المیزان فی تفسیر القرآن (کتاب)

حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
غیر جامع
تلخیص کے محتاج
ویکی شیعہ سے
(تفسیر المیزان سے رجوع مکرر)
المیزان فی تفسیر القرآن
تفسیر المیزان
تفسیر المیزان
مشخصات
مصنفعلامہ سید محمد حسین طباطبائی
موضوعتفسیر قرآن
زبانعربی
تعداد جلد20
ترجمہاردو
طباعت اور اشاعت
ناشراسماعیلیان، دار الكتب الاسلامیہ
مقام اشاعتتہران، قم، بیروت (لبنان)
اردو ترجمہ
مترجمشیخ حسن رضا غدیری


المیزان فی تفسیر القرآن، تفسیر المیزان کے نام سے معروف، چودہویں صدی ہجری کے جامع ترین اور مفصل ترین شیعہ تفاسیر میں سے ہے۔ یہ تفسیر عربی زبان میں تالیف کی گئی ہے۔ اس کے مولف علامہ سید محمد حسین طباطبائی (1281۔1360ھ) ہیں۔

یہ تفسیر ایک ترتیبی تفسیر ہے اور روش کے لحاظ قرآن سے قرآن کی تفسیر کے اصول پر تحریر کی گئی ہے یعنی قرآنی آیات کی تفسیر دوسری آیات کی مدد سے۔ علمی مطالب میں انصاف اور دقیق و عمیق مباحث کی وجہ سے یہ کتاب شیعہ اور اہل سنت علما کے درمیان خاص اہمیت کی حامل تفسیر ہے۔ قرآن کی تحقیق اور قرآن فہمی میں اسے معتبر منبع مانا جاتا ہے۔ بہت ہی مختصر مدت میں اس تفسیر کے متعلق دسیوں کتابیں، سینکڑوں مقالے، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے تھیسس کافی تعداد میں لکھے جا چکے ہیں۔

اعجاز قرآن، قصص انبیا، روح و نفس، استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد اور احباط جیسے عمیق عناوین کی تحقیق اس کتاب کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں کہ جن کی تحقیق کرتے ہوئے ان سے متعلق آیات کے ذریعے مطالب بیان کئے گئے ہیں۔

تفسیر المیزان فارسی، انگلہجری شمسی، اردو، ترکی، انڈونیشین اور اسپینش زبانوں میں ترجمہ اور شائع ہو چکی ہے۔ اس کے اردو مترجم شیخ حسن رضا غدیری ہیں۔

مصنف

سید محمد حسین طباطبائی اپنے زمانے کے بہت بڑے فلسفی مانے جاتے تھے۔ آپ کی ولادت 29 ذی القعدہ 1321ھ کو تبریز کے نواحی گاؤں شادگان میں ہوئی۔[1]سنہ 1344ھ کو دینی تعلیم کیلئے نجف اشرف گئے۔ وہاں محمد حسین غروی اصفہانی، محمد حسین نائینی، حجت کوہ کمرہ ای، حسین بادکوبہ، ابو القاسم خوانساری اور سید علی قاضی جیسے علما سے علم حاصل کیا۔[2]

علامہ طباطبائی سنہ 1314 ہجری شمسی کو تبریز واپس لوٹ آئے اور سنہ 1325 ہجری شمسی کو قم تشریف لے گئے اور وہیں پر سکونت اختیار کی۔[3] علامہ طباطبائی قم میں قیام سے وفات تک حوزہ علمیہ قم میں فلسفہ اور تفسیر کی تدریس کے ساتھ ساتھ کتاب المیزان کی تالیف میں مشغول رہے اور آخرکار 20 سال کی زحمت کے بعد انہوں نے اس تفسیر کو رمضان کی 23ویں رات یعنی شب قدر سنہ 1392ھ بمطابق 30 اکتوبر 1972 ء میں مکمل کیا۔[4]

15 نومبر 1981ء کو آپ دار فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کو حرم حضرت معصومہ میں مسجد بالا سر کے پاس دفن کیا گیا۔[5] تفسیر المیزان کے علاوہ آپ کی دیگر تصانیف میں اصول فلسفہ و روش رئالیسم، بدایۃ الحکمۃ، نہایۃ الحکمۃ اور اسلام میں شیعہ شامل ہیں۔[6]

تفسیر کا اجمالی تعارف

بنیادی طور پر تفسیر المیزان ایک ترتیبی تفسیر ہے جس میں قرآن کی تفسیر خود قرآن کے ذریعے کی گئی ہے۔ یہ تفسر عربی زبان میں 20 جلدوں پر مشتمل ہے۔

مصنف نے اس تفسیر کی ابتداء میں ایک مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں تفسیر کی ارتقائی مراحل اور اس کے طریقوں پر اجمالی گفتگو کی ہیں، قدیم اور معاصر تفسیری طریقوں پر تنقید کرتے ہوئے قرآن کی تفسیر سے متعلق اپنا نظریہ بیان کیا ہے۔ آپ قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کرنے کو قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ قرار دیتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ طریقہ اہل بیتؑ کا بھی طریقہ یہی تھا۔ [7]

