قبلہ رخ ہونا

ویکی شیعہ سے
(قبلہ رخ سے رجوع مکرر)

قبلہ رخ ہونا، بعض اعمال کو انجام دیتے ہوئے کعبے کی سمت رخ کرنے کو کہا جاتا ہے اور یہ ایک شرعی وظیفہ اور حکم ہے۔ مسلمانوں کی بہت ساری عبادات اور غیر عبادات، جیسے نماز، اعمال حج، آداب دفن اور ذبح، قبلہ سے مربوط ہیں۔

بعض عبادتوں کا صحیح ہونے کے لئے قبلہ رخ ہونا شرط ہے؛ مثلا نماز صحیح ہونے کے لئے قبلہ رُخ ہونا ضروری ہے اسی طرح جانور ذبح کرتے ہوئے اسے قبلہ رخ کرنا واجب ہے ورنہ اس جانور کا گوشت کھانا حرام ہے۔

اس کے مقابلے میں بعض کام قبلہ رخ ہوکر انجام دینا حرام ہے؛ جیسے پیشاب کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا حرام ہے۔ اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے، وضو کرتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے قبلہ رخ ہونا مستحب ہے اور ہمبستری جیسے بعض کام انجام دیتے ہوئے قبلہ رخ ہونا مکروہ ہے۔

اہمیت

فقہا نے بہت فقہ کے مختلف ابواب میں قبلہ رخ ہونے کا حکم بیان کیا ہے؛ جیسے نماز، حج، ذبح، احکام تَخَلّی (قضای حاجت) اور میت کے احکام۔ قبلہ رخ ہونے وجوب، حرمت، کراہت اور استحباب چاروں حکم لاگو ہوتے ہیں۔[1] دینی تعلیمات میں بعض کاموں کو قبلہ رخ ہو کر انجام دینے میں ثواب کا ذکر ہوا ہے۔ سیرت نبوی میں کہا گیا ہے کہ آنحضرتؐ ہمیشہ قبلہ رخ ہوکر بیٹھ جاتے تھے[2] اور ایک گھنٹہ قبلہ رخ بیٹھنے کا ثواب حج اور عمرہ کرنے کے برابر سمجھتے تھے۔[3]

قبلہ رخ ہونے کے معنی

فقہا کی نظر میں قبلہ رخ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ مسجد الحرام کے اندر ہیں وہ کعبہ کی سمت رخ کریں۔[4] اور جو مسجد الحرام سے باہر ہیں اور جن کو کعبہ نظر نہیں آتا ہے ان کے لئے قبلہ رخ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح سے بیٹھ جائیں کہ عرف میں[5] کعبہ کی سمت رُخ ہونا صدق کرے؛[6] اس میں عقلی اور حقیقی طور پر کعبہ کی طرف رخ صدق آنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ کام ممکن نہیں ہے۔[7]

قبلے کی پہچان کے طریقے

فقہا کی نظر میں قبلے کی تشخیص علم اور قابل اطمینان گمان سے حاصل ہوجاتی ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اگر وقت کافی ہو تو چاروں طرف اور اگر کم ہو تو جن سمتوں پر نماز پڑھ سکتے ہیں پڑھیں۔[8]

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: قبلہ


قبلہ رخ ہونے کا فلسفہ

مسلمان علما کا کہنا یہ ہے کہ بعض عبادتوں کو انجام دیتے ہوئے قبلہ رخ ہونا اللہ کا حکم ہونے کے علاوہ مسلمانوں کے مابین اتحاد و وحدت کا باعث بنتا ہے۔[9] علامہ طباطبایی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مابین عقائد میں اختلاف کے باوجود سب کا ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرنا ایک ایسی لطیف روح ہے جسے انسانی جسم میں پھونکا جاسکتا ہے اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کیا جاسکتا ہے۔[10] ان کی نظر میں ایک ہی مکان کی طرف قلبی توجہ، مسلمانوں کے درمیان فکری اور معنوی اتحاد کا باعث بنتا ہے۔[11]

محتضر کو مرتے ہوئے قبلہ رخ کرنے کے فلسفے کو ایک روایت میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ فرشتوں کی اس پر توجہ ہوتی ہے اور موت آنے تک محتضر کی توجہ اللہ کی طرف ہوتی ہے۔[12]

