دعائے ابو حمزہ ثمالی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


دعائے ابو حمزہ ثمالی وہ دعا ہے جسے ابو حمزہ ثمالی نے امام سجاد(ع) سے نقل کیا ہے۔ یہ دعا نہایت عمدہ اور فصیح الفاظ میں عظیم المرتبت مضامین پر مشتمل ہے جن میں سے قبر کی تاریکی اور تنہائی، قیامت کی ہولناکی، گناہوں کے بوجھ کی سنگینی اور پیغمبر اکرم(ص) اور آپ (ص) کے معصوم خاندان کی اطاعت اور پیروی کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ دعا ماہ رمضان میں سحر کے اوقات میں پڑھی جاتی ہے اور اس مہینے کی سحر کی دعاؤں میں طویل ترین دعا ہے۔

وجۂ تسمیہ

چونکہ یہ دعا امام سجاد(ع)، امام باقر(ع) اور امام صادق(ع) کے صحابی جناب ابو حمزہ ثمالی نے امام سجاد(ع) سے نقل کی ہے اسی لئے ان ہی کے نام سے مشہور ہے۔

سند

امام خمینی(رح):
"دعائے ابو حمزہ ثمالی عبودیت کے اعلی ترین مظاہر میں سے ہے اور عبودیت کی زبان میں اس رتبے کی کوئی دعا اور اللہ کی بارگاہ میں ادب کا اس سے بہتر شاہکار، بنی نوع بشر کے یہاں دستیاب نہیں ہے

شرح جنود جهل و عقل، ص146۔

دعائے ابو حمزہ ثمالی سے اقتباس:
"فَمَا لِي لا أَبْكِي أَبْكِي لِخُرُوجِ نَفْسِي أَبْكِي لِظُلْمَةِ قَبْرِي أَبْكِي لِضِيقِ لَحْدِي أَبْكِي لِسُؤَالِ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ إِيَّايَ، أَبْكِي لِخُرُوجِي مِنْ قَبْرِي عُرْيَانا ذَلِيلا حَامِلا ثِقْلِي عَلَى ظَهْرِي أَنْظُرُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِي وَأُخْرَى عَنْ شِمَالِي إِذِ الْخَلائِقُ فِي شَأْنٍ غَيْرِ شَأْنِي۔"

ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص 341-340۔

سید ابن طاؤس اپنی کتاب اقبال الاعمال[1] میں اپنی سند سے ابو محمد ہارون بن موسی تلعکبری سے اور وہ اپنی اسناد سے حسن بن محبوب زراد سے اور وہ ابو حمزہ ثمالی سے روایت کرتے ہیں کہ "امام زین العابدین(ع) ماہ رمضان کے دوران راتوں کے زیادہ تر حصے میں نماز بجا لانے میں مصروف رہتے تھے اور سحر کے وقت اسی دعا کی قرائت کا اہتمام کرتے تھے"۔

اس دعا کو شیخ طوسی نے مصباح المتہجد میں،[2] کفعمی نے البلد الامین[3] اور المصباح میں،[4] مجلسی اور زاد المعاد[5] اور بحارالانوار[6] میں اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان[7] نقل کیا ہے۔

مضامین و مندرجات

اس دعا کا آغاز "إِلَهِي لا تُؤَدِّبْنِي بِعُقُوبَتِكَ" سے اور اختتام "وَرَضِّنِي مِنَ الْعَيْشِ بِمَا قَسَمْتَ لِي يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ" پر ہوتا ہے۔ یہ دعا اعلی بلند معانی، اور فصیح الفاظ نیز بدیع تعبیرات اور عبارات پر مشتمل ہے۔ اس دعا میں توبہ، انابت، تضرع اور فریاد اور پرہیزگاری کی راہ و روش کی تصویر کشی ہوئی ہے اور قبر و قیامت کی سختیوں، تاریکیوں، تنہائیوں اور گناہ کے بوجھ کی سنگینی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور نیز پیغمبر اکرم(ص) اور خاندان عصمت کی پیروی اور اطاعت کی ضرورت پر تاکید ہوئی ہے؛ نیز اس دعا میں وسعتِ رزق، حج خانۂ خدا اور شیطان حکام کے شر سے محفوظ رہنے، غیرپسندیدہ صفات اور طاعت میں سستی، مایوسی اور غم و اندوہ سے چھٹکارا پانے، کی التجا کی گئی ہے۔ یہ دعا خداشناسی اور توحید نیز معاد شناسی کے دروس پر مشتمل ہونے کے علاوہ نبوت اور امامت کی منزلت اور مقام و مرتبت پر تاکید کرتی ہے اور دنیاوی اور اخروی سعادت کے لئے کسی بھی مؤمن فرد کی تمام آرزؤوں پر مشتمل ہونے کے لحاظ سے جامع ترین دعا ہے۔[8]

