مودت اہل بیت علیہم السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اہل بیت رسول(ص) کی مودت و محبت تمام مسلمانوں پر واجب ہے، یہ وجوب آیت مودت اور متعدد احادیث ـ منجملہ حدیث باب حطہ اور سیرت نبویہ سے ثابت ہے۔


آیت مودت میں

آیت مودّت (" قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى"۔ ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت کی محبت کے۔[1]) میں رسول اللہ(ص) کے اقرباء کی محبت اجر رسالت قرار دی گئی ہے۔ اس آیت میں "قُرْبَى" سے مراد وہی افراد ہیں جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی ہے۔

چنانچہ حاکم نیشابوری نے روایت کی ہے کہ حسن بن علی(ع) نے علی بن ابی طالب(ع) کی شہادت کے بعد لوگوں سے خطاب کیا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا: "میں ان اہل بیت سے ہوں جن کی طرف جبرائیل نازل ہوا اور میں ان اہل بیت سے ہوں جن سے خداوند متعال نے ہر قسم کی پلیدی کو دور کردیا ہے؛ اور میں ان اہل بیت سے ہوں جن کی مودت خداوند متعال نے ہر مسلمان پر واجب کردی ہے اور فرمایا ہے: "کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ رسالت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت کی محبت کے، اور جو کوئی نیک کام کرے گا ہم اسے اس میں بھلائی اور زیادہ عطا کریں گے"، "اور اقتراف حسنہ اور نیکی کام کی انجام دہی سے مراد ہم اہل بیت کی محبت ہے"۔[2]

خوارزمی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جب "آیت المودۃ في القربی" نازل ہوئی، تو کچھ لوگوں نے پیغمبر اکرم(ص) سے کہا: "یہ آپ کے اقارب، جن کی محبت ہم پر واجب ہوئی ہے، کون لوگ ہیں؟" اور آپ(ص) نے فرمایا: "علی، فاطمہ(س) اور ان کے دو بیٹے (حسن اور حسین[3]

احادیث میں

طبری ابو دیلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی بن الحسین(ع) اسیر کے عنوان سے دمشق میں داخل ہوئے تو ایک شامی شخص اٹھا اور امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کے مارے جانے اور آپ(ع) کی خواتین اور بچوں کی اسیری پر خوشی کا اظہار کیا۔ امام سجاد علیہ السلام نے اس کو جواب دیا: کیا تم نے قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى کی تلاوت کی ہے؟ اس شخص نے کہا: کیا "قُرْبَى" سے مراد آپ ہیں؟ امام(ع) نے فرمایا: ہاں وہ ہم ہی ہیں۔[4]

ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ امام حسین(ع) نے فرمایا: "جس قرابت کو خداوند متعال نے عظیم قرار دیا ہے اور اس کی رعایت کو واجب کیا ہے اور اجر رسالت قرار دیا ہے وہ ہم اہل بیت کی قرابت ہے۔[5]

حافظ ابو عبداللہ گنجی نے طبرانی سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا: "خداوند متعال نے انبیاء کو مختلف قسم کے درختوں (متعدد سرچشموں) سے خلق فرمایا اور مجھ اور علی(ع) کو ایک درخت (اور ایک سرچشمے) سے خلق فرمایا۔ میں اس درخت کی جڑ ہوں، علی اس کی شاخ ہیں، فاطمہ لقاح اور حسن و حسین اس کا میوہ ہیں۔ جو بھی ان میں سے کسی ایک کا دامن تھامے وہ نجات یافتہ ہے اور جو بھی ان سے روگردانی کرے وہ سقوط اور گراوٹ سے دوچار ہوگا۔ اور اگر کوئی فرد 30000 سال تک صفا اور مروہ میں عبادت کرے اور ہم سے محبت نہ کرے، خداوند متعال اس کودوزخ میں پھینک دے گا۔ اور پھر آیت مودت (قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) کی تلاوت فرمائی"۔[6] ابو عبداللہ گنجی شافعی نے اس حدیث کی سند کا جائزہ لینے کے بعد لکھا ہے: هذا حدیث حسن عال، یہ حدیث حسن اور عالی ہے۔

ابو نعیم اصفہانی نے زاذان سے روایت کی ہے کہ علی(ع) نے فرمایا: "ہم "آل حم" کے بارے میں قرار دیا گیا ہے ہماری مودت کو مؤمنوں کے سوا کوئی ملحوظ نہیں رکھے گا اور پھر آیت مودت (قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) کی تلاوت فرمائی"۔[7]

