قبرستان معلاۃ

ویکی شیعہ سے
(قبرستان ابو طالب سے رجوع مکرر)
قبرستان معلاۃ (قبرستان ابوطالب)، مکہ

قبرستان مَعلاۃ شہر مکہ کے قدیمی قبرستانوں میں سے ہے جو قبرستان حَجون (یا حُجون) اور ایرانیوں کے نزدیک قبرستان ابو طالب کے نام سے مشہور ہے۔ آخری صدیوں میں اسے مقبرہ بنی‌ ہاشم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ عبد المطلب، ابو طالب، حضرت خدیجہ (س)، یاسر اور سمیہ (اسلام کے پہلے شہداء) اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔ یوں مدینہ میں قبرستان بقیع کے بعد یہ قبرستان دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے حجاج خاص کر شیعوں کی توجہ کا مرکز قرار پاتا ہے اور یہ قبرستان مکہ مکرمہ میں شیعوں کی زیارت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

اسامی اور محل وقوع

قبرستان ابوطالب کا محل وقوع

یہ قبرستان جو مَعْلاۃ، مقبرۃ المَعْلاۃ، جَنّۃ المَعْلاۃ، مقبرہ قریش یا مقبرہ بنی ہاشم نے نام سے مشہور ہے، حَجون نامی ایک پہاڑی کے دامن میں واقع ہے اور آج کل مکہ کے شمال مشرق میں مسجدالحرام اور کوہ حجون کے دوراہے پر واقع ہے۔[1]

زمانہ جاہلیت اور ظہور اسلام کے اوائل میں اس قبرستان کا احاطہ کوہ حجون کے دائیں طرف سے درہ ابی دُب اور بائیں طرف سے درہ صُفی السبّاب تک پھیلا ہوا تھا جو بتدریج کوہ حجون، اذاخِر اور خُرْمان کے احاطے تک پہنچ گیا ہے۔[2] چونکہ کوہ حَجون مکہ سے باہر واقع تھا، بعض جغرافیہ دانوں مانند مقدسی اور ابن خرداذبہ نے اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے یا مانند یاقوت حموی[3] صرف کلیات کے ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے اسی وجہ سے اور مقبرۃ العلیا کے ساتھ نزدیک ہونے کی وجہ سے اس کی صحیح حدود معین نہیں ہو سکتی ہے۔[4]

اس قبرستان میں مدفون شخصیات

کوہ حَجون کے بارے میں سب سے قدیمی معلومات جُرہمیان کے زمانے کے اشعار میں ملتا ہے[5] لیکن حجون پر قبرستان کا اطلاق شاید قُصَی بن کلاب، پیغمبر اکرم (ص) کے پانچویں جد امجد کے دفن ہونے کے بعد ہوا ہے۔ کیونکہ وہ پہلے شخص ہیں جو اس پہاڑ کے دامن میں دفن ہوئے۔[6] اس کے بعد سے مکہ کے مکینوں نے اس درہ کے دائیں بائیں اپنے اموات کو دفن کرنا شروع کیا ہے۔[7] اس طرح ظہور اسلام سے قریب یہ جگہ ایک معتبر قبرستان میں بدل گئی مخصوصا یہ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے اجداد، عبد مناف، ہاشم اور عبد المطلب یہاں مدفون تھے اور ایک روایت کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی مادر گرامی حضرت آمنہ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔[8] پیغمبر اکرم (ص) کے چچا ابو طالب ایک شعر میں اس قبرستان اور اس میں مدفون شخصیات پر فخر کرتے ہیں۔[9]

اس قبرستان میں بزرگ صحابہ کرام، تابعین اور اولیاء خدا کے دفن ہونے کی وجہ سے اس مقام کو حاصل ہونے والی معنوی اہمیت اور قداست اور معصومین کی جانب سے اس مقام پر دعا اور زیارت پڑھنے کی تاکید کے باوجود اس مقام اور اس میں مدفون شخصیات کی کما حقہ معرفی نہیں ہوئی ہے۔[10] حالانکہ ساتویں صدی ہجری میں فیروز آبادی نے اپنے ایک رسالہ إثارۃ الحجون لزیارۃ الحجون میں یہاں مدفون 38 مرد صحابی اور 7 خاتون صحابیات کا نام لیا ہے۔[11]

اس قبرستان میں مدفون دیگر شخصیات میں: عبداللہ بن عمر، دوسری صدی کے معروف عارف فضیل بن عیاض، سادات کا ایک گروہ، خاص کر سادات حسنی اور منصور دوانیقی شامل ہیں۔[12]

