سورہ ص

ویکی شیعہ سے
صافات سورۂ ص زمر
ترتیب کتابت: 38
پارہ : 23
نزول
ترتیب نزول: 38
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 82
الفاظ: 735
حروف: 3061

سورہ ص قرآن کی 38ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے اور یہ سورہ قرآن کے 23ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا آغاز حروف مقطعہ میں سے حرف "صاد" کے ساتھ ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام بھی "سورہ صاد" رکھا گیا ہے۔ اس سورت میں پیغمبر اکرمؐ توحید اور اخلاص کی طرف دعوت، مشرکین کی لجاجت، بعض انبیاء کی داستانیں اور قیامت کے دن نیکوکاروں اور بدکاروں کی حالت زار کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے۔
اس سورت کی شأن نزول کے باری میں آیا ہے کہ یہ سورت کفار اور پیغمبر اسلامؐ کی گفتگو کے بعد اس کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ خداوند متعال کا ابلیس کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور اسے مورد لعن قرار دے کے اپنی درگاہ سے نکال دینے کے بارے میں بھی اس سورت میں بحث ہوئی ہے۔ انسان کا گناہان صغیرہ اور گناہ کبیرہ سے محفوظ رہنا اس سورت کی تلاوت کے آثار و برکات میں شمار کیا جاتا ہے۔

مختصر تعارف

  • نام

اس سورت کا آغاز حروف مقطعہ میں سے حرف "صاد" کے ساتھ ہوتا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام بھی "سورہ صاد" رکھا گیا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ صاد مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول اور موجودہ ترتیب دونوں اعتبار سے اس کا شمار 38ویں نمبر پر آتا ہے[2] یہ سورت قرآن کے 23وں پارے میں واقع ہے۔

  • آیاد کی تعداد اور دوسرے خصوصیات

سورہ صاد 88 آیات، 735 کلمات اور 3061 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مَثانی میں ہوتا ہے اور اس کا حجم تقریبا ایک پارے کے برابر ہے۔ سورہ صاد حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی سورتوں میں بیسویں نمبر پر ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر 24 میں مستحب سجدہ ہے (یعنی اس کے پڑھنے یا سننے پر سجدہ کرنا مستحب ہے)۔[3] سورہ صاد کو سورہ صافات کا تکمیل کنندہ قرار دیا جاتا ہے؛ کیونکہ اس کے مضامین تقریبا بعینہ سورہ صافات کے مضامین کی طرح ہیں۔[4]

مضامین

اس سورت کا اصلی موضوع پیغمبر اسلامؐ کی جانب سے ان پر نازل ہونے والی کتاب کے ذریعے توحید اور اخلاص کی طرف دعوت دینا ہے۔[5]

اس سورت کے مضامین کو درج ذیل سات حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

  • توحید اور حضرت محمدؐ کی نبوت کے مقابلے میں مشرکین کی لجاجت اور ہٹ دھرمی؛
  • قرآن میں غور و فکر کی ضرورت اور قرآن سے متعلق مشرکین کے نظریات؛
  • انبیاء میں سے 9 پیغمبروں خاص کر حضرت داود، حضرت سلیمان اور حضرت ایوب کی تاریخ؛
  • قیامت کے دن نیکوکاروں اور بدکاروں کی حالت زار اور دوزخیوں کا ایک دوسرے سے لڑنا؛
  • انسان کی آفرینش اور اس کا عظیم مقام اور فرشتوں کا آدم کیلئے سجدہ؛
  • شیطان اور حضرت آدم کی داستان اور شیطان کا انسان کو گمراہ کرنے کی قسم کھانا؛
  • پیغمبر اکرمؐ کے تمام دشمنوں کو انتباہ اور آپؐ کو تسلی۔[6]
سورہ ص کے مضامین[7]
 
 
 
 
 
 
کافروں کی تہمتوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی ذمہ داری؛ آیہ ۶۵-۸۸
اپنے اہداف اور برناموں کو بیان کرنا
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۴۹-۶۴
قیامت میں متقین اور کافروں کے انجام کی یادآوری
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۷-۴۸
سابقہ انبیاء کی طرح اللہ کے امتحان میں صبر
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱-۱۶
کافروں کے شبہات کا جواب دینا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا ہدف؛ آیہ ۶۵-۶۶
کہدو: میں توحید کی طرف دعوت دیتا ہوں
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۴۹-۵۴
بہشت میں متقین کا اجر
 
