سورہ زخرف

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شوری سورۂ زخرف دخان
سوره زخرف.jpg
ترتیب کتابت: 43
پارہ : 25
نزول
ترتیب نزول: 63
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 89
الفاظ: 838
حروف: 3609

سورہ زُخْرُف قرآن کی 43ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 25ویں پارے میں واقع ہے۔ زخرف زر و زیور کے معنی میں ہے جسے اس سورت کی 35ویں آیت سے لیا گیا ہے۔ اس سورت میں قرآن کریم اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی اہمیت، توحید کے بعض دلائل اور کفر و شِرک سے مقابلہ کرنے کے بارے میں ہے اسی طرح بعض انبیاء اور ان کے اقوام کی داستان بھی اس سورت میں بیان ہوئی ہیں۔ بعض تفاسیر کے مطابق اس سورت کا اصلی مقصد انسان کو نصیحت اور اسے خبردار کرنا ہے۔

آیت نمبر 4 اور 74 اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں۔ پہلی آیت ام‌الکتاب اور لوح محفوظ کے بارے میں جبکہ دوسری آیت اہل جہنم کا جہنم میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں ہے۔ احادیث میں عذاب قبر سے نجات اور بہشت میں داخل ہونا اس سورت کے فضائل اور خواص میں شمار کیا گیا ہے۔

تعارف

  • نام

زُخرُف زر و زیور کے معنی میں ہے اور یہ نام اس سورت کی 35ویں آیت سے لیا گیا ہے جہاں پر دینا کے مال و دولت اور زر و زیور کی بے اہمیت ہونے کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے اسی مناسبت سے اس کا نام "سورہ زخرف" رکھا گیا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ زخرف مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 63ویں جبکہ مُصحَف شریف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے قرآن کی 43ویں سورہ ہے[2] اور 25ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

یہ سورت 89 آیات، 838 کلمات اور 3609 حروف پر مشتمل ہے اور حجم کے اعتبار سے اس کا شمار مَثانی میں ہوتا ہے۔[3] سورہ زخرف کی ابتداء چونکہ "حم" سے ہوتی ہے اس لئے یہ حامیمات میں بھی شمار ہوتا ہے اور قسم سے شروع ہونے والی سورتوں میں اس کا نمبر چوتھے نبر پر آتا ہے۔[4]

مضامین

تفسیر نمونہ کے مطابق سورہ زخرف کے مباحث کو سات(7) حصوں میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

  1. قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی اہمیت؛
  2. "آفاق" میں موجود توحید کے بعض دلائل اور انسان پر خداوندعالم کے گوناگون نعمات کی یادآوری؛
  3. شِرک اور کفر سے مقابلہ اور خدا کی طرف نسبت دی جانے والی ناروا نستبوں کی نفی اور اندھے تقلید کی ممانعت؛
  4. گذشتہ انبیاء اور ان کے اقوام کا ذکر؛
  5. معاد، قیامت کے دن مؤمنین کی جزا، کفار کی سزا اور مجرموں کو خبردار؛
  6. بے ایمانوں کے غلط معیار جو ان کی غلطی کا سبب بنا ہے؛
  7. وعظ و نصیحت۔[5]

علامہ طباطبایی تفسیر المیزان میں سورہ زخرف کے اصلی مقصد کو انسان کیلئے لئے وعظ و نصیحت کرنا اور اسے خبردار کرانا قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سورت میں اس بات کے اوپر تأکید کی گئی ہے کہ یہ خدا کی سنت رہی ہے کہ وہ انسان کی نصیحت اور اسے خبردار کرانے کیلئے انبیاء بھیجتے ہیں جن کی تکذیب اور ان کا مذاق اڑانے والے ہلاک ہوئے ہیں جس کیلئے اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ کے اقوام کو بطور مثال ذکر کیا گیا ہے۔[6]

سورہ زخرف کے مضامین[7]
 
 
 
 
 
 
 
 
مشرکوں کے عقائد اور رفتار کا بطلان اور ان کی ناکامی کا اثبات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں گفتار؛ آیہ ۷۹-۸۰
توحید کا اثبات اور مشرکوں کی ناکامی
 
چوتھا گفتار؛ آیہ ۶۶-۷۸
خدا پرستوں اور مشرکوں کا انجام
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۳۶-۶۵
مشرکوں کاعقیدہ اور کردار صحیح نہ ہونا
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۳۵
فرشتوں کی پرستش کے لیے مشرکوں کے بہانے
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۱۴
قرآن کی توحیدی تعلیمات سے مشرکوں کا منہ پھیرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۷۹-۸۰
پیغمبر سے مقابلے کےلیے مشرکوں کی ناکام کوشش
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶۶-۶۷
شرک کا انجام عذاب ہے
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۶-۳۹
شرک، شیطان کی پیروی کا نتیجہ
 
پہلا بہانہ؛ آیہ ۱۵-۱۹
فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۴
قرآن کے نزول کا ہدف انسان کو غور و فکر پر مجبور کرنا ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۸۱-۸۳
اللہ کا کوئی بیٹا یا شریک نہیں
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۶۸-۷۳
اللہ کے بندوں کا اجر بہشت ہے
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴۰-۴۵
دل کے آندھے مشرک قابل ہدایت نہ ہونا
 
دوسرا بہانہ؛ آیہ ۲۰-۲۱
اللہ نے چاہا ہے کہ ہم فرشتوں کی پوجا کریں
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵-۸
گناہ اور مزاق اڑانا دین پہنچانے میں مانع نہیں ہے
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۸۴-۸۵
کائنات کا فرمانروا صرف اللہ ہے
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۷۴-۷۸
دوزخ میں حق سے مقابلہ کرنے والوں کی سزا
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۴۶-۵۶
مشرکوں کا کردار فرعونیوں جیسا
 
تیسرا بہانہ؛ آیہ ۲۲-۳۰
اچھے لوگوں کی تقلید
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۹-۱۴
نعمت دینے والے خدا کی عبادت کی ضرورت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۸۶-۸۷
اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی شفاعت کرنے کی اجازت نہیں
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب؛ آیہ ۵۷-۶۵
حضرت عیسی کے بارے میں مشرکوں کا جدال اور نزاع
 
چوتھا بہانہ؛ آیہ ۳۱-۳۵
توحید کا منادی (پیغمبر) مالدار نہ ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں مطلب؛ آیہ ۸۸-۸۹
مشرکوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داری
 
 
 
 
 
 
 
 


آیات مشہورہ

ام‌الکتاب

  • وَ