وقت قرائت

دعائے ابو حمزہ ثمالی دنیا کے بہت سے شیعہ آبادی والے شہروں میں انفرادی طور پر یا پھر چھوٹے بڑے اجتماعات میں ماہ رمضان کے رات یا صبح کے اوقات میں پڑھی جاتی ہے۔

شرحیں

دعائے سحر پر متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں سے بعض کے عناوین درج ذیل ہیں:

  1. شرح دعائے ابی حمزہ ثمالی'"، بقلم: شیخ محمدابراہیم بن المولی عبدالوہاب سبزواری۔
  2. شرح دعائے ابی حمزہ ثمالی، بقلم: مولی محمد تقی بن حسین علی ہروی اصفہانی حائری۔
  3. شرح دعائے ابوحمزہ ثمالی، بقلم: سید حسین بن ابی القاسم جعفر بن حسین موسوی خوانساری، جو سید محمد مہدی بحرالعلوم|سید مہدی بحرالعلوم کے استاد ہیں۔
  4. شرح دعائے ابوحمزہ ثمالی، بقلم: سید میر معزالدین بن میر مسیح اصطہباناتی۔[9]
  5. تحفۃ الاعزہ، بقلم: شیخ آقا شاملی شیرازی جو سنہ 1352ھ ش میں شائع ہوئی ہے۔
  6. الجوہرة العزیزة فی شرح دعاء ابن حمزہ، بقلم: سید ابوالفضل حسینی، جو سنہ 1379ھ ق میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔
  7. عشق و رستگاری، بقلم: احمد زمردیان شیرازی، جو سنہ 1346ھ ش میں شائع ہوئی۔[10]
  8. متن، شرح و تفسیر دعائے ابوحمزہ ثمالی، بقلم: محمدعلی خزائلی جو سنہ 1387ھ ش میں شائع ہوئی ہے۔

حوالہ جات

  1. ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص 345-334۔
  2. طوسی، مصباح المتهجد، ص 416-405۔
  3. کفعمی، البلد الامین، ص299-288۔
  4. کفعمی، المصباح، ص797-781۔
  5. مجلسی، زادالمعاد، ص103-92۔
  6. مجلسی، بحارالانوار، ج95، ص82۔
  7. قمی، مفاتیح‌الجنان، ص358-334۔
  8. دائرة المعارف تشیع، ج7، ص521۔
  9. آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، ج13، ص247۔
  10. دائرة المعارف تشیع، ج 7، ص 521۔


مآخذ

  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، دار احیاء تراث عربی، بیروت، 1403ھ ق
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ق، 2003ع‍
  • کفعمی، ابراهیم بن علی عاملی، البلد الامین و الدرع الحصین، بیروت، موسسه الاعلمی للمطبوعات، 1418ھ ق
  • کفعمی، ابراهیم بن علی عاملی، المصباح فی الادعیه و الصلوات و الزایارات، قم، دارالراضی، 1405ع‍
  • صدر سید جوادی، احمد، دائره المعارف تشیع، تهران، جلد 7، نشر شهید سعید محبی، 1380ھ ش
  • ابن طاؤس، اقبال الاعمال، بیروت، چاپ اعلمی، 1417ھ ق، 1996ع‍
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تهران، مرکز نشر فرهنگی رجاء، 1369ھ ش
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتهجد، بیروت، چاپ علاءالدین‌ اعلمی‌، 1418ھ ق، 1998ع‍
  • آقا بزرگ تهرانی، الذریعه الی تصانیف الشیعه، جلد 13، بیروت، دارالاضواء، 1378ھ ق

بیرونی روابط