علم کلام

ویکی شیعہ سے
(کلام سے رجوع مکرر)

کلام اسلامی یا علم کلام، علوم اسلامی کی ایک شاخ ہے جس میں اسلامی عقاید سے بحث اور اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔ کلام اپنے مسائل کے اثبات اور مخاطب کو قانع کرنے کے لئے منطق کی مختلف روشوں جیسے قیاس، تمثیل و جدل سے استفادہ کرتا ہے۔ علم کلام کے مسائل اصول دین یا اصول عقاید میں منحصر نہیں ہیں۔ بلکہ متکلم کا فریضہ ہے کہ وہ تعالیم و احکام دینی کے خلاف ہونے والے تمام اعتراضات کا جواب دے۔

اس علم کی تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں کہا گیا ہے کہ اس کا آغاز صدر اسلام میں ہی ہو گیا تھا۔ اس کا پہلا مسئلہ جبر و اختیار تھا۔ صفات خداوند کے بارے میں بحث، خاص طور پر توحید و عدل الہی، مسئلہ حسن و قبح افعال، قضا و قدر، بحث نبوت، معاد، تکلیف شرعی و معجزہ علم کلام کے مہم مباحث میں سے ہیں۔ علم کلام کے مباحث میں اختلاف اسلام میں بہت سے کلامی فرقوں کے وجود میں آنے کا سبب بنا۔ شیعوں کے مہم ترین کلامی فرقے امامیہ، زیدیہ، اسماعیلیہ، غلات و کیسانیہ اور اہل سنت کے مہم ترین کلامی فرقے خوارج، مُرجئہ، معتزلہ، اہل حدیث، اشاعره، ماتُریدیہ و وہابیت ذکر ہوئے ہیں۔

کلام جدید ایسا علم ہے جس میں علم کلام (قدیم) سے ہم آہنگ یا مختلف ہونے کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ کلام جدید کے مباحث یہ ہیں: اس کی تعریف، ہدف و مقصد، دین کے حدود و زبان، بشریت کے لئے دین کی ضرورت، عقل و دین، عقل و ایمان، علم و دین اور تجربہ دینی و تکثر گرائی دینی۔

تعریف و نام

علم کلام علوم اسلامی میں ایک ہے اور اس میں اسلامی عقاید کے بارے میں بحث ہوتی ہے۔[1] اس طرح سے کہ اس میں ان عقاید کی توضیح دی جاتی اور ان سے دفاع کیا جاتا ہے۔[2] البتہ اس کی دوسری تعریفیں بھی بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ہر ایک میں اس کی خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے۔[3] مثلا علم کلام ایک نظری علم ہے جس کی مدد سے دینی عقاید کو استدلال کے ساتھ اثبات کیا جا سکتا ہے۔[4] یا ایسا علم ہے جس میں ذات و صفات و افعال خداوند سے بحث ہوتی ہے۔[5]

  • نام و وجہ تسمیہ

اس علم کا مشہور ترین نام کلام ہے اور اس علم کے علماء کو متکلم کہتے ہیں۔[6] کیوں اس علم کو کلام کہتے ہیں اس بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔[یادداشت 1] ان میں سے بہترین[7] یہ ہے کہ علم کلام انسان کے اندر مناظرہ و جدال کی قدرت کو تقویت پہچاتا ہے اور مناظرہ تو تکلم و گفتگو ہی کا نام ہے۔[8] ماضی میں علم کلام کو دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا جیسے: علم اصول دین، علم اصول عقاید، فقہ اکبر، علم توحید، علم الذات و الصفات۔[9]

موضوع، اہداف و روش

  • موضوع

متکلمین علم کلام کے موضوع کے بارے میں اتفاق نظر نہیں رکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس علم کا کوئی معین موضوع نہیں ہے۔[10] البتہ جو اس کے لئے موضوع کے قائل ہیں ان میں سے ہر ایک نے اس کے لئے ایک موضوع ذکر کیا ہے۔ ان میں سے اہم ترین یہ ہیں: [11] موجود بما ھو موجود،[12] معلومات خاص (وہ معارف جن سے عقاید دینی کے اثبات کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے۔)،[13] وجود خداوند، وجود ممکنات، ذات و صفات خداوند،[14] عقاید دینی،[15] اسی طرح سے کہا گیا ہے کہ طول تاریخ میں علم کلام کا تکامل و ارتقاء سبب بنا ہے کہ مختلف ادوار میں اس کے موضوعات مختلف ہوں۔[16]

