باب حطہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

باب حطہ ایک دروازے کا نام ہے جس سے بنی اسرائیل نے تِیہ(تِیہ اس سرزمین کا نام ہے جہاں بنی اسرائیل چالیس سال تک آوارہ اور سرگردان تھے) کی سرزمین پر سرگران ہونے کے بعد گزرنا تھا۔ سرزمین مقدس میں داخل ہوتے ہوئے گناہوں کی مغفرت کے لئے اللہ تعالی کے حکم سے «حطہ» کہتے ہوئے اس دروازے سے گزرنا تھا۔ شیعہ اور سنی روایات میں امام علیؑ اور اہل بیتؑ کو اس دَر سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بنی‌اسرائیل کو حکم

قرآن مجید کے مطابق، جب بنی اسرائیل سرزمین مقدس کی شہروں میں سے کسی ایک شہر میں داخل ہونا چاہتے تھے، اللہ تعالی کے حکم سے ایک مخصوص دروازے سے داخل ہونا تھا اور «حطہ» کو زبان پر جاری کرنا تھا۔[1]روایات میں اس دروازے کو «باب حطہ» کہا گیا ہے۔[2] اکثر مفسرین [3] یہاں تک کہ قریہ کو «اریحا» شہر سے تفسیر کرنے والے مفسرین نے بھی[4] «الباب» کو بیت المقدس کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔[5]

حطہ کا معنی مقام میں تنزل اور پستی، کسی سنگین بوجھ کو انسان سے اٹھانا یا انسان سے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے معنی میں آیا ہے۔[6]

اہل بیت کی باب حطہ سے تشبیہ

شیعہ مآخذ میں اہل بیتؑ کو باب حطہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث نبوی میں آیا ہے:

جس نے میرا دین قبول کیا، میری سیرت پر عمل کیا اور میری سنت کی پیروی کی اسے چاہیے کہ میری اہل بیت سے اماموں کو پوری امت پر برتر سمجھے۔ ان کی مَثَل میری امت میں، بنی اسرائیل میں «باب حطہ» کی مانند ہے۔[7]

اہل سنت کے مآخذ میں میں بھی رسول اکرمؐ کی ایک روایت ابوسعید خدری سے منقول ہوئی ہے:

میری اہل بیتؑ کی مَثَل، بنی اسرائیل میں باب حطہ کی سی ہے جو بھی اس میں سے داخل ہوگا، بخشا جائے گا۔[8]

اس تشبیہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: جس طرح سے بنی اسرائیل کی ایمان اور عقیدے کا معیار و میزان باب حطہ تھا اسی طرح سے حضرت علیؑ اور اہل بیتؑ بھی پیغمبر اکرمؐ کی امت کی ایمان کا معیار ہیں[9] کیونکہ اہل بیتؑ اس دروازے کی مانند ہیں جہاں بنی اسرائیل میں سے کوئی بھی پناہ لے آتا، اس کے گناہ معاف ہوجاتے اسی طرح جو بھی پیغمبر اکرمؐ کی اہلبیت کے ہاں پناہ مانگے وہ بھی نجات پائے گا۔[10]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. سورہ بقرہ، آیہ ۵۸.
  2. ملاحظہ کریں: صدوق، الامالی، ۱۳۷۶، ص۷۴، ح۶.
  3. ملاحظہ کریں: طبری، جامع‌البیان، دار المعرفۃ، ج‌۱، ص۴۲۶؛طَبرِِسی، مجمع‌البیان، ۱۳۸۳، ج‌۱، ص‌۲۴۷؛ ابن عادل، اللباب فی علوم الکتاب، ۱۴۱۹ق، ج‌۲، ص‌۹۵.
  4. طبری، جامع‌البیان، دار المعرفۃ، ج‌۱، ص‌۴۲۶؛ ابن عادل، اللباب فی علوم الکتاب، ۱۴۱۹ق، ج‌۲، ص‌۹۳.
  5. طبری، جامع‌البیان، دار المعرفة، ج‌۱، ص‌۴۲۷؛ ابن عادل، اللباب فی علوم الکتاب، ۱۴۱۹ق، ج‌۲، ص‌۹۵.
  6. فیروزآبادی، القاموس المحیط، دارالکتب العلمیه، ج‌۲، ص۸۹۴-۸۹۵، ذیل «حط»؛ زب‍ی‍دی‌، تاج‌العروس، ج‌۱۰، ص‌۲۱۶-۲۱۷، ذیل «حطط».
  7. صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۷۴، ح۶ .
  8. ہیثمی، الصواعق المحرقۃ، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص ۱۷۹؛ سیوطی و مناوی، جامع الأحادیث، ۱۴۱۴ق، ۱۰ق، ج۸، ح ۸۹۵۶؛ ہیثمی، مجمع الزوائد، ۱۴۱۴ق، ج۹، ص۱۶۸؛ طبرانی، المعجم الصغیر، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۸۲.
  9. حسینی میلانی، جواهر الکلام فی معرفة الإمامة والإمام، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۱۶۷.
  10. خوانساری، ش‍رح‌ آقا جمال خوانساری ب‍ر غ‍رر‌ال‍ح‍ک‍م‌ و دررال‍ک‍ل‍م‌، ۱۳۶۶ش، ج۶، ص ۱۸۶.


مآخذ

  • ابن حجر ہیثمی، احمد، الصواعق المحرقۃ، تحقیق عبد الرحمن بن عبد اللہ التركی و كامل محمد الخراط، لبنان، مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ اول، ۱۴۱۷ھ۔
  • ابن عادل، عمر بن‌ علی، اللباب فی علوم الکتاب، بیروت، دارالكتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۹ھ۔
  • حسینی میلانی، سیدعلی، جواہر الکلام فی معرفۃ الإمامۃ والإمام، قم، مرکز الحقایق الاسلامیہ، ۱۳۹۲شمسی ہجری
  • خوانساری، محمد بن حسین، ش‍رح‌ آقا جمال خوانساری ب‍ر غ‍رر‌ال‍ح‍ک‍م‌ و دررال‍ک‍ل‍م‌، تصحیح میرجلال الدین حسینی ارموی، تہران، دانشگاہ تہران، چاپ چہارم، ۱۳۶۶شمسی ہجری
  • زبیدی، محمد بن محمد، تاج‌العروس، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۴ھ۔
  • سیوطی و مناوی، عبدالرحمن بن ابی‌بکر و عبد الرؤرف بن محمد، جامع الأحادیث، ۱۴۱۴ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان، قم، فرہنگ اسلامی، ۱۳۶۶شمسی ہجری
  • صدوق، محمد بن علی، الامالی، تحقیق محمدباقر کمرہ‌ای، تہران، کتابچی، ۱۳۷۶شمسی ہجری
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الصغیر، تحقیق محمد شكور محمود الحاج أمریر، بیروت-عمان، دار عمار، چاپ اول، ۱۴۰۵ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا.
  • فیروزآبادی، مجدالدین، القاموس المحیط، بیروت، دارالکتب العلمیہ، بی‌تا.
  • ہیثمی، علی بن ابوبکر، مجمع الزوائد، تحقیق حسین سلیم أسد الدّارانی، دمشق، دَارُ المَأْمُون لِلتُّرَاثِ، ۱۴۱۴ھ۔

بیرونی روابط