حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
غیر جامع
تلخیص کے محتاج

المیزان فی تفسیر القرآن

ویکی شیعہ سے
(تفسیر المیزان سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
المیزان فی تفسیر القرآن
تفسیر المیزان.jpg
تفسیر المیزان
مؤلف: علامہ سید محمد حسین طباطبائی
زبان: عربی
موضوع: تفسیر قرآن
تعداد مجلد: 20
ناشر: اسماعیلیان، دار الكتب الاسلامیہ
محل نشر: تہران، قم، بیروت (لبنان)
ترجمہ
ترجمہ: اردو
مترجم: شیخ حسن رضا غدیری
تفسیر المیزان اور اس کے مصنف

المیزان فی تفسیر القرآن، تفسیر المیزان کے نام سے معروف، چودہویں صدی ہجری میں شیعوں کی جامع ترین و مفصل ترین تفاسیر قرآن میں، عربی زبان میں تالیف کی گئی ہے۔ اس کے مولف علامہ سید محمد حسین طباطبائی (1281۔1360 ھ) ہیں۔

یہ تفسیر ترتیبی اور روش کے لحاظ قرآن کی تفسیر قرآن کے ساتھ تفسیر ہے۔ علمی مطالب، دقت اور عمق کی وجہ سے شیعہ و سنی علما کے درمیان مخصوص اہمیت کی حامل تفسیر ہے۔ قرآن کی تحقیق اور قرآن فہمی میں اسے معتبر منبع مانا جاتا ہے۔ بہت ہی مختصر مدت میں اس تفسیر کے متعلق دسیوں کتابیں، سینکڑوں مقالے، ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے تھیسس کافی تعداد میں لکھے جا چکے ہیں۔

اعجاز قرآن، قصص انبیا، روح و نفس، استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد اور احباط جیسے عمیق عناوین کی تحقیق اس کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں کہ جن کی تحقیق کرتے ہوئے ان سے متعلق آیات کے ذریعے مطالب بیان کئے گئے ہیں۔

تفسیر المیزان فارسی، انگلش، اردو، ترکی اور اسپینش زبانوں میں ترجمہ اور شائع ہو چکی ہے۔ اس کے اردو مترجم شیخ حسن رضا غدیری ہیں۔

مصنف


سید محمد حسین طباطبائی اپنے زمانے کے بہت بڑے فلسفی مانے جاتے تھے۔ آپ کی ولادت 29 ذی القعدہ 1321 ھ کو تبریز کے نواحی گاؤں شادگان میں ہوئی۔ 1304 میں دینی تعلیم کے مراحل کیلئے نجف اشرف گئے۔ وہاں محمد حسین غروی اصفہانی، محمد حسین نائینی، حجت کوه کمره ای، حسین بادکوبہ، ابو القاسم خوانساری اور سید علی قاضی جیسے علما سے علم حاصل کیا۔ مقام اجتہاد حاصل کرنے کے بعد 1314 شمسی کو تبریز واپس لوٹ آئے۔ 1325 شمسی سے قم اقامت اختیار کی۔[1]

علامہ طباطبائی قم میں قیام سے وفات تک حوزہ علمیہ قم میں المیزان فی تفسیر القرآن کی تالیف کے ساتھ ساتھ فلسفے اور تفسیر کی تدریس میں ممشغول رہے اور آخرکار 20 سال کی زحمت کے بعد انہوں نے اس تفسیر کو 23 ویں شب قدر سنہ 1392 ھ بمطابق 30 اکتوبر 1972 ء میں مکمل کیا۔ 15 نومبر 1981 ء میں اس جہان کو الوداع کہا۔ آپ کو حرم حضرت معصومہ میں مسجد بالا سر کے پاس دفن کیا گیا۔ اصول فلسفہ و روش رئالیسم، بدایۃ الحکمۃ، نہایۃ الحکمۃ و شیعہ در اسلام آپ کی علمی کاوشیں ہیں۔

