ابان بن تغلب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابان بن تغلب
صحابئ آئمہ
وفات 141ھ
کوفہ
وجہِ شہرت راوئ حدیث
مذہب اسلام (شیعہ)


ابان بن تغلب (م۱۴۱ق/۷۵۸م) ادیب، قاری، فقیہ، مفسّر اور امامیہ محدّثوں میں سے ہیں۔ان کا مکمل نام ابان تغلب بن رُباح بَکری جُرَیری کِنْدی رَبَعی کوفی تھا۔ زیادہ زندگی تابعین کے ساتھ گزاری اور ان سے استفادہ کیا۔امام سجاد (ع)، امام محمد باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) کے زمانے کو درک کیا .کہتے ہیں : ۳۰,۰۰۰ احادیث امام صادق (ع) سے روایات نقل کی ہیں۔

نام و نسب

ان کا نام ابان بن تغلب بن رُباح بَکری جُرَیری کِنْدی رَبَعی کوفی تھا۔اکثر منابع نے انکی کنیت ابوسعید ،بعض نے ابوسعد[1] یا ابن سعید[2] ذکر کی ہے جبکہ بعض دیگر نے ابواُمیمہ کہا ہے۔[3] «‌جریری‌» کہلانے کا سبب بنی جریر بن عُباده کا غلام ہونا تھا۔ اپنے جد بکر بن وائل کی وجہ سے بکری کہلاتے ہیں [4]

ولادت اور وفات

ولادت اور مقام ولادت کے متعلق معلومات نہیں ہے ۔کوفی کہلانے کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے زندگی کے اکثر سال کوفہ میں گزارے ہیں نیز وہیں پیدا ہونے کا احتمال بھی موجود ہے ۔

انکی وفات کوفہ[5] کے شہر میں 141ہجری قمری میں ہوئی ۔[6][7][8][9]

تابعین اور آئمہ (ع)

ابان نے زندگی کا زیادہ حصہ تابعین اور ان کے دروس سے استفادہ کیا ۔اسی وجہ سے ابن حبان[10] نے انہیں کوفہ کے تابعین کی پیروی کرنے والے مشاہیر میں گنا ہے ۔ اگرچہ نجاشینے ابوزُرعَہ کے حوالے سے کہا ہے کہ ابان نے انس بن مالک صحابی (درگذشت۹۳ق) پیغمبر سے بھی روایت نقل کی ہے۔[11]

انہوں نے امام سجاد(ع) ، امام محمد باقر(ع) و امام جعفر صادق (ع) کا زمانہ بھی درک کیا اور انکے پاس اس زمانے کے حدیث جیسے رائج علوم ان سے حاصل کئے اور امام صادق کے حوزۂ درس میں ایک مقام حاصل کیا۔ [12]

کثیر احادیث کا نقل کرنا

ابان امام صادق(ع) سے کثیر احادیث نقل کرنے میں معروف تھے۔ کہتے ہیں ۳۰،۰۰۰ حدیثیں ان سے روایت کی ہیں۔[13]

مختلف علوم پر گرفت

علم قرائت قرآن عاصم بن ابی النَّجُود ، طلحہ بن مُصَرِّف اور سلیمان أعمَش سے حاصل کیا۔یہ ان تین افراد میں سے ہیں جو مکمل قرآن اعمش سے پڑھ سکے ۔[14]وہ عظیم قاریوں میں سے تھے اور خود ایک مخصوص روش سے قرآن کی تلاوت کرتے تھے کہ قاریوں میں معروف تھی۔[15] شیخ طوسی[16] محمد بن موسی بن ابی مریم، صاحب اللّؤلؤ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں اس فن کے ماہر ترین فرد تھے۔

ابان قرآن و حدیث کے علاوہ علم فقہ، ادب، لغت و نحو میں صاحب نظر شمار ہوتے تھے ۔[17] طوسی کے بقول امام صادق(ع) نے ایک مرتبہ شامی سے ادبی مناظرے کیلئے اسے متعین کیا۔[18]

دفاعِ تشیع

ابان کے زمانے میں مسلمانوں کی مختلف اقوام کی فرہنگ و معارف سے آشنائی کی وجہ سے دینی اور عقائدی موضوعات میں جدال فکری ظاہر ہو چکا تھا اور طرح طرح کے فرقے اپنی خود ساختہ آرا کے زیر اثر فقہی اور کلامی آرا کا دفاع کرنے کیلئے میدان عمل میں اترے ہوئے تھے ۔ اس دور میں ابان ان افراد میں سے تھے کہ جو اہل بیت کی تعلیم وتربیت سے الہام لیتے ہوئے اس مذہب کی تبلیغ اور تشیع کے دفاع میں کھڑے ہوئے تھے۔اسی وجہ سے شیعہ آئمہ کے نزدیک ایک خاص منزلت اور مقام رکھتے تھے اور انکے معاصرین احادیث سننے اور مسائل میں استفادے کیلئے ان کے در پر آتے تھے ۔

