عذاب قبر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
موت سے قیامت تک
احتضار (جان کنی)
قبض روح
سکرات موت
تشییع جنازہ
غسل اور نماز میت
کفن اور دفن میت
تلقین میت
قبر کی پہلی رات
نماز وحشت
عذاب قبر
زیارت قبور
برزخ
نفخہ صور
قیامت
مواقف قیامت
میزان
شفاعت
صراط
بہشت یا جہنم
مرتبط مفاہیم
معاد
عزرائیل
برزخی جسم
تجسم اعمال
خلود
برزخی حیات


عذاب قبر وہ سختیاں اور فشار ہیں جن سے انسان موت کے بعد اور عالم برزخ میں روبرو ہوتا ہے. فشارقبر کی کیفیت زیادہ حد تک ہم پر پوشیدہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ دفن کرنے کے بعد جو فشار دفن کئے گئے جسم پر آئے گا وہ فشار قبر ہے اور بعض کی نظر میں برزخی روح اور بدن پر آنے والا فشار ہے. قبر کے عذاب کی مختلف اقسام ہیں کہ ان میں سے ایک فشار قبر ہے. قرآن کی آیات اور اہل بیت(ع) کی روایات اس کے متعلق بعض حقائق پر روشنی ڈالی گئی ہے، امام صادق(ع) کی روایت کے مطابق کم افراد ہوں گے جنہیں عذاب قبر نہ ہو گا.

بعض اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ میت پر گریہ کرنا عذاب قبر کا باعث بنتا ہے.

عذاب قبر کیا ہے؟

فشار قبر کی کیفیت زیادہ حد تک ہمارے لئے پوشیدہ ہے اور جو افراد دنیا میں آنے کے بعد صرف مادی اور دنیاوی زندگی میں مشغول ہیں انکے لئے موت کے بعد والے حالات کو سمجھنا بہت دشوار ہے. اور جو کچھ قرآن اور روایات میں بیان ہوا ہے وہ مادی بشر کی سوچ کے مطابق ہے اور اس سے زیادہ انسان کو سمجھانا بہت دشوار ہے، جیسے کہ اگر کوئی بچپن سے ہی رنگوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اس کو جتنا بھی سمجھائیں جب تک وہ صلاحیت اس میں نہ آئے تو وہ رنگوں کی تشخیص نہیں دے سکتا وہ اس شخص کی مانند ہے جو نابینا ہے. ضروری یہ ہے کہ ہمیں پتہ ہو کہ کونسی چیز عذاب قبر یا فشار قبر کا سبب بنتی ہے اور کس چیز سے اس عذاب اور فشار سے نجات مل سکتی ہے.

آیات اور روایات میں قبر کے اندر زندگی کرنے کے بارے میں اشارہ کیا گیا ہے. علامہ مجلسی بحار الانوار کی چھٹی جلد اور ١٢٧ نمبرروایت میں اس موضوع کے بارے میں نقل کرتے ہیں. وہ مناجات جو اہل بیت(ع) سے نقل ہوئی ہیں اور کئی بار عذاب قبر کی شدت اورخوف سے خدا سے پناہ مانگی گئی ہے.[1]

عذاب قبر صرف زمین میں دفن کرنے والے میتوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ہر میت پر عذاب قبر ہو گا. امام صادق(ع) سے سوال کیا گیا: آیا جس شخص کو سولی پر لٹکایا گیا ہے اور دفن نہیں کیا گیا اسے بھی عذاب قبر ہو گا؟ امام(ع) نے فرمایا: وہ خدا جو زمین پر حکم کر سکتا ہے، وہ ہوا پر بھی حکم کر سکتا ہے، خداوند عزوجل ہوا کو حکم کرے گا اور ہوا اسے فشار دے گی جو فشار قبر سے بھی زیادہ شدید اور سخت ہو گا.[2]

قبر کی پہلی رات

عذاب قبر صرف قبر کی پہلی رات کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ ممکن ہے اںسان کی کچھ یا پوری زندگی عالم برزخ میں عذاب میں گزرے. اس عذاب کی مختلف اقسام ہیں روایات میں بعض اقسام جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہیں: آگ کی گرمی، فشار، اور حیوانوں کا کاٹنا، ڈر، اور شدید خوف وغیرہ.[3]

اکثر متکلمین اور اہل حدیث کے بقول قبر کے بعض امور جیسے سوال قبر اور فشار قبر خاکی بدن سے کئے جائیں گے اور اکثر فیلسوف کہتے ہیں کہ یہ برزخی بدن سے ہوں گے.