تعارف تفسیر

بنیادی طور پر تفسیر میزان قرآن کے ساتھ قرآن کی تفسیر کے اصول پر لکھی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے یہ کہ قرآن کی تفسیر کا پہلا معیار خود قرآن ہے۔ علامہ طباطبائی یقین رکھتے ہیں کہ جب خود قرآن تبیاناً لِکُلّ شیء[2](ہر چیز کا بیان گر) کے ساتھ اپنی تعریف کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنا معنی بیان کرنے میں کسی دوسرے کا محتاج ہو۔[3] یہ صحیح ہے کہ قرآن کا ظاھر اور باطن ہے اور ہم قرآن کی تاویل اور باطنی معنا کے سمجھنے میں قرآن کے شارحین اور حقیقی مفسرین پیغمبر اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بیان کے محتاج ہیں لیکن بنیادی طور پر ہم قرآن فہمی میں کسی دوسری چیز کے محتاج نہیں ہیں۔

جہاں محکم آیات مشکل اور متشابہ آیات کی تفسیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہاں اسباب نزول، مفسرین کی آرا اور احادیث دوسرے درجے میں قرار پائیں گی۔

تفسیر قرآن کی یہ روش کوئی نئی اختراع نہیں تھی بلکہ بعض کے بقول یہ پہلے سے موجود تھی۔ اس تفسیر میں اس روش پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے اسی وجہ سے یہ تفسیر قرآن بالقرآن کے ساتھ مشہور ہو گئی ہے اور تفسیر میزان کی ہر آیت کی تفسیر میں یہی روش رہی ہے جبکہ دیگر تفاسیر میں اس روش سے کم استفادہ کیا گیا ہے۔

روش تالیف

مصنف ابتدا میں ایک سیاق سے مربوط چند آیات کا مجموعہ ذکر کرتے ہیں پھر لغت اور دوسری آیات میں اس لغت کے استعمال کے ذریعے آیات کے مفرد الفاظ کے معانی بیان کرتے ہیں اور لغوی اور اشتقاقی ابحاث بیان کرتے ہیں۔پھر بیان آیات کے عنوان کے تحت ہر آیت کی جدا جدا تفسیر اور مفہوم بیان کرتے ہیں۔ ضروری مقامات پر سنی اور شیعہ دوسرے مفسرین کے آرا پر نقد و نظر بیان کیا جاتا ہے۔ آخر میں بحث روائی کے عنوان کے تحت سنی اور شیعہ تفاسیر میں ان آیات سے مربوط احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔

اسی طرح تفسیر کے دوران موضوع کی مناسبت سے فلسفی، اجتماعی، تاریخی یا علمی انداز میں تحلیلی اور توصیفی ابحاث ذکر کی جاتی ہیں کہ جو حقیقت میں آیات کی بیشتر توضیح کی ایک کوشش ہوتی ہے۔

علامہ طباطبائی کے مختلف علوم پر تسلط کی وجہ سے ایک جامع تفسیر ہے اور اس میں دین کی مختلف ابحاث کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔علامہ کی قرآن پر حیرت انگیز گرفت اور دقت نظر کی وجہ سے تفسیر میزان میں کئی دفعہ اور متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک سیاق سے متعلق آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ قرار دینے کے ذریعے دلائل عقلی اور قرآنی دلائل کے استشہاد کی مدد سے مفاہیم اور مصادیق کو بیان کرتے ہیں۔ علمی اعتبار سے حق و انصاف یہ ہے کہ تفسیر میزان مضبوط روش اور دقت مضامین کی وجہ سےایران اور جہان اسلام کے اہل سنت اور شیعہ کی جانب سے بہت زیادہ مورد توجہ ہے۔

خصوصیات

علم تفسیر
اہم تفاسیر
شیعہ تفاسیر:
سنی تفاسیر:
تفسیری رجحان
تفسیری روشیں
اقسام تفسیر
اصطلاحات علم تفسیر

یہ تفسیر ہر لحاظ سے اہم ترین خصوصیات کی حامل ہے مثلا:

  • گذشتہ تفسیروں میں عام طور پر ایسا ہوتا کہ جب کسی آیت میں مختلف احتمالات ہوتے تو مفسر صرف احتمالات کو ترجیح دیئے بغیر نقل کرتا جبکہ اس تفسیر میں ایسا نہیں ہے بلکہ ایسے موارد میں دیگر آیات و قرآئن کی مدد سے کسی ایک معنا کو ترجیح اور مقصود کو واضح کیا ہے۔
  • استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد، احباط جیسی دینی اور قرآنی اصطلاحات کو دیگر آیات کی مدد سے واضح اور توضیح دی گئی ہے۔
  • تفسیر میزان سے پہلے ایک موضوع سے متعلق آیات کو ایک جگہ ذکر کرکے ان سے ایک نتیجہ حاصل کرنے کی روش نہیں تھی لیکن علامہ بہت سے مقامات پر اس روش کو بروئے کار لائے ہیں۔ مثلا احباط سے متعلق تمام آیات کو ایک جگہ ذکر کر کے اس سے بیان کیا کہ قرآن کی اس سے مراد کیا ہے۔
  • قصص انبیا سے آگاہی کیلئے علامہ کا کام ایک بہترین مآخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کے ساتھ مقائسہ کیا اور ان میں تحریف شدہ مقامات کے وضاحت کی ہے۔
  • تفسیر میزان کی واضح خصوصیات میں سے ایک جانب شبہات کی طرف توجہ، مخالفین کے اعتراضات اور ان کی تحقیق ہے تو دوسری جانب علمی،فلسفی اور کلامی ابحاث کا لحاظ کرتے ہوئے مختلف ادوار کے ساتھ دین کی تطبیق کی کوشش ہے۔

تراجم

تفسیر میزان 20 جلدوں میں 8000 صفحات پر محیط عربی زبان کی تفسیر ہے۔ شروع میں حوزہ علمیہ قم کے بعض اساتذہ، ناصر مکارم شیرازی، محمد تقی مصباح یزدی، سید محمد باقر موسوی همدانی، عبد الکریم بروجردی و ... نے اس کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا جو 40 جلدوں اور 16000 صفحات پر مشتمل ہے۔ سید محمد باقر موسوی ہمدانی نے اس تفسیر کا تقریبا نصف حصہ فارسی میں ترجمہ کیا تھا پھر مولف کتاب سید محمد حسین طباطبائی کی فرمائش پر اس کی باقی جلدوں کا ترجمہ بھی فارسی میں کیا۔ عربی زبان کا متن دارالکتب الاسلامیہ، تہران (1375 ھ) اور مؤسسہ الاعلمی، بیروت (1382 ھ و 1417 ھ)، نے چھاپا و فارسی متن جامعہ مدرسین قم سے وابسطہ مؤسسہ دار العلم قم، انتشارات محمدی تہران اور دفتر انتشارات اسلامی متعدد مرتبہ چھپا ہے۔ یہ گرانقدر تفسیر ابھی تک فارسی، انگریزی، اردو، ترکی اور اسپانیائی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ انگریزی زبان میں اول قرآن سے لے کر سورہ نساٗ کی آیت 74 تک 4 عربی جلدوں کا متن 8 جلدوں میں تہران سے چھپی ہے لیکن اس کے بعد اسے جاری نہ رکھا جا سکا۔ ایران سے باہر کسی دوسرے ملک میں بھی اس کا انگلش ترجمہ چھپ چکا ہے۔ اس کی کئی جلدوں کا اردو ترجمہ شیخ حسن رضا غدیری مقیم لندن نے کیا ہے جو زیارات ڈاٹ نیٹ پر موجود ہے۔[4]

