ریا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

ریا کے معنی ظاہر سازی اور نیک عمل کو ظاہر کرنا ہیں، بغیر اس کے کہ وہ شخص واقعی طور پر اس عمل کے انجام دینے کی نیت رکھتا ہو. عبادت میں ریا کے معنی یہ ہیں کہ عبادت کو غیر خدا اور رونمائی کے لئے انجام دیا جائے. ریا ایک حرام عمل اور عمل کے باطل ہونے کا باعث بنتا ہے.

اِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ يُخَادِعُوْنَ اللّـٰهَ وَهُوَ خَادِعُهُـمْۚ وَاِذَا قَامُـوٓا اِلَى الصَّلَاةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ يُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّـٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا(ترجمہ: منافق اللہ کو فریب دیتے ہیں اور وہ ان کو فریب دے گا، اور جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سست بن کر کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔)[1]

لفظ کی شناخت

ریا کی اصل رای ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ شخص ایک کام کو لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کی خاطر انجام دے. [2] یہ لفظ ظاہر اور دوسروں کو دکھانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے. [3] اس کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ انسان ایک اچھے کام کو ظاہر اور دوسروں کو دکھانے کی نیت سے انجام دے، نہ کہ خدا کے لئے، ریا عبادی اعمال میں بھی جیسے نماز اور دوسرے غیر عبادی امور جیسے انفاق وغیرہ میں بھی محقق ہو سکتا ہے.

ریا کا حکم

عبادت کے صحیح ہونے کی شرط اخلاص ہے اور اس میں ریا حرام ہے، [4] اور ریا عمل کے باطل ہونے کا باعث بنتا ہے. [5]

  • قرآن میں

ریا کا لفظ قرآن میں ٥ مرتبہ آیا ہے، تین بار مصدر کی صورت میں اور دو بار فعلی صورت میں. اور ہر ٥ بار اصطلاحی صورت میں استعمال ہوا ہے.

  • ریا انفاق میں: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِر (ترجمہ: مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔[بقرہ٢٦٤])
  • جنگ میں دشمنوں سے ریا: وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّـذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ بَطَرًا وَّرِئَـآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ(ترجمہ: اور ان لوگوں جیسا نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے. [انفال.٤٧])

اللہ تعالیٰ نے اس ایت میں، جنگ کے میدان میں ریا کرنے کو قدرت کی آفات قرار دیا ہے.

  • ریا مطلق طور پر: اَلَّـذِيْنَ هُـمْ يُرَآءُوْنَ (ترجمہ: جو دکھلاوا کرتے ہیں۔[ماعون. ٦])

ریا کار کون ہیں

قرآن، نے ریا کار کے لئے مختلف مصادیق بیان کئے ہیں

  • جو خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے. [6] اس آیت کے بارے میں جو تفسیر بیان ہوئی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے، جو افراد صدقہ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ احسان جتاتے ہیں اور اذیت کرتے ہیں انکی تشبیہ ریا کار اور بے ایمان افراد سے کی ہے اور کہا ہے کہ انکے صدقے کا کوئی اجر نہیں ہے اور باطل ہے. [7] یعنی ریاکار شخص کا عمل شروع سے ہی باطل ہے کیونکہ ایسا شخص خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا اس لئے اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہے.
  • منافقین[8] قرآن کی آیات کے مطابق، نماز میں ریا کرنا نفاق کی نشانی، اور منافقین کی صفت ہے. [9]
  • آخرت کے دن کا انکار کرنے والے: [10]
  • شیطان کے ہمنشین [11]

عبادت میں ریا کے اقسام

قال الصادق علیہ السلام: رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ: عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے دل خبیث اور بد ہوں گے، اور ان کے ظاہر نیک ہوں گے، اور دنیا کے لالچ کی خاطر اپنے پروردگار کے نزدیک ہونا پسند نہیں کریں گے. ان کا دین دکھاوے کا ہو گا، اور ان کے اندر کوئی ڈر نہیں ہو گا، اور خداوند ان کو ایسی سخت مصیبتوں میں گرفتار کرے گا جو انکو ہر طرف سے گھیر لیں گی. پھر وہ خدا کو اس طرح پکاریں گے جیسے کوئی پانی میں غرق ہو رہا ہو تو پکارتا ہے، لیکن ان کی دعا مستجاب نہیں ہو گی. تحفۃ الاولیاء (اصول کافی کا ترجمہ) ج ٣، ص٧٠٩

