زین العابدین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زَیْنُ الْعابدین شیعوں کے چوتھے امام، علی بن الحسینؑ کے مشہور القاب میں سے ایک ہے۔آپ کے اس لقب کی وجہ آپ کی کثرت زہد اور عبادت قرار دیا گیا ہے۔[1] کشف الغمّۃ میں اس لقب کے سبب کو یوں بیان کیا ہے کہ ایک رات امام سجادؑ محراب عبادت میں تہجد پڑھ رہے تھے تو شیطان سانپ کی شکل میں ظاہر ہوا تاکہ آپؑ کو عبادت سے منصرف کرے لیکن امام نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، سانپ نے آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کو کاٹ لیا، حضرتؑ پھر بھی متوجہ نہیں ہوئے۔ اور جب نماز ختم ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ شیطان تھا اور اس پر لعنت کی اور پھر سے عبادت میں مشغول ہوئے۔ اس کے بعد ایک غیبی منادی نے تین مرتبہ ندا بلند کی: أنْتَ زَینُ الْعابدین، «تم ہی ہو عابدوں کی زینت»۔ اس کے بعد سے لوگوں میں بھی اسی لقب سے مشہور ہوئے[2] منقول ہے کہ علی بن الحسینؑ کے علاوہ تاریخ اسلام میں کسی کو بھی زین العابدین کا لقب نہیں ملا ہے۔[3]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. قرشی، حیاۃ الامام زین‌العابدین، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۴۵و۱۴۶.
  2. اربلی، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۶۱۹.
  3. قرشی، حیاۃ الامام زین‌العابدین، ۱۴۰۹، ج۱، ص۱۸۷.

مآخذ

  • قرشی، باقر شریف، حیاۃ الامام زین العابدین، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۰۹ق.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، رضی، ۱۴۲۱ق.