  • اہداف و فوائد

علماء و متفکرین نے علم کلام کے اہداف ذکر کئے ہیں۔ ان میں بعض یہ ہیں:

  1. اسلامی عقاید کا استخراج و استنباط (تحقیقی دینی معرفت)[17]
  2. اسلامی اعتقادات کے مفاہیم و مسائل کی توضیح و تشریح[18]
  3. عقاید کے نظریات کو منظم طور پر پیش کرنا[19]
  4. اعتقادات و تعالیم دینی کا اثبات[20]
  5. شبہات و اعتراضات کے مقابلہ میں دینی عقاید کا دفاع[21]
  • روش

علم کلام اپنے اہداف، نقطہ نظرات، مسائل و مخاطبین کے مطابق استدلال میں مختلف روشوں سے استفادہ کرتا ہے۔[22] کہا گیا ہے کہ یہ علم شناخت عقاید دینی اور اس کے اثبات کے لئے ایسی روش کا محتاج ہے جو یقین آور ہو۔ جیسے روش قیاس (قیاس منطقی) البتہ یہ اپنے دوسرے اہداف کے لئے جن میں دینی عقاید کا دفاع شامل ہے، ان یقین آور روشوں کے علاوہ دوسری روشوں سے استفادہ کر سکتا ہے جیسے تمثیل، خطابہ، جدل وغیرہ کی روشیں اور روش عقلی و نقلی، تجربیاتی و تاریخی۔[23]

تاریخچہ اور سبب پیدائش

مشہور نظریہ یہ ہے[24] کہ اسلامی فتوحات اور حکومت اسلامی کے دائرہ میں وسعت کے بعد مسلمانوں کا اختلاط دوسرے ادیان و مذاہب کے افراد کے ساتھ ہونے لگا اور یہ چیز دوسرے ادیان و مذاہب کے آرا و نظریات کے شائع ہونے کا سبب بنی۔ لہذا مسلمانوں نے اپنے عقاید و نظریات کے دفاع اور اعتقادی اعتراضات و شہبات کے جواب کے لئے علم کلام کے مباحث اور روشوں کو رونق حاصل ہوئی اور یہی چیز علم کلام کے وجود میں آنے کا سبب بنی۔[25]

دوسرے نظریوں کے مطابق، علم کلام کی تاریخ کو واضح کرنے کے لئے ہمیں ابتدائی طور پر علم کلام سے کیا مراد ہے اسے روشن کرنا پڑے گا۔[26] اگر علم کلام سے مراد دینی عقاید کے سلسلہ میں گفتگو کرنا ہو تو اس کی تاریخ ظہور اسلام کے ساتھ متصل ہے۔ اس لئے کہ یہ مباحث قرآن و احادیث اور بت پرستوں اور اہل کتاب سے توحید، نبوت و معاد کے سلسلہ میں پیغمبر اکرم (ص) سے ہونے والی بحث و گفتگو میں پیش آئے ہیں۔[27]

لیکن اگر اس سے مراد مسلمانوں کے درمیان پیش آنے والے مباحث اور دینی و کلامی فرقوں کی پیدائش ہو ہو اس کی تاریخ کی ابتداء رحلت پیغمبر اکرم (ص) کے بعد ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے مہم ترین اختلافات میں امامت و خلافت، قضا و قدر، صفات خداوند اور حکمیت کے واقعات ہیں۔[28] جن کے نتیجہ میں قدریہ، مشبھہ، خوارج وغیرہ جیسے فرقے وجود میں آئے۔ اور اگر علم کلام سے مراد ان مذاہب و فرق اسلامی کا وجود میں آنا ہے جنہوں نے علم کلام میں کسی معین روش اور تعریف شدہ اصول و قوانین بنائے ہیں تو ان کی تاریخ کی بازگشت دوسری ہجری کی طرف ہوتی ہے۔ [29]

پیدائش و ارتقاء کے اسباب

علم کلام کی پیدائش اور مسلمانوں کے درمیان اس کے ارتقاء کے مختلف اسباب و علل بیان ہوئے ہیں:

  1. تعلیمات قرآن و حدیث و عوامی ضرورت: علم کلام کی پیدائش کا اولین سبب تعلیمات قرآن و حدیث اور عوام کو ان کے درک و فہم کی ضرورت بیان کیا گیا ہے۔[30] قرآن کریم نے عقاید کی تعلیمات پر خاص توجہ مبذول کی ہے اور ان پر ایمان رکھنے کو لازمی قرار دیا ہے۔[31] اسی بناء پر علماء نے ان تعلیمات کو سمجھنے کے لئے علم کلام کی بنیاد رکھی ہے۔[32] [یادداشت 2]
  2. سیاسی منازعات و اختلافات: بعض سیاسی و سماجی اختلافات علم کلام کے رونق حاصل کرنے کا سبب بنے اور بتدریج علم کلام وجود میں آیا۔ مثلا رحلت پیغمبر (ص) کے بعد امامت و خلافت کے مسئلہ میں بحث، ایمان و ارتکاب گناہ کبیرہ کا مسئلہ، مسئلہ حکمیت جسے خوارج نے پیش کیا یا مسئلہ جبر و اختیار، جسے بنی امیہ نے اپنی حکومت کی توجیہ کے لئے پیش کیا۔[33]
  3. مسلموں اور غیر مسلموں کا اختلاط: جب وقت مسلمانوں نے غیر مسلموں جیسے ایرانیوں، رومیوں، مصریوں سے ارتباط پیدا کئے۔ عقاید اسلامی کے دوسرے مذاہب کے ساتھ اختلافات آشکار ہوئے اور میں تعارض کا آغاز ہوگیا۔ مسلمانوں نے اسلام کے بنیادی عقاید کے دفاع میں علم کلام کی بحثوں کو شروع کیا اور انہیں رونق بخشی۔ اس طرح سے علم کلام نے ارتقائی سفر طے کیا۔[34]
  4. دوسرے مذاہب کے ساتھ اختلاط: اسلامی ریاستوں میں وسعت کے بعد دیگر ادیان و مذاہب کے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔انہوں نے اسلامی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے اسلام مخالف چیزوں کو ترک کر دیا لیکن بعض چیزیں جن کے بارے میں ابتداء میں اسلامی نقطہ نظر واضح نہیں تھا، انہوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق قرآنی و اسلامی تفسیریں پیش کیں۔[یادداشت 3] لہذا علمائے اسلام نے کوشش کی کہ علم کلام کے مباحث کی مدد سے اسلامی نظریات کو واضح کریں اور خود ساختہ عقاید کو اس میں خلط ہونے سے بھی بچائیں۔[35]
  5. تحریک ترجمہ: کلام اسلامی کے بعض مسائل کا ذکر اور انہیں تخصصی و منظم طور پر پیش کرنا، تحریک ترجمہ کے دور میں پیش آیا۔ اس تحریک کا آغاز دوسری صدی ہجری کے نصف دوم (سنہ 150 ھ) میں ہوا اور اس کا سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا۔[36]

تغیر و تبدیلی کے مراحل

اسلامی علم کلام کے تحول و تغیر کے مختلف مراحل ذکر ہوئے ہیں۔ تاریخ علم کلام کے محقق محمد تقی سبحانی نے اس کی تبدیلی کے چار مراحل ذکر کئے ہیں اور وہ لکھتے ہیں اس عمومی مرحلہ بندی میں اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف بھی پائے جاتے ہیں: 1۔ مرحلہ اصالت و استقلال 2۔ مرحلہ رقابت و اختلاط 3۔ مرحلہ ادغام و استحالہ 4۔ مرحلہ احیاء و تجدید۔[37] یہ تقسیم بندی علم کلام کے دیگر بیرونی علوم کے ساتھ رابطے خاص طور پر فلسفہ کے ساتھ انجام پائی ہے۔[38]

محمد تقی سبحانی کے بقول: پہلے مرحلے میں صدر اسلام کی پانچ صدیاں شامل ہیں اور خود اس مرحلہ میں تین مراحل شامل ہیں۔ الف: پیدائش و شکل گیری ب: تکوین کلام نظری ج: تدوین کتب جامع کلامی۔[39] دوسرے مرحلے میں (مرحلہ رقابت و اختلاط) متکلمین نے خندہ روئی کے ساتھ فلسفہ کے مفاہیم و روشوں کو جذب کرنے کی طرف رخ کیا اور علم کلام کی باز سازی ان مفاہیم نو کی رو سے کی ہے۔ دوسری طرف انہوں نے سختی کے ساتھ فلسفی نظریات کے مقابلہ میں علم کلام کے عقاید کے دفاع میں اقدام انجام دیئے۔ یہ مرحلہ پانچویں صدی سے نویں صدی تک جاری رہا۔[40]

