داعش

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

داعش ’’تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق والشام‘‘ کا مختصر نام ہے۔ یہ ایک تکفیری تنظیم ہے کہ جس نے القاعدہ سے جنم لیا۔ علاقائی اور حکومتی فورسز کی مدد سے اس نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا اور دونوں ملکوں کی شمالی سرحدوں پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔ اس تنظیم نے سنگین نوعیت کے انسانی جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے شیعہ وسنی مخالفین کو وحشیانہ طریقوں سے قتل کیا۔ اس تنظیم نے ناقابل تلافی انسانی، مادی اور تہذیبی نقصان پہنچایا۔ یہ دیگر سلفی اور وہابی گروہوں کی مانند ہر اس شخص کو کافر اور گمراہ قرار دیتی ہے کہ جو ان کے پرچم تلے نہ ہو۔ ان کا گمان ہے کہ یہ تنظیم اسلامی خلافت کا اعادہ کرے گی اور اسی طرح شریعت نافذ کرے گی جیسے رسول اللہؐ کے دور میں نافذ تھی۔ یہ تنظیم بین الاقوامی تعاون اور مغربی میڈیا کی مکمل کوریج سے پرخوردار رہی ہے۔ اس کے قیام کیساتھ ہی اسے بڑے عالمی اخبارات، جرائد اور مجلات کی شہ سرخیوں میں جگہ دی جاتی تھی۔ مغربی میڈیا کی یہ کوشش تھی کہ وہ اس تنطیم کو اسلام کا نمائندہ بنا کر پیش کرے اور یہ تاثر عام کرے کہ اس کے جرائم اسلامی اور دینی حکومت کے مکمل عملی نفاذ کی شکل ہے۔

داعش کی جڑیں

سلفی جہادی تفکر کے ایک ماہر کا خیال ہے کہ تمام سلفی تنظیمات منجملہ داعش کی فکری بنیاد اخوان المسلمین سے ماخوذ بعض اصولوں، سید قطب کی تحریک کے انداز، ابن تیمتیہ اور سلفی مکتب کی سیاسی فکر اور وہابیت کی فقہی اور عقائدی میراث پر مشتمل ہے۔ [1] تاہم اگر داعش کے باقاعدہ عقیدے اور اس کے بارے میں صادر ہونے والی کتب جیسے "الدولة النبوية"، "إعلام الأنام بميلاد دولة الإسلام" اور "عقيدتنا ومنهجنا" کی طرف مراجعہ کیا جائے؛ اسی طرح ’’ تخريب القبور‘‘ اور ’’معنى لا إله إلاّ الله والديمقراطية‘‘ جیسے موضوعات پر مشتمل چھوٹے کتابچوں کو دیکھا جائے تو اس سلفی جہادی مفکر کے افکار مکمل طور پر داعش کے عقائد پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ [2]

تکفیر کا پس منظر

تفصیلی مضمون: تکفیر اہل قبلہ داعش ایک تکفیری تنظیم ہے کہ جس کے ماضی پر بحث کی ضرورت ہے۔ تکفیر کا لغت میں معنی تہمت ہے۔ اس کا اسلامی شریعت میں مفہوم یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر قرار دے۔ [3] بعض کے نزدیک تکفیر یہ ہے کہ کسی اہل قبلہ کی طرف کفر کی نسبت دی جائے۔ [4] تاریخ میں تکفیر کا مشہور ترین واقعہ امام علیؑ کے زمانہ خلافت میں خوارج کے ہاتھوں ظاہر ہوا۔ [5] کہ جب انہوں نے امام علیؑ کی تکفیر کر ڈالی۔ اسی طرح جب بنو امیہ نے حجر بن عدی اور ان کے اصحاب سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا تو ان پر کفر کی تہمت لگا دی اور پھر انہیں قتل کر ڈالا۔ [6] ابن تیمیہ نے تکفیر کی فکر کو پروان چڑھایا اور کہنے لگا: جس شخص نے نبیؐ یا صالحین میں سے کسی کی قبر کے پہلو میں دعا کی اور حاجت طلب کی تو وہ مشرک ہے۔ پس ضروری ہے کہ ایسا کرنے والے سے توبہ کا تقاضا کیا جائے اگر وہ انکار کر دے تو اسے قتل کر دیا جائے ۔ [7] محمود افغانی کے چچا میرویس نے علمائے سعودیہ سے اس وقت شیعوں کے قتل کا فتویٰ حاصل کیا کہ جب افغانیوں نے اصفہان پر حملہ کیا تھا۔ [8] میر محمد رضوی سنہ ۱۰۸۸ھ میں علمائے اہل سنت کی اشتعال انگیزی کے سبب شہید کر دئیے گئے اور اسی سال شیخ حر عاملی پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا کہ جب وہ مکہ میں تھے۔ آخرکار انہوں نے وہاں کی ایک معزز شخصیت کے پاس پناہ لی اور مخفیانہ طور پر یمن کی طرف ہجرت کر گئے۔ [9] وہابیوں کے ایک مفتی بن باز کا کہنا ہے کہ شیعہ اثنا عشریہ کافر ہیں کیونکہ اس کے بقول یہ لوگ امام علیؑ کی عبادت کرتے ہیں۔ [10]

فکری اور جہادی ارتباط

وہابیت

تفصیلی مضمون: وہابیت کئی صدیوں تک تکفیریوں کا کوئی خارجی وجود نہیں تھا یہاں تک کہ محمد بن عبد الوہاب ظاہر ہوا اور اس نے آل سعود کے تعاون سے ایک مرتبہ پھر تکفیری تفکر کو زندہ کر دیا۔ اس نے ملائکہ ، انبیاء اور اولیاء اللہ کی شفاعت کا عقیدہ رکھنے والے کا قتل جائز ہونے پر مبنی فتویٰ دیا۔ [11] اور یہ رائے دی کہ موجودہ زمانے کے مشرکین زمانہ نبیؐ کے مشرکین سے بدتر ہیں۔ [12] محمد بن عبد الوہاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ابن جبرین نے شیعوں پر زکوٰۃ کو حرام قرار دیا کیونکہ یہ لوگ اس کے نزدیک کافر ہیں۔ [13] ابن جبرین نے شیخ عبد الرحمن البراک کیساتھ مل کر شیعوں کے خلاف جنگ کو واجب قرار دیا کیونکہ یہ لوگ امام علیؑ کی وصایت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور امام حسینؑ پر ماتم کرتے ہیں۔ یہ دونوں مفتی وہابی ازم کی طرف مائل ہونے کے حوالے سے معروف ہیں۔ [14] اسی طرح داعش اپنے تصورات و خیالات کو جن بڑے مفکرین سے اخذ کرتی ہے، وہ یہ ہیں: ابن تیمیہ ، محمد بن عبد الوہاب ، سید قطب ، سید امام عبد القادر عبد العزیز، عبد اللہ عزّام، اسامہ بن لادن اور ابو مصعب زرقاوی۔ البتہ داعش کے آخری مفتی ابوہمام اثری او ابو منذر شنقیطی ہیں۔ [15]

