قاسم بن حسن

ویکی شیعہ سے
(قاسم ابن حسن سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
قاسم بن حسنؑ
آرامگاه شهدای کربلا2.jpg
گنج شہداء، حرم امام حسینؑ
نام قاسم بن حسنؑ
وجہ شہرت روز عاشورا کے شہداء میں شامل
جائے پیدائش مدینہ
شہادت 61ھ
وجہ شہادت واقعہ عاشورا
مدفن کربلا، حرم امام حسینؑ
سکونت مدینہ
والد امام حسن مجتبی علیہ السلام
مشہور اقارب امام حسنؑ
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


قاسم بن حسنؑ حضرت امام حسن علیہ السلام کے اس بیٹے کا نام ہے جو کربلا میں شہید ہوئے۔ آپ نے شب عاشور حضرت امام حسین ؑ سے موت کے متعلق سوال کے جواب میں موت کو شہد سے میٹھا قرار دیا۔ پاکستان میں عام طور پر سات محرم اور ایران میں عام طور پر چھ محرم کو حضرت قاسم بن حسن کی شہادت منائی جاتی ہے۔ قاسم بن حسن کی شادی کا واقعہ آپ کی زندگی کا ایک اہم موضوع سمجھا جاتا ہے۔ بعض محققین نے اس موضوع کے متعلق مستقل کتابیں تالیف کی ہیں۔

تعارف

آپ کا نام قاسم ہے۔[1] آپ کے والد ماجد حضرت امام حسن علیہ السلام اور ان کی والدہ ام ولد ذکر ہوئی ہے۔[2] اگرچہ سماوی نے کسی مستند کے بغیر والدہ کا نام رملہ ذکر کیا ہے۔[3]۔

آپ کا سن پیدائش کتب میں مذکور نہیں ہے۔ بیہقی نے شہادت کے وقت آپ کی عمر 16 سال ذکر کی ہے۔[4] جبکہ واقعہ کربلا کے قدیمی ترین راوی ابی مخنف نے آپ کے سن کے متعلق تو نہیں لکھا لیکن آپ کی شہادت کی روایت ذکر کرتے ہوئے لفظ غلام استعمال کیا ہے اور اہل عرب اس لفظ کو حقیقی معنی میں چھوٹے بچے کیلئے استعمال کرتے ہیں[5] نیز بعض نے کہا ہے کہ ایسا بچہ جس کی مونچھوں کے بال تازہ اگے ہوں اسے غلام کہتے ہیں۔[6]

قاسم کی شادی

مفصل مضمون: قاسم کی شادی

عشرۂ محرم الحرام میں پڑھے جانے والے واقعات میں سے ایک واقعہ حضرت قاسم بن حسن کی حضرت امام حسین کی بیٹی سے شادی کا ہے۔ اس واقعے کو عام طور پر مصائب خوان حضرات پڑھتے ہیں۔

شب عاشور

شب عاشور کے واقعات میں سے ایک اہم ترین واقعہ حضرت امام حسین ؑ کا اپنے اصحاب کے سامنے ایک خطبے کا دینا ہے جس میں آپ نے اپنے اہل بیت اور اصحاب کو وعظ و نصیحت کے علاوہ انہیں رخصت دی کہ وہ جہاں جانے چاہیں چلے جائیں۔ خصیبی نے اسی رات کا ایک واقعہ اور ذکر کیا ہے جس میں حضرت امام حسین ؑ کے حضرت قاسم بن حسن سے موت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں قاسم بن حسن نے موت کو شہد سے زیادہ میٹھا کہا۔[7]

شہادت

حمید ابن مسلم ازدی (مؤرخ کربلا) کا بیان ہے کہ میں نے ایک ایسے نوجوان کو میدان کارزار کی طرف آتے دیکھا کہ جس کا پیراہن اور لباس کچھ پھٹا ہوا ہے اور عربی نعلین پہنے ہوئے ہے کہ جس کا بایاں تسمہ ٹوٹا ہوا ہے۔

عمر بن سعید بن نفیل ازدی نے مجھے کہا: میں اس پر حملہ آور ہونگا۔ حمید نے کہا: سبحان اللہ ! تمہارا اس سے کیا ارادہ ہے؟ لشکر اس کیلئے کافی ہے۔ لیکن اس نے کہا خدا کی قسم میں اس پر حملہ کروں گا۔ پس اس نے حملہ کیا اور تلوار سے اس کے سر پر وار کیا جس سے اس کے سر میں شگاف پڑ گیا۔ لڑکا چہرے کے بل زمین پر گرا۔ تو اس نے آوازدی: اے میرے چچا ! حسین ایک باز کی مانند جو بڑی تیزی سے شکار کو دیکھ کر آسمان کی بلندیوں کو چھوڑ کر نیچے جھپٹتا ہے، اس کی طرف لپکے اور آپ نے ایک بپھرے ہوئے شیر کی مانند حملہ کیا۔ عمر نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنا بازو آگے کیا تو وہ کہنی سے جدا ہو گیا اور اس نے خود کو حسین سے دور ہٹایا۔ وہ بلند آواز میں چلایا تو لشکر نے اس کی آواز سنی اور اہل کوفہ اسے نجات دینے کیلئے آگے بڑھے تو وہ گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندا گیا اور مر گیا۔ اللہ اس پر لعنت کرے۔ جب گرد و غبار چھٹا تو میں (حمید بن مسلم) نے دیکھا کہ حسین اس کے سرہانے کھڑے کہہ رہے ہیں: خدا اس قوم پر لعنت کرے جس نے تمہیں قتل کیا قیامت کے روز تمہارے جد اس خونخواہی کا بدلہ لیں۔ تمہارے چچا کو اس بات پر افسوس ہے کہ تم نے اسے پکارا تو اس نے جواب نہ دیا یا جواب دیا لیکن وہ تمہارے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ یہ اس شخص کی آواز ہے جس کے خون کے خواہان زیادہ اور مدگار بہت کم ہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے قاسم بن حسن کا لاشہ سینے سے لگا کر اٹھایا۔ گویا میں (حمید بن مسلم) دیکھ رہا ہوں کہ اس جوان کے پاؤں زمین پر خط کھینچتے جا رہے ہیں۔ امام نے اس کے لاشے کو علی اکبر، اہل بیت اور دوسرے شہدا کے ساتھ لٹا دیا۔ میں ( حمید بن مسلم) نے اس لڑکے کے نام کے بارے میں سوال کیا تو مجھے بتایا گیا کہ قاسم بن حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. اربلی، کشف الغمہ ج 2 ص 198؛ شیخ مفید، الارشاد ج2 ص 20؛ علامہ حلی، المستجاد من الارشاد 151
  2. اربلی، کشف الغمہ ج 2 ص 198؛ شیخ مفید ،الارشاد ج2 ص 20 ؛علامہ حلی، المستجاد من الارشاد 151
  3. سماوی، ابصار الحسین ص72
  4. بیہقی، لباب الانساب،ج1 ص 401
  5. طریحی، مجمع البحرین، باب الغین
  6. قرشی، قاموس قرآن، ج‏5، ص: 119
  7. خصیبی،الہدایۃ الکبریٰ ص204
  8. معمولی سے اختلاف کے ساتھ: شیخ مفید، الارشاد ج 2 ص 107؛ طبرسی، اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ ج 1 ص 465؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ج 5 ص 447 و 448