مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سجدہ نماز

ویکی شیعہ سے

نماز کا سجدہ، نماز کے ارکان میں سے ہے اور مسلمانوں کو نماز کی ہر رکعت میں دو بار سجدہ کرنا ضروری ہے۔ سجدے میں جسم کے سات اعضا یعنی پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیاں زمین پر رکھنی چاہئیں اور سکون کی حالت میں ذکر سجدہ پڑھنا چاہئے۔ سجدہ سے عاجز شخص جتنا جھک سکتا ہے جھکے اور اگر اس سے بھی عاجز ہو تو سر اور آنکھ سے اشارہ کرے یا دل میں سجدہ کی نیت کرے۔

سجدہ میں پیشانی رکھنے کی جگہ پاک اور زمین یا زمین سے اگنے والی ایسی چیزوں میں سے ہونی چاہئے جو کھانے اور پینے والی اشیاء میں سے نہ ہو۔ امام حسینؑ کی قبر کی مٹی جسے عموما تربت کہا جاتا ہے، پر سجدہ کرنا افضل سمجھا گیا ہے۔ سونا، چاندی یا معدنی پتھروں پر سجدہ صحیح نہیں ہے اور مجبوری کی صورت میں کپاس یا سوتی کپڑے پر سجدہ کرنا جائز ہے۔ سجدہ کی مستحبات میں سجدے کو طول دینا، دو سجدوں کے درمیان استغفار پڑھنا اور بیٹھنے اور اٹھنے کے آداب کا خیال رکھنا شامل ہیں۔

نماز میں سجدہ کا رکن ہونا

مسجد اقصیٰ میں نماز کے دوران سجدے کی حالت میں نمازیوں کی تصویر۔

سجدہ نماز کے واجبات میں سے ہے اور تمام نمازوں کی ہر رکعت میں رکوع کے بعد دو بار سجدہ کیا جاتا ہے۔[1] دونوں سجدے مل کر نماز کے ارکان میں شمار ہوتے ہیں[2] اور فقہا کے فتووں،[3] بعض احادیث[4] اور قاعدہ لاتعاد[5] کی رو سے عمداً یا سہواً دونوں سجدوں کے ترک کرنے یا اضافہ کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔[6] سجدہ کے احکام فقہی مصادر میں نماز سے متعلق مسائل کے ضمن میں بیان ہوتے ہیں۔[7]

سجدہ کرنے کا طریقہ

نماز میں رکوع سے سر اٹھانے اور سیدھے کھڑے ہونے کے بعد سجدہ انجام دیا جاتا ہے۔ سجدے کی حالت میں جسم کے سات اعضا یعنی پیشانی، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں، دونوں گھٹنوں کے سرے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھوں کو زمین پر رکھنا اور سجدے کا ذکر پڑھنا واجب ہے۔[8] ذکر ختم ہونے کے بعد، سجدے سے سر اٹھا کر تھوڑی دیر بیٹھ جائے۔ جب جسم سکون میں آجائے تو پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجدہ بھی انجام دے۔ دوسرے سجدے کے بعد دوبارہ تھوڑی دیر بیٹھ جائے جسے آرام کا وقفہ کہا جاتا ہے۔[9]

عاجز شخص کے سجدہ کرنے کا طریقہ

جو شخص زمین پر پیشانی نہیں رکھ سکتا، اسے سجدہ گاہ یا کوئی دوسری چیز جس پر سجدہ صحیح ہے، کسی اونچی چیز پر رکھ کر جتنا ممکن ہو جھک کر پیشانی اس پر رکھنی چاہئے تاکہ کہا جا سکے کہ اس نے سجدہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پاؤں کی انگلیوں کو معمول کے مطابق زمین پر رکھنا چاہئے۔[10]