القاعدہ

القاعدہ معاصر تکفیری تنظیموں میں سے ہے۔ اسے ۱۹۸۸ء میں پشاور شہر کے اندر تاسیس کیا گیا۔ یہ تنظیم ۱۹۹۵ء کے بعد بہت مشہور ہوئی۔ [16] عبد اللہ عزام، بن لادن اور ایمن الظواہری القاعدہ کے پہلے قائدین تھے۔ [17] القاعدہ کے نام کا اطلاق ان جہادی گروہوں پر کیا گیا کہ جنہوں نے افغانستان میں کمیونسٹوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ملک کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ القاعدہ کے عناصر میں وہ افراد شامل ہیں کہ جن کا ان سٹریٹیجک علاقوں پر قبضہ ہوا اور انہوں نے وہاں حکومت قائم کی۔ [18] یہ سب کچھ امریکہ کی مدد سے ہوا جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی کتاب (HARD CHOICES) میں یہ اعتراف موجود ہے کہ سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ نے ہی القاعدہ کو ایجاد کیا تھا اور 2013/7/5 کو یہ اتفاق کیا گیا کہ دولت اسلامیہ (داعش) کی حکومت کے قیام کا اعلان کیا جائے کہ جس کے بعد امریکہ اور یورپ اسے فوری طور پر تسلیم کر لیں گے۔ اس کا ہدف عرب ممالک اور مشرق وسطیٰ کو تقسیم کرنا تھا۔ [19] القاعدہ کی فکری بنیادوں میں سے ایک عام شہریوں کے قتل کا جواز تھا۔ 1998ء میں اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور کچھ دیگر افراد نے مل کر ایک فتویٰ جاری کیا اور اس پر دستخط کیے کہ جس کا مضمون یہ ہے: امریکیوں اور ان کے حلیف شہریوں اور فوجیوں کا قتل ہر مسلمان پر واجب عینی ہے کہ جب بھی انہیں کسی شہر میں اس کا موقع ملے۔ [20]

تاسیس کے مراحل

القاعدہ کا اطلاق داعش پر نہیں کیا جانا چاہئیے کیونکہ فکری اور تاریخی ارتباط کے سوا ان دونوں کے مابین کوئی تنظیمی تعلق نہیں ہے۔ داعش کبھی القاعدہ کے ماتحت تھی ہی نہیں کہ اس سے جدا ہوئی ہو۔ [21] عراق پر امریکی یلغار کے دوران صدام کے نیشنل گارڈز اور بعثی حکومت کے سیکیورٹی اداروں نے [22] امریکہ سے برسرپیکار مسلح گروہوں میں شامل ہو کر خفیہ کاروائیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا [23] دوسرا یہ کہ سلفی تکفیری جماعتوں نے اپنی ساری توجہ عراق پر مرکوز کر لی تھی اور یہ دونوں عامل داعش کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوئے۔ [24] ۲۰۰۳ء میں صدام کا نظام حکومت ساقط ہونے کے بعد عراقی فورسز کے متعدد اہلکار جماعت التوحید والجہاد کے زیر سایہ ابو مصعب الزرقاوی کی زیر قیادت رافدین کے علاقے میں مسلح کاروائیاں کرتے رہے۔ ان لوگوں نے 2004/10/17 سے اسامہ بن لادن کی بیعت کا اعلان کر دیا کہ جس کے بعد عبد اللہ رشید البغدادی کی قیادت میں 2006/01/15 کو مجلس شوریٰ المجاہدین تشکیل دی گئی۔ اس مجلس نے رافدین کے علاقے میں سرگرم القاعدہ کے علاوہ دیگر گروہوں جیسے جیش الطائفۃ المنصورۃ، سرایا انصار التوحید وغیرہ کو اپنے اندر ضم کر لیا۔ ان میں سے زیادہ تر تنظیمیں صرف نام کی حد تک تھیں جبکہ حقیقت میں ان کے پرچم تلے سابقہ بعثی حکومت کے سیکیورٹی اہلکار اور سپاہی ہی جمع تھے۔ مذکورہ مجلس مختلف تنظیموں کی اصل شکل و ہیئت برقرار رکھتے ہوئے ان کا متحدہ پلیٹ فارم تھا کہ جس سے فوجی اور سیاسی بیانات جاری ہوتے تھے۔ 7 جون 2006 میں ابومصعب زرقاوی کے قتل کے بعد 2006/06/12 کو حلف المطیبین کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا گیا اور اس میں مجلس شوری المجاھدین کو اس کی ذیلی جماعتوں سمیت ضم کر دیا گیا۔ پھر 2007/01/15 کو مجلس شوری المجاھدین اس کی ذیلی جماعتوں بشمول القاعدہ تحلیل کر کے ابو عمر بغدادی [25] کی قیادت میں دولۃ العراق الاسلامیۃ کا اعلان کر دیا گیا۔ زرقاوی کی ہلاکت کے بعد ابو عمر بغدادی اس کا جانشین بنا اور اس کے بعد القاعدہ کی قیادت ابراہیم عواد ابراہیم بدری سامری المعروف ابوبکر بغدادی [26] نے القاعدہ کی قیادت سنبھال لی۔ بغدادی نے یہ فیصلہ کیا کہ جبہۃ النصرۃ کے قائد جولانی سے شام کی قیادت اپنے ہاتھ لے کر عراق اور شام پر تسلط قائم کرے۔ یوں 2013 میں الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق والشام کی بنیاد پڑی۔[27] [28]