تفسیر کے اس طریقے میں شروع میں ایک ہی سیاق و سباق سے مربوط قرآن کی چند آیتوں کو ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد مذکورہ آیات کی تفسیر اور تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض مواقع پر سیاق و سباق کی مناسبت سے مطلوبہ آیات کی تفسیر اور تشریح کے بعد ان میں مذکور بعض عناوین سے مستقل طور پر بحث کی جاتی ہے اور اس کے مختلف پہلوں پر سیر حاصل بحث کی جاتی ہے۔ اس حصے میں مطرح ہونے والے ابحاث ممکن ہے قرآنی مباحث سے ہٹ کر فلسفی، اخلاقی، تاریخی یا اجتماعی موضوعات میں سے کوئی موضوع ہو جن کے عناوین کے ضمن میں مصنف اس طرح کے مباحث کی نوعیت بیان کرتے ہیں۔[8]

اسی طرح مؤلف چند آیتوں کی تفسیر بیان کرنے کے بعد بحث روائی کے عنوان سے ایک علیحدہ بحث شروع کرتے ہیں جس میں ان آیات کی تفسیر سے مربوط احادیث کی چھان بین کرتے ہیں۔[9]

قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کا طریقہ

تفسیر المیزان کی بنیاد قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر کے قاعدے پر رکھی گئی ہے۔ اس معنا میں کہ قرآن کی تفسیر کا پہلا معیار خود قرآن ہی ہے۔ علامہ طباطبائی اس بات کے معتقد ہیں کہ جب قرآن خود کو «تبیاناً لِکُلّ شیء»[10] (ہر چیز کو واضح کرنے والا) قرار دیتا ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ اپنے مفہوم اور معنانی کو بیان کرنے کے لئے کسی اور چیز کا محتاج ہو۔[11] آپ تفسیر کے اس طریقے کو احادیث سے بھی مستند قرار دیتے ہیں۔ نمونے کے طور پر نہج البلاغہ میں امام علیؑ قرآن کی توصیف میں فرماتے ہیں: اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو زبان عطا کرتا ہے اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر گواہ اور شاہد ہے۔[12] اسی طرح آپ تفسیر کے اس طریقے کو تفسیر کا سب سے قدیمی طریقہ قرار دیتے ہیں کہ قرآن کے اصل معلم یعنی محمدؐ و آل محمدؑ اسی طریقے کے پابند تھے۔[13]

علامہ طباطبائی قرآن کی تفسیر کے لئے خود قرآن سے ہی مدد مانگتے ہیں، مورد نظر آیت کے مجاور آیات جو ایک ہی سیاق میں پائے جاتے ہیں سے مدد لیتے‌ ہیں اور بعض اوقات مشابہ اور مشترک موضوعات پر مختلف سورتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ قرار دے کر مورد نظر آیت کے پیغام کو درک کرنے کے لئے دوسری آیات سے مدد لیتے ہیں۔[14]

تاریخ شروع اور تاریخ اختتام تفسیر المیزان

علامہ طباطبائی نے سنہ 1333ہجری شمسی کو تفسیر قرآن تحریر کرنا شروع کیا تھا اور 23 رمضان سنہ 1391ھ کو اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔[یادداشت 1] تفسیر المیزان کا عربی نسخے کی پہلی اشاعت انتشارات‌ دار الکتب الاسلامیۃ تہران (1375ھ) اور مؤسسۃ الاعلمی - بیروت (1382ھ و 1417ھ) اور فارسی نسخہ مؤسسہ‌ دار العلم قم، کانون انتشارات محمدی تہران اور دفتر انتشارات اسلامی (جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم) کی جانب سے کئی مرتبہ شایع ہو چکا ہے۔[16]