امام باقر(ع) نےابان سے کہا تھا: مدینے کی مسجد میں بیٹھو اور دین کے مسائل میں لوگوں کیلئے فتوے دو۔میں تم جیسے افراد کو اپنے شیعوں میں دیکھنے کو دوست رکھتا ہوں ۔[19]

علمائے رجال کی رائے

شیعہ علمائے رجال انہیں ثقہ اور قابل اعتماد سمجھتے ہیں.[20]

علمائے اہل سنت

احمد بن حنبل، یحیی بن معین، ابوحاتم اور نسائی جیسے اہل سنت کے علمائے رجال انکی وثاقت کی تائید کرتے ہیں ۔ [21]

  • سعدی جوزجانی انہیں حق سے منحرف ، مذموم المذہب و مُجاہر سمجھتا ہے۔[22]
  • اہل سنت رجالیوں میں سے ذہبی انکا دفاع کرتے ہوئے ان پر لگائی جانے والی ناروا نسبتوں کا جواب دیا ہے۔[23]
  • ابن عدی[24] نے کہا ہے: ہرچند کہا گیا کہ اس نے اپنے مذہب تشیع میں غلو کیا لیکن اسکے باوجود وہ ایک راستگو شخص ہے۔اس بات کی جانب توجہ رہے کہ دوسری صدی میں ایسے شخص کو غالی شیعہ کہا جاتا تھا جو علی(ع) کے مخالفین اور دشمنوں سے متعرض ہوتا تھا ۔ [25] پس اس بنا پر ایسے افراد اور شیعہ آئمہ کی نسبت غلو کرنے والوں میں فرق کیا جائے ۔

مشائخ

تین آئمہ اور انس بن مالک کے علاوہ ابان کے مشائخ حدیث :

  1. سلیمان اعمش
  2. محمد بن منکدر
  3. سماک بن حرب
  4. ابراہیم نخعی
  5. ابو بصیر
  6. عاصم
  7. ابو عمرو شیبانی
  8. منہال بن عمرو اسدی
  9. حکم بن عتیبہ
  10. ابواسحاق عمرو بن عبداللہ سبیعی
  11. فُضیل بن عمرو فُقَیمی
  12. جہم بن عثمان مدنی
  13. عدی بن ثابت
  14. طلحہ بن مُصَرِّف
  15. عطیہ بن سعد عوفی
  16. عِکْرِمَہ مولی ابن عباس
  17. عمر بن ذرّ ہمدانی.[26]

ابان سے روایت کرنے والے

دوسری صدی کے راویوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں ۔عبداللہ مامقانی[27] نے انکی تعداد ۵۰ تن سمجھتے ہیں ۔ان میں سے بعض کے اسما درج ذیل ہیں :

تالیفات

ابان کی طرف بعض کتابوں کی نسبت دی گئی ہے لیکن وہ اب موجود نہیں ہے ۔بعض کے اسما درج ذیل ہیں:

  • کتاب الغریب

اس کتاب میں ابان نے قرآن کے غریب الفاظ کی توضیح اور شرح دی ہے اور اسکے لئے وہ شواہد ذکر کئے جنہیں خود عربوں سے سنا تھا ۔ ابان وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے علم غریب القرآن میں کتاب تالیف کی ۔[29] یہ کتاب اس نوع اور موضوع کا پہلا اثر تھا ۔یہ کتاب لغت اور تفسیر میں نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔[30]دوسری صدی کے لغویوں اور مفسّرین اس کتاب سے استناد کرتے تھے۔ عبدالرحمن بن محمد ازدی کوفی نے اس کتاب اور دیگر کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسی موضوع میں کتاب تالیف کی جس میں اختلاف اور اشتراک کے مقامات ذکر کئے تھے ۔[31]

  • معانی القرآن
  • کتاب القراءات[32]
  • الغریب فی القرآن؛ نجاشی نے اس کتاب کا نام تفسیر غریب القرآن ذکر کیا ہے ۔
  • الفضائل[33]
  • کتاب صفّین[34]