پہلا نمونہ؛ آیہ ۱۷-۲۹
اللہ کے امتحان میں حضرت داوود کے صبر کا اجر
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۳
قرآنی تعلیمات کے مقابلے میں کافروں کی ضد
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا ہدف؛ آیہ ۶۷-۸۵
کہدو: قرآن اللہ کی طرف سے ہے
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵۵-۵۸
نافرمان کافروں کو دوزخ میں عذاب
 
دوسرا نمونہ؛ آیہ ۳۰-۴۰
حضرت سلیمان کو صبر کا اجر
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴-۸
کافروں کے شبہات اور تہمتیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا ہدف؛ آیہ ۸۶-۸۸
کہدو: میں تم سے اجر نہیں مانگتا ہوں
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۵۹-۶۱
کافر اور ان کے رہبروں کا ایک دوسرے پر نفرین
 
تیسرا نمونہ؛ آیہ ۴۱-۴۴
حضرت ایوب کو صبر کا اجر
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۹-۱۶
تہمتوں اور شبہات کا جواب
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۶۲-۶۴
جہنمیوں کا دنیا میں مومنوں کا مزاق اڑا نے پر ندامت
 
چوتھا نمونہ؛ آیہ ۴۵-۴۷
حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو صبر کا اجر
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں نمونہ؛ آیہ ۴۸
حضرت اسماعیل، یسع اور ذوالکفل کو صبر کا اجر


ابتدائی آیات کی شأن نزول

امام باقرؑ فرماتے ہیں: ابوجہل اور قریش بعض دیگر اکابرین پیغمبر اکرمؐ کے چچا ابوطالب کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارے بھتیجے نے ہم اور ہمارے خداؤوں کو ناراض کیا ہے۔ انہوں نے ابوطالب سے کہا کہ اپنے بھیتجے سے کہو کہ وہ ہمارے خداؤوں کو کچھ نہ کہیں تاکہ ہم بھی ان کے خدا کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ استعمال نہ کریں۔ ابوطالب نے پیغمبر اکرمؐ کو اپنے یہاں بلا لیا اور قریش والوں کی باتیں آپ تک پہنچائی۔ آنحضرت نے جواب میں فرمایا: آیا کیا کفار اس کام کیلئے حاضر ہیں کہ وہ ایک جملہ کہنے میں میرا ساتھ دیں جس کی وجہ سے وہ دوسرے تمام اعراب پر سبقت لے جا سکیں اور ان پر حکومت کر سکیں؟ ابوجہل نے کہا: ہاں ہم تیار ہیں اس جملے سے آپ کی مراد کیا ہے؟ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: "تقولون لا الہ الاّ اللّہ" (یعنی کہو خدا کے سوا کوئی معبود نہیں) جب انہوں نے یہ جملہ سنا تو اس قدر وحشت زدہ ہوئے کہ سب نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالنا شروع کر دیا اور جلدی سے یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گئے کہ ایسی چیز اب تک ہم نے نہیں سنی تھی، یہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے، اس وقت سورہ صاد کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔[8]

تاریخی واقعات

انبیاء کی داستانیں

  • قوم نوح، عاد، ثمود، لوط، اصحاب الایکہ اور فرعون کی جانب سے اپنے انبیاء کی تکذیب اور ان اقوام پر خدا کا عذاب۔ (آیات 12-16)
  • حضر داوود کی داستان: حضرت داوود کے لئے میسر متعدد سہولیات، پہاڑ اور پرندوں کا ان کے ساتھ تسبیح‌ پڑھنا، ان کی بادشاہت کا استحکام، دو افراد کا حضرت داوود کے پاس عدالت کیلئے آنا اور حضرت داوود کا صرف ایک آدمی کی بات سننا، حضرت داوود کا استغفار، زمین پر حضرت داوود کی خلافت۔ (آیات 17-27)
  • حضرت سلیمان کی داستان: حضرت سلیمان کیلئے اصلی گھوڑوں کی پیشکش، حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں میں محو ہو کر نماز کو بھول جانا اور سورج کو واپسی کا حکم دینا،[9] تخت سلیمان کسی مردے کا پایا جانا، حضرت سلیمان کی توبہ اور استغفار، بینظری بادشاہت کیلئے دعا، ہوا اور شیاطین کا حضرت سلیمان کیلئے مسخر ہونا، شیاطین کی طرف سے حضرت سلیمان کیلئے عمارتوں کی تعمیر اور غواصی کرنا۔ (آیات 30-40)
  • حضرت ایوب کی داستان: حضرت ایوب پر آنے والی بلائیں اور مصیبتیں، زمین پر پاؤوں مارنا اور چشمہ پھوٹ پڑنا، انہیں اولاد اور مال دولت عطا ہونا، اپنی زوجہ پر سو کوڑوں کی جگہ ایک گچھہ مار کر قسم نہ توڑنا۔ (آیات 41-44)
  • حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذاالکفل جیسے بندگان صالح کا تذکرہ۔‌ (آیات 45-48)

