زنا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


زِنا مرد اور عورت کے درمیان نکاح پڑھے بغیر ہونے والے باہمی جنسی رابطے کا نام ہے۔ زنا گناہان کبیرہ اور اس کی حرمت اسلامی ضروریات میں سے شمار ہوتی ہے۔ زنا کی مختلف شرائط کے پیش نظر اس کی سزا بھی مختلف ہوتی ہے۔ غیر شادی شدہ شخص کے زنا کی سزا سو کوڑے اور زنائے محصنہ یعنی شادی شدہ شخص کی سزا سنگسار اور نسبی محارم سے زنا اور زبردستی کئے جانے والے زنا کی سزا قتل ہے۔

فقہاء کے فتوے کے مطابق زنا صرف گواہی اور زنا کرنے والے کی اقرار سے ثابت ہوتا ہے اور میڈیکل لیبارٹری رپورٹ سے زنا ثابت نہیں ہوتا ہے۔ زنا سے مختلف فقہی احکام لاگو ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ شادی شدہ خاتون سے زنا کرنے سے وہ عورت زنا کرنے والے پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے؛ یعنی کسی بھی صورت میں اس سے شادی ممکن نہیں ہے۔

مفہوم‌شناسی

فقہاء کی نظر میں زنا، مرد اور عورت کے درمیان جنسی اس رابطے کو کہا جاتا ہے جو نکاح یا اس مرد کی کنیزی کے بغیر واقع ہوجائے یا عقد نکاح یا مالک ہونے کا شبہہ کے ساتھ زنا نہ ہوا ہو۔[1] یہ رابطہ اس وقت زنا شمار ہوگا جب مرد کا آلہ تناسل سپاری کی مقدار میں عورت کی شرمگاہ یا دبر میں داخل ہوجائے۔[2]

زنا، گناہ کبیرہ

مسلمان علما نے زنا کو گناہ کبیرہ[3]اور اس کی حرمت کو ضروریات اسلام میں سے قرار دیا ہے۔[4] 13ویں صدی ہجری کے فقیہ، صاحب جواہر کا کہنا ہے کہ زنا حرام ہونے کے بارے میں تمام ادیان کا اتفاق ہے۔[5]انجیل میں زنا ترک کرنے کو حضرت موسیؑ کے دس احکام میں سے ایک قرار دیا ہے۔[6]اور بعض مواقع میں اس کی سزا سنگسار ہے۔[7] قرآن مجید میں زنا اور اس کے احکام کے بارے میں سات آیتیں ذکر ہوئی ہیں۔[8]احادیث کی کتابوں کا ایک حصہ بھی زنا سے مربوط روایات سے مختص کیا گیا ہے۔[9] احادیث میں زنا، پیغمبر کے قتل اور کعبہ ویران کرنے کے ساتھ ذکر ہوا ہے[10] اور اس کی دنیوی اور اخروی آثار ذکر ہوئے ہیں۔ زندگی میں برکت نہ ہونا،[11] ظاہری نور ختم ہونا، عمر کم ہونا، فقر[12] اور حادثاتی موت[13] زنا کی دنیوی آثار میں ذکر ہوئے ہیں جبکہ حساب میں سختی، الہی غضب، جہنم میں ہمیشہ رہنا اخروی آثار میں سے ذکر ہوئی ہیں۔[14]

سزائیں

فقہی کتابوں میں زنا کے لئے تین سزائیں؛ کوڑے، قتل اور سنگسار، ذکر ہوئی ہیں جن میں سے ہر سزا، زنا کی کسی خاص قسم میں دی جاتی ہے۔

