مشہد السقط

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

مَشہَدالسِّقْطْ یا مشہد مُحْسن بن الحُسَین کے نام سے عراق کے شہر حلب کے پاس پہاڑ کے دامن میں ایک زیارت گاہ موجود ہے ۔ یہ عمارت مشہدالنقطہ نام کے مقام سے ۳۰۰ میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔اس عمارت کو ۳۵۱ق میں سیف الدولہ حمدانی کے حکم سے تعمیر کیا گیا ۔ یہ مقام امام حسین علیہ السلام کے محسن نام کے بیٹے سے منسوب ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے رحم سے اس مقام پر سقط ہوئے ۔لیکن تاریخی مآخذوں میں امام حسین کے بیٹوں میں ایسا کوئی نام مذکور نہیں ہے ۔

صاحب مرقد

یہ عمارت محسن بن حسین(ع) کے نام سے منسوب ہے ۔مؤرخ یاقوت کے مطابق واقعۂ کربلا کے بعد اسیران کربلا کے اس مقام پر استراحت کے دوران حضرت امام حسین کی ایک بیوی کا فرزند اس جگہ سقط ہوا تھا۔[1] یا انکے ہمراہ ایک بٹا تھا جسے حلب میں فوتگی کے بعد اسی مقام پر دفن کیا گیا۔ [2] اس جگہ کو محسن‌السقط کہا جانے لگا ۔ ابن عدیم نے کہا ہے ہے :کہا گیا ہے کہ سقط شدہ بچے کا نام محسن بن حسین رکھا گیا تھا لیکن تاریخی منابع اس نام کی تائید نہیں کرتے ہیں [3] اور نہ منابع تاریخی امام حسین کے کسی محسن نام کے بیٹے کو انکی طرف نسبت ہی دیتے ہیں ۔

کشف قبر

اس جگہ لکڑی کا ایک تختہ تھا جس بیٹھ کر سیف‌الدولہ حمدانی گھڑ دوڑ دیکھتا تھا اور اسے مشہدالدکّہ اور مشہدالطرح کہتے تھے ۔[4] غزی تاریخ ابن ابی طی سے نقل کرتا ہے:

۳۵۱ق میں سیف الدولہ نے شہر سے ایک نور دیکھا اس جگہ کو کھودا گیا تو ایک پتھر دریافت ہوا جس پر لکھا ہوا تھا :
هذا قبر محسن بن الحسین بن علی علیه‌السلام اس نے علویوں کو اکٹھا کیا اور ان سے سول و جواب کئے کہ کیا امام حسین محسن کے نام سے بیٹا رکھتے تھے ؟کچھ نے جواب دیا : ہمیں کوئی علم نہیں ہے ۔ہم نے سنا ہے کہ حضرت فاطمہ(س) حاملہ تھیں اور پیامبر(ص) نے اس رحم کے جنین کو محسن کے نام سے یاد کیا تھا۔ محسن علی(ع) کے گھر پر حملے کے دوران سقط ہوا۔بعض نے کہا :جب اسیران کربلا جب یہاں سے گزر رہے تھے تو امام حسین علیہ السلام کی ایک زوجہ سے سقط جنین ہوا ۔[5]

پھر سیف الدولہ نے کہا : خداوند نے اجازت دی ہے کہ یہ مقام آباد ہو اور میں اسے اہل بیت کے نام سے آباد کروں.اس کے حکم سے مزار اور مرقد بنایا گیا اور اسکے حکم سے خط کوفی میں لکھا گیا:

عَمَرَ هذا المَشهدَ المُبارکَ ابتِغاءً لِوَجهِ اللهِ و قُربَةً اِلی اللهِ، عَلی اسمِ مولانا المُحسنِ بنِ الحسینِ بن علیٍّ بن ابی طالب رَضی اللهُ عَنهم، الامیرُ الاجل، سیف الدوله ابوالحسن علی بن عبدالله بن حمدان سنة ۳۵۱ه[6]

محل وقوع

گزشتہ زمانے میں یہ زیارت گاہ حلب کے غرب میں موجود جوشن نامی پہاڑ کے دامن میں واقع تھی ۔[7] آجکل حلب میں مشہد نام کی سڑک پر واقع ہے ۔ اس شہر مکینوں کے نزدیک شیخ محسن کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔اس زیارت‌گاه کے قریب مشہدالنقطہ اور ابن زہره (۵۸۵ق)، ابن شہر آشوب اور احمد بن منیر طرابلسی (۵۴۸ق)جیسے شیعہ علما کی قبریں واقع ہیں۔[8]