حضرت آدم کی تخلیق اور ابلیس سے خدا کی گفتگو

سورہ صاد کی آیت نمبر 71 سے 85 تک حضرت آدم کی خلقت اور خدا کی طرف سے ملائکہ کو آدم کیلئے سجدہ کرنے کے حکم اور شیطان کی سرپیچی سے متعلق ہیں۔

  • حضرت آدم کی خلقت: اس سورت کی آیت نمبر 71 سے 74 تک میں حضرت آدم کی خلقت سے متعلق فرشتوں کے ساتھ خدا کی گفتگو اور فرشتوں کو آدم کیلئے سجدہ کرنے کے حکم اور شیطان کی طرف سے اس حکم کی مخالفت کا تذکرہ ہوا ہے۔
  • اس نافرمانی پر ابلیس کی دلیل: اس کے بعد والی آیتوں(75-76) میں خدا ابلیس سے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ دریافت فرماتے ہیں جس کے جواب میں شیطان حضرت آدم پر اپنی برتری کو اس کا کی علت کے طور پر بیان کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ میں آدم سے افضل ہوں کیونکہ میں آگ سے خلق ہوا ہوں جبکہ آدم مٹی سے خلق ہوا ہے۔ علامہ طباطبایی تفسیر المیزان میں خداوند متعال کے اس فرمان "آدم کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا"؛ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ خدا کا یہ فرمان در حقیقت انسان کی عظیم منزلت کی طرف اشارہ ہے؛ کیونکہ خدا نے باقی تمام چیزوں کو کسی دوسری چیزوں کیلئے خلق فرمایا ہے لیکن انسان کو خدا نے اپنے لئے خلق فرمایا ہے۔[10] علامہ طباطبائی شیطان کی طرف سے خدا کی اطاعت کرنے کی دلیل سے متلعق لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ شیطان خدا کی مالکیت مطلق کا قائل نہیں تھا اسی بنا پر وہ خدا کی طرف سے آدم کو سجدہ کرنے کے حکم کو صحیح نہیں سمجھتا تھا یوں اس نے خدا کی اطاعت نہیں کی اور خدا کی مالیکت مطلق کا عقیدہ نہ رکھنا ہی تمام گناہوں کی جڑ بھی ہے۔[11]
  • شیطان کو بارگاہ احدیت سے نکال دینا، مورد لعن واقع ہونا اور خاص مدت تک مہلت دے دینا: اس کے بعد خدا نے ابلیس کو اپنی بارگاہ سے نکال دیا اور اس پر لعنت کی۔ اس نے خدا سے قیامت تک کی مہلت مانگی۔ خدا نے بھی جواب میں اسے ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی؛ نہ روز قیامت تک۔ علامہ طباطبایی کے مطابق "مقررہ وقت" سے مراد اس وقت تک ہے جب تک انسان شیطان کی پیروی کر سکتا ہے اور وہ روز قیامت سے پہلے تک ہے۔[12]
  • شیطان کا انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھانا اور شیطان اور اس کے پیروکاروں کو دوزخ کا وعدہ دینا: ابلیس نے خدا کی عزت و جلالت کی قسم کھائی کہ وہ سوائے مخلصین کے تمام انسانوں گمراہ کرے گا۔ کہا جاتا ہے کہ "مخلَصین" سے مراد وہ افراد ہیں جنہیں خدا نے اپنے لئے خالص کئے ہیں اور حتی شیطان تک کو بھی ان پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔[13] خدا نے شیطان کے اس قسم کے جواب میں شیطان اور اس کی پیروی کرنے والوں کو جہنم کا وعدہ دیا ہے۔