عبادت کے ایک حصے میں ریا

ریا عبادت کے باطل ہونے کا باعث بنتا ہے اور فرق نہیں کہ ریا عبادت کے تمام اجزاء میں ہو، یا اس کے کسی ایک حصے میں. اسی طرح عبادت کے واجب اور مستحب ہونے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے. [12] البتہ بعض فقہاء کی نگاہ میں اگر عبادت مستحب اجزاء جیسے قنوت میں ریا ہو تو یہ عبادت کے باطل ہونے کا باعث نہیں بنتا. [13]

عبادت کے مقدمات میں ریا

اگر عبادات کے مقدمات میں ریا ہو لیکن خود عبادت میں نہ ہو، تو یہ عبادت کے باطل ہونے کا سبب نہیں بنتا. مثال کے طور پر اگر کوئی دکھاوے کے لئے مسجد جائے، لیکن جو نماز وہاں ادا کرے وہ اخلاص کی نیت سے ہو، تو اس کی نماز باطل نہیں ہو گی. [14]

عمل کی خصوصیت میں ریا

اگر کوئی شخص اصلی عبادت کو اخلاص کی نیت سے ادا کرے لیکن اس کی بعض خصوصیات کو بجا لاتے وقت خود نمائی اور ریا کرے، تو بعض کی نظر میں اس کی عبادت باطل ہے اور بعض کی نظر میں ایسی عبادت باطل نہیں ہے، مثال کے طور پر کوئی شخص اپنی نماز کو ریا کی خاطر جماعت کے ساتھ یا اول وقت ادا کرے. [15]

جن امور میں ریا قابل تصور ہے

درج ذیل امور میں ریا قابل تصور ہے:

  • ایمان میں ریا: یعنی ظاہرا شہادتین زبان پر جاری کرے لیکن دل میں اس کا انکار کرے، ریا کی اس قسم کو کفر یا نفاق کہا جاتا ہے۔
  • اصل دین کو قبول کرنے کے بعد عبادات میں ریا: جو شخص اصل دین کو تو قبول کرتا ہو اور لوگوں کے سامنے عبادات بھی انجام دیتا ہو لیکن جب خلوت میں ہو تو واجبات کو ترک کرتا ہے۔

آثار اور نتائج

آیات اور روایات کے مطابق ریا کاری کی بعض نشانیاں یوں ہیں:

  • انفاق کا باطل ہونا [17]
  • خدا کی محبت سے محروم ہونا. [18]
  • شیطان سے ہمدمی [19][20]
  • خفی شرک: امام صادق(ع) سے روایت ہے:

کُلُّ رئاءٍ شِرْکٌ إنَّه مَنْ عَمِلَ لِلنّاسِ کان ثَوابُهُ عَلَی النّاسِ و من عَمِلَ للهِ کان ثوابُهُ عَلَی اللهِ. (ترجمہ: ہر طرح کا ریا شرک ہے، جو کوئی لوگوں کی خاطر کام کرے گا اس کا صلہ بھی لوگوں کے ذمے ہے اور جو کوئی خدا کی خاطر کام کرے گا اس کا ثواب بھی خدا پر ہے۔) [21]

علاج

ریا دور کرنے کے بعض طریقے درج ذیل ہیں

  • عمل میں ریا کرتے وقت غضب الہیٰ کی طرف توجہ کریں.
  • خداوند متعال کے عطا کردہ انعام کے مقابلے میں لوگوں کے فضول انعام کی طرف توجہ نہ کرنا.
  • لوگوں کے جھوٹے وعدوں، ناشکری، قدر دانی کے مقابلے میں لوگوں کی ناتوانی، اور انکے بھول جانے کی طرف توجہ کرنا.
  • دلوں کی تسخیر پر خداوند کی قدرت کی طرف توجہ کرنا.
  • ریاکاری کرنا اور لوگوں کے سامنے رسوا ہونا اور اس کے مقابلے میں خداوند کی قدرت کی طرف توجہ کرنا.
  • اور اس کی طرف توجہ کرنا کہ ریا انسان کے اعمال اور اس کے اخروی انعام کو ختم کر دیتا ہے.
  • خود کو اس چیز کا عادی بنائے کہ اپنے اچھے اور نیک کاموں کو چھپ کر انجام دے. [22]

وہ اعمال جن میں دکھاوا جائز ہے

بہت سی جگہ پر کوئی کام دکھا کر انجام دینا، ریا حساب نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تاکید کی گئی ہے.