روایات میں اموات کے لئے جو قبر کی پہلی رات ذکر ہوئی ہے، وہ یہ دنیا کی رات نہیں، چونکہ عالم برزخ میں عالم دنیا کی طرح سورج اور دن رات کا آنا نہیں ہے. محدثین کے نظر کے مطابق، اگر میت کو صبح دن کیا جاتا ہے تو اسی وقت فرشتے اس کے پاس آ جاتے ہیں. عذاب قبر صور کی پہلی آواز سے ہی ختم ہو جائے گا.

عذاب قبر کی عمومیت

روایات کے مطابق فشار قبر صرف کافر اور مشرک کے لئے مخصوص نہیں بلکہ گناہوں پر منحصر ہے. اگر کوئی مومن دنیا میں گناہ کا مرتکب ہو گا اور دنیا کی سختیاں، بیماریاں، موت کی سختی اس کے گناہوں کے کفارے کے لئے کافی نہیں ہو گی تو وہ بھی ممکن ہے فشار قبر اور عذاب قبر میں مبتلا ہو. عذاب قبر انسان کے اعمال اور پر منحصر ہے. ابو بصیر کہتے ہیں: کہ میں نے امام صادق(ع) سے کہا: کہ آیا کوئی ایسا شخص ہو گا جو فشار قبر سے نجات پیدا کر سکے؟ فرمایا: فشار قبر سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں. بہت کم تعداد میں وہ افراد ہیں جو فشار قبر سے نجات پا سکیں گے.[4]

حتی کہ انبیاء(ع) اور آئمہ معصومین(ع) اگرچہ ان سے عذاب قبر دور ہے، لیکن پھر بھی وہ قبر کی سختیوں اور تنہائی سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور خود کو دوسروں کی محبت و انس سے بی نیاز نہیں سمجھتے. حضرت فاطمہ(س) نے اپنے وصیت نامے میں امام علی(ع) سے درخواست کی کہ آپکو دفن کرنے کے بعد اکیلا نہ چھوڑیں: فاکثر من تلاوۃ القرآن والدعاء فانھا ساعۃ یحتاج المیت فیھا الی انس الاحیاء.... جب مجھے دفن کر لینا تو میری قبر پر قرآن کی تلاوت کرنا اور دعا کرنا، کیونکہ اس وقت مردے زندہ لوگوں کی انس و محبت کے محتاج ہوتے ہیں.[5] امام خمینی اپنی کتاب چالیس حدیث میں لکھتے ہیں: اگرچہ انسان کسی معصیت کا شکار بھی نہ ہوا ہو، لیکن خود اس کا دنیا سے تعلق اور اس سے محبت اس کی گرفتاری کا باعث بنیں گے. بلکہ عالم برزخ اور قبر میں عذاب طولانی ہونے کی وجہ یہی تعلقات اور روابط ہیں جتنے دنیا سے تعلقات کم ہوں گے اتنا ہی انسان کا برزخ اور قبر روشن اور گشادہ ہو گی اور اسے اس میں تھوڑے وقت کے لئے رہنا پڑھے گا.[6]

فشار قبر کی وجہ

روایات میں بعض وہ چیزیں جو عذاب قبر کا باعث بنتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

اَللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِک مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ ضِیقِ الْقَبْرِ وَ مِنْ ضَغْطَةِ الْقبر
خدایا عذاب، تنگی اور فشار قبر سے پناہ مانگتے ہیں.