قبلہ رخ ہونے کا وجوب

بعض احکام کو انجام دیتے ہوئے قبلہ رخ ہونا واجب ہے؛ جن میں نماز، محتضر کے احکام اور ذبح کے احکام شامل ہیں:

نماز

  • مستحب نمازیں: مستحب نمازوں میں اگر نماز ایک ہی جگہ ٹھہر کر اور بغیر حرکت کے پڑھی جارہی ہے تو قبلہ رخ ہونا ضروری ہے۔[18] بعض فقہا نے سورہ بقرہ کی آیت 115 اور بعض روایات سے استناد کرتے ہوئے[19] کہا ہے کہ اگر مستحب نماز حرکت کرتے ہوئے مثلا راستہ چلتے ہوئے پڑھی جارہی ہو تو قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے۔[20]
  • نماز میت: اکثر شیعہ فقہا کے مطابق نماز میت پڑھتے ہوئے نمازی کا قبلہ رخ ہونا واجب ہے۔[21] جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ نماز میت میں صرف قیام شرط ہے اس لئے قبلہ رخ ہونا واجب نہیں ہے۔[22]
  • نماز میں قبلہ رخ ہونے کی رعایت کی کیفیت: فقہا کے فتوے کے مطابق جو شخص کھڑا ہے وہ اپنے بدن کا سامنے والا حصہ قبلے کی طرف قرار دے،[23] اور بیٹھ کر نماز پڑھنے والا شخص اپنا چہرہ، سینہ اور دونوں گھٹنوں کو قبلے کی طرف کردے اور لیٹ کر نماز پڑھنے والا دایاں یا بایاں پہلو پر لیٹے اور بدن کا سامنے والے حصے کو قبلہ کی طرف کردے اور پہلو پر نہ لیٹ سکے تو پشت پر لیٹے اور پاؤں کے تلووں کو قبلہ کی طرف کر دے۔[24]

ذبح

شیعہ فقہا کے فتوے کے مطابق[25] جانور کو ذبح کرتے ہوئے اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے۔ یہ حکم روایات[26] اور اجماع[27] سے مستند ہے۔ اگر بھول کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے یا قبلہ کی سمت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ذبح کے دوران جانور کو قبلہ کی سمت نہیں رکھا گیا ہو تو یہ ذبح صحیح ہے۔[28]

احتضار

اکثر شیعہ فقہا کے فتوے کے مطابق جو شخص احتضار (بدن سے جان نکلنے کا وقت) کی حالت میں ہو اس کو قبلہ رخ کرنا واجب ہے[29] جبکہ بعض فقہا اس کام کو مستحب سمجھتے ہیں۔[30]

  • محتضر کو قبلہ رخ کرنے کا طریقہ: فقہی کتابوں میں بیان ہوا ہے کہ محتضر کو اس طرح سے لٹایا جائے کہ پاوں کے تلوے قبلہ کی طرف ہوں اور پشت پر لٹانا چاہئے؛ اس طرح سے لٹایا جائے کہ وہ اگر بیٹھ جائے تو اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہوجائے۔[31]
  • میت کو غسل اور دفن کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا: غسل کے دوران میت کو قبلہ رخ کرنے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ اکثر فقہا اس کو مستحب سمجھتے ہیں،[32] جبکہ بعض نے وجوب کا حکم دیا ہے۔[33] لیکن دفن کے دوران میت کو قبلہ رخ کرنا فقہا کے فتوا کے مطابق واجب ہے؛ اور میت کو قبلہ رخ اس طرح سے کرے کہ دایاں پہلو پر لیٹایا جائے کہ اس کے بدن کا سامنے کا حصہ قبلہ کی سمت ہو۔[34]

حرام یا مکروہ قبلہ رخ

شیعہ فقہا کے فتوے کے مطابق پیشاب کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا یا قبلے کی طرف پشت کرنا حرام ہے۔[35] اکثر فقہا کے مطابق بچے کو پیشاب کرتے ہوئے قبلہ رخ یا قبلہ کی طرف پشت کر کے بیٹھانا حرام ہے لیکن اگر بچہ خود سے بیٹھ جائے تو اسے روکنا ضروری نہیں ہے۔[36]