جو شخص بالکل بھی جھک نہیں سکتا، اسے سجدے کے لئے بیٹھ کر سر سے اشارہ کرنا چاہئے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو آنکھوں سے اشارہ کرے۔ ایسا شخص اگر کر سکے تو سجدہ گاہ کو اتنا اونچا کرے کہ اپنی پیشانی اس پر رکھ سکے اور اگر نہ کر سکے تو کوئی دوسرا شخص سجدہ گاہ کو اونچا کرے تاکہ وہ اپنی پیشانی اس پر رکھ سکے۔ نیز اگر نمازی سر یا آنکھوں سے اشارہ کرنے سے بھی عاجز ہو تو اسے دل میں سجدے کی نیت کرنی چاہئے اور ہاتھ وغیرہ سے سجدے کا اشارہ کرنا چاہئے۔[11]

امام خمینی، اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی، کی ہسپتال میں نماز ادا کرنے کی تصویر جہاں وہ سجدہ کرنے سے عاجزی کی بنا پر دوسرا شخص ان کی پیشانی پر سجدہ گاہ رکھ رہا ہے۔

واجبات

فقہی کتابوں کے مطابق نماز میں سجدہ ادا کرنے کے لئے کچھ امور واجب ہیں:

  • تمام اعضائے سجدہ کا زمین پر رکھنا۔[12]
  • حالت سکون میں ذکرسجدہ کا پڑھنا حرکت کی حالت میں نہیں ۔[13]
  • مختصر توقف کے ساتھ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا[14]
  • ہر رکعت میں دو سجدے بجا لانا: عمداً یا سہوا دو سجدے کم یا زیادہ کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، لیکن اگر نمازی صرف ایک سجدہ بھول جائے اور رکوع سے پہلے اسے یاد آئے تو اسے بیٹھ کر بھولا ہوا سجدہ ادا کرنا چاہئے اور نماز کے بعد دو سجدہ سہو ادا کرنے چاہئے۔ لیکن اگر رکوع میں یا اس کے بعد اسے یاد آئے تو اسے نماز جاری رکھنی چاہئے اور نماز کے بعد، بھولے ہوئے سجدے کی قضا کرنے کے علاوہ، دو سجدہ سہو بھی ادا کرنا ضروری ہے۔[15]

مستحبات اور مکروہات

حماد بن عیسی جہنی نے امام صادق علیہ السلام سے نماز میں سجدہ ادا کرنے کی کیفیت یوں نقل کی ہے:

... سجدے میں گئے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جبکہ انگلیاں آپس میں ملی ہوئی تھیں، گھٹنوں کے آگے، اپنے چہرے کے قریب رکھ کر تین بار فرمایا: «سبحان ربي الأعلى و بحمدہ» اور سجدہ کرتے وقت امامؑ نے اپنے جسم کے کسی حصے کو دوسرے حصے کے ساتھ نہیں چپکایا اور سجدے کے وقت جسم کے آٹھ اعضا زمین پر رکھے: دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں کے انگوٹھے، پیشانی اور ناک اور فرمایا: ان میں سے سات اعضا کا زمین پر رکھنا واجب ہے۔

فقہی کتابوں میں نماز میں سجدے کے لئے کچھ مستحبات اور مکروہات بیان ہوئے ہیں۔

مستحبات سجدہ

  • ہر سجدے سے پہلے اور بعد میں تکبیر کہنا؛
  • سجدے میں جاتے وقت مرددوں کا پہلے ہاتھ اور عورتوں کا پہلے گھٹنے زمین پر رکھنا؛
  • ناک کو کسی ایسی چیز پر رکھنا جس پر سجدہ صحیح ہے؛
  • انگلیوں کو -انگوٹھے کے علاوہ- قبلہ رخ اور ایک دوسرے سے ملا کر رکھنا؛
  • سجدے کے ذکر کو طاق تعداد (مثلاً تین، پانچ یا سات) میں دہرانا؛
  • سجدے میں صلوات بھیجنا اور سجدے کو طولانی کرنا؛
  • سجدے کے بعد تَوَرُّک کی حالت میں بیٹھنا (بائیں ران پر بیٹھنا اور دائیں پاؤں کا تلوہ بائیں پاؤں کے اوپر رکھنا)؛
  • دو سجدوں کے درمیان، سکون کی حالت میں استغفار پڑھنا؛
  • سجدے کے وقت عورتوں کا کہنیوں کو پہلو سے چپکائے رکھنا اور مردوں کا کھلا رکھنا؛
  • بیٹھتے وقت ہاتھ رانوں پر رکھنا؛
  • اگلی رکعت کے لئے اٹھتے وقت «بِحَولِ اللہِ وَ قُوَّتِہِ أقُومُ وَ أقْعُدُ» یا «اللہُمَّ بِحَولِكَ وَقُوَّتِكَ أقومُ وَ أقْعُدُ» کا ذکر کہنا؛
  • زمین سے اٹھتے وقت مردوں کا پہلے گھٹنے اور پھر ہاتھوں کو زمین سے اٹھانا اور عورتوں کا اس کے برعکس انجام دینا۔[16]