آیات مشہورہ

" كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴿۲۹﴾ " (ترجمہ: یہ وہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل و فہم نصیحت حاصل کریں۔)

اس آیت میں قرآن کی "انزلناہ" کے ذریعے تعریف کی گئی ہے۔ مفسرین اسے نزول دفعی قرار دیتے ہیں کیونکہ نزول دفعی تدبر اور تذکر کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ علامہ طباطبایی اس آیت کا یوں معنا کرتے ہیں: یہ قرآن جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے ایک ایسی کتاب ہے جس میں عوام اور خواص کیلئے بہت زیادہ خیرات اور برکات ہیں تاکہ وہ اس میں غور و فکر کر کے ہدایت پا لیں یا یہ کہ ان خیرات اور برکات کے ذریعے ان پر حجت تمام ہو اور صاحبان عقل قرآن کی ان حجتوں کو یاد کرنے کے ذریعے اپنے آپ کو بیدار کریں اور ہدایت پا لیں۔[14]

آیات الاحکام

"يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ﴿۲۶﴾" (ترجمہ: اے داؤد(ع)! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے پس حق و انصاف کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کیا کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی اور جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے اس لئے انہوں نے یوم الحساب (قیامت) کو بھلا دیا ہے۔)

اس آیت کو منصب قضاوت کی عظمت اور بزرگی پر دلیل قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ اس آیت کی رو سے یہ منصب انبیاء کی رسالت اور لوگوں پر ان کی حاکمیت کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت کے مطابق اگر اس منصب پر کوئی نا اہل کا قبضہ ہو تو معاشرے میں ظلم و فساد کا بول بالا ہو گا اور حکومت کی گرفت بھی کمزور ہو جائے گی۔[15] اس آیت میں حضرت داوود کی طرف سے قضاوت اور فیصلہ صادر کرنے کو ان کی رسالت اور نبوت کا فرع قرار دیا گیا ہے۔[16]

فضیلت اور خواص

حدیث میں آیا ہے کہ سورہ صاد کی تلاوت کا ثواب ان پہاڑوں کے دس گنا ہے جنہیں خدا نے حضرت داوود کیلئے مسخّر کئے تھے۔ اس کے علاوہ اس سورت کی تلاوت کرنے والے کو خداوند متعال گناہان صغیرہ اور کبیرہ سے محفوظ رکھے گا۔[17] اس طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ کہ شب جمعہ کو اس سورت کی تلاوت کرنے کا ثواب انیباء اور فرشتوں کے ثواب کے برابر ہے اور خدا اس سورت کی تلاوت کرنے والوں کو بہشت میں جگہ عنایت فرمائے گا۔[18]