شیعہ فقہا نے ہر اس کام میں قبلہ کی سمت کی رعایت نہ کرنے کو مکروہ سمجھا ہے جو قبلہ کے احترام اور تعظیم کے منافی ہو؛[37] جیسے قبلہ رخ ہوکر ہمبستری کرنا۔[38]

مستحب قبلہ رخ

فقہی کتابوں کے مطابق ہر کام میں اور ہر حال میں قبلہ رخ ہونا مستحب ہے؛ سوائے چند ایک موارد کے جن میں قبلہ رخ ہونا حرام یا مکروہ ہے۔[39] البتہ بعض اعمال کا قبلہ رخ ہو کر بجا لانا مستحب ہونے کی تصریح ہوئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • وضو اور تلاوت قرآن کے دوران؛[42]
  • دعا اور ذکر پڑھتے ہوئے؛[43]
  • مسجد میں بیٹھنے کے لئے؛[44]
  • تعقیبات نماز پڑھتے ہوئے؛[45]
  • کھانا کھاتے ہوئے؛[46]
  • سجدہ شکر، قرآن کا واجب یا مستحب سجدہ بجا لاتے ہوئے؛[47]
  • دایاں پہلو پر اس طرح سے سونا جس میں چہرہ اور بدن قبلہ کی طرف ہو۔[48]