خصوصیات

علم تفسیر
اہم تفاسیر
شیعہ تفاسیر:
سنی تفاسیر:
تفسیری رجحان
تفسیری روشیں
اقسام تفسیر
اصطلاحات علم تفسیر
  • قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر: تفسیر المیزان میں قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ طریقہ اگرچہ اس سے پہلے بھی موجود تھا لیکن اس کا استعمال بہت کم تھا۔ جبکہ تفسیر المیزان میں اس بات پر بنا رکھی گئی ہے کہ ہر آیت کی تفسیر اسی طریقے سے کی جائے۔[17] علامہ طباطبائی کا نظریہ یہ ہے کہ اگرچہ قرآن کو سمجھنے کے لئے علمی اور فلسفی مباحث سے مدد لینا کوئی غلط کام نہیں ہے لیکن ان کی اپنی رائے یہ ہے کہ قرآن کی حقیقت کو سمجھنے کے دو راستے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم قرآن میں مطرح ہونے والے موضوعات پر علمی اور فلسفیانہ مباحث کے ذریعے ان موضوعات پر سیر حاصل بحث شروع کریں تاکہ مطلب ہمارے لئے مکمل طور پر واضح اور آشکار ہو جائے اس کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ آیت یا آیات بھی یہی کہتی ہے۔ یہ طریقہ اگرچہ علمی اور فکری حوالے سے ایک پسندیدہ طریقہ ہے لیکن قرآن اس طریقے کو پسند نہیں کرتا۔ (کیونہ اس طریقے کا خلاصہ خارج سے قرآن پر کسی چیز کو مسلط کرنا ہے) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ موضوع یا موضوعات کو سمجھنے اور آیت کے مفہوم اور مقصود کو مشخص کرنے کے لئے مذکورہ آیت یا آیات کے مشابہ آیات سے مدد لے کر آیت کو مفہوم اور مقصود کو سمجھنے کی کوشش کی جائے (اس کے بعد اگر کہا جائے کہ علم اور فلسفہ بھی یہی کہتا ہے تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے)، اور یہ وہ طریقہ ہے جسے تفسیر کہا جا سکتا ہے اور خود قرآن بھی اسی طریقے کو پسند کرتا ہے؛ کیونکہ قرآن خود کو ہر چیز کا بیان کرنے اور واضح کرنے والا قرار دیتا ہے، پس کیسے ممکن ہے کہ قرآن اپنے آپ کو بیان کرنے والا اور آشکار کرنے والا نہ ہو۔[18]
  • آیت کے بارے میں مختلف اقوال میں سے ایک و ترجیح دینا: تفسیر المیزان کی اپنے سے پہلے والی تفاسیر پر برتری اور فوقیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ عموما پہلے والی تفاسیر میں اگر کسی آیت کے بارے میں مختلف احتمالات پائے جاتے تو کسی ایک کو ترجیح دئے بغیر سب کو ذکر کرتے تھے لیکن المیزان کی یہ خصوصیت ہے کہ دوسری آیات اور قرائن و شواہد کی مدد سے ان احتمالات یا اقوال میں سے کسی ایک کو ترجیح دے کر آیت کے مقصود کو واضح کرتی ہے۔[19]
  • تفسیر موضوعی: علامہ طباطبائی نے بہت سے مواقع پر کسی موضوع سے مربوط تمام آیات کو اکھٹے کر کے ان سے نتیجہ اخذ کیا ہے۔ مثلا احباط سے مربوط تمام آیات کو جمع کرنے کے بعد یہ نتیجہ لیتے ہیں کہ قرآن میں احباط کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح علامہ طباطبائی قرآن کی مختلف سورتوں میں قرآنی داستانوں جیسے حضرت موسی کی داستان سے متعلق تمام آیات کو جمع کر کے ان کی تفسیر کی ہیں۔[20]
  • سورتوں کے اغراض و مقاصد کا بیان: علامہ طباطبائی کے مطابق قرآن کی ہر سورت کسی خاص مقصد اور ہدف کے لئے ترتیب دی گئی ہے اور اس میں موجود تمام آیات کا ایک مشترک غرض اور غایت ہے جسے بیان کئے بغیر سورت کی تفسیر نامکمل رہ جاتی ہے۔[21] اسی بنا پر آپ نے ہر سورت کے شروع میں اس کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا ہے۔
  • دور حاضر کے سماجی اور علمی مسائل سے بحث: کہا جاتا ہے کہ علامہ طباطبائی نے اپنی تفسیر میں دور حاضر کے شبہات اور اعتراضات کو مطرح کر کے دین اسلام اور عصر حاضر کے تقاضوں میں ہماہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ اس تفسیر کی ایک خاص خصوصیت میں سے ہے۔[22]
  • قرآن کو احادیث پر مقدم کرنا: علامہ طباطبائی نے اپنی تفسیر میں احادیث پر قرآن کی فوقیت اور تقدم کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاں بھی آیات کا سیاق و سباق احادیث کے مفاہیم کے ساتھ مخالف نظر آیا تو ان احادیث کو قبول کرنے سے اجتناب کیا ہے۔[23]

مضامین

خود علامہ طباطبائی کی تصریح کے مطابق تفسیر المیزان کے مباحث کے عمومی محور درج ذیل ہیں:

  1. اسماء و صفات الہی سے مربوط تعلیمات۔
  2. افعال الہی سے مربوط تعلیمات۔
  3. خداو اور بندوں کے درمیان واسطوں: جیسے لوح محفوظ، قلم اور عرش سے مربوط تعلیمات۔
  4. انسان کا دنیا میں آنے سے پہلے سے مربوط تعلیمات۔
  5. انسان کا دنیا میں آنے کے بعد سے مربوط تعلیمات۔
  6. انسان کا دنیا سے جانے کے بعد سے مربوط تعلیمات۔
  7. انسانی اخلاق سے مربوط تعلیمات۔[24]
  • تفسیر المیزان کی ابتداء میں ایک مقدمہ لکھا گیا ہے جس میں تفسیر کی تعریف مفسرین کے طبقات اور تفسیر کی تاریخ کی ابتداء عصر نزول قرآن اور صحابہ کے دور سے ہوئی اور عصر تابعین میں یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ بعد میں محدثین، متکلمین، فلاسفہ، متصوفہ اور طبیعیات اور علم کیمیا کے مسلمان دانشوروں نے تفسیر قرآن کے میدان میں قدم رکھا۔ اس مقدمے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کے ذریعے قرآن کی تفسیر کا طریقہ قرآن کے حقیقی معلمین یعنی اہل بیتؑ کا طریقہ ہے۔[25]

