مقدس اردبیلی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقدس اردبیلی
مقدس اردبیلی.jpg
مقدس اردبیلی سے منسوب تمثال
کوائف
مکمل نام احمد بن محمد اردبیلی
لقب/کنیت مقدس اردبیلی
تاریخ وفات 993 ہجری قمری
مدفن حرم امیر المومنین (ع)
علمی معلومات
اساتذہ سید علی صایغ، جمال الدین محمود
شاگرد میرزا محمد استر آبادی، شیخ حسن عاملی، سید محمد عاملی، ملا عبداللہ شوشتری
اجازہ اجتہاد از سید علی صایغ
تالیفات استیناس المعنویہ، حاشیہ بر شرح تجرید، حدیقۃ الشیعہ، زبدۃ البیان فی آیات الاحکام
خدمات
سیاسی دربار صفوی سے خط کے ذریعہ رابطہ
سماجی شیعوں کی مشکلات کے حل کے لئے سعی و کوشش


احمد بن محمد بن اردبیلی (متوفی 993 ھ) مقدس و محقق اردبیلی کے نام سے مشہور دسویں صدی ہجری کے شیعہ فقہا میں سے ہیں اور شیخ بہائی کے معاصر ہیں۔

مقدس اردبیلی علوم عقلی و نقلی میں تبحر رکھتے تھے۔ حوزہ علمیہ نجف اشرف نے ان کی زعامت کے زمانہ میں ایک بار پھر رونق حاصل کی۔ ان کی مہم ترین کتاب زبدۃ البیان ہے۔ نجاست خمر، حرمت غناء اور شرایط قاضی جیسے مسائل فقہی میں ان کے نظریات شیعہ فقہاء کے مشہور نظریات کے بر خلاف تھے جس کا تذکرہ کتاب مجمع الفائدہ البرھان میں ہوا ہے۔

تشیع کے فروغ اور ان کی مشکلات کے حل کے سلسلہ مقدس اردبیلی صفوی حکومت اور دربار سے فائدہ حاصل کرتے تھے جبکہ ان کا ذاتی تقوی و زہد زبان زد عام و خاص تھا۔

حیات و تحصیل علم

مقدس اردبیلی کے والد کا اسم گرامی محمد ہے اور دسویں صدی ہجری میں اردبیل میں ان کی ولادت ہوئی۔ وہ شیخ بہایی اور شاہ عباس اول[1] کے معاصر تھے۔ علوم نقلی اور فقہ کی تعلیم انہوں نے سید علی صائغ اور حوزہ علمیہ نجف کے دوسرے اساتذہ سے حاصل کی۔[2] کچھ عرصہ تک انہوں نے شیراز کی طرف ہجرت اختیار کی اور وہاں جمال الدین محمود سے علوم عقلی کسب کئے۔[3] اواخر عمر میں نجف اشرف میں انہوں نے علوم عقلی کی تدریس سے ہاتھ اٹھا لئے اور جب تک زندہ رہے علوم نقلی تدریس کرتے رہے۔[4] انہوں نے اپنی ریاست کے زمانہ میں حوزہ علمیہ نجف کو ایک جدید رونق عطا کی[5] اور وہ محقق اردبیلی کے نام سے مشہور ہو گئے۔[6] ماہ صفر سن 993 ہجری قمری[7] میں ان کی وفات ہوئی اور وہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے حرم میں ایوان طلا میں سپرد خاک کئے گئے۔[8] حرز الدین نے ان کی وفات کا سال 992 ھ ق تحریر کیا ہے۔[9]

مقدس اردبیلی شیخ بہایی کے بعد اولین عالم ہیں جنہوں نے خبر واحد پر عمل کے دائرہ کو وسعت بخشی اور معتبر و قابل اعتماد غیر شیعہ اثنا عشری روات کی روایات پر توجہ دی۔[10]

اخلاقی خصوصیات

وہ مقدس کے نام سے مشہور ہوئے۔[11] ان سے کرامات بھی نقل ہوئی ہیں۔[12] مقدس اردبیلی اپنے شاگردوں کے درمیان خود کو کمتر تصور کرتے تھے۔ ان کے شاگردوں سے منقول تحریروں سے ان کی تواضع اور ضرورت مندوں کی دست گیری کا پتہ چلتا ہے۔[13]

شیعہ علماء و فقہا نے ان کی تجلیل و تمجید کی ہے؛ جن میں سے سید مصطفی تفرشی،[14] شیخ حر عاملی[15]، علامہ مجلسی و شیخ عباس قمی نے مختلف القاب و کلمات کے ذریعہ ان کی تعریف کی ہے۔[16] صاحب جواہر اور محدث بحرانی نے اپنی کتاب الحدایق الناضرہ اور صاحب مستند الشیعہ نے عظمت کے ساتھ ان کی تجلیل کی ہے۔

