اقامت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اقامت کے جملے اور ان کا ترجمہ

اَللّهُ اَکبَرُ (۲ بار)
خدا توصیف کرنے سے بڑا ہے
اَشْهَدُ اَنْ لا اِلَهَ إِلاَّ اللّهُ(۲ بار)
گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّهِ(۲ بار)
گواہی دیتا ہوں حضرت محمدؐ خدا کے نبی ہیں
(اَشْهَدُ أَنَّ عَلِیاً وَلِی اللّهِ)[1]
(گواہی دیتا ہوں حضرت علیؑ اللہ کے ولی ہیں)
حَیَّ عَلَی الصَّلاةِ(۲ بار)
نماز کی طرف جلدی کرو
حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ(۲ بار)
فلاح اور نجات کی طرف جلدی کرو
حَیَّ عَلی خَیرِ الْعَمَلِ(۲ بار)
بہترین کام کی طرف جلدی کرو
قَد قامَت الصَّلَوةُ(۲ بار)
بتحتقیق نماز قائم ہو گئی
اَللّهُ اَکبَرُ(۲ بار)
خدا توصیف کرنے سے بڑا ہے
لا اِلَهَ إِلاَّ اللّهُ(۱ بار)

خدائے واحد کے سوالے کوئی معبود نہیں ہے
Error missing media source

اقامت، اذکار کا وہ مجموعہ ہے جسے اذان کے بعد نماز کی تیاری کے طور پر کہا جاتا ہے۔ اذان کی طرح اقامت میں بھی خدا کی وحدانیت اور حضرت محمدؐ کی نبوت و رسالت کی گواہی کے ساتھ ساتھ نماز کی طرف ترغیب دی جاتی ہے۔ اقامت، اذان کے فورا بعد کہی جاتی ہے۔ نماز سے پہلے اقامت کہنا واجب نہیں بلکہ مستحب موکدہ ہے۔

فصولِ اقامت

اقامت درج ذیل جملوں پر مشتمل ہوتی ہے :

  • اَللّهُ اَکبَرُ (۲ مرتبہ)
  • اَشْهَدُ اَنْ لا اِلَهَ إِلاَّ اللّهُ(۲ مرتبہ)
  • اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّهِ(۲ مرتبہ)
  • اَشْهَدُ أَنَّ عَلیًا وَلِیُ اللّهِ(۲ مرتبہ)[2]
  • حَیِّ عَلَی الصَّلاةِ(۲ مرتبہ)
  • حَیِّ عَلَی الْفَلاحِ(۲ مرتبہ)
  • حَیِّ عَلی خَیرِ الْعَمَلِ(۲ مرتبہ)
  • قَد قامَت الصَّلَوةُ(۲ مرتبہ)
  • اَللّهُ اَکبَرُ(2 مرتبہ)*
  • لا اِلَهَ إِلاَّ اللّهُ(1 مرتبہ)

شہادت ثالثہ

تفصیلی مضمون: شہادت ثالثہ

اہل تشیع کے یہاں قدیم ایام سے اشهد ان علیا ولی الله اذان اور اقامت دونوں میں کہا جاتا جاتا رہا ہے لیکن فقہی اور حدیثی مصادر میں اس کے جزو ہونے کی تصریح نہیں ہے[3]

اہل سنت

  • حنفیوں کے نزدیک اقامت کے تمام اذکار 2 مرتبہ کہے جاتے ہیں۔
  • مالکیوں کے نزدیک اقامت کے تمام اذکار ایک مرتبہ کہے جاتے ہیں۔
  • حنبلیوں اور شافعیوں کے نزدیک قول مشہور قد قامت الصلاة دو مرتبہ اور دیگر اذکار ایک ایک مرتبہ کہے جاتے ہیں۔ [4]

احکام

  • اکثر فقہاء کے مطابق نماز سے پہلے اقامت کہنا سنت مؤکد ہے لیکن بعض فقہاء اسے واجب سمجھتے ہیں۔[5]
  • جو شخص کسی مسجد میں نماز کے لئے جائے اور اس مسجد میں نماز جماعت کے لئے اذان و اقامہ دی گئی ہو تو اسے اپنی نماز کے لئے اذان و اقامہ کہنا چاہئے۔ البتہ اگر خود جماعت میں شامل نہیں ہونا چاہتا ہو اور فرادا پڑھنا چاہتا ہو تو وہ اپنی نماز کے لئے بھی اذان و اقامہ چھوڑ سکتا ہے۔[6]
  • اقامہ اذان کے بعد کہنا ضروری ہے۔[7]
  • اقامہ کا صحیح ہونا بھی اذان کی طرح ترتیب اور موالات نیز صحیح عربی میں پڑھنے کے ساتھ مشروط ہے۔[8] چنانچہ با وضو ہونا بھی اقامہ صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے۔[9]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. امام علیؑ کی ولایت کی گواہی اگرچہ ایمان کا جزء ہے لیکن اذان اور اقامت کا جزء نہیں ہے۔ رجوع کریں: شہید اول، موسوعۃ الشہید الاول: الجزء التاسع، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الامامیۃ(۱)، ص۸۳۔
  2. یہ اقامت کا جزو نہیں ہے ۔
  3. مثلا؛ رک: ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، ج ۱ ص۱۸۹۱۸۸، طوسی، النہایہ، ص۸۰
  4. رک: طوسی، ج۱، ص۹۱؛ ابن ہبیره، ج۱، ص۸۱
  5. یزدی، عروة الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۴۰۹-۴۱۰
  6. یزدی، عروۃ الوثقی،۱۴۱۹ق، ج۲، ص۴۱۷-۴۱۹
  7. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۴۲۵
  8. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۴۲۵
  9. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۴۲۶


منابع

  • طوسی، الخلاف، تہران، ۱۳۷۷ھ؛
  • ابن ہبیرہ، یحیی، الافصاح، حلب، ۱۳۶۶ق/۱۹۴۷ء؛
  • سبزواری، عبدالاعلی، مہذب الاحکام، قم، موسسہ المنار، ۱۴۱۳ھ۔
  • صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۳ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، النہایہ فی مجرد الفقہ و الفتاوی، بیروت، دار الکتب العربی، ۱۴۰۰ھ۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم،‌ انتشارات اسلامی، ۱۴۱۹ھ۔