اس مقدمے کی بعد تفسیر المیزان کا پہلا مطلب یہ ہے کہ خداوند متعال نے اپنے كلام کا آغاز اپنے نام سے کیا ہے جو تمام اسامی میں سب سے پیارا نام ہے، تاکہ اس کے کلام میں جو کچھ بھی ہے سب کے سب خود خدا کی نشانی قرار پائے، اور خود خدا کے نام سے ہی مربوط رہے، اور یہ ایک قسم کی ادب ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں کی تربیت کرے اور ان کو یہ سکھائیں کہ وہ اپنے اعمال، افعال اور گفتار میں اس ادب کا خیال رکھے اور اپنی زندگی کے تمام امور کو خدا کے نام سے شروع کریں اور اپنے تمام امور پر خدا کا مہر لگائے تاکہ ان کے امور خدائی بن جائے اور فقط خدا کے لئے انجام پائے۔[26]

  • تفسیر المیزان کا آخری مطلب سورہ ناس میں کلمہ خناس کی مناسبت سے ہے، امالی صدوق میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ جب سورہ آل عمران کی آیت نمبر 135 : وَالَّذِینَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَۃً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِہِمْ۔ (ترجمہ: یہ لوگ اگر (اتفاقاً) کوئی فحش کام (کوئی بڑا برا کام) کر بیٹھیں یا کوئی عام گناہ کرکے اپنے اوپر ظلم کر گذریں تو (فوراً) اللہ کو یاد کرکے اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں۔) نازل ہوئی تو ابلیس نے مکّہ کے اوپر کوہ ثور پر گیا اور بلند فریاد کر کے جنوں میں سے اپنے ماتحتوں کو جمع کیا اور جب سب جمع ہو گئے تو اس نے کہا: «یہ آیت نازل ہوئی ہے کون ہے جو اس کے مقابلے میں قیام کرنے والا»؟ ایک نے کہا: «میں فلان وسیلے سے اس کا مقابلہ کروں گا»؟ ابلیس نے کہا: «یہ تمہاری بس کی بات نہیں ہے»۔ کسی اور نے کچھ اور کہا، ابلیس نے کہا: «یہ تمہاری بھی بس کی بات نہیں ہے»۔ وسواس خنّاس نے کہا: «یہ میری بس کی بات ہے»۔ ابلیس نے کہا: «کس چیز کے وسیلے سے»؟ خناس نے کہآ: «میں انسانوں کو وعدہ دیتا ہوں اور انہیں گناہ کرنے کا امیدوار بناؤنگا اور جب گناہ کا مرتکب ہو تو استغفار اور مغفرت مانگنا فراموش کراونگا»۔ ابلیس نے کہا: «تم خود ہی ہو جس کی مجھے تلاش تھی اور قیامت تک اس کا وظیفہ یہی قرار دیا ہے۔» [27]

منابع المیزان

علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان کی تدوین میں بہت ساری تفسیری، حدیثی اور تاریخی منابع کی طرف مراجعہ کیا ہے۔ اسی طرح صرف شیعہ تفاسیری آثار پر اکتفا کئے بغیر اہل سنت کے بھی اصلی متون کی طرف مراجعہ یا ہے اور یہ چیز علامہ کی روشنفکری اور اعتدال فکری کی علامت سمجھی جاتی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ طباطبائی کی کوشش رہی ہے کہ ہر موضوع پر اس کی گہرائی میں اتر کر بحث کی جائے اور کسی بھی صاحب نظر کی آراء سے غافل نہ رہے۔ اسی طرح اس سے بہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ علامہ منقولات میں تسلیم محض کے اصول پر کاربند نہیں تھے بلکہ چھان بین کے بعد بعض کو قبول کرتے ہیں اور بعض کو رد کرتے ہیں۔[28]

المیزان کی جامعیت کی ایک دلیل منابع کی وسعت اور گشتردگی ہے۔ اس کتاب میں مختلف موضوعات پر قدیم اور جدید بہت سارے منابع سے استفادہ کیا گیا ہے۔ المیزان، میں شیعہ اور اہل سنت کی تقریبا 27 مکتوب تفاسیر اور تقریبا 22 تاریخی منابع سے استفادہ کیا ہے۔[29]

تراجم

تفسیر المیزان کا اب تک مختلف زبانوں من جملہ فارسی، انگریزی، اردو، ترکی، اسپانیائی اور انڈونیشین زبان میں ترجمہ ہوا ہے۔[30]

ترجمہ فارسی

ترجمہ تفسیر المیزان: سید محمد باقر موسوی‌ ہمدانی(فارسی)

تفسیر المیزان کا فارسی زبان میں ترجمہ شروع میں حوزہ علمیہ قم کے بعض علماء من جملہ ناصر مکارم شیرازی، محمد تقی مصباح یزدی، سید محمد باقر موسوی ہمدانی، عبد الکریم نیری بروجردی نے 40 جلدوں میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمے کی پہلی 10 جلدوں کو انتشارت دارالعلم قم نے جبکہ باقی 30 جلدوں کو انتشارات محمدی نے منتشر کیا۔ اس کے بعد یہی ترجمہ بنیاد علمی و فکری علامہ طباطبائی نے مؤسسہ نشر فرہنگی رجاء اور مؤسسہ امیرکبیر کے تعاون سے 22 جلدوں میں دو دفعہ سنہ 1363 اور 1364ہجری شمسی کو منتشر کیا۔[31]