علما کی رائے

  • حسن زادہ آملی: یہ تفسیر ایک ایسا شہر حکمت اور مدینہ فاضلہ ہے کہ جس میں بہترین و بلند ترین انسانی مباحث اور دین کے عقلی و نقلی شعبوں سے بحث کی گئی ہے۔
  • علامہ سید محمد حسین حسینی تہرانی: اس تفسیر میں ظاہری، باطنی، عقلی اور منقولہ، معانی اکٹھے ہوئے ہیں اور اس کی ہر سطر اس کا حق ادا کرتی ہے۔ اس تفسیر میں اس قدر جاذبیت ہے کہ اسے شیعہ عقائد کی سند کے لحاظ سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تفسیر دقیق اور حساس نکات کی نشاندہی میں نیز یہ جامعیت کے لحاظ سے بے نظیر نمونہ ہے۔
  • آیت اللہ جعفر سبحانی: اخلاقی اور معنوی لحاظ سے جو نقطہ توجہ کو مبذول کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر لحاظ سے علامہ کی دانش و عقل سے وابستگی کا بیان گر اور عمل میں اخلاص اور رضائے خدا کے حصول کیلئے مسلسل کوشش کرنا تھا۔ اگر کوئی شخص ان کے علمی مراتب اور مقام سے آشنا نہ ہو تو کوئی سوچ نہیں سکتا کہ یہ شخص ایک نئی تفسیری روش، فلسفے میں نئے قوانین اور جدید مسائل کا بیانگر اور سیر و سلوک میں ایک استاد ہوگا۔ علامہ کو ایک نئی تفسیر کا بانی سمجھنا چاہئے جس کی مثالین صرف خاندان رسالت کی روایات میں موجود ہیں اور وہ ایک آیت کے ذریعہ دوسری آیت کے ابہام کو دور کرنا ہے۔
  • آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی: قرآن کی تفسیری روشوں میں سے عالی ترین روش قرآن کے ساتھ قرآن کی تفسیر کی بنیاد پر یہ تفسیر لکھی گئی ہے اور حق یہ ہے کہ یہ حقائق کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو ہم سے ابھی تک مخفی رہا۔
  • آیت اللہ ہادی معرفت: یہ تفسیر اندیشہ اسلامی کا ایک گنجینہ ہے۔ اس میں قابل توجہ حد تک نئی چیزوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے ... علامہ نے عمیق اور عالی تحقیقات بیان کی ہیں جو اسلامی، فلسفی اور علمی افکار میں تحول ایجاد کر سکتی ہے پس اس بنا پر اس تفسیر کے متعلق بحث و تمحیص کرنا شیعہ کے علمی مراکز کی ضروریات میں سے ہے۔
  • آیت اللہ محمدی گیلانی: تفسیر میزان ایک غیر معمولی تفسیر ہے۔ اس کے مؤلف نے قرآن کریم کی تفسیر و توضیح میں قواعد عقلیہ سے استفادہ نہیں کیا ہے بلکہ فلسفی اور روائی ابحاث کو ایک وسیلہ قرار دیا ہے تا کہ اس کے ذریعے ان علوم کی حقانیت کو قرآن اور اہل بیت کے ذریعے ثابت کر سکیں۔[5]

تفسیر سے متعلق کتابیں

  • موضوعی فہرست نگاری

ترتیبی تفسیروں کی یہ خصوصیت ہے کہ ایک ہی موضوع کی بحث تفسیر میں مختلف جگہوں پر مذکور ہوتی ہے لہذا ایک ہی بحث کو مختلف جگہوں سے پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آسانی کی خاطر اور کسی بھی تالیف میں تحقیق کرنے کے پیش نظر ایک موضوع کے متعلق مخلف مقامات پر کی جانے والی ابحاث کی فہرست کو الف ب کی ترتیب کے مطابق اکٹھا ایک جگہ ذکر کر دیا جاتا ہے۔

تفسیر میزان کے متعلق چند کتابیں اس طرز کی تالیف گئی ہیں۔ آقای میرزا محمد نے بنام مفتاح المیزان 40 جلدوں والی فارسی ترجمے کی میزان کی فہرست 3 جلدوں ترتیب ہے۔ اسی الیاس کلانتری نے عربی اور فارسی کی اکٹھی فہرست ترتیب دی ہے۔ علی رضا مرزا محمد اور ان کے ساتھیوں نے 3 جلدوں میں امیر کبیر کی فارسی تفسیر میزان کو ترتیب دیا۔