نویں صدی ہجری کے معروف مصنف ابن فہد نے بھی اپنی کتاب میں مکہ کے بعض معروف قاضیوں، محدثین، قاریوں، بزرگوں، امیروں، اور وڈیروں کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے اکثر اسی قبرستان میں مدفون تھے۔[13]

گیارہویں صدی ہجری میں اولیا چلبی[14] نے حجون میں 75 قبور کا تذکرہ کیا ہے جن کے اوپر گنبد بنائی ہوئی تھی منجملہ ان قبور میں عبد المطلب، ابو طالب، میمونہ (رسول خدا کی زوجہ) اور شیخ علاء الدین نقشبندی کا مزار شامل ہے۔

مزار حضرت خدیجہ

تیرہویں صدی میں فراہانی[15] جبکہ چودہویں صدی میں رفعت باشا[16] کے مطابق اس زمانے میں بھی قبرستان حجون مسلمانوں کیلئے اور خاص کر ابو طالب کا مقبرہ شیعوں کی توجہ کا مرکز تھا۔

آرامگاہ حضرت خدیجہ (س)

مذکورہ مقبروں کے علاوہ اس قبرستان میں موجود سب سے اہم مقبرہ حضرت خدیجہ (س) کی قبر ہے جو آٹھویں صدی ہجری میں بنائی گئی تھی۔[17] اس مبقرہ کو جسے سلسلہ عثمانی کے بادشاہ سلطان سلیمان قانونی نے مرمت اور اس پر گنبد تعمیر کروائی تقریبا سنہ 950 ہجری تک خراب نہیں ہوئی تھی۔ نئی بلڈنگ بنانے تک حضرت خدیجہ (س) کے مزار کے اوپر لکڑی کا ایک صندوق بنا ہوا تھا۔ یہ آرامگاہ اس پر موجود کتیبوں کے مطابق سنہ ۱۲۹۸ میں مرمت ہوئی ہے۔[18] تیرہویں صدی ہجری میں فراہانی[19] نے اس مقبرے کے لکڑی کے ضریح پر لگے ہوئے مخملی کپڑے اور اس آرامگاہ کے متولی اور خادم اور یہاں پڑھی جانے والی زیارت نامے تک کی خبر دی ہے۔

اہمیت

  • ظہور اسلام کے بعد ابو طالب اور حضرت خدیجہ (س) کے دفن ہونے کے بعد مسلمانوں کے ہاں اس قبرستان کی اہمیت دوچنداں ہو گئی۔[20] باوجود یہ کہ متقدم منابع[21] میں حضرت خدیجہ (س) کی یہاں دفن ہونے کے بارے میں تصریح موجود ہے، فاسی (نویں صدی کے مورخ)[22] نے اس بارے میں شک و تردیک کا اظہار کیا ہے۔ ایک روایت کی مطابق حضرت خدیجہ کا یہاں دفن ہونا آٹھویں صدی ہجری میں ایک خواب کے ذریعے تعیین ہوا ہے۔[23]
  • حجوی کی فضیلت میں پیغمبر اکرم (ص) کی طرف سے ایک حدیث کو نقل کیا گیا ہے اسی وجہ سے یہاں پر اموات کو دفن کرنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے خاص کر اس کے بائیں سمت میں۔[24]
  • حجون اور اس میں مدفون شخصیات کی مدح سرائی اور ان کی شان میں کہے جانے والے اشعار بھی دیگر قبرستانوں کے مقابلے میں اس قبرستان کی اہمیت کا سبب بنا ہے۔[25]
  • اسلام کے ابتدائی دور میں رونما ہونے والے بعض واقعات کی وجہ سے حجون زیادہ سے زیادہ مورد توجہ قرار پایا۔ ان واقعات میں سے ایک قرآن کے مطابق اس مقام پر جنّات کے ایگ گروہ کا پیغمبر اکرم (ص) سے مقلاقات اور ان کا اسلام قبول کرنا ہے۔[26] اسی بنا پر بعد میں حجون کے نزدیک مسجد جن نامی ایک مسجد بنائی گیئ جو آج تک باقی ہے۔[27]
  • فتح مکہ کے وقعت پیغمبر اکرم (ص) کا حجون کے مقام پر قیام کرنے کی وجہ سے بھی اس قبرستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔[28]
  • پہلی صدی ہجری میں حجون کبھی کبھار سیاسی مقاصد کیلئے بھی استعمال ہوا کرتا تھا منجملہ ان میں سے ایک حکمیت کے مسئلے میں شکست کے بعد ابو موسی اشعری کا وہاں سکونت اختیار کرنا بھی ہے۔[29]
    قبرستان ابوطالب کا قدیمی منظر
  • ابن جبیر نے چھٹے صدی میں حجون میں موجود عمارتوں کے آثار کو دیکھا تھا جسے ابن زبیر اور اس کو سولی پر چڑھائے جانے کی یاد میں بنائی گئی تھی۔ اس کے مطابق اہل طائف نے اس عمارت کو ویران کیا کیونکہ وہاں پر ان کے ہمشہری اور ہم قبیلہ حجاج بن یوسف ثقفی پر لعنت بھیجی جاتی تھی۔[30]