القاعدہ عراق میں

داعش اور القاعدہ کے مطابق ان کے مدمقابل دو دشمن ہیں۔ وہ انہیں عدو قریب اور عدو بعید سے تعبیر کرتے ہیں۔ عدو بعید مغربی ثقافت ہے جبکہ عدو قریب میں وہ حکومتیں اور اسلامی جماعتیں شامل ہیں کہ جو مختلف امور کی تشریح میں ان سے اختلاف کرتی ہیں یا ان سے اپنے راستے جدا کر لیتی ہیں۔ [29] القاعدہ نے ایک جغرافیائی مثلث کھینچ کر خطے میں طاقت کے سرچشموں پر تسلط حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے شام میں جولانی کی قیادت میں جبہۃ النصرۃ کو ایجاد کیا جبکہ لبنان میں ماجد الماجد کی قیادت میں گروہ عبد اللہ عزام کو تشکیل دیا اور عراق میں ابومصعب زرقاوی کی زیر قیادت ایک گروہ کھڑا کیا۔ [30] زرقاوی افغانستان میں عرب مجاہدین کی ٹریننگ پر مامور تھا۔ جب اس کی عسکری جماعت پر سنہ ۲۰۰۱ء میں میزائل حملہ ہوا تو وہ انصار الاسلام کے ایک قائد کے تعاون سے عراقی کردستان کی طرف فرار ہو گیا اور ملا کریکار کی سربراہی میں سرگرم عمل تحریک انصار اسلام کردستان کیساتھ اپنے روابط قائم کر لیے۔ ملا کریکار نے جہادی جماعتوں کی کاروائیوں پر نکتہ چینی کی تو اس پر خیانت کی تہمت لگا کر اسے جماعت انصار الاسلام کی سربراہی سے برطرف کر دیا گیا اور اس کی جگہ ابو مصعب زرقاوی کو مقرر کر دیا گیا۔ [31] زرقاوی نے دسمبر ۲۰۰۴ء [32] میں عراق میں رہتے ہوئے اسامہ بن لادن کی بیعت کر لی۔ [33] بعض جہادی گروہ زرقاوی کیساتھ ملحق ہو گئے اور اس نے رافدین کے علاقے میں تنظیم القاعدہ کی تاسیس کی۔ [34] زرقاوی شیعوں کے خلاف دہشت گردی کی بدترین کاروائیوں کرواتا اور سنی شیعہ کے مابین پھوٹ اور تفرقہ ڈالنے کیلئے بھرپور انداز سے سرگرم عمل رہتا۔ [35] امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی اور سابق عراقی صدر صدام کے زرقاوی کیساتھ تعلقات کا بہانہ بنا کر ۲۰۰۳ء میں عراق پر حملہ کیا۔ سابق امریکی وزیر خارجہ نے اس وقت زرقاوی کو القاعدہ اور عراقی حکومت کے درمیان رابطہ کار قرار دیا تھا۔ [36] تکفیری جماعتوں کے بارے میں ایک بین الاقوامی ادارے کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق عراق میں سنۃ ۲۰۰۳ء سے ۲۰۰۶ء تک ۱۵۰ جہادی گروہوں کی موجودگی کا سراغ ملتا ہے۔ [37]

عراق میں دولت اسلامیہ کی تشکیل

عراق میں دولت اسلامیہ کے اعلان کے بعد امارت المومنین کا منصب سنبھالنے کیلئے ۲۱ رمضان ۲۰۰۶ء میں مجلس قیادت کو تشکیل دیا گیا۔ اس میں حامد داؤد محمد خلیل الزاوی بھی تھا کہ جسے ابوعمر بغدادی کہا جاتا تھا۔ یہ شخص جیش طائفہ منصورہ کا امیر تھا اور بعثی حکومت کے دوران سیکیورٹی ایجنسی میں کام کرتا تھا۔ ابو عمر بغدادی سنہ ۱۹۸۵ء میں سلفی تفکر کا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ ابو مصعب زرقاوی کے بعد ابو عبد اللہ راشد بغدادی نامی شخص کو مجلس شوریٰ المجاہدین کا امیر منتخب کیا گیا اور پھر دولت اسلامیہ کا امیر بنا دیا گیا۔ [38]

امارت سے خلافت تک

القاعدہ کے ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ خلافت اسلامیہ کے احیا کیلئے نکلے ہیں۔ خلافت کا قیام ایک مشکل امر ہونے کی وجہ سے انہوں نے کئی امارتیں ایجاد کیں۔ ان کے نزدیک جغرافیائی حدود کی وسعت اور امارتوں کے ایک دوسرے سے الحاق کے بعد ان کی مطمع نظر خلافت اسلامیہ قائم ہو جائے گی۔ داعش کے ترجمان ابومحمد عدنانی نے سنہ ۲۰۱۴ء میں ابوبکر بغدادی کو خلیفہ المسلمین قرار دیا اور اپنے اعلامیے میں کہا: اللہ کا وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ [39] ابتدا میں داعش نے فلوجہ شہر پر قبضہ کیا۔ پھر عراقی فوج کو دھوکہ دے کر سامرا میں داخل ہو گئے۔ یہاں انہوں نے سنی اکثریت کے تین علاقوں نینوا، انبار اور صلاح الدین پر قبضہ کر لیا۔ پھر انہوں نے موصل کا رخ کیا اور بعثیوں اور مقامی فوجی قیادت کی ہم آہنگی سے کسی مزاحمت کے بغیر شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ بغدادی، عراقی فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر حجی بکر کی مدد سے شام کے شمالی علاقوں پر بھی مسلط ہو گیا۔ [40] بغدادی نے شام کو اپنی خلافت میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر ظواہری نے بغدادی سے مطالبہ کیا کہ عراق میں اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھے اور شام سے دستبردار ہو جائے۔ مگر بغدادی دیر الزور، رقہ اور شام کے شمال مشرق میں واقع تیل کے تمام کنووں پر قابض ہو چکا تھا۔ پس وہ خود کو القاعدہ کی مرکزی تنظیم سے بے نیاز تصور کرنے لگا چنانچہ کہا: میں نے اپنے آپ کو ایمن الظواہری کے حکم اور اللہ کے حکم کے درمیان پایا تو میں نے باری عزوجل کے حکم کو اختیار کیا ہے اور اسے پہلے پر مقدم کیا ہے۔ [41]