چونکہ اس کتاب کا تقریبا نصف ترجمہ سید محمد باقر موسوی ہمدانی کے توسط سے انجام پایا اس بنا پر علامہ طباطبائی نے یکسانیت پیدا کرنے کی خاطر باقی جلدوں کا بھی اسی مترجم کے توسط سے ترجمہ کرنے کی تاکید کی جس پر ایک بار پھر بقیہ جلدوں کو فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ ترجمہ دفترانتشارات اسلامی (جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم) کے توسط سے متعدد بار منتشر ہوا ہے۔[32]

انگریزی میں ترجمہ

سید سعید اختر رضوی نے موسسہ جہانی خدمات اسلامی کے تعاون سے تفسیر المیزان کی 6 جلدوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، لیکن مترجم کی موت سے یہ کام ادھورا رہ گیا۔ بعد میں مذکورہ موسسے نے باقی جلدوں کا ترجمہ مترجم مرحوم کے بیٹے محمد اختر رضوی کے سپرد کیا۔ اس وقت اس کتاب کی 13 جلدوں کا انگریزی ترجمہ سورہ انعام کی آیت نمبر 83 تک شائع ہوا ہے۔[33]

انڈونیشین زبان میں ترجمہ

الیاس حسن کے توسط سے اب تک تفسیر المیزان کی 7 جلدوں کا انڈونیشین زبان میں ترجمہ اور شائع ہوا ہے۔[34]

اردو زبان میں ترجمہ

ترجمہ تفسیر المیزان: حسن رضا غدیری (اردو)

اس کی کئی جلدوں کا اردو ترجمہ شیخ حسن رضا غدیری مقیم لندن نے کیا ہے۔[35]

علما کی رائے

  • شہید مطہری: تفسیر میزان قرآن کی بہترین تفاسیر میں سے ایک ہے۔ میں دعوی کر سکتا ہوں کہ مخصوص جوانب کے لحاظ سے صدر اسلام سے لے کر آج تک لکھی جانے والی سنی اور شیعہ تفسیروں میں سے بہترین تفسیر ہے۔[36]
  • حسن زادہ آملی: یہ تفسیر ایک ایسا شہر حکمت اور مدینہ فاضلہ ہے کہ جس میں بہترین و بلند ترین انسانی مباحث اور دین کے عقلی و نقلی شعبوں سے بحث کی گئی ہے۔
  • آیت اللہ جوادی آملی: جس طرح قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے اسی طرح استاد علامہ طباطبائی کی تفسیر بھی آرا، افکار اور علوم کا ایسا خزانہ ہیں کہ جنہیں اس حکیم الہی نے قرآن سے استفادہ کیا تھا اور اس خزانے کو دوسروں تک پہنچایا ہے۔
  • علامہ سید محمد حسین حسینی تہرانی: اس تفسیر میں ظاہری، باطنی، عقلی اور منقولہ، معانی اکٹھے ہوئے ہیں اور اس کی ہر سطر اس کا حق ادا کرتی ہے۔ اس تفسیر میں اس قدر جاذبیت ہے کہ اسے شیعہ عقائد کی سند کے لحاظ سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تفسیر دقیق اور حساس نکات کی نشاندہی میں نیز یہ جامعیت کے لحاظ سے بے نظیر نمونہ ہے۔
  • آیت اللہ جعفر سبحانی: اخلاقی اور معنوی لحاظ سے جو نقطہ توجہ کو مبذول کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے علامہ کی دانش و عقل سے وابستگی کا بیان گر اور عمل میں اخلاص اور رضائے خدا کے حصول کیلئے مسلسل کوشش کرنا تھا۔ اگر کوئی شخص ان کے علمی مراتب اور مقام سے آشنا نہ ہو تو کوئی سوچ نہیں سکتا کہ یہ شخص ایک نئی تفسیری روہجری شمسی، فلسفے میں نئے قوانین اور جدید مسائل کا بیانگر اور سیر و سلوک میں ایک استاد ہوگا۔ علامہ کو ایک نئی تفسیر کا بانی سمجھنا چاہئے جس کی مثالین صرف خاندان رسالت کی روایات میں موجود ہیں اور وہ ایک آیت کے ذریعہ دوسری آیت کے ابہام کو دور کرنا ہے۔
  • آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی: قرآن کی تفسیری روشوں میں سے عالی ترین روش قرآن کے ساتھ قرآن کی تفسیر کی بنیاد پر یہ تفسیر لکھی گئی ہے اور حق یہ ہے کہ یہ حقائق کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو ہم سے ابھی تک مخفی رہا۔
  • آیت اللہ ہادی معرفت: یہ تفسیر اندیشہ اسلامی کا ایک گنجینہ ہے۔ اس میں قابل توجہ حد تک نئی چیزوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے ۔۔۔ علامہ نے عمیق اور عالی تحقیقات بیان کی ہیں جو اسلامی، فلسفی اور علمی افکار میں تحول ایجاد کر سکتی ہے پس اس بنا پر اس تفسیر کے متعلق بحث و تمحیص کرنا شیعہ کے علمی مراکز کی ضروریات میں سے ہے۔
  • آیت اللہ محمدی گیلانی: تفسیر میزان ایک غیر معمولی تفسیر ہے۔ اس کے مؤلف نے قرآن کریم کی تفسیر و توضیح میں قواعد عقلیہ سے استفادہ نہیں کیا ہے بلکہ فلسفی اور روائی ابحاث کو ایک وسیلہ قرار دیا ہے تا کہ اس کے ذریعے ان علوم کی حقانیت کو قرآن اور اہل بیت کے ذریعے ثابت کر سکیں۔[37]