سجدہ میں دعا خصوصا نماز کے اخری سجدے میں

نماز کے سجدوں میں رزق حلال اور دیگر دنیاوی و اخروی حاجات کے لئے دعا کرنا مستحب سمجھا گیا ہے۔[17] اگرچہ اکثر مراجع تقلید کے فتویٰ میں یہ استحباب تمام سجدوں کے لئے بیان ہوا ہے لیکن آخری سجدے میں اس کا استحباب الگ سے ذکر کیا گیا ہے،[18] جبکہ بعض مراجع تقلید کے فتویٰ میں یہ استحباب صرف نماز کے آخری سجدے کے بارے میں بیان ہوا ہے[19] اور بعض دیگر فقہاء اس عمل کو نماز کے آخری سجدے میں زیادہ متعارف قرار دیا ہے۔[20] فقہا نے امام باقر علیہ السلام کی ایک روایت[21] سے استناد کرتے ہوئے سجدے میں یہ دعا پڑھنا مستحب جانا ہے: «يَا خَيْرَ الْمَسْئُولِينَ وَ يَا خَيْرَ الْمُعْطِينَ، اُرْزُقْنِي وَ ارْزُقْ عِيَالِي مِنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ فَإِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ » (اے وہ ذات جس سے درخواست کرنا سب سے بہتر ہے اور اے بہترین عطا کرنے والے، اپنے وسیع فضل سے مجھے اور میرے اہل و عیال کو رزق دے، بیشک تو فضل عظیم والا ہے)۔ البتہ دوسری دعائیں مانگنا بھی جائز جانا گیا ہے۔[22] نماز کے آخری سجدے میں پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے بعض یہ ہیں:

  • «یٰا لَطیفُ اِرْحَمْ عَبْدَکَ الضَّعیف» (اے لطیف! اپنے کمزور بندے پر رحم فرما)
  • «یٰا مَنْ لَہُ الدُّنْیٰا وَ الْاٰخِرَۃُ، اِرْحَمْ مَنْ لَیْسَ لَہُ الدُّنْیٰا وَ الْاٰخِرَۃ» (اے وہ جو دنیا اور آخرت کا مالک ہے، اس پر رحم فرما جس کے پاس نہ دنیا ہے نہ آخرت)
  • «رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ تَجٰاوَزْ عَمّٰا تَعْلَمُ، اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَجَلُّ الْاَکْرَمُ» (پروردگارا! بخش دے اور رحم فرما اور ان چیزوں سے درگزر فرما جن کو تو جانتا ہے، بیشک تو ہی سب سے عزت والا، سب سے بڑا اور سب سے زیادہ کریم ہے)۔[23]

شیعوں کی نماز جماعت میں مامومین کو آخری سجدہ سے متعلق آگاہ کرنے کے لئے عام طور پر مُکَبّر «یا وَلِیَّ العافِیۃ» یا «یا لطیف» جیسے اذکار کو بلند آواز سے دہراتا ہے۔ «یا ولی العافیہ» کا جملہ دعائے «يَا وَلِيَّ الْعَافِيَۃِ، أَسْأَلُكَ الْعَافِيَۃَ، عَافِيَۃَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَۃِ» سے ماخوذ ہے جسے نماز کے آخری سجدے میں پڑھنا رائج ہے۔

