محمد تقی مجلسی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد تقی مجلسی
ضریح محمد تقی و محمد باقر مجلسی
کوائف
مکمل نام محمد تقی مجلسی
لقب/کنیت مجلسی اول
تاریخ وفات 11 شعبان 1070 ق
مدفن اصفہان
علمی معلومات
اساتذہ شیخ بہائی، میر داماد
شاگرد محمد باقر مجلسی، آقا حسین خوانساری
تالیفات روضۃ المتقین، لوامع صاحبقرانی، حلیۃ المتقین، شرح صحیفہ سجادیہ
خدمات


محمد تقی بن مقصود علی اصفہانی (1003 - 1070 ھ) مجلسی اول کے نام سے مشہور ہیں۔ علامہ محمد باقر مجلسی کے والد اور گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ علما میں سے ہیں۔ ان کی تالیفات میں سے روضۃ المتقین اور لوامع صاحبقرانی جیسی کتابیں موجود ہیں۔ مجلسی نے اصفہان اور نجف میں تعلیم حاصل کی ہے، وہ اصفہان کی جامع مسجد میں علوم دینی کی تدریس کیا کرتے تھے اور اپنے اساتذہ شیخ بہائی اور میر داماد کے بعد آپ اس مسجد میں امامت جمعہ کا فریضہ ادا کرتے تھے۔

سوانح عمری

مجلسی خاندان کا شمار صفویہ دور کے برجستہ علمی کھرانوں میں ہوتا تھا۔ محمد تقی سن 1003 میں صفویوں کے دار الحکومت اصفہان میں متولد ہوئے۔[1] ان کے والد ملا علی مجلسی شیعہ علمائ میں سے تھے۔ والد کی طرف سے ان سلسلہ نسب ابع نعیم اصفہانی اور والدہ کی طرف سے محمد بن حسن نطنزی تک پہچتا ہے۔[2] وہ شعر و سخن کا ذوق رکھتے تھے اور مجلسی ان کا تخلص تھا۔ 1034 ق میں 31 سال کی عمر میں انہوں نے نجف کا سفر کیا اور 33 سال کی عمر میں سید شرف الدین علی شولستانی سے جو حوزہ علمیہ نجف کے محدثین میں سے تھے، اجازہ حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ اصفہان لوٹ آئے اور وہاں جامع مسجد میں تدریس علوم دینی میں مشغول ہو گئے۔[3] شیخ بہائی اور میر داماد کے بعد وہ پہلی فرد تھے جنہوں نے وہاں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔ 11 شعبان 1070 ق میں آپ نے اصفہان میں وفات پائی[4] اور اس کی جامع مسجد میں دفن ہوئے۔[5]

صاحب روضات کے مطابق، محمد باقر مجلسی نے اپنے والد سے بہت سی کرامات نقل کی ہیں۔[6] اسی طرح سے خوانساری کے بقول وہ پہلے عالم تھے جنہوں نے صٖفویہ کے ظہور کے بعد حدیث شیعہ کی نشر و اشاعت کی۔[7]

اساتذہ

  • ان کے والد
  • ملا عبدالله شوشتری
  • شیخ بہائی
  • میر داماد
  • امیراسحاق استرآبادی[8]

شاگرد

  • آقا حسین خوانساری[9]
  • سید عبدالحسین خاتون آبادی
  • سید نعمت الله جزائری
  • ملا میرزای شیروانی
  • ملا محمد صالح مازندرانی
  • ملا محمد صادق کرباسی
  • سید شرف الدین علی گلستانه
  • ملا عزیزاللَّه مجلسی
  • ملا عبداللَّه مجلسی
  • میرزا ابراهیم اردکانی یزدی
  • مولا ابوالقاسم بن محمد گلپایگانی
  • بدرالدین بن احمد عاملی
  • میرزا تاج الدین گلستانه
  • محمد باقر مجلسی[10]

تصنیفات

کتاب روضۃ المتقین

مجلسی اول کی بعض تالیفات موجود ہیں۔

اصلی تحریر: روضۃ المتقین

شیخ طوسی کی کتاب تہذیب الاحکام پر تحریر ہونے والی بہترین شرحوں میں سے ہے۔[11] یہ شرح بارہا طبع ہو چکی ہے۔ اس کا جدید ایڈیشن 14 جلدوں میں شائع ہوا ہے۔

اصلی تحریر: لوامع صاحبقرانی (کتاب)

قبر محمد تقی مجلسی

لوامع صاحبقرانی، شرح فقیہ کے نام سے مشہور ایک فقہی کتاب ہے جو فارسی میں ہے۔ یہ کتاب شیخ صدوق کی من لا یحضرہ الفقیہ کی شرح اور ترجمہ کے طور پر تحریر کی گئی ہے۔ مولف نے اس کتاب میں پیچیدہ علمی اصطلاحات و مباحث کے تذکرہ سے پرپیز کیا ہے اور محض فارسی شرح اور کہیں کہیں پر سند کی مختصر توضیحات اور اعتراضات و شبہات کے جوابات پر اکتفا کیا ہے ۔

  • ریاض المؤمنین در شرح صحیفه سجادیه
  • چهل حدیث از معصومین
  • شرح زیارت جامعه
  • شرح حدیث همّام
  • حدیقة المتقین، رساله عملیه تا آخر مبحث روزه[12]
  • مطالع الانوار در نماز جمعه[13]

میرزا عبد اللہ آفندی نے ان کی تالیفات میں رضاعت کے موضوع پر ایک کتاب اور حقوق والدین کے عنوان سے ایک مختصر رسالہ کا ذکر کیا ہے۔[14]

اولاد

  • عزیز الله مجلسی
  • عبدالله مجلسی[15] نے ہندوستان کا سفر کیا اور وہیں 1084 کے قریب وفات پائی۔[16]
  • محمد باقر مجلسی (مجلسی دوم)، بحارالانوار کے مولف۔
  • آمنه بیگم، ملا صالح مازندرانی شارح اصول کافی کی زوجہ۔[17]
  • محمد علی استرآبادی کی زوجہ۔[18]
  • ملا میرزا محمد شیروانی کی زوجہ۔
  • میرزا کمال الدین محمد فسائی شارح شافیه کی زوجہ۔[19]

حوالہ جات

  1. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۳
  2. اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲؛ روضات الجنات، ج۲، ص۱۱۹
  3. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۳
  4. ریاض العلماء، ج۵، ص۴۷
  5. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۲؛ اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲
  6. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۱
  7. اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۳، روضات الجنات، ج۲، ص۱۱۸
  8. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۰؛ اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲
  9. روضات الجنات، ج۲، ص۱۱۹
  10. زندگینامه محمد تقی مجلسی
  11. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۲
  12. روضات الجنات، ج۲، ص-۱۲۰،۱۱۹؛ اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲
  13. روضات الجنات، ج۲، ص۱۲۲؛ اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲
  14. ریاض العلماء، ج۵، ص۴۷
  15. اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۲
  16. خاندان مجلسی
  17. روضات الجنات، ج۲، ص۸۸، ص۱۱۹؛ اعیان الشیعه، ج۹، ص۱۹۳
  18. روضات الجنات، ج۲، ص۸۸
  19. فرزندان مجلسی


منابع

  • خوانساری، روضات الجنات، مکتبة اسماعیلیان، قم.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعه، تحقیق: حسن امین، دارالتعارف، بیروت، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م.
  • افندی اصفهانی، میرزا عبدالله، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، تحقیق، محمود مرعشی، مکتبة خیام، قم، ۱۴۰۱ق.