مکارم الأخلاق.
  • حق الناس: لوگوں کے مالی اور غیر مالی حقوق کو ضائع کرنا فشار اور عذاب قبر کا باعث بنتا ہے، من جملہ: چغل خوری، غیبت، لوگوں کے عیب نکالنا اور ان کے بارے میں برا بھلا کہنا، والدین کی عاق، مال حرام کا کھانا، سود خواری.[7]
  • مرد اپنی بیوی سے بغیر کسی وجہ سے دوری اختیار کرے حالانکہ بیوی کو اس کی ضرورت تھی. [8]
  • بداخلاقی: لوگوں، گھرکے افراد، دوست اور رفیق کے ساتھ بداخلاقی من جملہ ان چیزوں سے ہے جو عذاب قبر اور فشار قبر کا باعث بنتی ہے حتیٰ کہ اگر انسان مومن ہو، جیسا کہ سعد بن معاذ کی داستان مشہور ہے.
  • کھڑے ہو کر پیشاب کرنا کہ بعض اسے پاکی اور نجاست کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے کہتے ہیں.[9]
  • آئمہ معصومین(ع) کی ولایت کو نہ ماننا.[10]
  • مظلوم کی مدد نہ کرنا.[11]
  • نعمت الہیٰ کو ضائع کرنا.[12]

فشار قبر کو کم کرنے والے اسباب

  • بعض کام فشار قبر کے کم یا اس کے ختم ہونے کا باعث ہوتے ہیں جو درج ذیل ہیں:[13]
  • اہل بیت(ع) کی محبت
  • کچھ اعمال بجا لانا مثلاً نماز کا رکوع مکمل اور پورا ادا کرنا [14]
  • ہر جمعہ کے دن کو سورہ زخرف اور سورہ نساء کی تلاوت کرنا.[15]
  • نماز شب کا پڑھنا.[16]
  • سونے کے وقت سورہ تکاثر پڑھنا.[17]
  • دو تازہ لکڑی میت کے ہمراہ رکھنا.[18]
  • ماہ رجب میں چاردن روزے رکھنا اور ماہ شعبان میں بارہ دن روزہ رکھنا.[19]
  • چار بار حج پر جانا.
  • امام حسین(ع) کی زیارت.[20]
  • خاص اوقات میں موت واقع ہونا جیسے جمعرات یا جمعہ ظہر کے وقت.[21]
  • گھر کے افراد کا خیرات کرنا، جیسے صدقہ دینا، نماز پڑھنا اور اس کے علاوہ کوئی بھی نیک کام کہ جس کا ثواب اموات کو ہدیہ کیا جائے. اس صورت میں خداوند یہ ثواب دونوں کے لئے لکھ دے گا.[22]
  • سورہ یس کی قرائت.[23]
  • سونے کے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرنا.[24]
  • صدقہ دینا. [25]
  • نماز وحشت قبر جو قبر کی پہلی رات کو پڑھی جاتی ہے.
  • باقیات و صالحات کا ثواب اور کوئی اچھا کام جو اس نے اپنی زندگی میں شروع کیا ہو اور اس کے بعد دوسرے افراد اس کو جاری رکھیں.
  • اولاد کے نیک کاموں کا ثواب.
  • اہل قبور کی زیارت
  • واجب اور نافلہ نمازوں میں سورہ قلم کی قرائت کرنا.
  • میت کو دفن کرنے کے بعد اس کی قبر پر پانی ڈالنا.[26]
  • بعض مستحبی نمازیں.
  • پیغمبر(ص) اور آپ(ص) کی آل پر درود بھیجنا.
  • والدین کے ساتھ نیکی کرنا.
  • وضو
  • نماز
  • امربہ معروف
  • حسن خلق (اچھا اخلاق)
  • صلہ رحم
  • راہ خدا میں شہید ہونا
  • عورت کا بداخلاق اور فقیر شوہر کے ساتھ رہنا[27]
  • وہ عورت جو اپنا حق مہر شوہر کو ہدیہ کر دے.[28]

اموات کا عذاب رشتہ داروں کے رونے کی وجہ سے

بعض اہل سنت کے علماء نے مردے پر رونے کو حرام کہتے ہیں اور روایات کو پیغمبر(ص) سے نسبت دیتے ہیں کہ ان روایات کے مطابق اگر مردے پر گریہ کیا جائے تو وہ اس کے عذاب کا باعث بنتا ہے. عائشہ نے ان روایات کے نقل کرنے والوں کو بھلا دینے والے افراد سے قرار دیا ہے اور توضیح دی ہے کہ پیغمبر(ص) نے یوں فرمایا: مردے اپنے گناہوں کی وجہ سے عذاب قبر کا شکار ہوتے ہیں، حالانکہ ان کے گھر والے بھی اس وقت ان پر رو رہے ہوتے ہیں.

