سورہ مسد

ویکی شیعہ سے
نصر سورۂ مسد اخلاص
ترتیب کتابت: 111
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 6
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 5
الفاظ: 22
حروف: 81

سورہ مسد یا تَبَّت قرآن کریم کی 111ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو پارہ نمبر 30 میں واقع ہے۔ "مسد" مُونج کی بٹی ہوئی رسی کو کہا جاتا ہے اور یہ نام اس سورت کی آخری آیت سے جبکہ "تبت" اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے۔ یہ سورت ابو لہب اور اس کی زوجہ جو پیغمبر اکرمؑ کے سرسخت دشمنوں میں سے تھے، کے بارے میں نازل ہوئی اور اس میں ان دونوں کو جہنم کی آگ کی خبر دی ہے۔ اس سورت میں ابولہب کی بیوی کو حمالۃ الحطب (ایندھن اٹھانے والی) کے نام سے یاد کیا گیا ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ یہ عورت پیغمبر اکرمؐ کو اذیت پہنچانے کے لئے آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتی تھی اس وجہ سے اسے اس نام سے یاد کیا گیا ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اس سورت کی تلاوت کرنے والے کیلئے ابولہب کے ساتھ ایک مقام پر محشور نہ ہونے کی دعا فرمائی ہیں۔

تعارف

  • نام

اس سورت کو اس کی آخری آیت میں مذکور آخری لفظ کی مناسبت سے مَسَد (مونج کی بٹی ہوئی رسی)[1] جبکہ اس کی پہلی آیت میں مذکور پہلے لفظ کی مناسبت سے تَبَّت کہا جاتا ہے اور چونکہ یہ سورت ابولہب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس لئے اسے سورہ ابولہب‌ بھی کہا جاتا ہے۔[2]

  • مکان اور ترتیب نزول

سورہ مسد پیغمبر اکرمؐ کی اعلانیہ دعوت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی؛ اس بناء پر اس کا شمار مکی سورتوں میں ہوتا ہے۔[3] ترتیب نزول میں چھٹے جبکہ مُصحَف شریف کی موجودہ ترتیب میں اس کا شمار 111ویں نمبر پر آتا ہے اور یہ قرآن کے 30ویں پارے میں واقع ہے۔[4]

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ مسد، 5 آیات، 22 کلمات اور 81 حروف پر مشتمل ہے۔ آیتوں کی اختصار کے لحاظ مُفصَّلات (چھوٹی آیتوں کے حامل سورتیں) اور حجم کے اعتبار سے قرآن کی چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔[5]

مضامین

سورہ مسد مکمل طور پر ابولہب اور اس کی زوجہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس سورت میں ابولہب اور اس کے اعمال کی نابودی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس کی بیوی کو جہنم کی آگ کی بشارت دی گئی ہے۔[6] تفسیر نمونہ میں آیا ہے کہ یہ سورت واحد سورہ ہے جس میں دشمنان اسلام میں سے ایک کا نام لے کر ان کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سورت کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب اور اس کی زوجہ کو پیغمبر اکرمؐ سے سخت دشمنی تھی۔[7]

پیغمبر اکرم کی دعوت اور ابولہب کی گستاخی

سورہ مسد کی شأن نزول کے بارے میں بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں ان سب احادیث کے مضامین تقریبا ایک جیسے ہیں۔ ابن عباس سے نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ ایک دن کوہ صفا پر تشریف لے جاکر قریش کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں سخت عذاب سے ڈرایا۔ ابولہب بھی وہاں موجود تھا اس نے پیغمبر اکرمؐ کی شأن میں گستاخی کرتے ہوئے کہا: اسی لئے ہمیں یہاں بلا کر لائے ہو؟ اس کے بعد اس نے پیغمبر اکرمؐ کو دشنام دینا شروع کیا۔ سورہ مسد ابولہب کی ان ناسزا گوئی کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔[9]

حَمّالۃ الحَطَب

سورہ مسد ابولہب کی بیوی ام جمیل کو "حَمّالَۃ الحَطَب"(ایندھن اٹھانے والی) کے نام سے یاد کرتی ہے۔ قرآن کریم میں اس عورت کو اس نام سے کیوں یاد کیا گیا، اس حوالے سے مفسرین کے درمیان مختلف نظریات موجود ہیں من جملہ یہ کہ:

  • ام‌جمیل صحرا سے کانٹے اٹھا کر لاتیں اور جب بھی پیغمبر اکرمؐ نماز کیلئے مسجد تشریف لے جاتے تو وہ انہیں آپ کی راہ میں بچھاتی تھی تاکہ آپ کو اذیت پہنجائی جا سکے۔[10]
  • اس عورت نے اپنے کرتوت کے ذریعے اپنے لئے جہنم کی آگ بڑھکائی ہے؛[11]
  • یہ عباریت اس عورت کی سخن چینی کی طرف اشارہ اور کنایہ ہے۔[12]

فضیلت اور خواص

پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ جو شخص سورہ مسد کی تلاوت کرے گا خدا اسے ابولہب کے ساتھ ایک مقام پر محشور نہیں فرمائے گا۔[13] پیغمبر اکرمؐ کا یہ فرمان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ شخص اہل بہشت ہوگا۔[14]

متن اور ترجمہ

سوره مسد
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴿1﴾ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ﴿2﴾ سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ﴿3﴾ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ﴿4﴾ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ﴿5﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک و برباد ہوا۔ (1) اس کامال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کچھ کام نہ آیا۔ (2) وہ عنقریب شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔ (3) اور (اس کے ساتھ) اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔ (4) اور اس کی گردن میں مُونج کی بٹی ہوئی رسی ہے۔ (5)


پچھلی سورت: سورہ نصر سورہ مسد اگلی سورت:سورہ اخلاص

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. راغب اصفہانی، مفردات، ذیل واژہ مسد۔
  2. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۷۰۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۴۱۱و۴۱۲۔
  4. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۷۰۔
  5. دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۷۰۔
  6. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۹۷۴م، ج۲۰، ص۳۸۴۔
  7. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۴۱۲۔
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  9. واحدی نیشابوری، اسباب النزول، ۱۳۸۳ش، ج ۱، ص ۲۴۸۔
  10. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۸۵۲۔
  11. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۸۹ش، ج۲۸، ص۸۲۵۔
  12. شیخ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، ج۱۰، ص۴۲۸۔
  13. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۸۵۰۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ۴۱۲۔

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، بہ کوشش بہاءالدین خرمشاہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دار القلم، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ موسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، ۱۹۷۴م۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • فخرالدین رازی، ابوعبداللہ محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ق۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، قم، انتشارات صدرا، چاپ اول، ۱۳۸۹ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآنی، ترجمہ ابومحمد وکیلی، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • واحدی نیشابوری، اسباب النزول، ترجمہ علیرضا ذکاوتی قراگزلو، تہران، نشر نی ۱۳۸۳ش۔

بیرونی روابط