تیسرے مرحلے میں (مرحلہ ادغام و استحالہ) علم کلام اہل سنت شدید زوال کا شکار ہوگیا جبکہ علم کلام شیعہ مکمل طور پر فلسفی ہوگیا۔[41] چوتھے مرحلے (احیاء و نو سازی) کا آغاز بارہویں صدی ہجری سے ہوا۔ اس مرحلہ میں بعض علماء نے کلام جدید کی تاسیس کی ضرورت کے بارے میں گفتگو کی اور علم کلام کی توسیع کے سلسلہ میں سعی کی۔ جدید سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کی۔ اس جدید سلسلہ کے تعارف میں نو معتزلی، نو اشعری، نو سلفی جیسی اصطلاحات کا استعمال کیا گیا۔ عالم تشیع میں علم کلام میں ملا صدرا کے افکار و نظریات کو زندہ کرنے کے ساتھ، جسے فلسفہ نو صدرائی سے بھی یاد کیا جاتا ہے، مکتب کلامی متاخرین کا احیاء ہوا جس میں علامہ حلی جیسے فقہاء اور کوفہ و قم کے فکری مکاتب کا احیاء شامل ہے، جسے غالبی طور پر مکتب تفکیک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔[42]

حدود و مہم ترین مباحث

علم کلام کے مسائل اصول دین یا اصول عقاید میں منحصر نہیں ہیں۔ بلکہ متکلم کا فریضہ ہے کہ وہ مجموعہ احکام و تعالیم دینی کے بارے میں پیش آنے والے تمام سوالوں کے جواب دے۔ لہذا علم کلام کا فریضہ ہے کہ وہ اصول دین سے بھی دفاع کرے اور فروع دین سے بھی۔[43] مثلا فلسفہ حجاب کے بارے میں ہونے والے سوالات کے جوابات یا یہ کہ کیوں قرآن تدریجی طور پر نازل ہوا ہے؟ یا اعجاز قرآن یا فصاحت قرآن پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینا علم کلام کی ذمہ داری ہے۔ البتہ تعیین حکم حجاب فقیہ کی ذمے داری اور تعیین مراد و معانی آیات علم تفسیر کا فریضہ ہے۔[44]

کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پہلا کلامی مسئلہ جبر و اختیار کا مشئلہ تھا۔[45] علم کلام کے دیگر مہم مباحث یہ ہیں: بحث صفات خداوند مخصوصا توحید و عدل الہی، مسئلہ حسن و قبح افعال، قضا و قدر، مسئلہ نبوت، معاد، تکالیف الہی و معجزہ۔[46]

امامیہ شیعہ اثنا عشری علم کلام میں مذکورہ بالا مباحث کے علاوہ اثبات وجود خدا، عصمت انبیاء و ائمہ، اثبات معاد جسمانی، شفاعت، تقیہ، رجعت اور بداء کے سلسلہ میں بھی بحث ہوتی ہے۔[47]

مکاتب و مذاہب کلامی

کلامی فرقوں سے مراد وہ فرقے ہیں جن کی پیدائش کا سبب خاص اعتقادی و کلامی آرا و نظریات تھے۔[48] اولین اعتقادی اختلاف[49] اور مسلمانوں کے درمیان مہم ترین و بزرگ ترین دینی تنازعہ جانشینی پیغمبر اکرم (ص) کا مسئلہ تھا۔[50] یہ اختلاف دو اہم اسلامی مذاہب شیعہ و سنی کے وجود میں آنے کا سبب بنا۔[51]

شیعہ کلامی فرقے

سانچہ:اصلی مہم ترین شیعہ فرقے جن کا ذکر ہوا ہے امامیہ، زیدیہ، اسماعیلیہ، غالی و کیسانیہ ہیں۔[52] البتہ کہتے ہیں کہ غالی چونکہ امام علی علیہ السلام کی الوہیت کے قائل تھے لہذا انہیں اسلام سے خارج سمجھنا چایئے۔[53]

