سورہ مرسلات

ویکی شیعہ سے
انسان سورۂ مرسلات نباء
ترتیب کتابت: 77
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 33
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 50
الفاظ: 181
حروف: 841

سورہ مُرسَلات قرآن کی 77ویں اور مَکّی سورتوں میں سے ہے اور 29ویں پارے میں واقع ہے۔ "مرسلات" بھیجے گئے یا بھیجے ہوئے کے معنی میں ہے اور یہ لفظ اس سورت کی پہلی آیت میں آیا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کو اسی نام سے یاد کیا گیا ہے۔ سورہ مرسلات میں قیامت کے وقع پر تأکید کرتے ہوئے اس کے منکروں کو پے در پے ڈرایا دھمکایا گیا ہے۔ اس سورت میں مجرموں اور پرہیزگاروں کے اعمال اور نشانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان دو گروہوں کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سورت کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ جو کوئی سورہ مرسلات کی تلاوت کرے اس کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ مشرکین میں سے نہیں ہے۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو مُرسَلات‌ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی پہلی آیت میں اس لفظ کی قسسم کھائی گئی ہے۔ اس سورت کے دیگر اسامی میں سورہ "عُرف‌" ہے جسے اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔[1]

  • محل اور ترتیب نزول

سورہ مرسلات مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے 33ویں جبکہ مُصحَف شریف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 77ویں سورہ ہے[2] اور قرآن کے 29ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ مرسلات 50 آیات، 181 کلمات اور 841 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم اور آیتوں کے اختصار کے اعتبار سے اس کا شمار مُفَصَّلات میں ہوتا ہے اور نستبا چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔ اس کی پہلی پانچ آیتوں میں پانچ مختلف موضوعات کی قسم کھائی گئی ہے۔[3]

مضامین

سورہ مرسلات میں قیامت کے وقوع پر بہت زیادہ تاکید کے ساتھ اس کی نشانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح انسان کی نسبت خدا کی بخشش اور مہربانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مجرموں اور پرہیزگاروں کے اعمال اور انکی نشانیوں نیز ان دو گروہوں کے انجام کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس سورت میں وقوع قیامت پر تاکید کے ساتھ اس کے منکروں کو شدید دھمکی دیتے ہوئے آیت وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ کو دس دفعہ تکرار کیا گیا ہے۔[4]

سورہ مرسلات کے مضامین[5]
 
 
 
 
 
 
دینِ خدا کے منکروں کو سخت سزا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا گفتار: آیہ ۴۶-۵۰
دین کے منکروں پر عذاب ہونے کی دلیل
 
تیسرا گفتار: آیہ ۲۹-۴۵
دین کے منکروں کو سزا کی کیفیت
 
دوسرا گفتار: آیہ ۱۶-۲۸
اللہ کی فرمانروائی کی نشانی اور منکروں کو ان کی طرف سے سزا
 
پہلا گفتار: آیہ ۱-۱۵
منکروں کی سزا، اللہ کا حتمی وعدہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی دلیل: آیہ ۴۶-۴۷
مختلف گناہوں کا ارتکاب اور خدا سے رابطہ منقطع ہونا
 
پہلا مطلب: آیہ ۲۹-۳۴
منکروں کو دوزخ کے آگ کی عذاب
 
پہلی نشانی: آیہ ۱۶-۱۹
مجرموں کی ہلاکت
 
پہلا مطلب: آیہ ۱-۷
اللہ کی طرف سے دین کے منکروں کو سزا کا وعدہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری دلیل: آیہ ۴۸-۵۰
اللہ کے فرمان کے سامنے تسلیم نہ ہونا
 
دوسرا مطلب: آیہ ۳۵-۳۷
منکروں کو معزرت خواہی کی اجازت نہ ہونا
 
دوسری نشانی: آیہ ۲۰-۲۴
انسانی تخلیق کے مرحلے
 
دوسرا مطلب: آیہ ۸-۱۵
قیامت کا دن دین کے منکروں کو سزا کا وقت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب: آیہ ۳۸-۴۰
عذاب سے نجات پانے میں کافروں کی عاجزی
 
تیسری نشانی: آیہ ۲۵-۲۸
زمین کو انسان بسنے کے لیے تیار کرنا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا مطلب: آیہ ۴۱-۴۵
منکروں کا بہشت کی نعمتوں سے محروم ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 


فضیلت اور خواص

سورہ مرسلات کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے کہ جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے تو اس کے بارے میں لکھا جائے گا کہ یہ شخص مشرکین میں سے نہیں ہے۔[6] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ مرسلات کی تلاوت کرے تو خدا قیامت کے دن اس شخص اور پیغمبر اکرمؐ کے درمیان آشنائی پیدا کرتا ہے۔[7]

بعض حدیثی منابع میں اس سورت کی تلاوت کیلئے خواص کا ذکر کیا گیا ہے من جملہ ان میں سفر میں امنیت،[8] دشمنوں پر فتح و پیروزی[9] اور پیٹ کے درد سے نجات [10] وغیرہ شامل ہیں۔