وہابیوں کے ہاتھوں انہدام

قبرستان حجون میں واقع گنبد اور عمارتوں کو سنہ ۱۳۰۵ شمسی میں بقیع کے انہدام کے بعد، وہابیوں کے ہاتھوں منہدم ہوا جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کی۔[31] اس کے مقابلے میں وہابیوں نے اپنے اس کام کو شرعی طور پر توجیہ کرنے کی کوشش کی اور اس قبرستان کو پیغمبر اکرم (ص) کی اہل بیت (ع) سے منسوب ہونے کو ہی انکار کیا۔[32] لیکن ان کا یہ کام مسلمانوں کی دل آذاری کو کم نہ کر سکے۔[33]

موجودہ کنڈیشن

یہ قبرستان اس وقت پر کوہ حجون کے دامن میں دیوار کے اندر موجود ہے لیکن اس کا شمالی حصہ پہاڑ کے دامن میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کے گرد کوئی دیوار نہیں ہے۔ قبرستان کے اندر بھی لوہے کی باڑ کے ذریعے اس کا شمالی حصہ (جس میں قبور بنی ہاشم اور پیغمبر اکرم (ص) کے اجداد کی قبر ہے) کو جنوبی حصے سے جدا کیا گیا ہے۔[34]

قبرستان کے دروازے پر کسی قبر پر نصب کئے گئے پتھر سے پتہ چاتا ہے کہ یہ قبرستان سنہ 1383 ہجری میں دوبارہ تعمیر ہوا ہے۔ اس وقت کوہ حجون کو کھود کر پہاڑ کی جانب اس قبرستان کو توسیع دی جا رہی ہے۔[35]

حوالہ جات

  1. فاسی، ج۱، ص۴۵۳؛ ابن ظہیرہ، ص۳۰۳؛ قائدان، ص۱۲۹.
  2. ازرقی، ص۴۳۲؛ فاکہی، ج۴، ص۵۴؛ برای اطلاع بیشتر دربارہ این محوطہ ر.ک: ازرقی، ج۱، ص۴۸۲ـ۴۸۳؛ فاسی، ج۱، ص۴۷۱ـ۴۷۵؛ ابن ظہیرہ، ص۳۰۴ـ۳۰۵.
  3. یاقوت، ذیل مادّہ.
  4. فاکہی، ج۴، ص۵۹؛ بلادی، ص۸۰؛ حمد جاسر، ص۱۱۴.
  5. ابن جبیر، ص۷۸؛ فاسی، ج۱، ص۵۹۷ـ۵۹۸.
  6. ابن سعد، ج۱، ص۷۳؛ فاکہی، ج۴، ص۵۸ـ۵۹.
  7. ازرقی، ص۴۳۴.
  8. ازرقی، ص۴۳۳؛ اس سلسلہ میں ایک زیادہ معتبر روایت بھی ذکر ہوئی ہے۔ ر.ک: ابن سعد، ج۱، ص۱۱۶ـ۱۱۷.
  9. ابن قدامہ، ص۳۷۲.
  10. ابن جبیر؛ ابن بطوطہ، ہمانجاہا؛ فاسی، ج۱، ص۴۵۶.
  11. حمد جاسر، ص۱۱۳ـ۱۱۴.
  12. ازرقی، ص۴۳۲؛ قلقشندی، ج۳، ص۲۵۴؛ قائدان، ص۱۳۶.
  13. قسم ۱، ص۴۹، ۷۶، ۲۲۸، ۲۳۴، ۴۲۴ و جاہای دیگ.ر
  14. چلبی، ج۹، ص۷۸۵ـ۷۹۰.
  15. فرہانی، ص۲۰۳.
  16. رفعت باشا، ج۱، ص۳۱ـ ۳۲.
  17. د.ا.د. ترک، ہمانجا؛ حمد جاسر، ص۱۱۵.
  18. رفعت باشا، ج۱، ص۳۱.
  19. فراہانی، ص۲۰۲.
  20. بلاذری، ج۲، ص۳۵، ۲۸۹.
  21. ابن سعد، ج۸، ص۱۸؛ بلاذری، ج۲، ص۳۵.
  22. فاسی، ج۱، ص۴۵۶.
  23. حمد جاسر، ص۱۱۵؛ د. ا. د. ترک، ذیل "Cennetul-Mualla"؛ قس ابن سعد، ج۱، ص۱۱۶ـ۱۱۷.
  24. ازرقی، ص۴۷۳؛ فاسی، ج۱، ص۴۵۴.
  25. فاکہی، ج۴، ص۶۰ـ۶۱.
  26. ر.ک: ابن سعد، ج۱، ص۲۱۲.
  27. ازرقی، ص۴۸۲؛ ابن جبیر، ہمانجا؛ ابن بطوطہ، ص۱۴۲؛ قائدان، ص۱۲۱.
  28. ازرقی، ص۳۸۹.
  29. ہمان، ص۴۸۱.
  30. ابن بطوطہ، ہمانجا؛ قس یعقوبی، ج۲، ص۲۶۷
  31. امین، ص۵۵ـ۵۶.
  32. حمد جاسر، ص۱۱۵ـ۱۱۷.
  33. ہیکل، ص۲۲۵ـ۲۲۷، ۲۳۵ـ۲۳۶.
  34. قائدان، ص۱۳۱.
  35. جعفریان، ص۱۶۳.