پانویس

  1. حافظ مزّی، ج۲، ص۶؛ صفدی، ج۵، ص۳۰۰
  2. حلّی، ص۱۲
  3. سیوطی، ج۱، ص۴۰۴ بحوالہ: الدّانی؛ ابن جزری، ج۱، ص۴
  4. نجاشی، ص۷-۸
  5. ابن سعد،الطبقات الکبری،6/342/2594،دار الكتب العلميہ - بيروت
  6. علامہ حلی، خلاصۃ الاقوال،73
  7. نجاشی،رجال نجاشی،10
  8. طوسی،رجال الطوسی،109
  9. ذہبی ،سیر اعلام النبلا،6/308/131،دار الرسالہ بیروت۔
  10. مشاہیر، ص۱۶۳-۱۶۴
  11. نجاشی، ص۷؛ قس، خوئی، ج۱، ص۱۴۴
  12. نجاشی، ص۷
  13. حلّی، ص۹-۱۰
  14. ابن جزری، ج۱، ص۴؛ سیوطی، ج۱، ص۴۰۴
  15. نجاشی، ص۷، ۸
  16. طوسی، فہرست، ص۷
  17. نجاشی، ۷-۸؛ یاقوت، ۱/۱۰۷- ۱۰۸
  18. طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ۴
  19. نجاشی، ۷-۸
  20. طوسی، فہرست، ص۵؛ حلّی، ص۹-۱۰
  21. ابن ابی حاتم، ج۱ (۱)، ص۲۹۷؛ حافظ مزی، ج۲، ص۷؛ ابن سعد، ج۶، ص۲۵۰؛ ابن حبان، الثقات، ج۶، ص۶۷؛ ذہبی، مغنی، ص۶؛ صفدی، ج۵، ص۳۰۰ و دیگران
  22. ابن جوزی، ج۱، ص۱۵
  23. ذہبی، میزان الاعتدال في نقد الرجال، ج۱، ص۵-۶
  24. ابن عدی، ج۱، ص۳۸۰
  25. ذہبی، میزان، ج۱، ص۵-۶
  26. نجاشی، ص۷؛ طوسی، اختیار، ص۴، بخاری، ج۱ (۱)، ص۴۵۳؛ حافظ مزّی، ج۲، ص۶؛ ابن جزری، ج۱، ص۴
  27. مامقانی، ج۱، ص۴-۵
  28. حافظ مزّی، ج۲، ص۶-۷؛ نجاشی، ص۸؛ طوسی، فہرست، ص۶؛ طوسی، اختیار، ص۳۳۰
  29. امین، ج۲، ص۹۸؛ حیدر، ج۳، ص۵۷
  30. طوسی، فہرست، ص۵-۶؛ خاص طور پر عربی شواہد کیلئے ۔ نک: نجاشی، ۷
  31. یاقوت، ج۱، ص۱۰۸
  32. ابن ندیم، ص۳۰۸
  33. طوسی، فهرست، ص۶-۷
  34. نجاشی، ص۸


منابع

  • ابن ابی حاتم، عبدالرحمن بن محمد، الجرح و التعدیل، حیدرآباد دکن، ۱۳۷۱ق/۱۹۵۲م.
  • ابن جزری، محمدبن محمد، غایه النهایه، تحقیق برگشتراسر، قاہرہ، ۱۳۵۱ق/۱۹۳۲م.
  • ابن جوزی، عبدالرحمن بن علی، کتاب الضعفاء و المتروکین، تحقیق ابوالفداء عبداللـہ القاضی، بیروت، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • ابن حبان، محمد، مشاہیر علماء الامصار، تحقیق م. فلایشہمر، قاہرہ، ۱۳۷۹ق/۱۹۵۹م.
  • ابن حبان، محمد، الثقات، حیدرآباد دکن، ۱۴۰۰ق/۱۹۸۰م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبیر، تحقیق سترستین، لیدن، ۱۳۲۵ق/۱۹۰۷م.
  • ابن عدی، عبداللہ، الکامل فی ضعفاء الرجال، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • ابن ندیم، الفہرست؛ امین، محسن، اعیان الشیعہ، تحقیق حسن امین، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • بخاری، محمدبن اسماعیل، التاریخ الکبیر، حیدرآباد دکن، ۱۳۶۲ق/۱۹۴۳م.
  • حافظ مزّی، یوسف بن عبدالرحمن، تہذیب الکمال، تحقیق بشار عواد معروف، بیروت، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴م.
  • حلی، حسن بن علی، الرّجال، تہران، ۱۳۴۲ش.
  • حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ، بیروت، ۱۹۷۱م.
  • خویی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • ذہبی، محمدبن احمد، المغنی فی الضعفاء، تحقیق نورالدین عتر، حلب، ۱۳۹۱ق/۱۹۷۱م.
  • ذہبی، محمدبن احمد، میزان الاعتدال، تحقیق علی محمد بجاوی، قاہرہ، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۳م.
  • سیوطی، عبدالرحمن ابن ابی بکر، بغیۃ الوعاه، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۸۴ق/۱۹۶۴م.
  • صفدی، خلیل بن ایبک، الوافی بالوفیات، تحقیق س. دیدرینگ، بیروت، ۱۹۷۰م.
  • طوسی، محمدبن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، تحقیق حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • طوسی، محمدبن حسن، الفہرست، تحقیق محمود رامیار، مشہد، ۱۳۵۱ش.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، خلاصۃ الاقوال، تہران، ۱۳۱۰ق.
  • مامقانی، عبداللہ بن محمد حسن، تنقیح المقال، نجف، ۱۳۵۰ق/۱۹۳۱م.
  • نجاشی، احمدبن علی، رجال، بمبئی، ۱۳۱۷ق.
  • یاقوت، ادبا.

بیرونی رابطے