صفویہ دربار سے رابطہ

وہ صفویہ دربار سے رانطہ میں تھے اور اس رابطہ کے ذریعہ سے تشیع کے فروغ اور شیعوں کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ اگر چہ انہوں نے شاہ عباس صفوی کے نجف ترک کرکے ایران کی طرف مہاجرت کر لینے کی پیشکش کو رد کر دیا تھا اس کے باوجود وہ شیعوں کی مشکلات کے حل کے سلسلہ میں انہیں تذکر دیتے رہتے تھے اور خط کے ذریعہ انہوں نے اس رابطہ کو برقرار رکھا۔[17]

کتاب معارف الرجال میں حرز الدین کے مطابق مقدس اردبیلی نجف میں تھے اور انہوں نے ایک علوی کی ضرورت کے سبب شاہ طہماسب اول کو خط لکھا اور اس میں شاہ کو دوستی و برادری سے خطاب کیا جس وقت شاہ نے اس خط کو پڑھا اس علوی کی مدد کی اور اپنے قریبیوں سے کہا کہ جب مجھے دفن کیا جائے تو اس نامہ کو میرے سر کے نیچے رکھا جائے تا کہ میں منکر و نکیر کے سامنے اسے ثبوت کے طور پر پیش کر سکوں کہ مقدس اردبیلی نے مجھے اپنے دوست اور برادر کے طور پر قبول کیا ہے اور یہ خط میری نجات کا سبب بن جائے۔[18]

مرجعیت

مقدس اردبیلی نے سید علی صائغ سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا تھا[19] اور محمد ابراہیم جناتی کے بقول وہ 984 سے 993 تک مرجع تقلید رہے اور مومنین اس عنوان سے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔[20]

شاگرد

نقل کیا گیا ہے کہ مقدس اردبیلی کے 10 شاگرد تھے۔ جن میں سے بعض کے اسماء کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

بعض نظریات

مقدس اردبیلی نجاست خمر، حرمت غناء[27] اور شرایط قاضی[28] جیسے بعض فقہی مسائل میں مشہور شیعہ فقہاء کے نظریات کے برخلاف نظریہ رکھتے تھے۔ جس کا تذکرہ کتاب مجمع الفائدہ البرھان فی شرح الاذھان میں ہوا ہے۔[29]

تالیفات

مقدس اردبیلی نے کلام، فقہ، اصول، عقائد و سیرہ اہل بیت (ع) جیسے موضوعات پر کتابیں تحریر کی ہیں۔ جن میں بعض کا ذکر یہاں پر کیا جا رہا ہے:

  • استیناس المعنویۃ[30]
  • زبدۃ البیان فی براہین احکام القرآن؛ اس کتاب میں آیات الاحکام کے سلسلہ میں بحث کی گئی ہے۔[31]
  • حدیقۃ الشیعہ؛[32] اس کتاب کے ان کی طرف منسوب ہونے میں شک ہے لیکن ریحانۃ الادب کے مولف نے اس شک کو رد کیا ہے۔[33]
  • حاشیہ بر شرح تجرید قوشجی؛[34] اس کتاب میں امامت کے بارے میں بحث کی گئی ہے اور فخر رازی کی دلیلوں کا جواب دیا گیا ہے۔[35]
  • رسالہ فارسی در حرمت خراج[36]
  • حاشیہ بر شرح مختصر عضدی[37]
  • رسالۃ فی کون افعال اللہ تعالی معللۃ بالاغراض[38]
  • مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح الاذہان؛[39] فقہ استدلالی پر تحریر ہونے والا مشہور ترین انسائیکلو پیڈیا ہے۔ مولف نے اس کتاب کو علامہ حلی کی کتاب ارشاد پر شرح کے طور پر تالیف کیا ہے۔
  • رسالہ فارسی مناسک حج
  • عقائد الاسلام در علم کلام؛ حرز الدین کے بقول اس کتاب میں علم کلام کے عقلی و نقلی مباحث کو جمع کیا گیا ہے۔[40]
  • تعلیقاتی بر قواعد علامہ حلی
  • رسالہ فارسی در امامت
  • تعلیقاتی بر تذکرہ[41] و ۔۔۔