تفسیر المیزان سے مربوط کتابیں

  • موضوعی فہرست نگاری

اگرچہ تفسیر المیزان ایک ترتیبی تفسیر ہے لیکن گاہی اوقات کسی خاص موضوع کے بارے میں مختلف مقامات پر بحث کی گئی ہے۔ ان موضوعات کی طرف مراجعہ کرنے میں محققین کی آسانی کے لئے درج ذیل کتابوں میں اس تفسیر میں کسی خاص موضوع کے باری میں زیر بحث تمام موارد کو متعلقہ موضوعات کے ذیل میں فہرست وار بیان کیا گیا ہے:

  • مفتاح المیزان: یہ فہرست علیرضا میرزا محمد کی تحریر ہے اور تفسیر المیزان کے فارسی ترجمے کی 40 جلدوں کے مطابق تحریر کی گئی ہے جسے بنیاد فکری و علمی علامہ طباطبائی نے منتشر کیا ہے۔ یہ فہرست 3 جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے مرکز نشر فرہنگی رجاء نے سنہ 1367 ہجری شمسی کو منتشر کیا ہے۔[38]
  • راہنما و فہرست المیزان فی تفسیرالقرآن: یہ فہرست الیاس کلانتری کی تحریر ہے جسے تفسیر المیزان کے فارسی ترجمے کے مطابق تحریر کی گئی ہے۔ عباس ترجمان نے اس فہرست کا عربی میں دلیل‌ المیزان کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کا اصل نسخہ قم میں اور اس کا عربی ترجمہ بیروت میں منتشر ہوا ہے۔[39]
  • فہرست راہنمای موضوعی المیزان (عربی فارسی): یہ کتاب دفتر انتشارات اسلامی (جامعہ مدرسین) کی طرف سے نشر ہوئی ہے۔[40]

تفسیر المیزان کا خلاصہ

  • «مختصر المیزان فی تفسیر القرآن» عربی زبان میں تفسیر المیزان کا خلاصہ ہے جسے سلیم الحسنی نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب 604 صفحات پر مشتمل ہے اور سنہ 1417ھ کو بیروت میں اور قرآن کے حاشیے پر بھی شائع ہوئی ہے۔[41]
  • کتاب نور من القرآن (المیزان المختصر فی التفسیر) تفسیر المیزان کا ایک خلاصہ ہے جسے کمال مصطفی شاکر نے عربی زبان میں تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کو فاطمہ مشایخ نے تفسیر المیزان سے کچھ مزید مطالب کے اضافے کے ساتھ[42]خلاصہ تفسیر المیزان علامہ طباطبائی کے نام سے چار جلدوں میں فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کو انتشارات اسلام نے منتشر کیا ہے۔[43]
  • الیاس کلانتری کے توسط سے ایک اور خلاصہ مختصر المیزان فی تفسیر القرآن کے نام سے عربی زبان میں 6 جلدوں میں مرتب ہوا ہے جسے انتشارات اسوہ نے سنہ 1421ھ میں منتشر کیا ہے۔[44]
  • تفسیر طہور (فارسی میں قرآن کی سلیس تفسیر) جسے موسسہ فرہنگی جام طہور[یادداشت 2] نے قرآنی تعلیمات سے آشنائی کے لئے منتشر کیا ہے ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں قرآن کی ایک سلیس، مستند اور متقن تفسیر ہے جسے 6 جلدوں میں مرتب کرکے شائع کیا ہے۔[45]
  • با علامہ در المیزان از منظر پرسش و پاسخ

دو جلدوں پر مشتمل کتاب ہے جسے مراد علی شمس نے تفسیر میزان سے سوال و جواب کی صورت میں جمع کیا۔ اس کتاب میں فلسفی، اخلاقی، تاریخی ، سماجی، اعتقادی اور فقہی لحاظ سے سوالات کر کے ان کا جواب تفسیر المیزان سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب انتشارات اسوہ کے توسط سے شائع ہوئی ہے۔

  • کتاب الطباطبایی و منہجہ فی تفسیرہ المیزان

یہ کتاب علی رمضان أوسی نے عربی زبان میں تألیف کی اور حسین میر جلیلی کے توسط فارسی میں بنام روش علامہ طباطبایی در تفسیر المیزان میں ترجمہ ہوئی اور اسے چاپ بین الملل نے ایک جلد میں چاپ کیا ہے۔ یہ کتاب 400 صفحات پر مشتمل ہے جس میں تفسیر المیزان میں علامہ کی تفسیری روش اور اس کی خصوصیات کی وضاحت کی گئی ہے۔