قیادت

ابومصعب زرقاوی

تفصیلی مضمون:ابو مصعب الزرقاوی احمد فاضل (فضیل) لقب ابو مصعب الزرقاوی، عراق میں القاعدہ کا بانی تھا۔ یہ شخص ۱۹۶۶ء میں اردن کے شہر زرقا میں پیدا ہوا۔ سترہ سال کی عمر میں اسے ثانوی اسکول سے نکال دیا گیا اور وہ آوارگی، منشیات اور شراب کا شکار ہو گیا۔ [42] بعض اوقات وہ خواتین پر بھی دست درازی کرتا تھا۔ [43] وہ عبد اللہ عزام کی افغانستان میں جہاد پر مبنی تقاریر سے متاثر ہو کر جہاد کی اصطلاح سے واقف ہوا۔ [44] گزشتہ صدی میں سن اسّی کی دہائی کے وسط اور درست ۱۹۸۷ء میں اسے جرمانے کی سزا سنائی گئی کہ جس کی وجہ منشیات کی برآمدگی اور ایک جوان پر چاقو سے حملہ آور ہونا تھا۔ [45] وہ سوویت فوجیوں سے لڑنے کیلئے ۱۹۸۹ء میں افغانستان روانہ ہو گیا لیکن جب وہ پہنچا اس وقت سوویت افواج افغانستان چھوڑ کر جا رہی تھیں۔ وہاں اس کی ملاقات اسامہ بن لادن سے ہوئی۔ [46] افغانستان میں وہ ایک قدامت پسند مجلے کے نمائندے کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ [47] زرقاوی ۱۹۹۳ء میں اردن واپس چلا گیا اور وہاں پر اسے ۱۹۹۶ء میں تنظیم بیعت الامام کی رکنیت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ زرقاوی نے سات سال اردن کے سلفی جہادی نظریے کے حامل شخص عصام برقاوی کیساتھ جیل میں گزارے کہ جب ان دونوں کو ۱۵ سال جیل کی سزا سنائی گئی۔ [48] تاہم زرقاوی کو شاہی عام معافی کے تحت سات سال بعد آزاد کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد زرقاوی نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا: ایک اہل سنت سلفی مسلمانوں کی دنیا اور ان کے مقابلے میں کفار کی دنیا کہ جس میں وہ تمام گروہ اور فرقے شامل ہوں گے کہ جو پہلی دنیا کے تفکر کی مخالفت کریں۔ [49] زرقاوی کی شخصیت چار اجزا کا مرکب ہے: ۱)بچپن کا ماحول کہ جس میں اس نے پرورش پائی ۲) والدہ سے متاثر ہونا ۳) جیل کی زندگی ۴) اس کا روحانی باپ ابو محمد مقدسی [50]

حجی بکر

اس کا نام سمیر عبد محمد خلیفاوی ہے۔ وہ زمانہ صدام میں بری فوج کی خفیہ ایجنسی میں افسر تھا۔ اسے ۲۰۰۶ء سے ۲۰۰۸ء تک بوکا اور ابوغریب کی جیلوں میں امریکہ کی زیر نگرانی رکھا گیا۔ رہائی کے بعد وہ تل رفعت میں رہائش پذیر ہو گیا کہ جو خلیجی ممالک سے پلٹنے والوں اور زیادہ تشدد کا سامنا کرنے والے لوگوں کی پناہ گاہ تھا۔ حجی بکر نے ۲۰۱۲ء کے اواخر میں شام کا سفر کیا۔ بعض دستاویزات کے مطابق یہ پہلا شخص ہے کہ جس نے شام کے شمالی علاقوں پر قبضے کیلئے ایک جامع پلان ترتیب دیا اور جاسوسی، قتل و غارت، سرچ آپریشن اور اغوا کے ذریعے اس منصوبے کو عملی کرنے کی نگرانی کرتا رہا۔ خبروں کے مطابق حجی بکر شامی فورسز کیساتھ مسلح لڑائی کے دوران نومبر ۲۰۱۴ء میں مارا گیا مگر اس سے پہلے اس نے شام کے وسیع علاقے پر داعش کے قبضے میں مدد فراہم کی کہ جس سے داعش کو بہت تقویت ملی۔ حجی بکر کی موت شامی مسلح فورسز کیساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران نومبر ۲۰۱۴ء میں اس وقت واقع ہوئی کہ جب تل رفعت شہر داعش اور دیگر اسلامی تنظیموں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں دو حصوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ [51] [52]