منابع

  • ابن بطوطہ، رحلۃ ابن بطوطۃ، بیروت، ۱۳۸۴/۱۹۶۴.
  • ابن جبیر، رحلۃ ابن جبیر، بیروت، ۱۹۸۶ ء.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت.
  • ابن ظہیرہ، الجامع اللطیف فی فضل مکۃ و اہلہا و بناء البیت الشریف، چاپ علی عمر، قاہرہ، ۱۴۲۳/۲۰۰۳.
  • ابن فہد، کتاب نیل المُنی بذیل بلوغ القِری لتکملۃ اتحافِ الوَری: تاریخ مکۃ المکرّمۃ من سنۃ ۹۲۲ہ الی ۹۴۶ہ، چاپ محمد حبیب ہیلہ، لندن، ۱۴۲۰/۲۰۰۰.
  • ابن قدامہ، التبیین فی انساب القرشیین، چاپ محمد نایف دلیمی، بیروت، ۱۴۰۸/ ۱۹۸۸.
  • ازرقی، محمد بن عبداللّہ، کتاب اخبار مکۃ شرفہا اللہ تعالی و ما جاء فیہا من الآثار، روایۃ اسحاق بن احمد خزاعی، در اخبار مکۃ المشرفۃ، ج۱، غتنغہ ۱۲۷۵ق.
  • امین، محسن، تجدید کشف الارتیاب فی اتباع محمد بن عبدالوہاب، چاپ حسن امین، بیروت، ۱۳۸۲/۱۹۶۲.
  • اولیا چلبی.
  • بلادی، عاتق، معالم مکۃ التاریخیۃ و الاثریۃ، مکہ، ۱۴۰۰/۱۹۸۰.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، کتاب جُمَل من انساب الاشراف، چاپ سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، ۱۴۱۷/۱۹۹۶.
  • جاسر، حمد، اماکن تاریخی اسلامی در مکہ مکرّمہ، ترجمہ رسول جعفریان، در مقالات تاریخی، تدوین رسول جعفریان، دفتر۳، قم: نشر الہادی، ۱۳۷۶ش.
  • رفعت باشا، ابراہیم، مرآۃ الحرمین، او، الرحلات الحجازیۃ و الحج و مشاعرہ الدینیۃ، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا.
  • فاسی، محمد بن احمد، شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام، چاپ عمر عبد السلام تدمری، بیروت، ۱۴۰۵/۱۹۸۵.
  • فاکہی، محمد بن اسحاق، اخبار مکۃ فی قدیم الدہر و حدیثہ، ج۴، چاپ عبد الملک عبداللّہ بن دہیش، بیروت، ۱۴۱۹/ ۱۹۹۸.
  • فراہانی، محمد حسین بن مہدی، سفرنامہ میرزا محمد حسین حسینی فراہانی، چاپ مسعود گلزاری، تہران، ۱۳۶۲ش.
  • قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرّمہ و مدینہ منوّرہ، تہران، ۱۳۸۴ش.
  • قلقشندی.
  • محبی، محمد امین بن فضل اللّہ، خلاصۃالاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، بیروت، دار صادر، بی‌تا.
  • ہیکل، محمد حسین، فی منزل الوحی، قاہرہ، ۱۹۵۲ ء.
  • یاقوت حموی.
  • یعقوبی، تاریخ یعقوبی.
  • TDVIA, s.v. "Cennetu'l - Maulla" (by Mustafa Fayda).