے۔[44]

جس طرح آپ کی جائے پیدائش مدینہ کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا اسی طرح مقام دفن مدینہ ہونے کے متعلق کسی نے اختلاف نہیں کیا ہے۔

ازواج اور اولاد

امام زین العابدین:

"وَاَمّا حَقُّ الزَّوجَةِ فَاَنْ تَعْلَمَ اَنَّ اللّه‏َ عَزَّوَجَلَّ جَعَلَها لَكَ سَكَنا وَاُنْسا فَتَعْلَمَ اَنَّ ذلِكَ نِعْمَةٌ مِنَ اللّه‏ِ عَلَيْكَ فَـتُـكْرِمَها وَ تَرْفُقَ بِها وَاِنْ كانَ حَقُّكَ اَوجَبَ فَاِنَّ لَها عَلَيْكَ اَنْ تَرْحَمَها"۔
(ترجمہ: زوجہ کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ خداوند عز و جل نے اس کو تمہارے لئے سکون اور انسیت کا سبب قرار دیا ہے پس جان لو کہ یہ نعمت تم پر اللہ کی جانب سے ہے پس اس کا اکرام کرو اور اس کے ساتھ رواداری سے پیش آؤ، گو کہ تمہارا حق اس پر واجب تر ہے مگر یہ اس کہ حق ہے کہ تم اس کے ساتھ مہربان رہو)"۔ خطا در حوالہ: Invalid <ref> tag; refs with no name must have content

شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج 2، ص 621، ح 3214۔

تاریخی منابع میں منقول ہے کہ امام سجادؑ کی پندرہ اولادیں ہیں جن میں سے گیارہ( 11) بیٹے اور چار (4) بیٹیاں ہیں۔ [45] شیخ مفید کے مطابق امام سجادؑ کے فرزندوں کے نام کچھ یوں ہیں:[46]

  1. امام محمد باقرؑ، جن کی والدہ ام عبداللہ بنت امام حسن مجتبیؑ ہیں۔
  2. عبداللہ
  3. حسن
  4. حسین اکبر، ان تینوں کی والدہ ام ولد تھیں۔
  5. زید
  6. عمر، ان دونوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  7. حسین الاصغر
  8. عبدالرحمن
  9. سلیمان، ان تینوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  10. علی، جو امام سجادؑ کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔
  11. خدیجہ ان کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  12. محمد الاصغر ان کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔
  13. فاطمہ
  14. علّیہ
  15. ام کلثوم، ان تینوں کی والدہ ایک ام ولد تھیں۔

دلائل امامت

عاشورا سنہ 61ہجری کو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ساتھ ہی امام سجادؑ کی امامت کا آغاز ہوتا ہے اور آپ کا دوران امامت سنہ 94 یا 95 ہجری میں آپ کی شہادت تک جاری رہتا ہے۔

کتب حدیث میں شیعہ محدثین کی منقولہ نصوص کے مطابق امام سجادؑ اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے جانشین ہیں۔[47] علاوہ ازیں رسول اللہؐ سے متعدد احادیث منقول ہیں جن میں 12 آئمۂ شیعہ کے اسماء گرامی ذکر ہوئے ہیں اور یہ احادیث امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام سمیت تمام ائمہؑ کی امامت و خلافت و ولایت کی تائید کرتی ہیں۔[48]

نیز شیعہ نصوص کے مطابق رسول اللہؐ کی تلوار اور زرہ وغیرہ کو ائمہ کے پاس ہونا چاہئے اور یہ اشیاء ہمارے شیعہ ائمہ کے پاس تھیں حتی کہ اہل سنت کے کتابوں میں اس امر پر صراحت کی گئی ہے رسول خداؐ کی یہ اشیا امام سجادؑ کے پاس تھیں۔ [49]

علاوہ ازیں امام سجادؑ ملت تشیع نے امام کے طور پر قبول کیا اور آپ کی امامت آپ کی امامت کے آغاز سے آج تک مقبول عام ہے جو خود اس حقیقی جانشینی کا بیِّن ثبوت ہے۔

معاصر سلاطین

  1. یزید بن معاویہ (61- 64ہجری)
  2. عبد اللہ بن زبیر (61-73ہجری)
  3. معاویہ بن یزید (چند ماه از سال 64ہجری).
  4. مروان بن حَکَم (نه ماه از سال 65ہجری).
  5. عبد الملک بن مروان (65- 86ہجری).
  6. ولید بن عبد الملک (86- 96ہجری).[50]

علم اور حدیث میں آپ کا رتبہ

علم اور حدیث کے حوالے سے آپ کا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ حتی اہل سنت کی چھ اہم کتب صحاح ستہ "صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الصحیح، ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی سنن ابن ماجہ نیز مسند ابن حنبل سمیت اہل سنت کی مسانید" میں آپ سے احادیث نقل کی گئی ہیں۔ بخاری نے اپنی کتاب میں تہجد، نماز جمعہ، حج اور بعض دیگر ابواب میں، [51] اور مسلم بن حجاج قشیری نیشابوری نے اپنی کتاب کے ابواب الصوم، الحج، الفرائض، الفتن، الادب اور دیگر تاریخی مسائل کے ضمن میں امام سجادؑ سے احادیث نقل کی ہیں۔[52]

ذہبی رقمطراز ہے: امام سجادؑ نے پیغمبرؐ امام علی بن ابی طالب سے مرسل روایات نقل کی ہیں جب آپ نے (چچا) حسن بن علیؑ (والد) حسین بن علیؑ، عبداللہ بن عباس، صفیہ|صفیّہ، عائشہ اور ابو رافع سے بھی حدیث نقل کی ہے اور دوسری طرف سے امام محمد باقرؑ، زید بن علی