ابو حمزہ ثمالی

ویکی شیعہ سے
(ابوحمزہ ثمالی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو حمزہ ثمالی
معلومات شخصیت
نام: ابو حمزہ ثابت بن دینار ثمالی
لقب: ابو حمزہ ثمالی
پیدائش: پیش از ۸۲ ق
جائے پیدائش کوفہ
مقام سکونت: کوفہ
وفات: ۱۵۰ ھجری قمری
مقام وفات: مدینہ
اصحاب: امام سجادؑ
تالیفات: تفسیرالقرآن، کتاب النوادر، رسالة الحقوق عن علی بن الحسین(ع) اور بعض دیگر کتب
مذہب: شیعہ


ابوحمزہ ثابت بن دینار ثمالی، ابو حمزہ ثمالی کے نام سے مشہور دوسری صدی ہجری کے شیعہ راوی، محدث، مفسر اور امام سجاد علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔ ابو حمزہ ثمالی نے امام سجاد علیہ السلام سے ایک دعا نقل کی ہے جو ماہ مبارک رمضان میں سحر کے وقت پڑھی جاتی ہے اور دعای ابو حمزہ ثمالی کے نام سے معروف ہے۔

محل ولادت

ابو حمزہ ثمالی کا تعلق کوفہ سے تھا۔[1] آل ملہب انہیں اپنا آزاد کردہ کہتے ہیں۔ لیکن نجاشی[2] نے ان کے اس دعوی کو رد کیا ہے۔[3] بعض نے انہیں قبیلہ طی کی ایک شاخ بنو ثعل سے کہا ہے اور ابو حمزہ کے ثمالی کے لقب سے مشہور ہونے کی وجہ قبیلہ ثمالہ کی شاخ ازد کے محلہ میں سکونت بتائی گئی ہے۔ کوفہ میں ابو حمزہ کا زید بن علی (زید شہید) کے ساتھ رابطہ تھا۔[4] وہ کوفہ میں ان کی دعوت اور شہادت کے گواہ تھے۔[5] ابو حمزہ کے تین بیٹے بھی جن کے اسمائ حمزہ، نوح اور مںصور ہیں، زید شہید کے قیام میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے ہیں۔[6]

ولادت و وفات

آپ کی ولادت کے بارے میں دقیق اطلاع دسترس میں نہیں ہے۔ لیکن اس بات کہ پیش نظر کہ انہوں نے زاذان کندی (متوفی ۸۲ ق) سے روایت نقل کی ہے تو ان کی ولادت کا سال ۸۲ ھ ق سے پہلے ہونا چاہئے[7] اور ان کے وفات کا سال ۱۵۰ ھ ق ذکر ہوا ہے۔[8] لیکن حسن بن محبوب (۱۴۹۔۲۴۴ ق) کے ان سے روایت نقل کرنے کی دلیل کی بنائ پر ان کا سال وفات ۱۵۰ ق کے بعد ہونا چاہئے۔[9] ان کی تاریخ وفات کے سلسلہ میں دوسرے اقوال بھی نقل ہوئے ہیں جس کی بنیاد وہ تصحیفات (نقطوں کی وجہ سے الفاظ کا بدل جانا) ہیں جو حدیث و رجال کی کتابوں میں واقع ہوئی ہیں۔[10]

علمائ رجال کی نظر میں

یعقوبی[11] نے ابو حمزہ ثمالی کا شمار کوفہ کے فقہائ میں کیا ہے اور کشی[12] و نجاشی[13] نے ان کی قدر و منزلت کے سلسلہ میں روایات نقل کی ہیں۔ رجال کشی[14] میں دو روایت ان کی ذم میں بھی ذکر ہوئی ہے کہ جس کے سلسلہ میں آیت اللہ خوئی[15] کہا ہے کہ ان دونوں میں سند میں اشکال پایا جاتا ہے۔ ابو حمزہ کے شیوخ اور روات بہت زیادہ ہیں۔ مزی[16] اور خوئی[17] نے ان افراد کی ایک فہرست مرتب کی ہے جنہوں نے ابو حمزہ سے یا انہوں نے روایات نقل کی ہیں۔ اگر چہ اہل سنت نے غالبا ان کی قدح اور تضعیف کی ہے۔[18] حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب المستدرک میں[19] ابو حمزہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کی صحت کا حکم دیا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب کے خطبہ[20] میں ان تمام افراد کی وثاقت کی تصریح کی ہے جو ان کے طرق روایات میں شامل ہیں۔