امامیہ

سانچہ:اصلی امامیہ یا شیعہ اثنا عشری اصطلاح میں ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ امام علی (ع) پیغمبر اکرم (ص) کے بلا فصل جانشین ہیں اور ان کے بعد ان کے فرزند امام حسن (ع) و امام حسین (ع) اور ان کے بعد امام حسین کی نسل سے ان کے نو فرزند امام ہیں۔[54] روایات کے مطابق شیعوں کا وجود رسول خدا (ص) کے زمانہ میں ہی ہے لیکن بنی امیہ دور کے خفقان کی وجہ سے امامیہ ایک منسجم گروہ و ایک خاص کلامی مکتب کی شکل میں امام محمد باقر (ع) و امام جعفر صادق (ع) کے بعد ظہور میں آیا۔ ان دونوں اماموں کو موقع ملا اور انہوں نے شیعہ معارف و امامیہ علم کلام کی بنیاد رکھی اور اس زمانہ (دوسری صدی ہجری) میں برجستہ شیعہ متکلمین ہشام بن حکم، ہشام بن سالم و مؤمن طاق کی تربیت کی۔[55]

امامیہ علم کلام کے وصف میں ذکر ہوا ہے کہ کلام امامیہ نہ اصحاب حدیث و حنبلیوں کی عقل گریزی کے موافق ہے نہ ہی وہ معتزلہ کی افراطی عقل گرائی کی حمایت کرتا ہے اور اسی طرح سے نہ وہ اشاعرہ کی جمود گرائی اور اس کی طرف سے کشف عقاید میں عقل کے کردار کی نقی کا حامی ہے۔ امامیہ تعلیمات کے منابع قرآن کریم، سنت پیغمبر (ص) و ائمہ و عقل ہیں۔ پانچ اصل توحید، عدل، نبوت، امامت و قیامت، امامیہ کے اصول عقاید کے طور پر ذکر ہوئے ہیں۔[56]

زیدیہ

زیدیہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو امام حسین (ع) کے بعد امام علی بن الحسین (ع) کے فرزند زید بن علی کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔[57] ان کے عقاید کے مطابق آنحضرت (ص) نے فقط ابتدائی تین اماموں کی امامت کی تصریح فرمائی تھی اور ان کے بعد امام وہ ہے جس میں ظالم کے خلاف علنی جہاد و مسلحانہ قیام جیسے شرایط پائے جاتے ہوں۔[58] زیدیہ کے بعض کلامی نظریات یہ ہیں: نظریہ توحید، اس معنی میں کہ خداوند عالم سے تشبیہ کی نفی کی جائے، اصل وعد و وعید، اصل امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور یہ کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا نہ مومن ہے نہ کافر بلکہ وہ فاسق ہے۔[59]

اسماعیلیہ

اسماعیلیہ وہ فرقہ ہے جو شیعوں کے بارہ میں سے ابتدائی چھ اماموں کی امامت کا قائل ہے۔ ان کے مطابق امام جعفر صادق (ع) کے بعد ان کے بڑے فرزند اسماعیل یا ان کے بیٹے محمد امام ہیں۔[60] اس فرقہ کی مہم ترین خصوصیت باطن گرائی اور آیات و روایات و احکام و معارف اسلامی کی تاویل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دینی متون و اسلامی معارف ظاہر و باطن رکھتے ہیں۔ امام ان کے باطن کو جانتا ہے اور فلسفہ امامت تعلیم باطن دین و بیان معارف باطنی ہے۔[61]

اہل سنت کے کلامی فرقے

خوارج، مُرجئہ، معتزلہ، اہل حدیث، اشاعره، ماتُریدیہ و وہابیت، اہل سنت کے کلامی فرقے ہیں۔[62] خوارج واقعہ حکمیت کے بعد وجود میں آئے۔[63] یہ گروہ اگرچہ ابتداء میں سیاسی گروہ تھا، لیکن آگے جا کر یہ ایک دوسرے مکاتب سے جداگانہ عقاید کے ساتھ کلامی فرقوں میں شامل ہوگیا۔ خوارج کا مہم ترین عقیدہ یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب شخص کافر ہے۔[64]

خوارج کے عقاید کے رد عمل میں دو فرقے مرجئہ و معتزلہ وجود میں آئے۔ مرجئہ کا عقیدہ تھا کہ عمل صالح یا گناہ کا کوئی بھی اثر ایمان نہیں ہوتا ہے۔ لیکن معتزلہ نے ایک متوسط راستہ اختیار کیا[65] اور کہا کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ مومن ہے نہ کافر بلکہ وہ ان دونوں کے درمیان ہے۔[66] معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ چشم ظاہری سے خداوند عالم کو دیکھنا غیر ممکن ہے۔ جبر و اختیار کی بحث میں معتزلہ انسان کے اختیار مطلق کے قائل ہیں۔[67]