بعض مؤرخوں نے اس پہاڑ کانام جوشن کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا ہے شمر بن ذی الجوشن نے اسیران اور شہدائے کربلا کے ہمراہ اس جگہ قیام کیا تھا اس مناسبت اسے جوشن کہا جانے لگا ۔یاقوت حموی کے مطابق یہاں معدنی کان موجود تھی جس سے تانبہ نکلتا تھا ۔کان میں کام کرنے والے اسیروں کے ساتھ برے رویے سے پیش آنے کیوجہ سے مورد نفرین قرار پائے جس کی بدولت کان ختم ہو گئی ۔[9]

تاریخچۂ عمارت

یہ عمارت پہلی مرتبہ ۳۵۱ق میں سیف الدولہ حمدانی کے حکم سے بنائی گئی ۔[10] فربخ نے ۵۱۸ میں حلب پر قبضہ کیا اور اس نے نبش قبر کیا ،اس میں کوئی چیز نہیں پائی تو اس نے اسے آگ لگا دی ۔[11] ساتویں صدی ہجری میں برقرق بن رضی نے اسے دوبارہ از سر نو تعمیر کیا اور اسکے لئے متولی، مؤذن اور امام جماعت مقرر کیا ۔[12]

یہ عمارت ایک مرکزی صحن پر مشتمل ہے جس کے اطراف میں مختلف عمارتیں ہال، رواق‌ اور مقبره محسن بن حسین واقع ہیں۔عمارت کے ہر حصے پر نیم دائرے کی صورت میں چھوٹے گنبد بنے ہوئے ہیں ۔صحن کے شمالی ضلع میں ایوبی بادشاہوں کے دور کے کتبے نصب ہیں جن پر چودہ معصومین پر صلوات لکھی گئی ہے ۔[13] این مرقد ۲۴ اگست ۲۰۱۲ میں ٹیرورسٹی حملے کی بدولت خرابے میں تبدیلی ہوئی [14]

حوالہ جات

  1. حموی، معجم البلدان، ج۲، ص۱۸۶.
  2. حموی، معجم البلدان، ج۲، ص۲۸۴.
  3. ابن عدیم، ج۴، ص۴۱۱.
  4. غزی، نہرالذہب، ج۲، ص۲۱۰.
  5. غزی، نہرالذہب، ج۲، ص۲۱۰.
  6. غزی، نہرالذہب، ج۲، ص۲۱۰.
  7. حموی، معجم البلدان، ج۲، ص۱۸۶.
  8. حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص۲۳۴-۲۳۵.
  9. حموی، معجم البلدان، ج۲، ص۱۸۶.
  10. غزی، نہرالذہب، ج۲، ص۲۱۰.
  11. ابن عدیم، بغیۃ الطلب، ج۴، ص۴۱۲.
  12. غزی، نہرالذہب، ج۲، ص۲۱۰.
  13. خامہ یار، تخریب زیارت‌گاه‌ ہای اسلامی، ص۶۲.
  14. خامہ یار، تخریب زیارت‌گاه‌ ہای اسلامی، ص۶۳.


منابع

  • ابن عدیم، کمال الدین عمر بن احمد بن ابی جراده، بغیہ الطلب، دارالفکر، بیروت، بی‌تا.
  • خامہ یار، احمد، تخریب زیارت‌گاه‌ ہای اسلامی در کشورہای عربی؛ عراق، سوریہ، تونس و لیبی، دارالاعلام لمدرسہ اہل البیت، قم، ۱۳۹۱ش.
  • حموی بغدادی، یاقوت (متوفی ۶۲۶ق)، معجم البلدان، دارصادر، بیروت، ۱۹۹۵م.
  • غزی، کامل بالی حلبی، نہرالذہب فی تاریخ حلب، دارالقلم، حلب، ۱۴۱۹ق.
  • حسینی جلالی، محمدحسین، مزارات اہل البیت و تاریخہا، مؤسسہ اعلمی، بیروت،الطبعہ الثالثہ، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م.