  • کوڑے: زنا کرنے والے بالغ، عاقل، آزاد اور غیر محصن مرد یا عورت کی حدّ سو کوڑے ہیں۔[15] یہ حکم سورہ نور کی دوسری آیت میں ذکر ہوا ہے۔ اس آیت کے مطابق حد جاری کرتے وقت بعض مومنوں کو وہاں پر حاضر ہونا چاہئے۔[16]
  • قتل: نسبی محارم (جیسے ماں، بہن، اور بیٹی) سے زنا کرنے، زنا بالجبر (زبردستی زنا)،[17] غیر مسلم مرد کا مسلمان عورت سے زنا کرنے اور کوڑے لگنے کے بعد کئی بار پھر سے زنا کے مرتکب ہونے کی سزا قتل ہے۔[18]
  • سنگسار: زنائے محصنہ کی حد سنگسار ہے۔ آزاد محصن مرد یا محصنہ عورت اگر کسی بالغ اور عاقل سے زنا کرے تو اسے زنائے محصنہ کہا جاتا ہے۔[19]جس شخص کو سنگسار کا حکم سنایا گیا ہے اس کو چاہئے کہ غسل کرے۔ پھر مرد کو کمر تک اور عورت کو سینے تک دفن کرنے کے بعد ان پر سنگسار کیا جائے گا یہاں تک کہ مر جائے۔[20] آزاد بوڑھے مرد اور عورت اگر محصنہ ہوں تو ان کی سزا سنگسار سے پہلے 100 کوڑے بھی ہیں۔[21]

زنا اگر کسی مقدس مکان جیسے مسجد، مذہبی شخصیات کے مقبروں میں انجام پائے یا مقدس دن جیسے ماہ رمضان میں ہو تو سزا میں شدت آئے گی اور حد کے علاوہ تعزیر بھی ہوگا۔ نیز مردہ عورت کے ساتھ زنا کرنے کا حکم بھی یہی ہے۔[22]

زنا کی سزا اسلامی ممالک جیسے ایران، سعودی عرب اور پاکستان کے قوانین میں بھی ذکر ہوئی ہے۔[23]

زنا ثابت کرنے کے طریقے

فقہا کے فتوے کے مطابق زنا ثابت کرنے کے دو طریقے ہیں: زانی اقرار کرے یا زنا کی گواہی دی جائے لیکن میڈیکل رپورٹ سے زنا ثابت نہیں ہوتا ہے۔[24]

  • اقرار: اقرار کے ذریعے زنا ثابت ہونے کے لیے عام شرائط (بلوغ، عقل، اختیار اور آزادی) کے علاوہ زانی کا چار مرتبہ اقرار کرنا شرط ہے۔[25]
  • گواہی:‌ گواہی کے ذریعے زنا ثابت ہونے کے لیے چار مردوں کی گواہی شرط ہے۔ اگر چار مرد نہ ہوں تو مشہور قول کے مطابق تین مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے بھی زنا ثابت ہوتا ہے۔[26] دو مرد اور چار عورتوں کی گواہی سے صرف کوڑے ثابت ہوتے ہیں اور سنگسار ثابت نہیں ہوتا۔[27]زنا واقع ہونے پر گواہی سے حد ایسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ سب نے زنا ایک ہی مکان اور ایک ہی وقت میں واقع ہونے کی گواہی دی ہو۔ بصورت دیگر گواہوں پر قذف کی حد جاری ہوگی۔[28]

فقہی فتوے کے مطابق زنا پر شہادت نہ دینا مستحب ہے۔ اور یہ بھی مستحب ہے کہ قاضی اشارے کنائے میں گواہوں کو گواہی دینے سے انکار کی ترغیب دے۔[29]

زنا کے بعض فقہی احکام

زنا کے بعض فقہی احکام مندرجہ ذیل ہیں:

  • زنا کے ذریعے نسب تشکیل نہیں پاتا ہے۔ اسی لئے زنا کے ذریعے پیدا ہونے والا بچہ نہ مرد سے منسوب ہے اور نہ ہی عورت سے۔[30]
  • مشہور فقہاء کے مطابق، کسی عورت کی ماں یا بیٹی سے زنا کرنے سے وہ عورت اس پر حرام ہوتی ہے؛ اس شرط کے ساتھ کہ زنا شادی سے پہلے ہوا ہو۔[31]
  • شوہردار عورت اگر طلاق سے پہلے زنا کرے تو اکثر مراجع تقلید کے فتوے کے مطابق وہ عورت زانی مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگی۔ [32]لیکن بعض مراجع[33] کا کہنا ہے کہ وہ عورت زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوگی۔[34]
  • غیر شادی شدہ عورت اگر زنا کرے تو مشہور فقہا کے مطابق اس کے لئے عدت نہیں ہے؛ [35] لیکن شادی شدہ عورت اگر زنا سے حاملہ ہوجائے اور شوہر سے طلاق لے تو عدت ختم ہونے کے بعد شادی کرسکتی ہے؛ اگر چہ وضع حمل ابھی نہیں ہوا ہو۔[36]
  • اگر کسی مرد نے بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور ان کے درمیان لعان واقع ہوگیا تو وہ عورت اس مرد پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔[37]
  • اگر زانی حد جاری کرتے وقت بھاگ جائے اور اس کی سزا سنگسار ہو جو اقرار سے ثابت ہوئی ہو تو مشہور فقہا کا کہنا ہے کہ اس پر دوبارہ سزا نہیں ہوگی؛ لیکن اگر سزا کوڑے ہو یا سنگسار اور گواہی کے ذریعے ثابت ہوئی ہو تو اسے دوبارہ لایا جائے گا تاکہ سزا دی جاسکے۔[38]
  • کوڑے اور سنگسار کی سزا اس وقت دی جاسکتی ہے جب زنا کرتے ہوئے زانی کو اس کی حرمت کا پتہ ہو۔[39]
  • مندرجہ ذیل موارد میں زنا کی سزا ساقط ہوتی ہے: وطی بالشبہہ (یعنی زنا کرنے والا اپنی بیوی سمجھ کر زنا کرے)، شادی کا دعوی کرے، یا زنا کرنے پر مجبور ہو[40]یا حاکم کے پاس زنا ثابت ہونے سے پہلے زانی توبہ کرے۔[41]
  • زنا کی حد، حق اللہ ہے۔ اسی لئے کسی کا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور قاضی اپنے علم کے مطابق اسے جاری کرسکتا ہے۔[42]اسی طرح قاضی کی طرف سے گواہی کا مطالبہ کئے بغیر اگر کوئی شخص خود سے گواہی دے تو وہ بھی قبول ہوگی۔[43]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کریں: محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۳۶؛ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۶، ص۴۷۵.
  2. محقق حلی، شرایع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۳۶.
  3. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۲۵۸؛ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۶، ص۴۷۵.
  4. خمینی، تحریر الوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۴.
  5. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۲۵۸.
  6. کتاب مقدس،‌ سفر خروج، باب۲۰، آیہ ۱ تا ۱۸.
  7. کتاب مقدس، سفر تثنیہ، ۲۲: ۲۳-۲۴؛ کتاب مقدس، سفر لاویان، ۲۰: ۱۱-۱۲.
  8. سورہ نساء، آیات ۱۵ و ۱۶؛ سورہ اسراء، آیہ۳۲؛ سورہ نور، آیات ۲ و ۳؛ سورہ فرقان، آیہ ۶۸؛ سورہ ممتحنہ، آیہ ۱۲.
  9. ملاحظہ کریں: مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۱۷ کے بعد (باب الزنا).
  10. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۲۰.
  11. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۱۹.
  12. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۲۲.
  13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۲۳.
  14. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۶، ص۲۱.
  15. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۲۹.
  16. سورہ نور، آیہ۲.
  17. محقق حلی، شرائع الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۴۱.
  18. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۰۹ـ۳۱۳؛ خمینی، تحریر الوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۶۲ـ۴۶۳.
  19. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۱۸ـ۳۲۲.
  20. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۴۷ و ۳۵۸.
  21. شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ۱۴۱۰ق، ج۹، ص۸۵ـ۸۶؛ نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۱۸ـ۳۲۰
  22. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش ج۴۱، ص۳۷۳ـ۳۷۴ و ۶۴۴ـ۶۴۵؛ تحریرالوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۶۸
  23. حیدری، «زنا»، ص۶۰۰.
  24. انصاری، صراط‌النجاۃ، ج۱، ۱۴۱۵ق، ص۳۵۲.
  25. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸، ج۴، ص۱۳۸-۱۳۹؛ خمینی، تحریرالوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۵۹.
  26. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸، ج۴، ص۱۳۹.
  27. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸، ج۴، ص۱۳۹.
  28. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۱۵۴ـ۱۵۸ و ۲۹۶ـ۳۰۲؛ خمینی، تحریرالوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۶۱؛ خویی، تکملۃ منہاج الصالحین، ۱۴۰۷ق، ص۲۵.
  29. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۰۷.
  30. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۲۹، ص۲۵۶ـ۲۵۷ و ج۳۱، ص۲۳۶؛ خمینی تحریرالوسیلۃ، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۲۶۴ـ۲۶۵.
  31. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۲۹، ص۳۶۳ـ۳۶۸؛ طباطبایی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۵۴۹ـ۵۵۰.
  32. آیات عظام اراکی، خوئى، سیستانى، مکارم شیرازی:(بنابر احتیاط واجب)؛ امام خمینی، توضیح المسائل (محشّی)، مولف: بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسین، ج 2، ص 469 - 472؛ نجاة العباد (للإمام الخمینی)، ص 371، م 10؛ مکارم شیرازى، ناصر، توضیح المسائل، ص 396۔
  33. آیات عظام شبیری زنجانی، صانعی، فاضل لنکرانی و تبریزى؛ آیت الله تبریزی
  34. شبیرى زنجانى، سید موسى، توضیح المسائل، ص 517؛ فاضل لنکرانى، محمد، توضیح المسائل، ص 432
  35. بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ۱۴۰۵ق، ج۲۳، ص۵۰۴.
  36. شہید ثانی، مسالک‌الأفہام، ج۹، ص۲۶۲ـ۲۶۳؛ نجفی، جواہر‌الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۳۲، ۲۶۳ـ۲۶۴.
  37. نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۹ش، ج۳۰، ۲۴ـ۲۵.
  38. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۴۹ـ۳۵۱.
  39. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۳۶.
  40. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۴، ص۱۳۷-۱۳۸.
  41. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۲۹۳ و ۳۰۷ـ۳۰۸
  42. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۳۶۶.
  43. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۹ش، ج۴۱، ص۱۰۶.

