سورہ فجر

ویکی شیعہ سے
غاشیہ سورۂ فجر بلد
ترتیب کتابت: 89
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 10
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 30
الفاظ: 139
حروف: 584

سوره فَجْر 89ویں سورت اور قرآن کی مکی سورتوں میں سے ہے جو 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کا نام فجر ہے جو صبح کی سفیدی کے معنی میں ہے۔ یہ کلمہ جو سورہ کے آغاز میں اللہ تعالی نے جس کی قسم کھائی ہے بعض روائی تفاسیر میں اس سے مراد حضرت قائمؑ لیا ہے۔

سورہ فجر قسم سے شروع ہوتی ہے اور قوم عاد، ثمود و قوم فرعون نیز ان کی سرکشی اور برائیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ کی طرف سے امتحان کی حالت میں ہے؛ بعض اس امتحان میں ناکام ہوتے ہیں اور اس شکست کی دلائل بھی بیان ہوئی ہیں۔

سورہ فجر، سورہ امام حسینؑ سے بھی مشہور ہے اور روایات میں یہ ان سے منسوب ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ آخری آیات میں «نفس مطمئنہ» سے مراد امام حسینؑ ہیں۔ اسی طرح نقل ہوا ہے کہ جو بھی ان دس راتوں میں سورہ فجر کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کرے گا اور اگر دوسرے دنوں میں تلاوت کرے تو قیامت میں ایک نور اس کے ساتھ ہوگا۔ امام حسینؑ کی موجودہ ضریح پر بھی سورہ فجر لکھی گئی ہے۔

تعارف

سورہ فجر کی پہلی چار آیات، خط نستعلیق میں
  • وجہ تسمیہ

اس سورت کو «‌فجر‌» نام دیا گیا ہے کیوںکہ اللہ تعالی نے اس کا آغاز فجر کی قسم سے کی ہے۔[1]

  • ترتیب اور محل نزول

سور فجر مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 10ویں سورت ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے[2]اور قرآن کی موجودہ مصحف کی ترتیب کے مطابق 89ویں سورت ہے اور قرآن کے 30ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات اور کلمات کی تعداد

سورہ فجر کی 30 آیات، 139 کلمات اور 584 حروف ہیں۔ مفصلات سورتوں (چھوٹی سورتیں) میں اس کا شمار ہوتا ہے اور پانچ قَسموں سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔[3]

سورہ امام حسینؑ

سورہ فجر امام حسینؑ کی سورت سے مشہور ہے۔[4]امام صادقؑ کی ایک روایت میں آیا ہے کہ سورہ فجر، سورہ امام حسینؑ ہے اور جو بھی اس کی تلاوت کرے گا قیامت کے دن بہشت میں مرتبے میں ان کے برابر ہوگا[یادداشت 1] اس نام کے بارے میں امام صادقؑ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: 27ویں آیت میں نفس مطمئنہ سے مراد امام حسینؑ ہے۔[یادداشت 2]

تفسیر نمونہ میں بھی ذکر ہوا ہے کہ «لیال عشر» (دس راتیں) سے مراد محرم الحرام کی پہلی دس راتیں ہیں اور ممکن ہے شاید اسی وجہ سے اسے سورہ امام حسینؑ نام دیا گیا ہو۔[5] سورہ فجر ان سورتوں میں سے ایک ہے جو ضریح امام حسین پر درج ہے جسے 2011 میں نصب کیا ہے۔[6]

مضمون

  • یہ سورت قوم عاد کے انجام نیز إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ (اونچے ستونوں والے ارم) اور قوم ثمود، قوم فرعون اور ان کے فساد و سرکشی کی طرف اشارے کرتی ہے۔
  • سورہ فجر اس نکتے کی یادآوری کراتی ہے کہ انسان کو مسلسل امتحان الہی کا سامنا ہے اور نعمت و مصیبت سے اس کو آزمایا جاتا ہے اور بعدازاں اس امتحان میں بےایمان انسانوں کی شکست کے اسباب بیان کئے جاتے ہیں اور روز جزا کی آمد کی طرف اشارہ کیا جاتا جب بےایمان لوگ جہنم کے آثار دیکھ کر متنبہ ہوجاتے ہیں لیکن اب کیا وقت ہے متنبہ ہونے کا جو بہت بےفائدہ اور بےوقت ہے۔[7]
سورہ فجر کے مضامین[8]
 
 
 
 
مال، خوشبختی اور اللہ کی انسان پر توجہ کی نشانی نہیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار: آیہ ۲۷-۳۰
نعمت اور محنت میں اللہ کا بندہ بننا چاہیے
 