تفسیر میزان سے متعلق دیگر کتابیں

تفسیر میزان کے متعلق مختلف عناوین سے تحقیقی صورت میں کتابیں تحقیقی رسالے لکھے گئے جن میں سے کچھ کے نام مذکور ہیں:

  • داستان‌ ہای قرآنی و تاریخ انبیا در المیزان، حسین فعال عراقی، تہران: نشر سبحان، چاپ اوّل، 1377، 2 جلد، 487-582 ص
  • فصلنامہ پژوہش‌ ہای قرآنی، شمارہ 9ـ10، ویژۀ تفسیر المیزان، مرکز فرہنگ و معارف قرآن دفتر تبلیغات اسلامی حوزۀ علمیہ قم
  • پرورش روح، نماز و عبادت در تفسیر المیزان، عباس عزیزی، قم: انتشارات نبوغ، چاپ اوّل، 1375، 387 ص
  • تحلیل مسألہ امامت در المیزان، شمس الدین ربیعی، تہران: انتشارات نور فاطمہ (س )، 1363
  • یہود در المیزان نوشتہ حسین فعال عراقی نژاد، انتشارات سبحان
  • فلسفہ و قرآن در زمینہ المیزان، عباس مخبر دزفولی، دفتر انتشارات اسلامی (جامعہ مدرسین حوزۀ علمیہ قم)
  • معاد در المیزان، شمس الدین ربیعی، تہران: انتشارات نور فاطمہ (س)
  • اعتبار سنجی تاریخ از منظر علامہ طباطبایی

مقالاجات اور تحقیقی رسالے

  • تفسیر قرآن بہ قرآن در تفسیر المیزان
  • روابط اجتماعی در اسلام
  • آزادی از دیدگاہ علامہ طباطبایی
  • امامت و حکومت در تفسیر المیزان
  • بررسی آراء اجتماعی علّامہ طباطبایی در المیزان
  • آثار برزخ در آثار علامہ طباطبایی
  • امامت از نظر علّامہ طباطبایی در تفسیر المیزان، دکتر سید جعفر شہیدی
  • تأویل در تفسیر المیزان، محمد ہادی معرفت
  • اعتبار سنجی تاریخ از منظر علامہ طباطبایی در المیزان، حسن احمدیان دلاویز[1]

حوالہ جات

  1. حسینی طہرانی، مہر تابان، 1426ھ، ص25۔
  2. حسینی طہرانی، مہر تابان، 1426ھ، ص21۔
  3. برگرفتہ از زندگی نامہ خود نوشت علامہ سید محمد حسین طباطبائی، نشریہ گلستان قرآن، آذر1381، شمارہ 136، ص5
  4. حسینی طہرانی، مہر تابان، 1426ھ، ص61 تا 63۔
  5. حسینی طہرانی، مہر تابان، 1426ھ، ص131۔
  6. حسن‌زادہ آملی، «آثار قلمی جناب علامہ طباطبایی از نظم و نثر»، ص18و19۔
  7. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج1، ص4-14۔
  8. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: ج1، ص24، 48، 86، 105۔
  9. صحرایی اردکانی، «نقد و بررسی حدیث در تفسیر المیزان»، ص198۔
  10. سورہ نحل، آیہ 88۔
  11. شمس الوحی تبریزی (سیرۂ عملی علامہ طباطبایی)، جوادی آملی، 1386ہجری شمسی، ص96۔
  12. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج1، ص12۔
  13. طباطبایی، المیزان، ج1، ص14۔
  14. نقیب زادہ، «مقایسۀ دو تفسیر علامہ طباطبائی (المیزان و البیان)»، ص84۔
  15. طباطبایی، المیزان، 1394ھ، ج20، ص398
  16. https://www.ibna.ir/fa/shortint/261809/ مصاحبہ سید محمدعلی ایازی۔
  17. استادی، آشنایی با تفاسیر، 1383ہجری شمسی، ص228۔
  18. موسوی ہمدانی، ترجمہ تفسیر المیزان، ج1، ص18۔
  19. استادی، آشنایی با تفاسیر، 1383ہجری شمسی، ص230۔
  20. استادی، آشنایی با تفاسیر، 1383ہجری شمسی، ص231۔
  21. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج1، ص16۔
  22. ایازی، «اندیشہ‌ہای اجتماعی در تفسیر المیزان»، ص78 - 81۔
  23. صحرایی اردکانی، «نقد و بررسی حدیث در تفسیر المیزان»، ص198و199۔
  24. طباطبایی، المیزان، ج1، ص13-14۔
  25. طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعيليان، ج1،صص4-14۔
  26. طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعیلیان، ج1، ص15۔
  27. طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعیلیان، ج20، ص398۔
  28. الاوسی، «دربارہ المیزان»، ص10۔
  29. طاہری، «جامعیت تفسیر المیزان»، ص157 تا 159۔
  30. ہاشم‌زادہ، «کتاب‌شناسی المیزان و علامہ»، ص190۔
  31. ہاشم‌زادہ، «کتاب‌شناسی المیزان و علامہ»، ص190۔
  32. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج1، ص770۔
  33. پایگاہ موسسہ جہانی خدمات اسلامی۔
  34. Tafsir al-Mizan، وبسایت کتابخانہ دانشگاہ ملی اسلامی سلطان شریف قاسم ریائو اندونزی۔
  35. مستبصرین عالمی نیٹ ورک
  36. مجموعہ آثار استاد شہید مطہری، ج 25، ص429
  37. «جوانہ‌ہای جاوید (بررسی‌ہایی دربارہ سبک‌ہای تفسیری علامہ طباطبائی و شناخت‌نامہ المیزان)»، ص20و21۔
  38. «جوانہ‌ہای جاوید (بررسی‌ہایی دربارہ سبک‌ہای تفسیری علامہ طباطبائی و شناخت‌نامہ المیزان)»، ص19۔
  39. «جوانہ‌ہای جاوید (بررسی‌ہایی دربارہ سبک‌ہای تفسیری علامہ طباطبائی و شناخت‌نامہ المیزان)»، ص19و20۔
  40. ہاشم‌زادہ، «کتاب‌شناسی المیزان و علامہ»، ص194۔
  41. ہاشم‌زادہ، «کتاب‌شناسی المیزان و علامہ»، ص195۔
  42. مشایخ، ترجمہ خلاصہ تفسیر المیزان، 1384ہجری شمسی، ص4 (مقدمہ مترجم)۔
  43. «جوانہ‌ہای جاوید (بررسی‌ہایی دربارہ سبک‌ہای تفسیری علامہ طباطبائی و شناخت‌نامہ المیزان)»، ص20۔
  44. ہاشم‌زادہ، «کتاب‌شناسی المیزان و علامہ»، ص195۔
  45. تفسیر طہور، نشرجام طہور، چاپ اول، 1394ہجری شمسی۔