ابوبکر بغدادی

اس کا نام ابراہیم بن عواد بن ابراہیم بدری سامرائی ہے۔ یہ شخص سامرا شہر میں سنہ ۱۹۷۱ء میں پیدا ہوا۔ بغدادی خود کو بوبدری قبائل کی طرف نسبت دیتا ہے[53] اور چونکہ اہل سنت کے عقیدے کی رو سے خلیفہ مسلمین کا نسب قریش تک پہنچنا ضروری ہے، اس لیے بغدادی نے فوری طور پر ایک شجرہ نسب ایجاد کر کے اپنا نسب جعفر کذاب کے واسطے سے امام ہادیؑ سے ملا دیا۔ [54] [55] بغدادی نے سلفی تفکر کے حامل ایک گھرانے میں پرورش پائی۔ اس نے قانون کی تعلیم جامعہ اسلامیہ بغداد سے حاصل کی۔ [56] جامعہ بغداد سے گریجویٹ اور اس کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ سامرا شہر میں دینی علوم کے معلم کے طور پر فرائض انجام دئیے۔ [57] جامعہ احمد بن حنبل سامرا اس کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ [58] بغدادی نے سنہ ۲۰۰۴ء میں تکفیری جماعتوں میں شمولیت اختیار کی اور سنہ ۲۰۰۶ء میں شوری المجاھدین کی تاسیس کے بعد وہ اس شوریٰ کا رکن منتخب ہوا۔ دیالی اور سامرا میں مقیم اپنے قبائل میں وسیع شہرت اور اثر و رسوخ کے سبب اس نے ابو عمر بغدادی کیلئے بیعت لینے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی فوج نے ابوبکر بغدادی کو سنہ ۲۰۰۴ء کے اواخر میں مسلح گروہوں کیساتھ ملوث ہونے کے جرم میں گرفتار کیا۔ امریکیوں نے اسے عراقی صحرا میں واقع بوکا چھاؤنی کی جیل میں رکھا۔ اس نے ابوغریب کی جیل میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد بوکا کی جیل میں چار سال تک جیل کاٹی۔ [59] بغدادی کی متعدد کنیتیں ہیں کہ جن میں سے شیخ ابراہیم ہے اور اسی سے وہ جہادیوں کے مابین معروف ہے یا ابو دعا اور ڈاکٹر ابراہیم و عود ابراہیم اور شیخ مخفی(اس کی یہ عادت رہی کہ اپنے عہدیداروں کے مابین خطاب کے وقت وہ چہرے پر نقاب اوڑھے رکھتا تھا) [60] داعشی میڈیا اس بات پر زور دیتا تھا کہ ابوبکر حسینی قریشی بغدادی کہہ کر پورا نام ذکر کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ حدیث ہے کہ خلفا بارہ ہیں اور سب کے سب قریش سے ہیں۔ [61]

عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کی تشکیل

ابوبکر بغدادی شام میں تھا۔ وہ سنہ ۲۰۰۶ء کے شروع میں عراق لوٹ آیا کہ جہاں اسے امریکیوں نے مختصر مدت کیلئے گرفتار کر لیا۔ اپنی رہائی سے قبل اور رہائی کے بعد اس نے تنظیم دولت اسلامیہ کی بیعت کر لی۔ اس کی رہائی کے کچھ عرصے کے بعد امریکیوں نے عراق کی بوکا جیل سے سابقہ عراقی فوج کے دو بڑے فوجیوں کو رہا کیا کہ جنہوں نے دولت اسلامیہ عراق کے مستقبل کیلئے مرکزی اور بنیادی کردار ادا کیا اور ان دونوں نے بغدادی کو اس کا امیر بنوایا چونکہ وہ پہلے ایک عام اور غیر معروف شخص تھا۔ یہ دونوں فوجی یہ ہیں: بریگیڈئیر محمد الندی الجبوری المعروف راعی اور بریگیڈئیر سمیر عبد محمد حجی بکر کہ جو حزب بعث کی اعلیٰ شوریٰ کا بھی رکن تھا۔ مؤخر الذکر شخص نے عراق میں دولت اسلامیہ کے اہداف کی تعیین میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ سنہ ۲۰۱۱ء میں دولت اسلامیہ شام میں داخل ہو گئی۔ [62] ابومصعب الزرقاوی نے جب یہ محسوس کیا کہ الجھاد العراقیۃ کے رہنما فنڈز اور سیکیورٹی کے اعتبار سے اس کا محاصرہ کر رہے ہیں تو اس نے تنظیم القاعدہ کی بیعت کر لی اور اس طرح التوحید اور الجہاد کی صفوں میں القاعدہ کے تحت کام کرنے والے سینکڑوں جنگجوؤں کو شامل کر لیا۔ زرقاوی کی موت کے بعد الجھاد العراقیۃ کے رہنماؤں نے فوری طور پر عراق میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جماعت التوحید اور الجھاد کا مقابلہ کرنے کی بجائے انہیں ضم کیا جا سکے اور یہ سب امریکی حکمت عملی (کہ آگ کا سامنا کرنے کی بجائے اس کا رخ موڑ دیا جائے) کے تحت کیا گیا۔ اس دوران امریکیوں نے بیداری کی تحریکیں ایجاد کیں (کہ جن کی اکثریت کا تعلق انبار کے قبائل سے تھا اور یہی لوگ صدام حسین کے نیشنل گارڈز کی تشکیل میں پیش پیش ہوتے تھے اور اس کے نظام حکومت کی افرادی قوت شمار ہوتے تھے۔ [63]) اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ عراق میں دولت اسلامیہ کو مخفی رکھا جائے اور امریکی انخلا کی راہ ہموار کی جا سکے۔ [64] سنہ ۲۰۱۰/۴/۱۹ میں دولت اسلامیہ کے ابو عمر بغدادی اور وزیر جنگ ابو حمزہ مہاجر امریکہ کے فضائی حملوں میں مارے گئے۔ اس کے بعد ابوبکر بغدادی کو دولت اسلامیہ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا۔ سنہ ۲۰۱۱ء میں اسامہ بن لادن مارا گیا اور ابوبکر بغدادی نے ایک خط ارسال کر کے ایمن الظواھری [65] کی مدد کا اعلان کیا مگر اس نے اس کی بیعت نہیں کی اور عراق میں دولت اسلامیہ کی مستقل حیثیت کا اعلان کر دیا۔ [66] دوسری طرف ابو قتادہ فلسطینی نے ابوبکر بغدادی کی جانب سے ایمن الظواہری کی بیعت کرنے کی تصریح کی اور بغدادی اور اس کی جماعت کی جانب سے بیعت نہ کرنے کے گمان کو سفید جھوٹ اور بغدادی کو خطاکار قرار دیا کیونکہ اس نے القاعدہ کے امیر کی بیعت کو توڑا تھا۔ [67]

خلافت کی حدود

دولت اسلامیہ کی حدود عراق اور شام میں محدود نہیں ہیں بلکہ شام سے مقصود شام، اردن، لبنان، مقبوضہ فلسطین، مراکش کا کچھ حصہ، عراق اور صحرائے سینا ہیں۔ [68] داعش نے یہ نام اموی عہد میں سلطنت کی حدود کو دیکھتے ہوئے اختیار کیا ہے۔ [69] تاہم حقیقت میں خلافتِ داعش کی حدود اور اس تنظیم کا ترسیم کردہ سیاسی نقشہ مغربی چین کے علاقوں سے اندلس تک ہے۔ مزید برآں داعش کا ڈھانچہ عالمی نوعیت کا ہے۔ [70] انڈونیشیا سے مراکش تک سے تعلق رکھنے والی سلفی جماعتوں نے اس کی بیعت کی۔ [71]