مآخذ

  • انصاری، مرتضی، صراط النجاۃ، المؤتمر العالمی للذکری المئویۃ الثانیۃ لمیلاد الشیخ الانصاری، قم، ۱۴۱۵ھ۔
  • امام خمینی، سید روح اللّٰه، توضیح المسائل (محشّی)، مولف: بنی‌هاشمی خمینی، سید محمدحسین، دفتر انتشارات اسلامی، قم، چاپ ہشتم، 1424ھ۔
  • امام خمینى، سید روح اللّٰه، نجاة العباد، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینى قدس سرہ، تہران، اول، 1422 ه‍۔
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترۃ الطاہرۃ، تصحیح محمدتقی ایروانی و سید عبدالرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1409ھ۔
  • حیدری، عباسعلی، «زنا»، دانشنامہ جہان اسلام (ج۲۱)، تہران، ۱۳۹۵شمسی ہجری۔
  • خمینی، روح‌اللہ، تحریر الوسیلہ، دارالکتب العلمیہ، اسماعیلیان، ۱۴۰۸ھ۔
  • خویی، ابوالقاسم، تکملۃ منہاج الصالحین، نشر مدینۃ العلم، قم، ۱۴۱۰ھ۔
  • شبیرى زنجانى، سید موسى، توضیح المسائل، انتشارات سلسبیل، قم، اول، 1430ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، انتشارات داوری، قم، ۱۴۱۰ھ۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الافہام الی تنقیح شرایع الاسلام، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، ۱۴۱۳ ۱۴۱۷ھ۔
  • فاضل لنکرانى، محمد، توضیح المسائل، قم، صد و چهاردهم، 1426 ه‍ ق
  • یزدی، محمدکاظم، العروۃ الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعہ لجماعہ المدرسین، قم، ۱۴۱۷ ۱۴۲۰ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مکارم شیرازى، ناصر، توضیح المسائل، انتشارات مدرسہ امام على بن ابى طالب، قم، 1429 ه‍۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالکتب الاسلامیہ و المکتبہ الاسلامیہ، تہران، ۱۳۶۲ ۱۳۶۹شمسی ہجری۔

بیرونی روابط