حوالہ جات

  1. یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج2، ص310-313؛ مشکینی، مصطلحات الفقہ، 1392شمسی، ص414.
  2. کلینی، اصول کافی، 1375شمسی، ج2، ص661.
  3. نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج8، ص406.
  4. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص77؛ سرخسی، المبسوط، 1406ھ، ج10، ص190؛ حکیم، مستمسک العروۃ، 1404ھ، ج5، ص176 تا 179.
  5. نراقی، مستند الشیعہ، 1415ھ، ج4، ص152؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج7، ص329؛ روحانی، فقہ الصادق، 1413ق، ج4، ص90؛ حلی، ارشاد الاذہان، 1410ھ، ج1، ص244؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ،1416ھ، ج2، ص57؛ حلی، المعتبر، 1363شمسی، ج2، ص65.
  6. طوسی، الخلاف، 1418ھ، ج1، ص295؛ نراقی، مستند الشیعہ، 1415ھ، ج4، ص151؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج7، ص328؛ حکیم، مستمسک العروۃ، 1404ھ، ج5، ص176 تا 179.
  7. نراقی، مستند الشیعہ، 1415ھ، ج4، ص152؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج7، ص329؛ روحانی، فقہ الصادق، 1413ھ، ج4، ص90؛ حلی، ارشاد الاذہان، 1410ھ، ج1، ص244؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ،1416ھ، ج2، ص57؛ حلی، المعتبر، 1363شمسی، ج2، ص65.
  8. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص78؛ سمرقندی، تحفۃ الفقہاء، 1414ھ، ج1، ص119-120. خمینی، تحریر الوسیلہ، 1434شمسی، ج1، ص148؛ جواہر الکلام، ج7، ص386 و 409؛ یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج2، ص296 و 298؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، 1376شمسی، ج1، ص433، مسئلہ 782.
  9. طباطبائی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج 1، ص337؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج 1، ص 415.
  10. طباطبائی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج 1، ص337.
  11. طباطبایی، تفسیر المیزان،1417ھ، ج1، ص507.
  12. حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1412ھ، ج2، ص453.
  13. طوسی، النہایہ، 1400ھ، ص62-63؛ حلی، مختلف الشیعہ، 1412ھ، ج2، ص60-61. یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج2، ص295؛ خمینی، تحریر الوسیلہ، 1434شمسی، ج1، ص148؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع،1376شمسی، ج1، ص675، مسئلہ1251.
  14. سورہ بقرہ، آیہ144 و 150.
  15. حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1412ھ، ج3، ص214.
  16. اصفہانی، کشف اللثام، 1416ھ، ج3 ص150. نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج8، ص2.
  17. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص80؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج7، ص425 و ج8، ص19.
  18. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص77؛ یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج1، ص62؛ اصفہانی، کشف اللثام، 1416ھ، ج3، ص150؛ حلی، شرایع الاسلام، 1408ھ، ج1، ص52؛ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج1، ص252.
  19. کلینی، اصول کافی، 1375شمسی، ص440-441؛ طوسی، التہذیب الاحکام، 1365شمسی، ج3، ص229.
  20. حلی، ارشاد الاذہان، 1410ھ، ج1، ص244؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ،1416ھ، ج2، ص62؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1416ھ، ج1، ص159؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، 1411ھ، ج2، ص60؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ، 1416ھ، ج2، ص60.
  21. شہید اول، الدروس،1412ھ، ج1، ص158؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1416ھ، ج1، ص159؛ اردبیلی، مجمع الفائدہ، 1416ھ، ج2، ص57.
  22. حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج1، ص253؛ محقق کرکی، جامع المقاصد، 1411ھ، ج2، ص62.
  23. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع ( المحشی للامام الخمینی)، 1376شمسی، ج1، ص431، مسئلہ777.
  24. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع (المحشی للامام الخمینی)، 1376شمسی، ج1، ص432، مسئلہ779.
  25. مفید، المقنعہ، 1410ھ، ص419؛ سید مرتضی، الانتصار، 1415ھ، ص405؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، 1376شمسی، ج2، ص573، مسئلہ 2594؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج36، ص110.
  26. حرعاملی، وسائل الشیعہ،1412ھ، ج14، ص152-153.
  27. طوسی، الخلاف، 1418ھ، ج6، ص50؛ اصفہانی، کشف اللثام، 1416ھ، ج3، ص154، نجفی، جواہرالکلام، 1362ھ، ج36، ص110.
  28. طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص583؛ حلی، ارشاد الاذہان، 1410ھ، ج2، ص108؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1416ھ، ج1، ص160؛ طباطبایی، ریاض المسائل، 1418ھ، ج12، ص100؛ طوسی، الخلاف، 1418ھ، ج8، ص319؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، 1376شمسی، ج2، ص573، مسئلہ 2594؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج36، ص111 و 112.
  29. طوسی، النہایہ، 1400ھ، ص62؛ حلی، شرایع الاسلام، 1408ھ، ج1، ص53؛ حلی، ارشاد الاذہان، 1410ھ، ج1، ص229؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج4، ص6.
  30. طوسی، الخلاف، 1418ق، ج1، ص691؛ حکیم، مستمسک العروہ، 1404ھ، ج4، ص16-17؛ حلی، السرائر، 1411ھ، ج1، ص158.
  31. صدوق، الہدایہ، 1418ھ، ص105؛ طوسی، مصباح المتہجد، 1411ھ، ص18؛ حلی، المعتبر، 1363شمسی، ج1، ص259.
  32. حلبی، غنیۃ النزوع، 1417ھ، ص101؛ حلی، تحریر الاحکام، 1420ھ، ج1، ص114.
  33. حلی، تذکرۃ الفقہاء،1414ھ، ج1، ص345.
  34. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص77؛ حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج1، ص230.
  35. طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص9 و 10. حلی، المہذب، 1413ھ، ج1، ص41، حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج1، ص180؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1416ھ، ج1، ص28؛ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص16.
  36. بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع(المحشی للامام الخمینی)، 1376شمسی، ص 58، مسالہ 63.
  37. نجفی، جواہر الکلام، 1362ھ، ج29، کاشف الغطا، کشف الغطا، 1387شمسی، ج1، ص219. ص59، طوسی، النہایہ، 1400ھ، ص482؛ یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج1، ص548.
  38. یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج2، ص313.
  39. ابن حمزہ، الوسیلہ، 1408ھ، ص85، طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص286.
  40. بابویہ، فقہ الرضا، 1406ھ، ص225؛ مفید، المقنعہ، 1410ھ، ص419؛ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص369؛ حلی، السرائر، 1411ھ، ج1، ص591.
  41. صدوق، المقنع، 1415ق، ص258-259.
  42. یزدی، العروۃ الوثقی، 1420ھ، ج2، ص312-313.
  43. طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج8، ص90؛ حرعاملی، وسائل الشیعہ،1412ھ، ج3، ص 236.
  44. حلی، قواعد الاحکام، 1413ھ، ج1، ص252.
  45. ابن حمزہ، الوسیلہ، 1408ھ، ص85، طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص286.
  46. ابن حمزہ، الوسیلہ، 1408ھ، ص85، طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص286.
  47. ابن حمزہ، الوسیلہ، 1408ھ، ص85، طوسی، النہایہ، 1400ھ، ج1، ص286.
  48. صدوق، الخصال، 1416ھ، ص263؛ نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج6، ص86؛ بہایی، مفتاح الفلاح، 1405ھ، ص281.