تالیفات

نجاشی[21] نے ابو حمزہ ثمالی کے آثار و تالیفات کے سلسلہ میں تفسیر القرآن، کتاب النوادر، رسالۃ الحقوق عن علی بن الحسین (ع) کی طرف اشارہ کیا ہے۔

تفسیر

شیعوں کے درمیان تفسیر ابو حمزہ کا متداول متن اور اس کے طرق ابو بکر محمد بن عمر جعابی کی روایت کے ذریعہ نقل ہوا ہے جو انہوں نے ابو سہل عمرو بن حمدان سے محرم ۳۰۷ ق میں اور سلیمان بن اسحاق مہلبی سے نقل کیا ہے اور سلیمان بن اسحاق نے ۲۶۷ ق میں بصرہ میں اسے اپنے عمودی طرق سے ابو عمرو عبد ربہ مہلبی کے واسطہ سے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے۔[22] عبد اللہ بن حمزہ مںصور باللہ (متوفی ۶۱۴ ق)[23] نے ابو حمزہ ثمالی کی تفسیر کے اس طرق کے نقل کے ضمن میں اس روایت اور اس تحریر، جو اہل سنت کے یہاں رائج ہے، کے متن کے تفاوت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس تحریر کی چند نقل کو پیش کیا ہے جو جعابی کی روایت کے مطابق ذکر ہوئی ہے۔ ظاہرا احمد بن محمد ثعلبی (متوفی ۴۲۷ ق) نے اپنی تفسیر الکشف والبیان کی تالیف میں تفسیر ابو حمزہ سے استفادہ کیا ہے[24] اور اسی تحریر سے فائدہ اٹھایا ہے۔[25] ابو حمزہ کی تفسیر کا متن چھٹی صدی ہجری تک باقی تھا۔ شیخ طبرسی نے اپنی تفسیر مجمع البیان،[26] ابن شہر آشوب (متوفی ۵۸۸ ق)[27] نے اپنی کتاب مناقب آل ابی طالب میں اس تفسیر سے روایات نقل کی ہیں۔ عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین نے ابو حمزہ سے منقول روایات کو جو تفسیری نوعیت کی تھیں یا منابع میں ان کے نقل کے سلسلہ میں تفسیر ابو حمزہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ایک کتاب جس کا نام تفسیر القرآن الکریم لابی حمزۃ بن ثابت بن دینار الثمالی ہے، جمع کیا ہے۔

تفسیر کی خصوصیات

ابو حمزہ کی تفسیر میں دوسری ماثور تفاسیر کے بر خلاف مرسل احادیث کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ ابو حمزہ اسباب نزول پر توجہ دیتے ہیں اور اس توجہ کے ساتھ اہل بیت (ع) کے فضائل کے ضمن میں تفسیر قرآن بہ قرآن کی روش سے استفادہ کرتے ہیں اور آیات کے معانی و مفاہیم کے سلسلہ میں اجتہاد، قرائت، لغت، نحو اور مختلف اقوال نقل کرنے میں خاص اہتمام کرتے ہیں۔[28]

مسند ابو حمزہ

عبد الرزاق محمد حسین حرز الدین نے ابو حمزہ سے منقول تمام فقہی روایات کی جمع آوری کی ہے اور انہیں ابواب فقہی کے اعتبار سے مسند ابی حمزہ ثابت بن دینار الثمالی نامی کتاب میں شائع کیا ہے۔ منابع میں ان کی تالیفات میں اس کتاب مسند کی تالیف کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے اور صرف شیخ طوسی[29] نے اس تالیف کا کتاب کے عنوان سے تذکرہ کیا ہے اور ظاہرا اس سے ان کی مراد اصل (اصول اربعۃ مائۃ میں ایک) ہے۔