شیعہ علماء اور اہل سنت کے بعض علماء نے اس کی مخالفت کی ہے اور بعض روایات کو سند کے طور پر بیان کیا ہے کہ پیغمبر(ص) بعض افراد کے دنیا سے جانے کے بعد گریہ فرماتے تھے، مردوں کو زندہ لوگوں کے کاموں کی وجہ سے عذاب کرنا، خداوند کی عدالت سے سازگار نہیں ہے.


حوالہ جات

  1. افی چاپ اسلامیہ، ج۲، ص۵۲۶؛ دعای روز عرفہ امام صادق(ع)، زاد المعاد، ص۱۸۱
  2. من لا یحضره الفقیہ، ترجمہ غفاری، ج ۱، ص۲۷۹
  3. منازل الآخره، صص۱۳۷ تا ۱۴۹
  4. بحارالانوار، ج۶،ص۲۶۰
  5. بحارالانوار، ج۷۹، ص۲۷
  6. چہل حدیث،حدیث ششم / ۱۲۴
  7. [٧حارالانوار، ج ۵، ص۲۶۵ و ج ۶، ص۲۲۲ و ۲۴۰ و ۲۴۵ ؛ لئالی، ج ۵، ص۸۸ ؛ بحار، ج ۱۸، ص۳۲۴ ؛ محجہ البیضاء، ج ۵، ص۲۳۵
  8. امام علی(ع) فرمود: عذابِ القبر یکونُ مِنَ النَّمیمةِ و البولِ و عَزبِ الرّجلِ عَن أهلِهِ. بحارالانوار، ج۶، ص۲۲۲
  9. بحار، ج ۶، ص۲۴۵ و محجہ البیضاء، ج ۵، ص۲۳۵
  10. بحارالانوار،ج ۶، ص۲۶۲
  11. ثواب الاعمال، ص۱۱۱
  12. بحارالانوار، ج ۶، ص۲۲۱
  13. عالم پس از مرگ، ص۲۹۶
  14. بحارالانوار، ج۶، ص۲۴۴، ح ۷۱
  15. قمی، حاج شیخ عباس، سفینۃ البحار، ج ۲، ص۳۹۷
  16. سفینۃ البحار، ج ۲، ص۳۹۷
  17. نوری طبرسی، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، ج ۱. ص۳۴۰ باب ۱۱
  18. بحارالانوار، ج ۶، ص۲۱۵ روایت ۳ و ۴
  19. اقبال الاعمال، ص۶۵۱، به نقل از قمی، حاج شیخ عباس، منازل الآخرة، ص۳۰
  20. بحارالانوار ج۱۰۱ ص۱۸
  21. شیخ صدوق، من لایحضره الفقیہ،ج۱،ص۸۳
  22. منازل الآخره، شیخ عباس قمی، ص۵۰
  23. بحارالانوار، ج۹۲، ص۲۸۹
  24. بحارالانوار ج۸۶ ص۲۸۲
  25. بحارالانوار ج۸۹ص۳۳۶
  26. کافی، ج۳، ص۲۰۰
  27. مواعظ العددیہ، ص۷۵
  28. مواعظ العددیہ، ص۷۵


مآخذ

  • قرآن کریم
  • علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الانوار، دارالکتب اسلامیۃ، تہران، ۱۳۶۲ ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لایحضره الفقیہ، نشر صدوق، ۱۳۶۷ش
  • امام خمینی، سید روح الله موسوی، چہل حدیث، انتشارات مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، تہران
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، نشر رضی، قم، ۱۳۶۴ش
  • شیخ عباس قمی، سفینہ البحار و مدینہ الحکم و الاثار، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۳۷۸ش
  • حبیب الله طاہری، ۵۰ درس پیرامون عالم پس از مرگ، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۳۸۸ش
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، مؤسسہ آل البیت: لاحیاء التراث، طبعۃ الاولی، قم، ۱۴۰۷ ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، کافی،‌دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق
  • علی مشکینی اردبیلی، تحریر المواعظ العددیہ، انتشارات الہادی، قم، ۱۳۸۲ش