تنظیمی ڈھانچہ

داعش کے تنظیمی ڈھانچے میں ایک قائد اور ایک عسکری قیادت کی شوریٰ ہے۔ عسکری قیادت کی شوریٰ کے بنیادی ارکان صرف عراقی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوبکر بغدادی غیر عراقیوں کو اس مجلس کی رکنیت کی اجازت نہیں دیتا۔ اس مجلس کے ارکان کی تعداد ۸ سے ۱۳ افراد پر مشتمل ہے۔اس مجلس کی قیادت تحلیل شدہ عراقی فوج کے سابق برگیڈئیر حجی بکر کے پاس تھی۔ [72] کسی ثانوی حیثیت یا اس سے نچلے درجے کے سپاہی کو بغدادی سے ملاقات کا حق نہیں تھا بلکہ وہ امرا کے احکامات کو صرف مجلس کے ارکان سے موصول کرنے پر اکتفا کرتے تھے۔ [73]

توسیع کے اسباب

بین الاقوامی اور علاقائی امداد

داعش کی ترقی اور جغرافیائی حدود میں توسیع بہت سے عوامل کی مرہون منت ہے؛ جن میں سے کچھ یہ ہیں: داعش کیلئے بین الاقوامی اور علاقائی امداد [74] عراق کی تشویشناک داخلی صورتحال عراق میں گروہ بندیاں کمزور فوج حکومت کا بعض علاقوں پر عدم کنٹرول [75] علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی جانب سے اس تنظیم کی امداد جیسے سعودیہ اور قطر کی مالی امداد [76] اسی طرح صیہونی حکومت کے سامنے اسلامی حکومتوں کو کمزور کرنے کی خواہش میں امریکی امداد [77] مگر داعش اور اس کے تکفیری حلیف بڑی طاقتوں کے اسٹریٹیجک حلیف نہیں تھے بلکہ یہ طاقتیں داعش کو اس وقت تک سہارا دیتی رہیں گی کہ جب تک داعش ان کے سیاسی مفادات کا تحفظ کرتی رہے گی۔[78]

دہشت گردی

داعش نے پرانے اور اثر و رسوخ کے حامل تکفیری قائدین کا قتل عام کیا تاکہ ان کے پیروکاروں کو توڑ کر انہیں کلی یا جزوی طور پر بغدادی اور اس کی جماعت کی بیعت کے تحت لایا جا سکے۔ اس سلسلے کی اہم ترین کاروائی حرکت احرار الشام کے سربراہ محمد بھایا المعروف ابوخالد السوری کا قتل تھا کہ جو ۲۴ فروری ۲۰۱۴ء کو کیا گیا۔ ابوخالد کو ظواہری کی جانب سے بغدادی اور جولانی کے مابین اختلاف ختم کروانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ [79] اسی طرح وہ اخوان المسلمین کی ذیلی تنظیم لواء التوحید کے قائد اور جبھۃ النصرۃ کے ایک بانی عبد القادر الصالح کا ٹھکانہ تلاش کرنے پر بھی مامور تھا۔ [80] قابل ذکر ہے کہ شمالی ادلب کے نواحی علاقے میں واقع حرکت احرار الشام کے ایک مرکز کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر چالیس سے زیادہ قائدین کے قتل کا شبہہ بھی اسی شخص پر تھا۔ [81]

مالی وسائل

اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے داعش کی مالی امداد کی بندش پر مبنی قرارداد منظور کی اس کے باوجود داعش کو درج ذیل مالی وسائل سے آمدنی ہوتی رہی: 1. سلفی جہادی تفکر رکھنے والے امرا [82] کے عطیات جیسے شام میں ابو محمد العدنانی۔ اسی طرح دنیا بھر کے مختلف ممالک میں داعش کیلئے فنڈز اکٹھے کیے گئے جیسے اردن میں ابو محمد المقدسی نے القاعدہ کیلئے زکات اکٹھی کی تھی۔ [83] 2. داعش نے شام اور عراق کے شمال میں واقع پٹرول سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کیا اور پٹرول نکال کر بلیک مارکیٹ میں سستے داموں فروخت کر کے بڑی مقدار میں دولت اکٹھی کی۔ دیگر مالی وسائل میں سے پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور شام کے شمال میں واقع بجلی گھروں کی بجلی فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔ 3. بینکوں میں لوٹ مار جیسا کہ صرف موصل کے سنٹرل بینک سے نے ۴۲۰ ملین ڈالر لوٹا گیا۔ [84] 4. وسیع زرعی زمینوں پر ٹیکس کا نفاذ اور سرکاری اداروں کی زرعی املاک اور حکومتی موقوفات پر قبضہ۔ [85] 5. خلیج فارس کے ممالک کی مالی امداد کہ جن میں سرفہرست سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات تھے۔ [86] 6. اغوا برائے تاوان کی وارداتیں۔ [87] 7. داعش کے نزدیک تاریخی آثار کا وجود شرک ہے۔ داعش نے بعض تاریخی آثار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا مگر تاریخی آثار کو اڑا لے جانے والے مافیا نے داعش سے تعلقات قائم کر کے ان آثار کو خریدا اور انہیں یورپ اور ایشیا کے ممالک میں مہنگے داموں فروخت کیا۔ [88] [89] 8. یورپی ممالک، اقوام متحدہ، عرب ممالک (سعودی عرب و قطر) اور ترکی کی جانب سے شامی حکومت کی مخالفت میں داعش کی امداد تاکہ دفاعی لائن کو توڑا جا سکے۔ ان ممالک کی تعداد چالیس ہے۔ تاہم جب داعش ان ممالک کے مفادات کیلئے خطرہ بنی تو انہوں نے یہ امداد بند کر دی۔ [90]