نوٹ

  1. تمّ الکتاب والحمد للہ واتفق الفراغ من تألیفہ فی لیلۃ القدر المبارکۃ الثالثۃ والعشرین من لیالی شہر رمضان من شہور سنۃ اثنتین وتسعین وثلاثمائۃ بعد الألف من الہجرۃ والحمد للہ علی الدوام، والصلاۃ علی سیدنا محمد وآلہ والسلاء۔ [15]
  2. http://tahoor۔com/fa/Home/Page/1

مآخذ

  • استادی، رضا، آشنایی با تفاسیر، تہران، نشر قدس، چاپ دوم، 1383ہجری شمسی۔
  • الاوسی، علی، «دربارہ المیزان»، ترجمہ بہاالدین خرمشاہی، در کیہان فرہنگی، شمارہ 68، آبان 1368ہجری شمسی۔
  • ایازی، سید محمدعلی، «اندیشہ‌ہای اجتماعی در تفسیر المیزان»، در مجلہ بینات، شمارہ 34، تابستان 1381ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، شمس الوحی تبریزی (سیرۂ عملی علامہ طباطبایی)، قم، نشر اسراء، 1386ہجری شمسی۔
  • «جوانہ‌ہای جاوید (بررسی‌ہایی دربارہ سبک‌ہای تفسیری علامہ طباطبائی رہ و شناخت‌نامہ المیزان)»، در مجلہ پاسدار اسلام، شمارہ 311، آبان 1386ہجری شمسی۔
  • حسن زادہ آملی، حسن، «آثار قلمی جناب علامہ طباطبایی از نظم و نثر»، کتاب ماہ فلسفہ، شمارہ 18، اسفند 1387ہجری شمسی۔
  • حسینی طہرانی، سید محمدحسین، مہر تابان: یادنامۂ علامہ سید محمدحسین طباطبایی، مشہد، انتشارات نور ملکوت قرآن، 1426ھ۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، نشر دوستان، 1381ہجری شمسی۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دربارہ تفسیر المیزان، نشر دانہجری شمسی، شمارہ 7، آذر و دی 1360ش (بازبینی شدہ در 26 فوریہ 2012م)۔
  • خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران، نشر دوستان و ناہید، 1381ہجری شمسی۔
  • صحرایی اردکانی، کمال، «نقد و بررسی حدیث در تفسیر المیزان»، علوم حدیث، شمارہ 37و38، پاییز و زمستان 1384ہجری شمسی۔
  • طاہری، سید محمدرضا، «جامعیت تفسیر المیزان»، در مجلہ سراج منیر، شمارہ 12، پاییز 1392ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، تفسیر المیزان، ترجمۂ سید محمدباقر موسوی ہمدانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1382ہجری شمسی۔
  • مشایخ، فاطمہ، ترجمہ خلاصہ تفسیر المیزان نوشتہ کمال مصطفی شاکر، تہران، اسلام، 1384ہجری شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، تفسیر و مفسران، قم، نشر تمہید، 1388ہجری شمسی۔
  • نقیب زادہ، محمد، «مقایسۀ دو تفسیر علامہ طباطبائی (المیزان و البیان)» در مجلہ معرفت، آبان 1393ہجری شمسی۔
  • ہاشم زادہ، محمد علی، «کتاب شناسی المیزان و علامہ»، در مجلہ بینات، شمارہ 34، تابستان 1381ہجری شمسی۔
  • Tafsir al-Mizan، وبسایت کتابخانہ دانشگاہ ملی اسلامی سلطان شریف قاسم ریائو اندونزی، تاریخ بازدید: 16 اسفند 1399ہجری شمسی۔