دوسرا گفتار: آیہ ۱۵-۲۶
خوشبختی کا معیار، نعمتوں کا ہونا نہیں
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۱۴
نعمتیں دینے اور سلب کرنے میں اللہ کی سنت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب: آیہ ۲۷-۲۸
بندوں کی طرف سے ہمیشہ اللہ کی اطاعت
 
پہلا مطلب: آیہ ۱۵-۱۶
خوشبختی اور بدبختی کے بارے میں دو غلط تصور
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۵
حج کے دنوں میں مومنوں پر اللہ کی معنوی عنایات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب: آیہ ۲۹-۳۰
اللہ کی بندگی کا اجر
 
دوسرا مطلب: آیہ ۱۷-۲۰
گناہ کا ارتکاب اللہ کے قہر کی نشانی نہ کہ نعمت سلب ہونے کی
 
دوسرا مطلب: آیہ ۶-۱۴
فاسد کافروں سے مادی نعمتوں کا سلب ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۲۱-۲۶
اخروی عذاب اللہ کے غصے کی نشانی ہے فقر کی نہیں
 
 


شفع و وتر، اور انسانی امتحان

تفسیر البرہان میں بعض روایات آئی ہیں جن میں «الشفع: جفت» سے مراد پیغمبر اکرمؐ اور امام علیؑ یا امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور «الوتر: طاق» سے مرا اللہ تعالی قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایک اور روایت میں آیا ہے کہ «الفجر» سے مراد حضرت قائمؑ ہیں۔[9]

  • نعمت کے ذریعے انسان کا امتحان

15ویں اور 16ویں آیت میں آیا ہے کہ اللہ تعالی انسان کو کبھی فراوان نعمتوں سے اور کبھی رزق اور ورزی میں تنگی کرکے امتحان لیتا ہے؛ لیکن انسان اس امتحان کو بھول جاتا ہے اور نعمت کے دوران یہ گمان کر لیتا ہے کہ وہ اللہ کے درگاہ میں مقرب ہوا ہے اور تنگدستی کے وقت مایوس ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے مجھے ذلیل کردیا ہے۔[10]


مشہور آیات

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (ترجمہ: اے نفسِ مطمئن۔تو اس حالت میں اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔)[؟–28-27]
یہ دو آیات اور آخری 29ویں اور 30ویں آیت ان مشہور آیات میں سے ہیں کہ بعض تفاسیر کے یہ امام حسینؑ کی طرف اشارہ ہے اور روایات میں آیا ہے کہ نفس مطمئنہ سے مراد امام حسینؑ ہے اور اسی وجہ سے سورہ فجر کو سورہ امام حسین کہا گیا ہے۔[یادداشت 3] سورہ فجر کی آخری آیات شیعہ علماء کی وفات کے اشتہارات کے ٹائٹل پر درج ہوتی ہیں۔[11] اسی طرح اس سورت کی مشہور تلاوتوں میں سے مصر کے قاری عبدالباسط کی تلاوت ہے جو مختلف ترحیم کی مجالس میں سنی جاتی ہے۔[حوالہ درکار] یہ آیت عرفا کی بھی توجہ کا مرکز رہی ہے اور اس سے استناد کرتے ہوئے نفس کے مراتب میں سے ایک کو «نفس مطمئنہ» قرار دیا ہے۔ [12]

تفسیری نکات

اللہ تعالی سورہ فجر کی دوسری آیت میں لَيَالٍ عَشْرٍ (دس راتوں) کی قسم کھاتا ہے، ان دس راتوں کی تفسیر کے بارے میں چند احتمال ذکر ہوئے ہیں: ذی‌الحجہ کی پہلی دس راتیں، محرم کے مہینے کی پہلی دس راتیں، رمضان المبارک کی آخری دس راتیں یا رمضان المبارک کی پہلی دس راتیں ان احتمالات میں سے ہیں۔[13]

فخر رازی کا کہنا ہے کہ دس راتوں کی قسم کھانا ان راتوں کی فضیلت اور عظمت کی دلیل ہے اور محرم کے پہلے عشرے میں روز عاشورا شامل ہونا یا رمضان المبارک کے آخری عشرے میں، شب قدر کا ہونا نیز ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں عبادت میں مشغول رہنا ان راتوں کی فضیلت کی دلیل ہیں۔[14] علامہ طباطبایی اپنی کتاب تفسیر المیزان میں مندرجہ بالا احتمالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لیال عشر سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں قرار دیتے ہیں۔[15]