مثال کے طور پر یہ نیک و صالح اعمال دوسروں کو جذب کرنے کی خاطر ہوں، یا دین کی تبلیغ کی خاطر، یا شیطان کے وسوسے اور برے خیالات سے مقابلہ کرنے کی خاطرہوں. [23]

حوالہ جات

  1. سورہ نساء/14٢
  2. ابن فارس، ج۲، ص ۴۷۳.
  3. قاموس قرآن، ج ۳، ص ۳۰.
  4. التنقیح ج۵، ص۷-۸.
  5. جواهر الکلام ج۹، ص۱۸۷. العروة الوثقى‌ ج۱، ص۴۰۹.
  6. سوره بقره، آیه۲۶۴.
  7. تفسیر المیزان، ج۲، ص۵۹۷.
  8. سوره نساء، آیه۱۴۲.
  9. إِنَّ الْمُنَافِقِینَ یُخَادِعُونَ اللّهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ وَ إِذَا قَامُواْ إِلَى الصَّلاَةِ قَامُواْ کُسَالَى یُرَآؤُونَ النَّاسَ وَ لاَ یَذْکُرُونَ اللّهَ إِلاَّ قَلِیلاً (ترجمہ: منافقان می‌خواهند خدا را فریب دهند و هنگامی که به نماز بر‌می‌خیزند، با کسالت بر می‌خیزند، و در برابر مردم ریا می‌کنند و خدا را جز اندکی یاد نمی‌نمایند.)[ نساء–۱۴۲])
  10. الذینَ هُم یَرَاءُون (ترجمہ: ه‌مان کسانی که ریا می‌کنند.)[ ماعون–۶])
  11. وَ الَّذِینَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَـاء النَّاسِ وَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَ لاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَ مَن یَکُنِ الشَّیْطَانُ لَهُ قَرِینًا فَسَاء قِرِینًا (ترجمہ: و آن‌ها کسانی هستند که اموال خود را برای نشان دادن به مردم انفاق می‌کنند و ایمان به خدا و روز بازپسین ندارند (چرا که شیطان رفیق و هم نشین آنهاست) و کسی که شیطان قرین او باشد بد همنشین و قرینی است.)[ نساء–۳۸])
  12. جواهر الکلام ج۹، ص۱۸۷.
  13. العروة الوثقی‌ ج۲، ص۴۴۲-۴۴۳.
  14. العروة الوثقی‌ ج۲، ص۴۴۴-۴۴۵.
  15. جواهر الکلام ج۹، ص۱۸۸-۱۸۹. العروة الوثقی‌ ج۲، ص۴۴۳.
  16. حوزہ نت
  17. یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ لاَ تُبْطِلُواْ صَدَقَاتِکُم بِالْمَنِّ وَالأذَى کَالَّذِی یُنفِقُ مَالَهُ رِئَاء النَّاسِ(ترجمہ: ای کسانی که ایمان آورده‌اید بخششهای خود را با منّت و آزار باطل نسازید! همانند کسی که مال خود را برای نشان دادن به مردم انفاق می‌کند.)[ بقره–۲۶۴])
  18. إِنَّ اللّهَ لاَ یُحِبُّ مَن کَانَ مُخْتَالاً فَخُورًا... و َالَّذِینَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَـاء النَّاسِ (ترجمہ: خداوند کسی را که متکبر و فخر فروش است دوست نمی‌دارد... و آن‌ها کسانی هستند که اموال خود را برای نشان دادن به مردم انفاق می‌کنند.)[ نساء–۳۶-۳۸])
  19. المیزان، ج ۴، ص ۳۵۵.
  20. وَ الَّذِینَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَـاء النَّاسِ وَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَ لاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَ مَن یَکُنِ الشَّیْطَانُ لَهُ قَرِینًا فَسَاء قِرِینًا(ترجمہ: و آن‌ها کسانی هستند که اموال خود را برای نشان دادن به مردم انفاق می‌کنند و ایمان به خدا و روز باز پسین ندارند(چرا که شیطان، رفیق و همنشین آنهاست) و کسی که شیطان قرین او باشد، بد همنشین و قرینی است.)[ نساء–۳۸])
  21. تفسیر نمونه، ج ۱۳، ص ۴۰۷.
  22. سایت اسلام کوئست
  23. سایت اسلام کوئست