متن اور ترجمہ

سورہ ص
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ﴿1﴾ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴿2﴾ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوْا وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ﴿3﴾ وَعَجِبُوا أَن جَاءهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ﴿4﴾ أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ﴿5﴾ وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَى آلِهَتِكُمْ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ ﴿6﴾ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ ﴿7﴾ أَأُنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّن ذِكْرِي بَلْ لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ ﴿8﴾ أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ ﴿9﴾ أَمْ لَهُم مُّلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ ﴿10﴾ جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ ﴿11﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ ﴿12﴾ وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الأَيْكَةِ أُوْلَئِكَ الْأَحْزَابُ ﴿13﴾ إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ﴿14﴾ وَمَا يَنظُرُ هَؤُلَاء إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ ﴿15﴾ وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ ﴿16﴾ اصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿17﴾ إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ ﴿18﴾ وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ ﴿19﴾ وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ﴿20﴾ وَهَلْ أَتَاكَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ﴿21﴾ إِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُودَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لَا تَخَفْ خَصْمَانِ بَغَى بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُم بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاء الصِّرَاطِ ﴿22﴾ إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الْخِطَابِ ﴿23﴾ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنْ الْخُلَطَاء لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ ﴿24﴾ فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿25﴾ يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ ﴿26﴾ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ ﴿27﴾ أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ﴿28﴾ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ ﴿29﴾ وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿30﴾ إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ﴿31﴾ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿32﴾ رُدُّوهَا عَلَيَّ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ﴿33﴾ وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ﴿34﴾ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿35﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاء حَيْثُ أَصَابَ ﴿36﴾ وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاء وَغَوَّاصٍ ﴿37﴾ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿38﴾ هَذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿39﴾ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿40﴾ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ﴿41﴾ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ ﴿42﴾ وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَى لِأُوْلِي الْأَلْبَابِ ﴿43﴾ وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِب بِّهِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴿44﴾ وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ ﴿45﴾ إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ﴿46﴾ وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ ﴿47﴾ وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنْ الْأَخْيَارِ ﴿48﴾ هَذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ ﴿49﴾ جَنَّاتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ ﴿50﴾ مُتَّكِئِينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ ﴿51﴾ وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ ﴿52﴾ هَذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ الْحِسَابِ ﴿53﴾ إِنَّ هَذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُ مِن نَّفَادٍ ﴿54﴾ هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ ﴿55﴾ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿56﴾ هَذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ ﴿57﴾ وَآخَرُ مِن شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ ﴿58﴾ هَذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ لَا مَرْحَبًا بِهِمْ إِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ ﴿59﴾ قَالُوا بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًا بِكُمْ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا فَبِئْسَ الْقَرَارُ ﴿60﴾ قَالُوا رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ ﴿61﴾ وَقَالُوا مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ الْأَشْرَارِ ﴿62﴾ أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ ﴿63﴾ إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ أَهْلِ النَّارِ ﴿64﴾ قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿65﴾ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ﴿66﴾ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ ﴿67﴾ أَنتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ ﴿68﴾ مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَإِ الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ ﴿69﴾ إِن يُوحَى إِلَيَّ إِلَّا أَنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿70﴾ إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِن طِينٍ ﴿71﴾ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ﴿72﴾ فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ﴿73﴾ إِلَّا إِبْلِيسَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنْ الْكَافِرِينَ ﴿74﴾ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ الْعَالِينَ ﴿75﴾ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ ﴿76﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿77﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ﴿78﴾ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿79﴾ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿80﴾ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿81﴾ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿82﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿83﴾ قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ ﴿84﴾ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿85﴾ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ ﴿86﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ ﴿87﴾ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِينٍ ﴿88﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ص! قَسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔ (1) آپ(ص) کی (نبوت برحق ہے) بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ تکبر اور مخالفت میں مبتلا ہیں۔ (2) ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر دیں۔ پس (عذاب کے وقت) وہ پکارنے لگیں مگر وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔ (3) اور وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا (پیغمبر(ص)) انہی میں سے آیا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (شخص) جادوگر (اور) بڑا جھوٹا ہے۔ (4) کیا اس نے بہت سے خداؤں کو ایک خدا بنا دیا؟ بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے۔ (5) اور ان کے بڑے لوگ (سردار) یہ کہتے ہوئے (آپ(ص) کے پاس سے) اٹھ کھڑے ہوئے (اور قوم سے کہا) چلو اور اپنے معبودوں (کی عبادت) پر صبر و ثبات سے قائم رہو (ڈٹے رہو) یقیناً اس بات میں (اس شخص کی) کوئی غرض ہے۔ (6) ہم نے تو یہ بات (کسی) پچھلے مذہب (عیسائیت) میں (بھی) نہیں سنی یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے۔ (7) کیا ہم میں سے صرف اسی شخص پر الذکر (قرآن) اتارا گیا ہے؟ دراصل یہ لوگ میرے ذکر (کتاب) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ (8) کیا تمہارے غالب اور فیاض پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں؟ (9) یا کیا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کی حکومت ان کیلئے ہے (اگر ایسا ہے) تو پھر انہیں چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں۔ (10) یہ (کفار کے) لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جسے وہاں (بمقامِ بدر) شکست ہوگی۔ (11) اور ان سے پہلے قومِ نوح و عاد اور میخوں والا فرعون۔ (12) اور ثمود اور قومِ لوط(ع) اور ایکہ والے (اپنے نبیوں کو) جھٹلا چکے ہیں یہ لوگ بڑے بڑے گروہ تھے۔ (13) ان سب نے رسولوں(ع) کو جھٹلایا تو ہمارے عذاب کے مستوجب ہوئے۔ (14) اور یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ (دوسری نَفَخ) کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد کچھ دیر نہ ہوگی۔ (15) اور وہ (ازراہِ مذاق) کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار کے (عذاب میں سے) ہمارا حصہ ہمیں حساب کے دن (قیامت) سے پہلے دے دے۔ (16) (اے میرے رسول(ص)) جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے! اور ہمارے بندے داؤد(ع) کو یاد کیجئے جو قوت والے تھے بے شک وہ ہر معاملہ میں (اللہ کی طرف) بڑے رجوع کرنے والے تھے۔ (17) ہم نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کر دیا تھا جو شام اور صبح کے وقت ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ (18) اور پرندوں کو بھی (جو تسبیح کے وقت) جمع ہو جاتے تھے (اور) سب (پہاڑ و پرند) ان کے فرمانبردار تھے (اور ان کی آواز پر آواز ملاتے تھے)۔ (19) اور ہم نے ان کی حکومت کو مضبوط کر دیا تھا اور ان کو حکمت و دانائی اور فیصلہ کُن بات کرنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔ (20) (اے رسول(ص)) کیا آپ تک مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جب وہ دیوار پھاند کر (ان کے) محرابِ عبادت میں داخل ہوگئے۔ (21) جب وہ اس طرح (اچانک اندر) جنابِ داؤد(ع) کے پاس پہنچ گئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ آپ ڈریں نہیں ہم دو فریقِ مقدمہ ہیں ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور بے انصافی نہ کیجئے اور راہِ راست کی طرف ہماری راہنمائی کیجئے۔ (22) (وجۂ نزاع یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے اس پر بھی وہ کہتا ہے کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے۔ (23) داؤد(ع) نے کہا اس شخص نے اتنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملانے کا مطالبہ کرکے تجھ پر ظلم کیا ہے اور اکثر شرکاء اسی طرح ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں سوائے ان کے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور (یہ بات کہتے ہوئے) داؤد (ع) نے خیال کیا کہ ہم نے ان کا امتحان لیا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی اور اس کے حضور جھک گئے اور توبہ و انابہ کرنے لگے۔ (24) اور ہم نے انہیں معاف کر دیا اور بے شک ان کیلئے ہمارے ہاں (خاص) تقرب اور اچھا انجام ہے۔ (25) اے داؤد(ع)! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ مقرر کیا ہے پس حق و انصاف کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کیا کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی اور جو اللہ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے اس لئے انہوں نے یوم الحساب (قیامت) کو بھلا دیا ہے۔ (26) اور ہم نے آسمان و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بے فائدہ پیدا نہیں کیا یہ ان لوگوں کا گمان ہے جو کافر ہیں پس کافروں کیلئے دوزخ کی بربادی ہے۔ (27) کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان لوگوں کی مانند بنا دیں گے جو زمین میں فساد کرتے ہیں؟ یا کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کر دیں گے؟ (28) یہ وہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہلِ عقل و فہم نصیحت حاصل کریں۔ (29) اور ہم نے داؤد(ع) کو سلیمان(ع) (جیسا بیٹا) عطا کیا وہ بہت اچھا بندہ (اور اللہ کی طرف) بڑا رجوع کرنے والا تھا۔ (30) (اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب شام (سہ پہر) کے وقت میں عمدہ گھوڑے (معائنہ کیلئے) ان پر پیش کئے گئے۔ (31) تو انہوں نے کہا کہ میں مال (گھوڑوں) کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ وہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔ (32) (حکم دیا) ان (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ اور وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (قطع کرنا شروع کیا)۔ (33) اور ہم نے سلیمان(ع) کو (اس طرح) آزمائش میں ڈالا کہ ان کے تخت پر ایک (بے جان) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے (ہماری طرف) رجوع کیا۔ (34) (اور) کہا اے میرے پروردگار مجھے معاف کر اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کیلئے زیبا نہ ہو۔ بیشک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔ (35) اور ہم نے ان کیلئے ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے تھے آرام سے چلتی تھی۔ (36) اور شیاطین بھی (مسخر کر دیئے) جو کچھ معمار تھے اور اور کچھ غوطہ خور۔ (37) اور ان کے علاوہ (کچھ ایسے سرکش بھی تھے) جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ (38) یہ ہماری عطا ہے (آپ(ع) کو اختیار ہے) جسے چاہے عطا کر اور جس سے چاہے روک رکھ۔ (39) اور بے شک ان (سلیمان(ع)) کیلئے ہمارے ہاں (خاص) قرب حاصل ہے اور بہتر انجام ہے۔ (40) اور ہمارے بندۂ (خاص) ایوب(ع) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سختی اور اذیت پہنچائی ہے۔ (41) (ہم نے حکم دیا کہ) اپنا پاؤں (زمین پر) مارو۔ یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کیلئے اور پینے کیلئے۔ (42) اور ہم نے اپنی خاص رحمت اور صاحبانِ عقل و فکر کیلئے بطورِ نصیحت انہیں نہ صرف ان کے اہل و عیال واپس دیئے (بلکہ) اتنے ہی اور بڑھا دیئے۔ (43) اور (ہم نے کہا) اپنے ہاتھ میں (شاخوں کا) ایک مُٹھا لو اور اس سے مارو اور قَسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا بڑا اچھا بندہ (اور ہماری طرف) بڑا رجوع کرنے والا۔ (44) اور ہمارے (خاص) بندوں ابراہیم(ع)، اسحاق(ع) اور یعقوب(ع) کو یاد کرو جو قوت و بصیرت والے تھے۔ (45) اور ہم نے ان کو ایک خاص صفت کے ساتھ مخصوص کیا تھا اور وہ آخرت کی یاد تھی۔ (46) اور وہ یقیناً ہمارے نزدیک برگزیدہ (اور) نیکوکار لوگوں میں سے تھے۔ (47) اور اسماعیل(ع)، الیسع(ع) اور ذوالکفل(ع) کو یاد کرو یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔ (48) یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک پرہیزگاروں کیلئے اچھا ٹھکانہ ہے۔ (49) (یعنی) ہمیشہ رہنے والے (سدابہار) باغات جن کے سب دروازے ان کیلئے کھلے ہوں گے۔ (50) وہ ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہ وہاں بہت سے میوے اور مشروبات طلب کرتے ہوں گے۔ (51) اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم عمر بیویاں ہوں گی۔ (52) یہ وہ (نعمت) ہے جن کا حساب کے دن تمہیں عطا کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ (53) یہ ہمارا (خاص) رزق ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔ (54) یہ بات تو ہو چکی (کہ پرہیزگاروں کا انجام یہ ہے) اور سرکش کا انجام بہت برا ہے۔ (55) (یعنی) دوزخ جس میں داخل ہوں گے پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہے۔ (56) یہ (حاضر ہے) کھولتا ہوا پانی اور پیپ پس چاہیے کہ وہ اسے چکھیں۔ (57) اور اس کے علاوہ اسی قسم کی دوسری چیزیں بھی ہوں گی۔ (58) یہ ایک اور فوج ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) داخل ہو رہی ہے ان کیلئے کوئی خوش آمدید نہیں ہے یہ بھی جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔ (59) وہ (ان کے جواب میں کہیں گے) تمہارے لئے خوش آمدید نہ ہو تم ہی یہ (دن) ہمارے سامنے لائے ہو! تو (جہنم) کیا برا ٹھکانا ہے۔ (60) پھر وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! جو (کمبخت) روزِ بد ہمارے آگے لایا ہے اسے دوزخ میں عذاب دے۔ (61) وہ کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم یہاں ان لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو ہم (دنیا میں) برے لوگوں میں شمار کرتے تھے؟ (62) کیا ہم نے بلاوجہ ان کا مذاق اڑایا تھا یا نگاہیں ان کی طرف سے چوک رہی ہیں؟ (63) یہ بات بالکل سچی ہے کہ دوزخ والے آپس میں جھگڑیں گے۔ (64) آپ کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف (عذابِ خدا سے) ایک ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا جو یکتا اور غالب ہے اور کوئی خدا نہیں ہے۔ (65) وہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کا پروردگار ہے (اور وہ) بڑا زبردست (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔ (66) کہیے وہ (قرآن یا قیامت) بہت بڑی خبر ہے۔ (67) جس سے تم منہ پھیرتے ہو۔ (68) مجھے تو ملاءِ اعلیٰ (عالمِ بالا) کی کوئی خبر نہ تھی جبکہ وہ (فرشتے) آپس میں بحث کر رہے تھے۔ (69) میری طرف اس لئے وحی کی جاتی ہے کہ میں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (70) (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں گیلی مٹی سے ایک بشر (انسان) پیدا کرنے والا ہوں۔ (71) جب میں اسے تیار کر لوں اور اس میں اپنی خاص روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا۔ (72) تو (حسب الحکم) سب فرشتوں نے سجدہ کیا۔ (73) سوائے ابلیس کے کہ اس نے تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا۔ (74) ارشاد ہوا اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ اس کے سامنے سجدہ کرے جسے میں نے اپنی طاقت و قدرت سے پیدا کیا ہے؟ کیا تو نے تکبر کیا ہے یا تو سرکشوں میں سے ہوگیا ہے؟ (75) اس نے کہا میں اس (آدم(ع)) سے بہتر ہوں (کیونکہ) تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ (76) ارشاد ہوا تو یہاں (جنت) سے نکل جا کیونکہ تو راندۂ درگاہ ہے۔ (77) اور یقیناً قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے۔ (78) اس نے کہا اے پروردگار! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ (79) ارشاد ہوا (جا) تجھے مہلت دی گئی ہے۔ (80) مگر اس دن تک جس کا وقت (تجھے) معلوم ہے۔ (81) ابلیس نے کہا تیری عزت کی قسم! میں سب لوگوں کو گمراہ کروں گا۔ (82) سوائے تیرے منتخب اور برگزیدہ بندوں کے۔ (83) ارشاد ہوا کہ پھر حق یہ ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں۔ (84) کہ میں بھی دوزخ بھر دوں گا تجھ سے اور ان لوگوں سے جو تیری پیروی کریں گے۔ (85) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ (86) یہ (قرآن) نہیں ہے مگر سب جہانوں کیلئے نصیحت۔ (87) اور تمہیں کچھ مدت کے بعد اس کی خبر معلوم ہو جائے گی۔ (88)