جابر بن یزید جعفی کی امام محمدباقرؑ سے منقول روایت کے مطابق لیال عشر دس اماموںؑ کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح اس روایت میں فجر سے مراد پیغمبر اکرمؐ، شفع سے مراد امام علیؑ اور وتر سے مراد امام مہدیؑ قرار دیا ہے۔[16] ۔ بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ دس راتوں سے مراد صرف راتیں ہی نہیں بلکہ ان راتوں کے دنوں کو بھی شامل ہیں۔[17]

فضائل اور خواص

سورہ فجر کی تلاوت کے بارے میں تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں ارشاد ہوتاہے: جو بھی ذی الحجہ کی پہلی دس راتوں میں اس کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالی اس کے گناہ معاف کرے گا اور اگر دوسرے دنوں میں تلاوت کرے تو قیامت میں ایک نور اس کے ساتھ ہوگا۔ اسی طرح امام صادقؑ سے روایت ہوئی ہے کہ: سورہ فجر کو واجب نمازوں اور مستحب نمازوں میں پڑھیں یہ امام حسینؑ کی سورت ہے۔ جو اس کی تلاوت کرے قیامت کے دن بہشت میں وہ ان کے ہم پلہ ہونگے۔[18]

متن اور ترجمہ

سوره فجر
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالْفَجْرِ ﴿1﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿2﴾ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ﴿3﴾ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ ﴿4﴾ هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ ﴿5﴾ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ ﴿6﴾ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ﴿7﴾ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ ﴿8﴾ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ ﴿9﴾ وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ ﴿10﴾ الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ﴿11﴾ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ ﴿12﴾ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ﴿13﴾ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿14﴾ فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿15﴾ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿16﴾ كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿17﴾ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿18﴾ وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿19﴾ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿20﴾ كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ﴿21﴾ وَجَاء رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ﴿22﴾ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى ﴿23﴾ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي ﴿24﴾ فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ ﴿25﴾ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ ﴿26﴾ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿27﴾ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿28﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿29﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿30﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے صبح کی۔ (1) اور دس (مقدس) راتوں کی۔ (2) اورجُفت اور طاق کی۔ (3) اور رات کی جبکہ (جانے کیلئے) چلنے لگے۔ (4) کیا اس میں صاحبِ عقل کیلئے کوئی قسم ہے؟ (یعنی یقیناً ہے)۔ (5) کیا آپ(ص) نے نہیں دیکھا کہ آپ(ص) کے پروردگار نے قومِ عاد کے ساتھ کیا کیا؟ (6) یعنی اونچے ستونوں والے ارم کے ساتھ۔ (7) جن کامثل (دنیا کے) شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ (8) اور قومِ ثمود کے ساتھ (کیا کیا؟) جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں (اور عمارتیں بنائی تھیں)۔ (9) اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا کیا؟)۔ (10) ان لوگوں نے شہروں میں سرکشی کی تھی۔ (11) اوران میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ (12) تو آپ کے پروردگار نے ان پر عذاب کا کَوڑا برسایا۔ (13) بےشک آپ(ص) کا پروردگار (ایسے لوگوں کی) تاک میں ہے۔ (14) لیکن انسان (کا حال یہ ہے کہ) جب اس کا پروردگار اسے آزماتا ہے اور اسے عزت و نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری عزت افزائی کی۔ (15) اور جب وہ (خدا) اسے اس طرح آزماتا ہے کہ اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کر دیا۔ (16) ہرگز نہیں! بلکہ تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ (17) اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو آمادہ نہیں کرتے۔ (18) اور وراثت کا سارا مال (حلال و حرام) سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ (19) اورتم مال و منال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔ (20) ہرگز نہیں! وہ وقت یاد کرو جب زمین کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔ (21) اور تمہارا پروردگار (یعنی اس کا حکم) آجائے گا اور فرشتے قطار اندر قطار آئیں گے۔ (22) اور اس دن جہنم (سامنے) لائی جائے گی اور اس دن انسان کو سمجھ آئے گی مگر اب سمجھ آنے کا کیا فائدہ؟ (23) وہ کہے گا کہ کاش! میں نے اپنی (اس) زندگی کیلئے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔ (24) پس اس دن نہ تو خدا کی طرح کوئی عذاب دے گا۔ (25) اور نہ اس کے باندھنے کی طرح کوئی باندھ سکے گا۔ (26) (ارشاد ہوگا) اے نفسِ مطمئن۔ (27) تو اس حالت میں اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ (28) پس تُو میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا۔ (29) اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ (30)