طرق روایات کتاب مسند ابو حمزہ

شیخ طوسی[30] نے ابو حمزہ کی اس اصل (کتاب) کی روایات کے سلسلہ میں دو طرق کا ذکر کیا ہے: پہلا سلسلہ روایت شیعہ علمائ کی ایک جماعت پر مشتمل ہے جس کے مطابق شیخ صدوق نے اپنے والد اور محمد بن حسن بن ولید (متوفی ۳۴۳ ق) اور موسی بن متوکل کے واسطہ سے، سعد بن عبد اللہ اشعری (متوفی ۲۹۹ یا ۳۰۱ ق)، عبد اللہ جعفر حمیری سے اور انہوں نے احمد بن محمد بن عیسی سے، انہوں نے حسن بن محبوب سے اور انہوں نے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کی ہے اور دوسرا سلسلہ روایت احمد بن عبدون (متوفی ۴۲۳ ق) کے طریق سے ذکر ہوا ہے انہوں نے ابو طالب بن احمد انباری (۳۵۶ ق) سے، انہوں نے حمید بن زیاد سے، انہوں نے اس کتاب کو یونس بن علی عطار کے واسطے سے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے۔

دوسری تالیفات

نجاشی[31] نے ابو حمزہ کی ایک دوسری تالیف کتاب النوادر کا تذکرہ کیا ہے جس کی روایت انہوں نے حسن بن محبوب کے واسطہ سے ابو حمزہ سے کی ہے، اور اس کتاب کو انہوں نے اپنے طرق سے نقل کیا ہے۔ شیخ طوسی[32] نے کتاب النوادر کے ساتھ ایک اور کتاب، کتاب الزہد کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اپنے طرق سے ان دونوں کتابوں کی روایت کو حمید بن زیاد (متوفی ۳۱۰ ق) سے انہوں نے ابو جعفر محمد بن عیاش بن عیسی سے اور انہوں نے اسے ابو حمزہ سے نقل کیا ہے۔ ابو حمزہ کی ایک دوسری تالیف رسالۃ الحقوق عن علی بن حسین (ع) ہے۔ اس رسالہ کا متن معمولی سی تبدیلی کے ساتھ دو مختلف تحریر کی شکل میں، ایک ابن بابویہ[33] کی روایت کے مطابق اور دوسری ابن شعبہ حرانی (چوتھی صدی ہجری) کی روایت سے کتاب تحف العقول[34] میں باقی ہے۔

دعای ابو حمزہ ثمالی

ابو حمزہ نے مختلف ائمہ سے متعدد دعائیں حاصل کی ہیں۔[35] شیخ طوسی نے اپنی کتاب مصباح المتہجد[36] میں ابو حمزہ ثمالی کے واسطہ سے ایک دعا امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کی ہے جو ماہ مبارک رمضان میں سحر کے وقت پڑھی جاتی ہے اور دعای ابو حمزہ ثمالی کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے بارے میں کئی شرحیں بھی لکھی گئی ہیں۔[37] یہ دعا نسبتا ایک طولانی دعا ہے جس میں بلند اخلاقی و عرفانی مضامین بیان ہوئے ہیں اور شیعوں کے درمیان اس کی تلاوت متداول اور رائج ہے۔

حوالہ جات

  1. عقیلی مکی، سفر اول، ص ۱۷۲؛ نجاشی، ص ۱۱۵
  2. نجاشی، ص ۱۱۵
  3. ابن بابویه، من لایحضره الفقیه، ج ۴، مشیخه، ص ۳۶
  4. رجوع کریں: ابن طاووس، ص 140
  5. طوسی، تهذیب الاحکام، ج ۶، ص ۳۷
  6. نجاشی، ص ۱۱۵
  7. رجوع کریں: مِزّی، ج ۴، ص ۳۵۸
  8. رجوع کریں: ابن بابویه، من لایحضره الفقیه؛ نجاشی، ص 115
  9. رجوع کریں: کلینی، ج ۱، ص ۸۸، ۳۶۸، ج ۲، ص ۸۱، ۱۸۸
  10. ابوحمزه ثمالی، مقدمه حرزالدین، ص 17
  11. یعقوبی، ج 2، ص 362ـ363،390ـ391
  12. کشی، ص 202ـ203
  13. نجاشی، ص 115
  14. کشی، ص 201
  15. خوئی، ج 3، ص 389ـ390
  16. مزی، ج 4، ص 358
  17. خوئی، ج 21، ص 135
  18. رجوع کریں: ابن عدی، ج 2، ص 520
  19. حاکم نیشابوری، ج 2، ص 474، ج 4، ص 222
  20. حاکم نیشابوری، ج 1، ص 2ـ3
  21. نجاشی، ص 115ـ116
  22. نجاشی ، ص 115
  23. منصوربالله، ص 153ـ154
  24. ثعلبی،ج 1، ص 82
  25. رجوع کریں: سزگین، ج 1، جزء 3، ص 273
  26. رجوع کریں:ج 3، 150، 152
  27. رجوع کریں: ابن شهر آشوب، ج 1، ص 11، 70، ج 2، ص 71، ج 3، ص 61
  28. رجوع کریں: مقدمه حرزالدین، ص 60ـ66
  29. طوسی، فهرست کتب الشیعة، ص 105
  30. طوسی، فهرست کتب الشیعة، ص 105
  31. نجاشی، ص 116
  32. فهرست کتب الشیعة و اصولهم، ص 105
  33. ابن بابویه،الامالی، ص 368ـ 375؛ابن بابویه، من لایحضره الفقیه، ج 2، ص 376ـ381
  34. ابن شعبه،ص 255ـ272
  35. رجوع کریں: کلینی، ج 2، ص 540 ـ541، 556، 568
  36. طوسی، ص 582 ـ604
  37. رجوع کریں: آقابزرگ طهرانی ، ج 13، ص 246


منابع

  • آقا بزرگ طهرانی.
  • ابن بابویه، الامالی، قم ۱۳۶۲ ش.
  • ابن بابویه، کتاب من لایحضره الفقیه، چاپ حسن موسوی خرسان، بیروت ۱۴۰۱/۱۹۸۱.
  • ابن شعبه، تحف العقول عن آل الرسول، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۳ ش.
  • ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی طالب، چاپ هاشم رسولی محلاتی، قم، بی‌تا.
  • ابن طاووس، فرحة الغری فی تعیین قبرامیرالمؤمنین علی علیه السلام، چاپ تحسین آل شبیب موسوی، قم، ۱۴۱۹/۱۹۹۸.
  • ابن عدیّ، الکامل فی ضعفاء الرجال، بیروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵.
  • ثابت بن دینار ابوحمزه ثمالی، تفسیرالقرآن الکریم لابی حمزة ثابت بن دینار الثمالی، چاپ عبدالرزاق محمدحسین حرزالدین، قم ۱۳۷۸ ش.
  • احمد بن محمد ثعلبی، الکشف والبیان، المعروف تفسیرالثعلبی، چاپ علی عاشور، بیروت ۱۴۲۲/۲۰۰۲.
  • محمد بن عبداللّه حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، بیروت: دارالمعرفه، بی‌تا.
  • خوئی.
  • فؤاد سزگین، تاریخ التراث العربی، ج ۱، جزء ۳، نقله الی العربیة محمود فهمی حجازی، ریاض ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • طبرسی.
  • محمد بن حسن طوسی، تهذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، بیروت ۱۴۰۱/۱۹۸۱.
  • محمد بن حسن طوسی، رجال الطوسی، نجف ۱۳۸۰/ ۱۹۶۱، چاپ افست قم، بی‌تا.
  • محمد بن حسن طوسی، فهرست کتب الشیعة و اصولهم و اسماءالمصنفین و اصحاب الاصول، چاپ عبدالعزیز طباطبائی، قم ۱۴۲۰.
  • محمد بن حسن طوسی، مصباح المتهجّد، بیروت ۱۴۱۱/۱۹۹۱.
  • محمد بن عمرو عقیلی مکی، کتاب الضعفاء الکبیر، چاپ عبدالمعطی امین قلعجی، بیروت ۱۴۰۴/۱۹۸۴.
  • محمد بن عمرکشی، اختیار معرفة الرجال، (تلخیص) محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشهد ۱۳۴۸ ش.
  • کلینی.
  • یوسف بن عبدالرحمان مِزّی، تهذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج ۴، چاپ بشار عواد معروف، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • عبداللّه بن حمزه منصور باللّه، العقد الثمین فی تبیین احکام الائمة الهادین، نسخه عکسی کتابخانه مرکز احیای میراث اسلامی قم، ش ۲۰.
  • احمد بن علی نجاشی، فهرست اسماء مصنّفی الشیعة المشتهر ب رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم ۱۴۰۷.
  • یعقوبی، تاریخ.