ابن حجر مکى نے مودت اہل بیت کے وجوب سے متعلق روایات و احادیث نقل کرنے کے بعد کہا ہے: "مذکورہ احادیث سے اہل بیت کی محبت کا وجوب اور ان سے بغض کی شدید حرمت کا ثبوت فراہم ہوا۔ بیہقی اور بغوی اور دوسروں نے ان کی محبت کے واجب ہونے پر تصریح و تاکید کی ہے اور شافعی نے ـ ان سے منقولہ اشعار میں ـ اس پر تصریح کی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں:[8] یا أهل بیت رسول اللّه حبّکم
فرض من اللّه فی القرآن أنزله
ترجمہ: اے خاندان رسالت آپ کی اللہ کی طرف سے فرض ہے اس قرآن میں جو اس نے اتارا ہے۔

ابن حجر حدیث باب حطّة کے بارے میں کہا ہے: "باب حطہ سے اہل بیت کی وجۂ تشبیہ یہ ہے کہ خداوند متعال نے شہر اریحا میں اس دروازے سے انکسار اور استغفار کے ساتھ بیت المقدس میں داخلے کو بنو اسرائیل کے لئے سبب مغفرت قرار دیا تھا اور مودت اہل بیت کو امت مسلمہ کی مغفرت کا سبب قرار دیا ہے۔[9]

سیرت نبوی سے استدلال

فخر الدین رازی نے وجوبِ محبتِ اہل بیت پر یوں استدلال کیا ہے: "اس میں شک نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) سے محبت کرتے تھے؛ اس بنیاد پر ان کی محبت پوری امت پر واحب ہے کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے: "وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔
ترجمہ: اور اس (رسول) کی پیروی کرو، شاید کہ تم صحیح راستے پر آجاؤ"۔[10] نیز فرمایا ہے: "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔
ترجمہ: کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کرے گا۔[11]" اور ارشاد فرماتا ہے: "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ۔
ترجمہ: تمہارے لیے پیغمبر خدا کی ذات میں اچھا نمونہ پیروی کے لیے موجود ہے اس کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو۔[12][13]

انھوں نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کو "آل محمد(ص)" کا مصداق قرار دیا ہے اور کہا ہے: "آل محمد(ص) وہ افراد ہیں جن کی نسبت قرابت پیغمبر(ص) کی طرف لوٹتی ہے؛ چنانچہ جس فرد کی نسبت قرابت جس قدر زیادہ شدید اور کامل تر ہو وہ آپ کی آل میں شمار ہوگا۔ اور اس میں شک نہیں ہے کہ فاطمہ، علی، حسن اور حسین کا تعلق رسول اللہ سے شدید ترین ہے۔ چنانچہ وہی آل رسول(ص) ہیں"۔ انھوں نے بعد ازاں ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے جو زمخشری نے نے نقل کی ہے اور وہ یوں ہے کہ "جب آیت مودت نازل ہوئی تو اصحاب نے عرض کیا کہ "یہ آپ کے اقارب، جن کی محبت ہم پر واجب ہوئی ہے، کون لوگ ہیں؟" آپ(ص) نے فرمایا: "علی، فاطمہ(س) اور ان کے دو بیٹے (حسن اور حسین)"۔[14]

مسلمانوں کے لئے مودت کا فائدہ

ایک اعتراض"":

قرآنی آیات میں تاکید ہوئی ہے کہ انبیائے الہی تبلیغ رسالت کے عوض لوگوں سے اجرت نہیں مانگتے تھے اور یہ انبیاء کی ایک خصوصیت رہی ہے۔ وہ تاکید کیا کرتے تھے ان کا اجر خدا پر ہے نہ کسی اور پر ("إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ۔
ترجمہ:) میرا اصل (اجر و) معاوضہ نہیں ہے مگر اللہ پر۔[15]" اس صورت میں مودت اہل بیت کو کیونکر اجر رسالت قرار دیا جاسکتا ہے؟

جواب:

اجر رسالت کے سلسلے میں آیات کے مجموعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ رسول اللہ(ص) نے اپنی رسالت کے عوض کسی قسم کا مادی اور غیر مادی معاوضہ مسلمانوں سے نہیں مانگا ہے اور خداوند متعال نے بھی آپ(ص) سے خطاب فرمایا ہے کہ: "قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ۔
ترجمہ: کہئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ اس پر نہیں مانگتا اور نہ میں متکلفین (اور زبردستی کی باتیں کرنے والوں) میں سے ہوں۔[16]" اور اگر آپ(ص) نے [خدا کے حکم سے اور آیت مودت کے تحت] مودت اہل بیت کو اپنی رسالت کے اجر کے عنوان سے متعارف کرایا ہے اس کا فلسفہ بھی یہ ہے کہ یہ اجر مسلمانوں ہی کو لوٹتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: "قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ۔
ترجمہ: کہئے کہ میں نے تم سے جو اجر طلب کیا ہے، وہ تو تمہارے ہی لئے ہے۔[17]" پس جو اجر رسالت پیغمبر(ص) نے لوگوں سے مانگا ہے وہ ان ہی طرف پلٹتا ہے اور وہ درحقیقت یہ ہے کہ آپ(ص) کے دین کو قبول کریں اور اس پر عمل کریں۔ کیونکہ اس کا دین اللہ کی راہ ہے اور اللہ کی راہ پر گامزن ہونا انسان کی سعادت اور خوشبختی کا موجب ہوگا۔ تاہم خدا کی راہ پر گامزن ہونا شناخت و معرفت کے مرہون منت ہے اور راہ خدا کی شناخت کے لئے ایسے راہ شناس کی ضرورت ہے جو راہ کو بھی اچھی طرح پہچانتا ہو اور اس راہ پر گامزن ہونے کے لئے خود بھی کوشاں اور ثابت قدم ہو؛ یہ راہ شناس اور راہنما پیغمبر(ص) کے معصوم اہل بیت ہی ہیں۔ امر مسلّم ہے کہ جو بھی ان کی راہنمائی سے مکمل طور پر بہرہ ور ہونا چاہے سب سے پہلے ضروری ہے کہ ان سے محبت کرے اور انہیں تکریم و تعظیم کی نگاہ سے دیکھیں تا کہ ان کی شخصیت ان کے لئے جاذب اور اثر گذار ہو۔ یہی بات آیت مودت میں مذکور ہے۔

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. سوره شوری آیت 23۔
  2. حاکم نیشابوری، المستدرک على الصحیحین، ج3، ص172۔
  3. الكوفي القاضي، مناقب الامام أمير المؤمنين، ج1 ص 117۔
  4. طبری، تفسیر طبرى، ج25، ص16ـ17۔
  5. حسکانی، شواهد التنزیل، ج2، ص144،تعلیقه۔
  6. شافعی، گنجی، کفایة الطالب، ص1317۔
  7. اصفهانی، ابونعیم، تاریخ اصفهان، ج2، ص165۔
  8. مکی، ابن حجر، الصواعق المحرقه، ص217۔
  9. مکی، ابن حجر، الصواعق المحرقه، ص190ـ191۔
  10. سوره اعراف، آیه 158۔
  11. سوره اعراف، آیه 31۔
  12. سوره احزاب، آیه 21۔
  13. رازی، فخرالدین، التفسیر الکبیر، ج27، ص166۔
  14. رازی، فخرالدین، وہی ماخذ، ج27، ص166۔
  15. سوره سبا، آیه 47۔
  16. سوره ص، آیه 86۔
  17. سوره سبا، آیه 47۔


مآخذ

  • قرآن کریم۔
  • ابن حجر مکى، الصواعق المحرقه.
  • اصفهانى، ابونعیم، تاریخ اصفهان۔
  • حاکم نیشابوری، المستدر ک علی الصحیحین، تصحیح عبدالسلام بن محمد علّوش، دارالمعرفه، بیروت.
  • حسکانی، شواهد التنزیل
  • الخوارزمی، الموفق بن أحمد بن محمد المكي، المناقب.
  • رازی، فخرالدین، التفسیرالکبیر.
  • طبری، تفسیر طبری۔
  • الكوفي القاضي، الحافظ محمد بن سليمان، مناقب الامام أمير المؤمنين علي بن أبي طالب عليه السلام.
  • شافعی، گنجى، حافظ ابوعبداللّه، كفاية الطالب في مناقب علي بن ابي طالب (ع)۔
  • الكوفي القاضي، الحافظ محمد بن سليمان، مناقب الامام أمير المؤمنين علي بن ابي طالب عليه السلام، محقق: المحمودي، محمد باقر، مجمع احياء الثقافة الاسلامية، ايران - قم، الطبعة الاولى محرم الحرام 1412ہجری قمری۔

بیرونی ربط

مضمون کا ماخذ: دانشنامه كلام اسلامی تلخیص کے ساتھ۔