پچھلی سورت: سورہ صافات سورہ ص اگلی سورت:سورہ زمر

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. شیخ‌الاسلامی، آشنایی با سورہ‌ہای قرآن، ۱۳۷۷ش، ص۶۸۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶۔
  3. خرمشاہی، «سورہ ص»، ج۲، ص۱۲۴۸۔
  4. مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۱۷۱۔
  5. طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ش، ج۱۷، ص۲۸۶۔
  6. مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۱۷۱؛ صفوی، «سورہ ص»، ص ۷۵۰۔
  7. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  8. قمی، علی ابن ابراہیم، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ش، ج۲، ص۲۲۸؛ واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۳۸۰-۳۸۱؛ مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۱۷۲
  9. طباطبایی، تفسیر المیزان، ذیل آیات ۳۱-۳۳ سورہ صاد؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ذیل آیہ‌ہای ۳۱-۳۳ سورہ صاد
  10. طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ش، ج۱۷، ص۳۵۸۔
  11. طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ش، ج۱۷، ص۳۶۰۔
  12. طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ش، ج۱۷، ص۳۶۱۔
  13. طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، ۱۳۷۰ش، ج۱۷، ص۳۶۱۔
  14. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۷، ص۱۹۷۔
  15. موسوی اردبیلی، کتاب القضاء، ۱۳۸۱ش، ج۱، ۷-۹۔
  16. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۷، ص۱۹۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۱۹، ص۲۶۲۔
  17. حرانی، ہاشم ابن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، ۱۳۸۹ش، ج۴، ص۶۳۹؛ مکارم شیرازی، ناصر، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۱۷۲۔
  18. ابن‌بابویہ، محمد ابن‌علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۹۔

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ترجمہ محمدرضا انصاری محلاتی، قم، نسیم کوثر، ۱۳۸۲ش۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، ۱۳۸۹ش۔
  • خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، ۱۳۹۲ش۔
  • خرمشاہی، قوام الدین، «سورہ ص»، در دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، انتشارات دوستان، تہران، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ الاسلامی، جعفر، آشنایی با سورہ‌ہای قرآن، پیام آزادی، تہران، ۱۳۷۷ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • قمی، علی ابن ابراہیم، تفسیر القمی، دارالکتب، قم، ۱۳۶۳ش
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، ترجمہ ابومحمد وکیلی، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، و احمد علی‌بابایی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۲ش۔