جرائم

داعش نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں شیعہ و سنی کے علاوہ عیسائیوں اور ایزدیوں کے خلاف بھی سنگین جرائم کا ارتکاب کیا اور انتہائی بھیانک طریقوں سے لوگوں کو قتل کیا اور مشکوک الزامات کی پاداش میں قصاص کے نام پر ہاتھ اور انگلیاں کاٹنے کا عمل انجام دیا۔ داعش نے جن انسانی جرائم کا ارتکاب کیا ان میں سے درج ذیل قابل ذکر ہیں: لوگوں کو زندہ جلانا۔ [91] انسانی اعضا کی خرید وفروخت، گروہی قتل عام، کیمیائی اسلحے کا استعمال۔ [92] لوگوں کے اموال کی لوٹ مار اور چوری، مقامات مقدسہ کا انہدام جیسے گرجا گھروں کو منہدم کرنا، نبش قبر کر کے جسد نکالنا اور اس کے علاوہ قدیم تہذیبی آثار کو شرک کے مظاہر قرار دے کر تباہ و برباد کرنا۔ بچوں کو اغوا کر کے انہیں دہشت گردی کی کاروائیوں، قتل و غارت اور جاسوسی کی ٹریننگ دینا اور ان کا خون زخمی جنگجوؤں کو لگانا۔ اسی طرح عورتوں کو اغوا کر کے انہیں مشرق وسطیٰ میں ’’جنسی خدمات‘‘ کے بازار میں خرید و فروخت کیلئے پیش کیا جاتا تھا۔ [93] جہاد نکاح کا عمل حتی محارم کیساتھ دہرایا جاتا۔ [94] اسی طرح وہ اپنے جنگجوؤں کیساتھ بھی انتہائی بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔ جیسے میدان جنگ میں غلطی کا ارتکاب کرنے والوں کے ہاتھ کاٹ دئیے جاتے ہیں یا انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ [95] داعش لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کی غرض سے نت نئے طریقوں سے لوگوں کو قتل کرتی ہے۔ یہ انتہائی بھیانک طریقوں سے لوگوں کی جان لیتی ہے اور بزعم خویش قصاص نافذ کرتی ہے۔ جیسے ہم جنس بازی کے الزام میں سب سے اونچی عمارت سے دھکا دینا۔ [96] جادو کے الزام میں تلوار سے عورتوں کے سر تن سے جدا کرنا۔ [97] اور کیمیائی ہتھیاروں سے تقریبا ۳۰۰ عراقی فوجیوں کا قتل عام۔ [98]

اجتماعی قتل عام

اجتماعی قتل عام کا اہم ترین واقعہ داعش کی جانب سے فضائی بیس پر حملہ کر کے ۱۷۰۰ عراقی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے۔ یہ واقعہ ’’سپائکر قتل عام‘‘ کے عنوان سے معروف ہے۔ یہ سارے فوجی جنوبی عراق سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں فوج اور تشیع کی طرف مائل ہونے کے الزام میں قتل کیا گیا۔ [99] اسی طرح بونمر قبیلے کے ۵۰۰ افراد کو بھی مار دیا گیا کہ جنہوں نے داعش کا مقابلہ کیا تھا۔ [100]