اہل حدیث کا ماننا ہے کہ عقاید کو فقط قرآن و حدیث سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس فرقہ کے ماننے والے علم کلام کے مخالف تھے چاہے وہ علم کلام عقلی ہو جس میں عقاید کے لئے عقل کو ایک مستقل دلیل مانتے ہیں یا چاہے علم کلام نقلی جس میں عقل سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس گروہ کی معروف ترین شخصیت احمد بن حنبل ہیں۔[68] اہل حدیث کے نزدیک خداوند قدوس کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔[69] جبر و اختیار کی بحث میں اہل حدیث انسان کے مجبور محض ہونے کے قائل ہیں۔[70]

اشاعرہ ابو الحسن علی اشعری (260-324 ه‍) کے ماننے والوں کو کہا جاتا ہے۔[71] اشاعرہ متون دینی میں استعمال ہونے والے صفات خداوند کی تاویل کو قبول نہیں کرتے ہیں جیسے ید اللہ (اللہ کے ہاتھ) وجہ اللہ (اللہ کا چہرا) اور کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بھی ہے اور چہرہ بھی۔ لیکن کس طرح سے یہ ہمارے لئے واضح نہیں ہے۔[72] اشاعرہ اسی طرح سے جبر و اختیار کے مسئلہ میں نطریہ کسب کا ذکر کرتے ہیں جو جبر و اختیار کو ساتھ میں جمع کرتا ہے۔[73]

ماتردیہ کے موسس ابو منصور ماتریدی (متوفی 333 ھ) ہیں۔ یہ بھی مذہب اشعری کی طرح ایک ایسی راہ کی فکر میں تھے جو اہل حدیث و معتزلہ کے وسط کی ہو۔ ماتردیہ عقل کو معتبر مانتے ہیں اور اصول عقاید کے کشف و دریافت کے لئے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ مذہب حسن و قبح افعال کو قبول کرتا ہے۔ انسان کے ارادہ کو کام کے انجام دینے میں دخیل مانتا ہے اور رویت خداوند کو ممکن مانتا ہے۔[74]

وہابیت کی تاسیس محمد بن عبد الوہاب (متوفی 1206 ھ) کے ہاتھوں ہوئی۔ وہابی دیگر مسلمانوں کو عبادت میں شرک اور دین میں بدعت گزاری سے متہم کرتے ہیں۔[75] وہابی تعلیمات کے مطابق، اولیائے الہی سے توسل کرنا، ان کے شفاعت طلب کرنا، قبر پیغمبر (ص) و ائمہ اہل بیت (ع) کی زیارت کے قصد سے سفر کرنا، اولیائے الہی کے آثار سے تبرک و شفا طلب کرنا، اولیائے الہی کی قبروں کی زیارت یا انہیں تعمیر کرنا، ان کی قبروں کے پاس مسجد تعمیر کرنا اور اہل قبور کے لئے نذر کرنا ۔۔۔ شرک ہے۔[76]

علم کلام کی مہم و متکلمین کی مشہور کتب

کتاب‌ اوائل المقالات، تصحیح الاعتقاد، تجرید الاعتقاد و کشف المراد، مہم ترین شیعہ امامیہ کلامی کتابیں ہیں۔[77] شیخ مفید (336 یا 338-413 ھ)، خواجہ نصیر الدین طوسی (597-672 ھ) و علامہ حلی (648-726 ھ) برجستہ امامیہ متکلمین ہیں۔[78]

بعض اہل سنت متکلمین، ان کی مہم کتابیں اور ان کے کلامی مذہب کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے:

  • معتزلہ: قاضی عبد الجبار، کتاب: شرح الاصول الخمسہ۔[79]
  • اشاعرہ: ابو الحسن اشعری، کتاب: مقالات‌ الاسلامیّین۔[80] قاضی ابوبکر باقِلانی، کتاب: تمہید الاَوائِل، ابو حامد غزالی، کتاب: الاقتصاد فی الاعتقاد، فخر الدین رازی، کتاب: المُحَصَّل الاَربعین فی اصول الدین، سعد الدین تفتازانی، کتاب: شرح‌ المقاصد۔
  • ماتُریدیہ: ابو منصور ماتُریدی، کتاب: التوحید۔
  • سلفیہ: ابن‌ تیمیہ، کتاب: مِنہاج السّنة النبویہ۔[81]