مآخذ

  • قرآن.
  • ابن حمزہ، الوسیلہ، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1408ھ۔
  • اردبیلی، مجمع الفائدۃ و البرہان، قم، انتشارات اسلامی، 1416ھ۔
  • اصفہانی، فاضل ہندی، محمد بن حسن، کشف اللثام و الابہام عن قواعد الاحکام، قم، جامعہ مدرسین، 1416ھ۔
  • بنی ہاشمی خمینی، سیدمحمدحسین، توضیح المسائل مراجع مطابق با فتاوای شانزدہ نفر از مراجع معظم تقلید، قم، انتشارات جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1376ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، آل البیت، 1412ھ۔
  • حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، مکتبۃ النجفی، 1404ھ۔
  • حلبی، ابن زہرہ، غنیۃ النزوع، بہ کوشش بہادری، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1417ھ۔
  • حلی، ابن ادریس، السرائر، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1411ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہّر، ارشاد الاذہان، قم، نشر اسلامی، 1410ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہّر، تحریر الاحکام الشرعیہ، قم، مؤسسۃ الامام الصادق(ع)، 1420ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہّر ، تذکرۃ الفقہاء، قم، آل البیت، 1414ھ۔
  • حلی، جعفر بن حسن، شرایع الاسلام، قم، اسماعیلیان، 1408ھ۔
  • حلی، حسن بن یوسف بن مطہّر، مختلف الشیعہ، قم، النشر الاسلامی، 1412ھ۔
  • خمینی، روح اللہ، تحریر الوسیلہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1434ھ۔
  • روحانی، محمد صادق، فقہ الصادق(ع)، قم، دار الکتاب، 1413ھ۔
  • سرخسی، محمد بن احمد بن ابوسہل، المبسوط، بیروت، دار المعرفہ، 1406ھ۔
  • سمرقندی، علاء الدین، تحفۃ الفقہاء، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1414ھ۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، الدروس الشرعیہ، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1412ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الافہام الی تنقیح شرائع الاسلام، قم، معارف اسلامی، 1416ھ۔
  • شیخ بہایی، مفتاح الفلاح، دار الأضواء، بیروت، 1405 ہجری شمسی۔
  • صدوق، محمد بن علی، الخصال، بہ کوشش غفاری، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1416ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، المقنع، قم، مؤسسۃ الامام الہادی(ع)، 1415ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، الہدایہ، قم، مؤسسۃ الامام الہادی(ع)، 1418ھ۔
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • طباطبایی، سید علی، ریاض المسائل، قم، آل البیت(ع)، 1418ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، بہ کوشش خراسانی و دیگران، قم، نشر اسلامی، 1418ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، بہ کوشش بہبودی، تہران، المکتبۃ المرتضویہ، 1387ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، النہایہ، بہ کوشش آقا بزرگ تہرانی، بیروت، دار الکتاب العربی، 1400ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، بہ کوشش موسوی و آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1365ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، فقہ الشیعہ، 1411ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، قواعدالاحکام فی معرفۃ الحلال و الحرام، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، 1413ھ۔
  • کاشف الغطا، جعفر، کشف الغطا، قم، بوستان کتاب، 1387ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، بہ کوشش غفاری، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1375ہجری شمسی۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، المعتبر، قم، مؤسسہ سید الشہداء، 1363ہجری شمسی۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد، قم، آل البیت، 1411ھ۔
  • مشکینی، علی، مصطلحات الفقہ، قم، دار الحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • مفید، المقنعہ، قم، موسسہ نشر اسلامی، 1410ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، بہ کوشش قوچانی و دیگران، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1362ھ۔
  • نراقی، احمد، مستند الشیعہ، قم، آل البیت(ع)، 1415ھ۔
  • نوری، حسین، مستدرک الوسائل، بیروت، آل البیت، 1408ھ۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، موسسہ نشر الاسلامی، 1420ھ۔