حوالہ جات

  1. دعوة المقاومة الإسلامية العالمية ص 694.
  2. راجع المواقع الإلكترونية لمناصرة داعش كموقع شموخ الإسلام
  3. نجفي، ج 5 ص 421.
  4. الموسوعة الفقهية، ج 13، ص 227 مصطلح التكفير، طبعة الكويت.
  5. علي زاده موسوي، ج 1 ص 94.
  6. تاريخ الطبري، ج 4، ص 54.
  7. زيارة القبور والاستنجاد بالمقبور، ص156 والهدية السنية، ص 40.
  8. جعفريان، ص 441.
  9. جعفريان، ص 441.
  10. http://www.binbaz.org.sa/fatawa/4162
  11. كشف الشبهات، ص 58؛ مجموع مؤلّفات الشيخ محمد بن عبد الوهّاب، ج 6، رسالة كشف الشبهات، ص 115.
  12. مجموع مؤلّفات محمد بن عبد الوهّاب، ج 6، رسالة كشف الشبهات، ص 124.
  13. اللؤلوء المكين من فتواى فضيلة الشيخ ابن جبرين، ص 39
  14. موقع المنجد الإلكتروني، السؤال رقم 10272، وموقع edaa.net
  15. داعش دراسة نقدية ص 15.
  16. نباتيان، ص 230.
  17. نباتيان، ص53
  18. نباتيان، ص 53.
  19. http://newspaper.annahar.com/article/158367-%D9%85%D8%A7-%D9%87%D9%88-%D8%B3%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AC%D8%AA%D9%8A%D8%A7%D8%AD-%D8%A7%D9%84%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%AC%D8%A6-%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%AF%D8%A9-%D8%B9%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84-%D9%87%D9%8A%D9%84%D8%A7%D8%B1%D9%8A-%D9%83%D9%84%D9%8A%D9%86%D8%AA%D9%88%D9%86-%D9%86%D8%AD%D9%86-%D9%85%D9%86-%D8%A3%D8%B3%D8%B3-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4
  20. صحيفة القدس العربي، عدد 2732، بتاريخ 1998/2/23م
  21. خفايا وأسرار داعش ص 91.
  22. https://ar.qantara.de/content/%D9%83%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%B7%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%A1-%D8%AD%D9%88%D9%84-%D9%86%D8%B4%D8%A3%D8%A9-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D9%85%D9%86-%D9%83%D8%AA%D8%A7%D8%A6%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%B9%D8%AB-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%8A%D8%A9-%D8%A5%D9%84%D9%89-%D8%AA%D9%86%D8%B8%D9%8A%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%A5%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%D9%8A%D8%A9
  23. خفايا وأسرار داعش ص81
  24. نباتيان، ص 87.
  25. خفايا وأسرار داعش ص 81-82.
  26. نباتيان، ص88
  27. نباتيان، ص 53.
  28. نباتيان، ص 88.
  29. نباتيان، ص 72
  30. نباتيان، ص 53.
  31. الزرقاوي الوجه الآخر للقاعدة ص 106.
  32. كلمات مضيئة، شبكة البراق، ج5 ص58 (الملف الصوتي لهذا الموضوع تحت عنوان (رسالة من جندي لأميره -إلى الشيخ أسامة بن لادن)، متاح على شبكة اليوتيوب وكذلك على موقع منبر التوحيد والجهاد
  33. دولة الخلافة الإسلامية ص372
  34. داعش رسالة نقدية ص 24.
  35. داعش دراسة نقدية ص 23.
  36. الزرقاوي الوجه الآخر للقاعدة ص 135.
  37. Search For International Terrorist Entities:اسم المؤسسة للبحث في موضوع الإرهاب العالمي.
  38. تغريدات على تويتر نشرها الجولاني باسم مستعار تحت عنوان: أسرار دولة البغدادي
  39. فيروز آبادي، ص 57.
  40. http://www.aljazeera.net/news/arabic/2015/4/20/%D8%AF%D9%8A%D8%B1-%D8%B4%D8%A8%D9%8A%D8%BA%D9%84-%D8%B6%D8%A7%D8%A8%D8%B7-%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%8A-%D8%B3%D8%A7%D8%A8%D9%82-%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%A1-%D8%B5%D8%B9%D9%88%D8%AF-%D8%AA%D9%86%D8%B8%D9%8A%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%A9
  41. فيروز آبادي، ص 45.
  42. kirdar M.J. alqaeda in iraq. center for sterragic international studies. 2011:1-15
  43. دولة الخلافة الإسلامية ص 371
  44. راجع نصّ الحوار مع الشيخ أبو مصعب الزرقاوي المتاحة على الموقع الإنترنتي منبر التوحيد و الجهاد
  45. الزرقاوي الوجه الآخر للقاعدة ص37.
  46. دولة الخلافة الإسلامية ص372
  47. kirdar M.J. alqaeda in iraq. center for sterragic international studies. 2011:1-15
  48. دولة الخلافة الإسلامية ص372
  49. الزرقاوي الوجع الآخر للقاعدة ص 72-81
  50. الزرقاوي الجيل الثاني للقاعدة ص3
  51. http://www.sasapost.com/spiegel-secret-file-reveal-isis/
  52. http://www.alhayat.com/Articles/8683942/%D8%B6%D8%A7%D8%A8%D8%B7-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AE%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%AA--%D8%AD%D8%AC%D9%8A-%D8%A8%D9%83%D8%B1--%D8%B9%D8%B1%D9%91%D8%A7%D8%A8-%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AF%D8%A9--%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4--%D9%85%D9%86-%D8%B1%D8%AD%D9%85--%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%B9%D8%AB-
  53. مد الأيادي لبيعة البغدادي ص2
  54. مد الأيادي لبيعة البغدادي ص2
  55. تبصير المحاجج بالفرق بين الدولة الإسلامية والخوارج ص4-5
  56. الدولة الإسلامية ص 46
  57. مدّ الأيادي لبيعة البغدادي ص2
  58. http://www.alalam.ir/news/1560830
  59. الدولة الإسلامية ص 49
  60. الدولة الإسلامية ص 45
  61. داعش دراسة نقدية ص 14
  62. خفايا وأسرار داعش، ص 88.
  63. خفايا وأسرار داعش، ص 86.
  64. خفايا وأسرار داعش، ص 86.
  65. http://arabic.people.com.cn/31662/7375040.html
  66. http://www.islamist-movements.com/2317
  67. ثياب الخلافة، ص 3.
  68. زيادة نيكلا، ص 50.
  69. فيروز آبادي، ص 51.
  70. أبو مصعب السوري، ص 191. و ص 1079.
  71. نباتيان، ص 105.
  72. فيروز آبادي، ص 51
  73. فيروز آبادي، ص 21
  74. نباتيان، ص75
  75. نباتيان، ص234
  76. نباتيان، ص235
  77. نباتيان، ص236
  78. مختار شيخ حسيني، ص77
  79. خفايا وأسرار داعش ص109
  80. خفايا وأسرار داعش ص111
  81. http://www.dostor.org/633556
  82. http://www.dostor.org/633556
  83. بيان الفعل الفاحش الذي تقوم به داعش ص52
  84. داعش دراسة نقدية ص72
  85. http://www.alaan.tv/news/world-news/111765/security-council-imposes-sanctions-isis-nusra-front
  86. http://www.alquds.co.uk/?p=183432
  87. http://arabic.cnn.com/middleeast/2014/04/16/iraq-isis-mony
  88. http://ynewsiq.com/index.php?aa=news&id22=9705&iraq
  89. http://arabic.sputniknews.com/arab_world/20160424/1018485890.html
  90. داعش دراسة نقدية ص74
  91. http://www.annahar.com/article/263745-%D8%B4%D8%B1%D9%8A%D8%B7-%D9%84%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D9%8A%D8%B8%D9%87%D8%B1-%D8%AD%D8%B1%D9%82-%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%D8%A9-%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1-%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B4%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%8A
  92. https://arabic.rt.com/news/802689-%D8%A3%D8%A8%D8%B4%D8%B9-%D8%B9%D8%B4%D8%B1-%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%85-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4/
  93. http://almontasaf.net/news18481.html
  94. http://www.ahewar.org/debat/show.art.asp?aid=375510
  95. https://arabic.rt.com/news/802689-%D8%A3%D8%A8%D8%B4%D8%B9-%D8%B9%D8%B4%D8%B1-%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D9%85-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4/ 2. تعدى المحتوى الحالي إلى أعلى الصفحة↑
  96. http://www.alalam.ir/news/1776223
  97. https://arabic.rt.com/news/787227-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D8%A5%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%A5%D9%85%D8%B1%D8%A3%D8%AA%D9%8A%D9%86-%D8%B3%D9%88%D8%B1%D9%8A%D8%A7/ 2. تعدى المحتوى الحالي إلى أعلى الصفحة↑
  98. http://www.vetogate.com/1940262
  99. http://arabic.cnn.com/middleeast/2014/09/10/iraq-speicher-massacre
  100. http://www.annahar.com/article/186249-%D9%85%D9%86-%D9%87%D9%8A-%D8%B9%D8%B4%D9%8A%D8%B1%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%88%D9%86%D9%85%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AA%D9%8A-%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%85-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-500-%D9%85%D9%86%D9%87%D8%A7 2. تعدى المحتوى الحالي إلى أعلى الصفحة↑