  • خلاصہ نگاری

مصطفی شاکر نے عربی زبان میں تفسیر میزان کا خلاصہ ایک جلد میں لکھا ہے۔ فاطمہ نے اس خلاصے کو بنام خلاصہ تفسیر المیزان کے نام سے فارسی زبان میں منتقل کیا تو اس کی 4 جلدیں بنی ہیں اور انتشارات اسلام نے اسے چھاپا ہے۔ مختصر المیزان فی تفسیر القرآن کے نام سے عربی زبان میں الیاس کلانتری نے 6 جلدوں میں اس تفسیر کا خلاصہ کیا ہے جو انتشارات اسوہ کے توسط سے چھپا ہے۔

  • با علامہ در المیزان از منظر پرسش و پاسخ

دو جلدوں میں کتاب ہے جسے مراد علی شمس نے تفسیر میزان سے سوال و جواب کی صورت میں جمع کیا۔ فلسفی، اخلاقی، تاریخی ، معاشرتی، اعتقادی اور فقهی عنوان سے سوالات کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب انتشارات اسوہ نے چاپ کی ہے۔

  • کتاب الطباطبایی و منہجه فی تفسیره المیزان

یہ کتاب علی رمضان أوسی نے عربی زبان میں تألیف کی اور حسین میر جلیلی کے توسط فارسی میں بنام روش علامہ طباطبایی در تفسیر المیزان میں ترجمہ ہوئی اور اسے چاپ بین الملل نے ایک جلد میں چاپ کیا ہے. یہ کتاب 400 صفحات پر مشتمل ہے جس میں تفسیر المیزان میں علامہ کی تفسیری روش اور اس کی خصوصیات کی وضاحت کی گئی ہے۔

منابع المیزان

مندرجہ بالا کتاب کے مطابق علامہ نے درج ذیل کتابوں سے تفسیر میزان میں استفادہ کیا ہے :

تفاسیر: تفسیر مفاتیح الغیب فخر رازی، تفسیر مجمع البیان، تفسیر ابن عباس، تفسیر کشاف، تفسیر طبری، تفسیر بیضاوی ، تفسیر أبی السعود، تفسیر در المنثور، تفسیر روح المعانی، الجواہر (طنطاوی )، تفسیر المنار، تفسیر البرہان، تفسیر صافی، تفسیر نعمانی، تفسیر قمی، تفسیر نورالثقلین، بعض آیات الاحکام سے متعلق کتابیں.

علامہ نے روائی ابحاث میں زیادہ تر تفسیر در المنثور و تفسیر نور الثقلین سے استفادہ کیا ہے ۔

کتب لغت: مفردات راغب، صحاح اللغۃ، المصباح المنیر، قاموس اللغۃ، لسان العرب، المزہر فی علوم اللغۃ.

تاریخی کتابیں: متعدد، مختلف دائرة المعارف، تورات ، انجیل ،رسائل ،اس زمانے کے اخبارات و... یہ سب ایسے مآخذ ہیں جن سے علامہ نے اپنی تفسیر میں استفادہ کیا ہے ۔

تفسیر میزان سے متعلق دیگر کتابیں

تفسیر میزان کے متعلق مختلف عناوین سے تحقیقی صورت میں کتابیں تحقیقی رسالے لکھے گئے جن میں سے کچھ کے نام مذکور ہیں:

  • داستان‌ ہای قرآنی و تاریخ انبیا در المیزان، حسین فعال عراقی، تہران: نشر سبحان، چاپ اوّل، 1377، 2 جلد، 487-582 ص
  • فصلنامہ پژوہش‌ ہای قرآنی، شماره 9ـ10، ویژۀ تفسیر المیزان، مرکز فرہنگ و معارف قرآن دفتر تبلیغات اسلامی حوزۀ علمیہ قم
  • پرورش روح، نماز و عبادت در تفسیر المیزان، عباس عزیزی، قم: انتشارات نبوغ، چاپ اوّل، 1375، 387 ص
  • تحلیل مسألہ امامت در المیزان، شمس الدین ربیعی، تہران: انتشارات نور فاطمہ (س )، 1363
  • یہود در المیزان نوشتہ حسین فعال عراقی نژاد، انتشارات سبحان
  • فلسفہ و قرآن در زمینہ المیزان، عباس مخبر دزفولی، دفتر انتشارات اسلامی (جامعہ مدرسین حوزۀ علمیہ قم)
  • معاد در المیزان، شمس الدین ربیعی، تہران: انتشارات نور فاطمہ (س)
  • اعتبار سنجی تاریخ از منظر علامہ طباطبایی

مقالاجات اور تحقیقی رسالے

  • تفسیر قرآن بہ قرآن در تفسیر المیزان
  • روابط اجتماعی در اسلام
  • آزادی از دیدگاه علامہ طباطبایی
  • امامت و حکومت در تفسیر المیزان
  • بررسی آراء اجتماعی علّامہ طباطبایی در المیزان
  • آثار برزخ در آثار علامہ طباطبایی
  • امامت از نظر علّامہ طباطبایی در تفسیر المیزان، دکتر سید جعفر شہیدی
  • تأویل در تفسیر المیزان، محمد ہادی معرفت
  • اعتبار سنجی تاریخ از منظر علامہ طباطبایی در المیزان، حسن احمدیان دلاویز[2]

حوالہ جات

  1. برگرفتہ از زندگی نامہ خود نوشت علامہ سید محمد حسین طباطبائی، نشریہ گلستان قرآن، آذر1381، شماره 136، ص5
  2. نحل 88
  3. شمس الوحی تبریزی (سیرهٔ عملی علامہ طباطبایی) آیت اللہ جوادی آملی، نشر اسراء، قم: ۱۳۸۶، ص ۹۶
  4. http://www.ziyaraat.net/findbook.asp?details=yes&page=1&srchwhat=All&escritor=All&tema=Quran&idioma=All&orderby=titulo
  5. [[1]]


کتابیات

  • ت‍رج‍م‍ہ ت‍ف‍س‍ی‍ر ال‍م‍ی‍زان. ت‍ال‍ی‍ف سید م‍ح‍م‍د ح‍س‍ی‍ن طب‍اطب‍ایی/، ت‍رج‍م‍ہ سید م‍ح‍م‍د ب‍اق‍ر م‍وس‍وی ہم‍دان‍ی، دفتر انتشارات اسلامی، قم: ۱۳۸۲.
  • درباره تفسیر المیزان. بہاء الدین خرم شاہی، نشر دانش، آذر و دی ۱۳۶۰، شماره ۷. بازبینی شده در ۲۶ فوریہ ۲۰۱۲.
  • م‍ہر ت‍اب‍ان. ی‍اد ن‍ام‍ہ ع‍لام‍ہ سید م‍ح‍م‍د ح‍س‍ی‍ن طب‍اطب‍ایی، ت‍أل‍ی‍ف سید م‍ح‍م‍د ح‍س‍ی‍ن ح‍س‍ی‍ن‍ی طہران‍ی/، انتشارات نور ملکوت قرآن، مشہد: ۱۴۲۶ هـ. ق. (بخشی از متن کتاب)
  • دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی. بہاء الدین خرم شاہی، نشر دوستان ـ ناہید، تہران: ۱۳۸۱.
  • تفسیر و مفسران. آیت اللہ محمد ہادی معرفت، نشر تمہید، قم: ۱۳۸۸، جلد ۲، ص ۴۹۷.
  • شمس الوحی تبریزی (سیرهٔ عملی علامہ طباطبایی). آیت اللہ جوادی آملی، نشر اسراء، قم: ۱۳۸۶.