پچھلی سورت: سورہ غاشیہ سورہ فجر اگلی سورت:سورہ بلد

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۳.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۶۶.
  3. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۳-۱۲۶۴.
  4. محدثی، فرہنگ عاشورا، ۱۳۸۸ش، ص۲۵۱.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۶، ص۴۳۹.
  6. امام حسینؑ کی ضریح کے بارے میں وضاحت
  7. دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، ص1264-1263۔
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۶۵۰.
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۶، ص۴۶۲.
  11. مثال کے طور پر: آیت‌ اللہ مجتبی تہرانی کی وفات کا اشتہار یا آیت‌ الله طاہری اصفہانی کی وفات کا اشتہار.
  12. مراجعہ کریں: ملاصدرا، ۱۳۶۰ش، اسرار الآیات، ص۹۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۱، ص۱۱۹ـ۱۲۴.
  13. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۲۰، ص۲۷۹؛ میبدی، کشف الاسرار، ۱۳۷۱شمسی ہجری، ج۱۰، ص۴۷۹.
  14. فخررازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ھ، ج۳۱، ص۱۴۹.
  15. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ھ، ج۲۰، ص۲۷۹.
  16. ابن شهرآشوب، مناقب، ۱۳۷۹ھ، ج۱، ص۲۸۱.
  17. میبدی، کشف الاسرار، ۱۳۷۱ش، ج۱۰، ص۴۷۹.
  18. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲شمسی ہجری، ج۱۰، ص۷۳۰.

نوٹ

  1. ۔۔«روى داود بن فرقد عن أبي عبد الله (ع) قال اقرأوا سورة الفجر في فرائضكم و نوافلكم فإنها سورة الحسين بن علي (ع) من قرأها كان مع الحسين بن علي (ع) يوم القيامة في درجته من الجنة» (طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۷۳۰).
  2. ۔۔«وَ رَوَى الْحَسَنُ بْنُ مَحْبُوبٍ عَنْ صَنْدَلٍ عَنِ ابْنِ فَرْقَدٍ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع اقْرَءُوا سُورَةَ الْفَجْرِ فِي فَرَائِضِكُمْ وَ نَوَافِلِكُمْ فَإِنَّهَا سُورَةُ الْحُسَيْنِ وَ ارْغَبُوا فِيهَا رَحِمَكُمُ اللَّهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُسَامَةَ وَ كَانَ حَاضِرَ الْمَجْلِسِ كَيْفَ صَارَتْ هَذِهِ السُّورَةُ لِلْحُسَيْنِ ع خَاصَّةً فَقَالَ أَ لَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى‏ رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبادِي وَ ادْخُلِي جَنَّتِي إِنَّمَا يَعْنِي الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فَهُوَ ذُو النَّفْسِ الْمُطْمَئِنَّةِ الرَّاضِيَةِ الْمَرْضِيَّةِ وَ أَصْحَابُهُ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ الرضوان [هُمُ الرَّاضُونَ‏] عَنِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ هُوَ رَاضٍ عَنْهُمْ وَ هَذِهِ السُّورَةُ فِي الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ع وَ شِيعَتِهِ وَ شِيعةِ آلِ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً فَمَنْ أَدْمَنَ قِرَاءَةَ الْفَجْرِ كَانَ مَعَ الْحُسَيْنِ ع فِي دَرَجَتِهِ فِي الْجَنَّةِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ» (مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۴، ص۹۳).
  3. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۴، ص۹۳. روایت کا متن «سورہ امام حسینؑ» والے حصے کے نوٹ میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح روایات میں ایا ہے کہ نفس مطمئنہ سے مراد وہ نفس ہے جو پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ پر ایمان لایا ہے یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سورہ امیر المومنینؑ کے بارے میں ہے اور نفس مطمئنہ سے مراد وہ نفس ہے جو حضرت امیر کی ولایت پر ایمان لایا ہے۔(بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۶۵۷ـ۶۵۸).

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • انصاریان، حسین، عرفان اسلامی، بہ تحقیق محمدجواد صابریان و محسن فیض‌پور، قم، دارالعرفان، ۱۳۸۶شمسی۔
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تحقیق قسم الدراسات الاسلامیۃ مؤسسۃ البعثۃ قم، تہران، بنیاد بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۶ھ۔
  • خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲شمسی۔
  • دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، 1377ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ محمدجواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانور، بہ تصحیح جمعی از محققان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳شمسی۔
  • محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، نشر معروف، چاپ سیزدہم، ۱۳۸۸شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۱شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر و جمعی از نویسندگان، تفسیر نمونہ، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴شمسی۔
  • ملاصدرا، اسرار الآیات، بہ تصحیح محمد خواجوی، تہران، انجمن اسلامی حکمت و فلسفہ، ۱۳۶۰شمسی۔

بیرونی روابط