سجدے کے مکروہات

  • سجدے میں قرآن پڑھنا؛[24]
  • گرد و غبار دور کرنے کے لئے سجدہ گاہ پر پھونک مارنا؛[25]
  • دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھوں کو زمین پر رکھے رہنا اور اسی حالت میں دوسرے سجدے میں چلے جانا،[26] مکروہ ہے۔

ذکر سجدہ

نماز کے سجدے میں ذکر پڑھنا واجب ہے۔ سجدے کا اصل ذکر «سُبْحانَ رَبِّی الاَعْلیٰ وَ بِحَمْدِہِ» ہے۔[27] اس کے باوجود، نمازی اس کی بجائے تین بار «سُبْحانَ اللہِ» یا اسی مقدار میں کوئی اور ذکر پڑھ سکتا ہے۔[28] بعض مراجع تقلید رکوع کے ذکر (سُبْحانَ رَبِّی العَظیمِ وَ بِحَمْدِہِ) اور سجدے کے ذکر (سُبْحانَ رَبِّی الاَعْلیٰ وَ بِحَمْدِہِ) کو عمداً تبدیل کرنا جائز نہیں سمجھتے۔[29]

سجدے میں پیشانی کی جگہ

سجدے میں پیشانی رکھنے کی جگہ پاک[30] اور زمین یا اس سے اگنے والی چیزوں (جیسے لکڑی اور درختوں کے پتے) میں سے ہونا ضروری ہے، بشرطیکہ وہ کھانے یا پہننے والی چیزوں میں سے نہ ہو۔[31] لہٰذا کاغذ یا ٹشو پیپر پر سجدہ کرنا جو لکڑی یا پودے سے بنی ہو، صحیح ہے۔[32] سونا، چاندی اور تارکول جیسی معدنی چیزوں پر سجدہ صحیح نہیں ہے اور اکثر فقہا عقیق اور فیروزہ جیسے معدنی پتھروں پر سجدہ کرنے کو بھی صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔[33]

شیعہ روایات کی رو سے بہترین سجدہ گاہ امام حسینؑ کی قبر کی مٹی ہے جسے تربت کہا جاتا ہے۔[34] لیکن بعض اہل سنت علما اسے بدعت سمجھتے ہیں۔[35] اگر کوئی ایسی چیز موجود نہ ہو جس پر سجدہ صحیح ہو یا مجبوری کی صورت میں کپاس یا سوتی کپڑے پر سجدہ کرنا جائز ہے اور اس کی عدم موجودگی میں، کسی بھی قسم کے کپڑے پر اور ان کی عدم موجودگی میں ہاتھ کی پشت یا بعض دوسرے مواد پر سجدہ کرنے کے بارے میں فقہا کے درمیان نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے۔[36]

سجدے کی حالت میں پیشانی رکھنے کی جگہ نمازی کے پاؤں کی جگہ کے تقریباً ہم سطح ہونی چاہئے اور ان کے درمیان اونچائی کا فرق چار بند انگلیوں سے زیادہ نہ ہو۔[37] سجدے کی جگہ ثابت ہونی چاہئے اور ہلنی نہیں چاہئے؛ اس طرح سے کہ جب پیشانی رکھی جائے تو سکون کی حالت میں ہو۔[38]

مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے: سجدہ گاہ


متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سیستانی، منہاج الصالحین، 1415ھ، ج1، ص218۔
  2. علامہ حلی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج2، ص139۔
  3. مثلاً دیکھیں: علامہ حلی، مختلف الشیعۃ، 1413ھ، ج2، ص139؛ سیستانی، منہاج الصالحین، 1415ھ، ج1، ص218۔
  4. مثلاً دیکھیں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص348، حدیث 3۔
  5. مشکینی، مصطلاحات الفقہ، 1392شمسی، ص477-479۔
  6. سیستانی، منہاج الصالحین، 1415ھ، ج1، ص218۔
  7. مثلاً دیکھیں: نجفی، صاحب جواہر، دار احیاء التراث العربی، ج10، ص123؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1363شمسی، ج8، ص273۔
  8. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (محشی)، 1424ھ، ج1، ص569۔
  9. بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1363شمسی، ج8، ص290؛ نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج10، ص168-169۔
  10. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص566-567۔
  11. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص566-567۔
  12. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص556۔
  13. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص555۔
  14. بحرانی، الحدائق الناضرۃ، 1363شمسی، ج8، ص290؛ نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج10، ص168-169۔
  15. اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ، 1393ھ، ج1، ص178۔
  16. دیکھیں: نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج10، ص169-189؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص573-575۔
  17. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص574۔
  18. مثلاً دیکھیں: طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص574؛ بہجت، وسیلۃ النجاۃ، 1423ھ، ص214۔
  19. دیکھیں: غروی نائینی، کتاب الحج، 1403ھ، ص232۔
  20. مدرسی، احکام عبادات، 1381شمسی، ص293۔
  21. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص551۔
  22. شبیری زنجانی، استفتائات، 1396شمسی، ج1، ص383۔
  23. ہاشمی، الاخلاق و الآداب الاسلامیۃ، 1427ھ، ص330۔
  24. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص576۔
  25. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص575۔
  26. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص576۔
  27. خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1434ھ، ج1، ص182۔
  28. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (محشی)، 1424ھ، ج1، ص570۔
  29. تبریزی، صراط النجاۃ، 1427ھ، ج10، ص67؛ حائری، الفتاوی المنتخبۃ، 1424ھ، ص73-74۔
  30. اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ، 1393ھ، ج1، ص135۔
  31. اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ، 1393ھ، ج1، ص157۔
  32. نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص430-432۔
  33. نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج8، ص412۔
  34. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج5، ص365-366۔
  35. مثلاً دیکھیں: البانی، موسوعۃ الالبانی فی العقیدۃ، 1431ھ، ج3، ص915۔
  36. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص394-395۔
  37. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (محشی)، 1424ھ، ج1، ص573۔
  38. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل (محشی)، 1424ھ، ج1، ص583۔

مآخذ

  • اصفہانی، ابوالحسن، وسیلۃ النجاۃ، با تعلیقات سید محمدرضا گلپایگانی، قم، انتشارات مہر استوار، 1393ھ۔
  • البانی، محمد، موسوعۃ الالبانی فی العقیدۃ، صنعا، مرکز النعمان للبحوث و الدراسات الاسلامیۃ، 1431ھ۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، قم، دفتر نشر اسلامی، 1363ہجری شمسی۔
  • بنی ہاشمی خمینی، سید محمدحسین، توضیح المسائل (محشی)، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1424ھ۔
  • بہجت، محمدتقی، وسیلۃ النجاۃ، قم، شفق، 1423ھ۔
  • تبریزی، جواد، صراط النجاۃ، قم، دار الصدیقۃ الشہیدۃ، 1427ھ۔
  • حائری، سید محمدکاظم، الفتاوی المنتخبۃ، قم، دار التفسیر، 1424ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، 1409ھ۔
  • خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی(رہ)، 1434ھ۔
  • سیستانی، سید علی، منہاج الصالحین، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ السید السیستانی، 1415ھ۔
  • شبیری زنجانی، سید موسی، استفتائات، قم، مرکز فقہی امام محمد باقر(ع)، 1396ہجری شمسی۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی (محشی)، محقق: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1419ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1413ھ۔
  • غروی نائینی، محمدحسین، کتاب الحج و الاحکام العبادات و المعاملات، قم، مرکز مدیریت حوزہ ہای علمیہ، 1403ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • مدرسی، محمدتقی، احکام عبادات، تہران، محبان الحسین(ع)، 1381ہجری شمسی۔
  • مشکینی، علی اکبر، مصطلاحات الفقہ، قم، دار الحدیث، 1392ش/1434ھ۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، بی تا۔
  • ہاشمی، عبداللہ، الاخلاق و الآداب الاسلامیۃ، بیروت، دار الامین، 1427ھ۔