کلام جدید

سانچہ:اصلی کلام جدید کی چیستی (کیا ہے) کے بارے میں اور اس بارے میں کہ کیا وہ کلام قدیم (کلام اسلامی) سے کاملا جدا و متفاوت ہے یا نہیں، نظریات مختلف ہیں۔ بعض کا یہ ماننا ہے کہ کلام جدید وہی کلام قدیم ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جدید شبہات و مسائل اس علم میں ذکر ہوئے ہیں یا اس کے قالب اور موضوع میں ایک تبدیلی و تحول ایجاد کیا گیا ہے؛ البتہ بعض دیگر ان دونوں علوم کو ایک دوسرے کاملا جدا مانتے ہیں[82] اور ایک خاص دینی التزام اور جانبدارانہ نظریات کو کلام قدیم کی خصوصیات میں شمار کرتے ہیں۔[83]

دوسری طرف کہا گیا ہے کہ جس چیز کو فارسی زبان میں کلام جدید کہا جاتا ہے غالبی طور پر وہی چیز ہے جسے مغربی ممالک فسلفہ دین کا نام دیتے ہیں۔[84] جو مباحث کلام جدید میں بیان ہوتے ہیں وہ اکثر اس طرح سے ہیں: تعریف دین، سرچشمہ دین، ضرورت دین، دائرہ دین، زبان دین، عقل و دین، عقل و ایمان، علم و دین، تجربہ دینی، تکثر گرایی دینی۔[85]

متعلقہ مضامین

نوٹ

  1. وہ دلائل جو علم کلام کی وجہ تسمیہ کے لئے بیان ہوئے ہیں۔ 1۔ مہم ترین و اولین مسئلہ جس کے بارے میں متکلمین نے کلام کیا ہے وہ کلام الہی کے حدوث و قدم کی بحث ہے۔ 2۔ اس علم کی ابواب کا آغاز الکلام فی کذا سے ہوتا ہے۔ 3۔ علم کلام انسان میں مناظرے، جدل و گفتگو کی قدرت کو تقویت پہچاتا ہے اور مناظرہ تکلم اور گفتگو ہی کا دوسرا نام ہے۔ 4۔ دلائل کی مضبوطی، سخن کی مضبوطی کا سبب ہے اور علم کلام استوار استدلال سے استفادہ کرتا ہے۔ 5۔ متکلمین نے اپنے علم کا نام کلام رکھا ہے تا کہ وہ فلاسفہ کے مقابلہ میں علم منطق سے بے نیازی کا اظہار کر سکیں۔ (جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص37ـ38) ان تمام دلائل پر اعتراض کئے گئے ہیں؛ منجملہ پہلی وجہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کلام الہی کے حدوث و قدم کی بحث سے پہلے بھی علم کلام اسی نام سے مشہور تھا۔ نگاه کریں ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص70)
  2. قابل ذکر ہے کہ عصر پیغمبر (ص) میں غیر مسلم بھی علم کلام سے متعلق سوالات کرتے تھے۔ اس سے کبھی ان کا قصد دین اسلام کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ہوتا تھا تو کبھی آنحضرت (ص) کا امتحان لینے کے لئے بھی ایسا کرتے تھے۔ پیغمبر اکرم (ص) کے بت پرستوں اور اہل کتاب کے بعض مناظروں جیسے توحید، نبوت و معاد کا ذکر قرآن مجید اور تاریخی کتابوں میں ہوا ہے۔ (نگاه کریں: ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص110)
  3. مثلا یہودی خدا کی جسمانیت، خدا کی عصمت، امکان نسخ شریعت، یا جیسے عیسائی عینیت صفات و ذات خداوند، کلام الہی کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے یا جیسے زرتشتی خیر و شر کے مسئلہ میں کوشش کرتے تھے کہ اپنے دین اور اسلام میں اس کی مشترک تفسیر ان کے سامنے پیش کریں۔