حوالہ جات

  1. شریف رازی، گنجینہ دانشمندان، ج۳، ص۶۰.
  2. گلشن ابرار، ص۱۷۹.
  3. افندی، ریاض العلماء، ج۱،ص۹۰.
  4. افندی، ریاض العلماء،، ج۱،ص۹۰.
  5. گلشن ابرار، ج۱، ص۱۸۱.
  6. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۷.
  7. اعیان الشیعہ، ج۳، ص۸۰؛ افندی، ریاض العلماء، ج۱، ص۹۰؛ امل الآمل، ج۲، ص۲۳؛ تفرشی، نقدالرجال، ص۲۹.
  8. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۷۰؛ معارف رجال، ص۵۶.
  9. حرزالدین، معارف الرجال، ج۱، ص۵۶.
  10. محمد حسن ربانی، ص۳۹.
  11. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۷.
  12. مجلسی، بحار الانوار، ج۵۲، ص۱۷۴؛ تنکابنی، قصص العلما، ص۳۴۵؛ مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۷.
  13. جزایری، انوار‌ النعمانیہ، ج۳، ص۴۰؛ مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۸.
  14. تفرشی، نقدالرجال، ص۲۹
  15. حر عاملی، امل الآمل، ج۲، ص۲۳.
  16. قمی، فوائد‌ الرضویہ، ص۲۳.
  17. حر عاملی، امل الآمل، ج۲، ص۲۳؛ تفرشی، نقدالرجال، ص۲۹؛ نک: حرزالدین، معارف الرجال، ج۱، ص۵۵.
  18. حرز الدین، معارف الرجال، ص۵۵.
  19. موسوعة طبقات الفقهاء، ج۱۰، ص۵۷.
  20. جناتی، مقدس اجتماعی در عرصه اجتهاد، ص۲۵.
  21. افندی، ریاض العلماء، ج۱، ص۹۰.
  22. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۹؛ افندی، ریاض العلماء، ج۱،ص۹۰.
  23. افندی، ریاض العلماء، ج۱،ص۹۰.
  24. افندی، ریاض العلماء، ج۱،ص۹۰.
  25. مدرس تبریزی، ریحانة الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  26. سبحانی، موسوعة طبقات الفقہاء، ج۱۰، ص۵۸؛ برای اطلاع از سایر شاگردان نک: اعیان الشیعہ، ج۳، ص۸۱.
  27. اردبیلی، مجمع الفائده، ج۸، ص۵۹.
  28. اردبیلی، مجمع الفائده، ج۱۲، ص۱۵.
  29. جناتی، مقدس اردبیلی در عرصہ اجتهاد، ص۲۹.
  30. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  31. ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹
  32. افندی، ریاض العلماء، ج۱، ص۸۹؛ مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  33. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  34. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  35. افندی، ریاض العلماء، ج۱،ص۹۱.
  36. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  37. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  38. افندی، ریاض العلماء، ج۱، ص۹۱.
  39. مدرس تبریزی، ریحانۃ الادب، ج۵، ص۳۶۹.
  40. حرز الدین، معارف الرجال، ج۱، ص۵۴.
  41. افندی، ریاض العلماء، ج۱، ص۹۱.


مآخذ

  • اردبیلی، احمد بن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فی شرح إرشاد الأذہان‌، تصحیح: مجتبی عراقی- علی‌ پناہ اشتہاردی- حسین یزدی اصفہانی‌، دفتر انتشارات اسلامی، قم‌، ۱۴۰۳ق
  • افندی اصفہانی، میرزا عبد اللہ، ریاض العلماء و حیاض الفضلا، ترجمہ: محمد باقر ساعدی، بنیاد پژوہش‌ ہای آستان قدس رضوی، مشہد، ۱۳۶۶ش
  • امین، سید محسن، أعیان الشیعہ،‌ دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۶ق
  • جمعی از پژوہشگران حوزہ علمیہ قم، گلشن ابرار، نشر معروف، قم، ۱۳۷۹ش
  • جناتی، محمد ابراہیم، مقدس اردبیلی در عرصہ اجتہاد، کیہان اندیشہ، مرداد و شہریور ۱۳۷۵ - شمارہ ۶۷(ص۲۲ تا ۳۰)
  • حسینی تفرشی، مصطفی، نقد الرجال، الرسول المصطفی (ع)، قم، ۱۳۱۸
  • حرز الدین، محمد، معارف الرجال فی تراجم العلماء و الادباء، تحقیق: محمد حسین حرز الدین، منشورات مکتبۃ آیت اللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۵ق
  • حر عاملی، أمل الآمل، مکتبۃ الأندلس - بغداد، نجف، ۱۳۸۵ق
  • ربانی، محمد حسن، فقہ و فقہای امامیہ در گذر زمان، چاپ و نشر بین الملل، تہران، ۱۳۸۶ش
  • سبحانی، جعفر، موسوعۃ طبقات الفقہاء، قم، مؤسسہ امام صادق، ۱۴۱۸ق
  • شریف رازی، محمد، گنجینہ دانشمندان، کتاب فروشی اسلامی، تہران، ۱۳۵۲ش
  • مدرس تبریزی، میرزا محمد علی، ریحانۃ الادب، انتشارات خیام، ۱۳۶۹