متن اور ترجمہ

سورہ مرسلات
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا ﴿1﴾ فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا ﴿2﴾ وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا ﴿3﴾ فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا ﴿4﴾ فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا ﴿5﴾ عُذْرًا أَوْ نُذْرًا ﴿6﴾ إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ ﴿7﴾ فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ ﴿8﴾ وَإِذَا السَّمَاء فُرِجَتْ ﴿9﴾ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ ﴿10﴾ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ ﴿11﴾ لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ ﴿12﴾ لِيَوْمِ الْفَصْلِ ﴿13﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ ﴿14﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿15﴾ أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ ﴿16﴾ ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ ﴿17﴾ كَذَلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ﴿18﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿19﴾ أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاء مَّهِينٍ ﴿20﴾ فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ ﴿21﴾ إِلَى قَدَرٍ مَّعْلُومٍ ﴿22﴾ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ ﴿23﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿24﴾ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ﴿25﴾ أَحْيَاء وَأَمْوَاتًا ﴿26﴾ وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاء فُرَاتًا ﴿27﴾ وَيْلٌ يوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿28﴾ انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿29﴾ انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ ﴿30﴾ لَا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ ﴿31﴾ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ﴿32﴾ كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ ﴿33﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿34﴾ هَذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ ﴿35﴾ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ ﴿36﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿37﴾ هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ ﴿38﴾ فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ ﴿39﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿40﴾ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ ﴿41﴾ وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ﴿42﴾ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿43﴾ إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنينَ ﴿44﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿45﴾ كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ ﴿46﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿47﴾ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ﴿48﴾ وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿49﴾ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿50﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

قَسم ہے ان کی جو مسلسل چھوڑ دی جاتی ہیں۔ (1) پھر (آندھی کی طرح) تیز و تند چلتی ہیں۔ (2) جو (بادلوں کو) پھیلانے والی ہیں۔ (3) پھر (انہیں) متفرق کر دیتی ہیں۔ (4) پھر (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالتی ہیں۔ (5) (حجت تمام کر کے) عذر قطع کرنے کیلئے یا ڈراوے کیلئے۔ (6) بےشک جس چیز کا تم سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہو نے والی ہے۔ (7) پس جب ستارے گرائے جائیں گے۔ (8) اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا۔ (9) اور جب پہاڑ (ریزہ ریزہ کر کے) اڑا دیئے جائیں گے۔ (10) اور جب رسول(ع) وقتِ معیّن پر حاضر کئے جائیں گے۔ (11) (آخر) کس دن کیلئے یہ تاخیر کی گئی؟ (12) فیصلے کے دن کے لئے۔ (13) تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ (14) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (15) کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا۔ (16) پھر ان کے پیچھے بھیجے گئے لوگوں کو۔ (17) ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی (سلوک) کرتے ہیں۔ (18) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (19) کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدانہیں کیا؟ (20) پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ مقام (رحمِ مادر) میں رکھا۔ (21) ایک مقررہ مدت تک۔ (22) (اس سے ثابت ہوا کہ) ہم قادر ہیں پس ہم کیسے اچھے قادر ہیں۔ (23) (ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (24) کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا۔ (25) زندوں کو بھی اور مُردوں کو بھی۔ (26) اور ہم نے اس میں بلند و بالا پہاڑ بنائے اور تمہیں خوشگوار (اور میٹھے) پانی سے سیراب کیا۔ (27) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (28) (حکم ہوگا) جاؤ اس (دوزخ) کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (29) جاؤ اس سایہ کی طرف جس کی تین شاخیں ہیں۔ (30) جو نہ سایہدار ہے اور نہ آگ کے شعلوں سے بچاتا ہے۔ (31) وہ (دوزخ) اونچے مَحلوں کی مانند انگارے پھینکتی ہے۔ (32) گویا کہ وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں۔ (33) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (34) یہ وہ دن ہوگا جس میں وہ بول نہیں سکیں گے۔ (35) اور نہ ہی انہیں اجازت دی جائے گی کہ معذرت کر سکیں۔ (36) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (37) یہ فیصلے کا دن ہے جس میں ہم نے تمہیں اور پہلے والوں کو جمع کر دیا ہے۔ (38) اگر تمہارے پاس (دوزخ سے بچنے کے لئے) کوئی تدبیر ہے تو میرے مقابلہ میں چلاؤ۔ (39) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (40) بےشک پرہیزگار لوگ (اس دن) (رحمتِ خدا کے) سایوں میں اور چشموں میں ہوں گے۔ (41) اور ان پھلوں میں ہوں گے جنہیں وہ چاہیں گے۔ (42) (ان سے کہاجائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم (دنیا میں) کرتے رہے ہو۔ (43) بےشک ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ (44) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (45) (اے جھٹلانے والو) تم تھوڑے دن (دنیا میں) کھا لو اورفائدہ اٹھا لو (بہرحال) تم لوگ مجرم ہو۔ (46) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کیلئے۔ (47) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہیں کرتے۔ (48) تباہی ہے اس دن کے جھٹلانے والوں کے لئے۔ (49) (آخر) وہ لوگ اس (قرآن) کے بعد کس کلام پر ایمان لائیں گے؟ (50)

پچھلی سورت: سورہ انسان سورہ مرسلات اگلی سورت:سورہ نباء

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۰۔
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸۔
  3. دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۶۰۔
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج‏۲۰، ص ۱۴۴۔
  5. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  6. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۹۰ش، ج۱۰، ص۲۲۷۔
  7. شیخ صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۱۔
  8. محدث نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۲۴۶۔
  9. کفعمی، مصباح کفعمی، ۱۴۲۳ق، ص۴۵۹۔
  10. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۵، ص۵۵۷۔

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ‌ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ترجمہ: بیستونی، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۹۰ش۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح للکفعمی، ،قم، محبین، ۱۴۲۳ق۔
  • محدث نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، بیروت، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ ہ‍۔ق۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱ش۔

بیرونی روابط

سورہ مرسلات کی تلاوت