حوالہ جات

  1. مطهری، مجموعہ آثار، 1389ش، ج3، ص57.
  2. مطهری، مجموعہ آثار، 1389ش، ج3، ص57. بنابر نظر برخی این تعریف، تعریفی برتر است؛ چرا کہ شامل موضوع، هدف و روش علم کلام است و نہ تنها بہ جنبہ دفاعی کلام، کہ بہ جنبہ اثباتی آن (توضیح و تبیین عقاید اسلامی) توجہ کرده است (نگاه کنید بہ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص61تا64؛ جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص39ـ40).
  3. برای آگاهی از همہ تعریف‌ ها ر.ک: ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص61. کاشفی، کلام شیعہ، ص24.
  4. ایجی، المواقف، عالم الکتب، ص7. با اندکی تفاوت: لاهیجی، شوارق الالهام، 1425ق، ج1، ص51.
  5. جرجانی، التعریفات، 1370ش، ص80.
  6. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص67.
  7. جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص38.
  8. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص73.
  9. جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص37، پانویس 2؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص67.
  10. مطهری، مجموعہ آثار، 1389ش، ج3، ص63.
  11. جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص41.
  12. علامہ حلی، نهایة المرام، مؤسسہ امام صادق(ع)، ج1، ص12؛ لاهیجی، شوارق الالهام، 1425ق، ج1، ص3.
  13. دیکھیں: تفتازانی، شرح‌ المقاصد، 1412ق، ج1، ص173.
  14. دیکھیں: به تفتازانی، شرح ‌المقاصد، 1412ق، ج1، ص180.
  15. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص31و32.
  16. طبقات المتکلمین، مؤسسہ امام صادق (ع)، ج1، ص17.
  17. لاهیجی، شوارق‌ الالهام، 1425ق، ج1، ص؟.
  18. ایجی، المواقف، عالم الکتب، ص8.
  19. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص37.
  20. شوارق الالهام، 1425ق، ج1، ص73ـ74.
  21. لاهیجی، شوارق ‌الالهام، 1425ق، ج1، ص73و74. فارابی، احصاء العلوم، ص76و77.
  22. نگاه کریں: کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص41و42؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص55.
  23. جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، 1396ش، ص43و44.
  24. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص109.
  25. شبلی، تاریخ علم کلام، 1386ش، ص8.
  26. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص109.
  27. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص109؛‌ همچنین نگاه کریں: مطہری، مجموعہ آثار، ج3، ص59.
  28. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص109ـ110.
  29. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص110.
  30. نگاه کریں: کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص48.
  31. مثل آیہ 136 و 162 سوره نساء، آیہ 15 سوره حجرات، آیہ 177 سوره بقره، آیہ 111 سوره مائده، آیہ 158 سوره اعراف
  32. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص48.
  33. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص49.
  34. شبلی، تاریخ علم کلام، 1328ش، ص8.
  35. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص49و50.
  36. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص49و50.
  37. سبحانی، «کلام امامیہ ریشہ ‌ها و رویش‌ ها»، ص10.
  38. سبحانی، «کلام امامیہ ریشہ ‌ها و رویش‌ ها»، ص10.
  39. سبحانی، «کلام امامیہ ریشہ ‌ها و رویش‌ ها»، ص12ـ18.
  40. سبحانی، «کلام امامیہ ریشہ‌ ها و رویش‌ها»، ص18ـ20.
  41. سبحانی، «کلام امامیہ ریشہ ها و رویش‌ ها»، ص20ـ21.
  42. سبحانی، «کلام امامیہ ریشهہ ها و رویش ‌ها»، ص21ـ22.
  43. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، ص102؛ کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص40.
  44. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، ص102.
  45. مطهری، مجموعہ آثار، 1389ش، ج3، ص60.
  46. نگاه کریں: فهرست کتاب‌ های کلامی. مزید: ربانی گلپایگانی، کلام تطبیقی، 1383ش، پیشگفتار؛ کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص57و61.
  47. نگاه کریں: فهرست کتاب‌ های کلامی مثل علامہ حلی، کشف‌ المراد، 1413ق؛ شیخ صدوق، الاعتقادات، کنگره شیخ مفید؛ بحرانی، قواعد ‌المرام، 1406ق.
  48. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص9.
  49. اشعری، مقالات الاسلامیین، بیروت، ص2.
  50. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص16و17.
  51. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص16ـ17.
  52. صابری، تاریخ فرق اسلامی، 1388ش، ج2، ص32؛ برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص62.
  53. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص62.
  54. طباطبایی، شیعہ در اسلام، 1383ش، ص197و198؛ برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص65و66.
  55. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص65و66.
  56. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص81و82.
  57. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، نشر ادیان، ص17و18.
  58. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص89.
  59. صابری، تاریخ فرق اسلامی، 1388ش، ج2، ص81تا85.
  60. شهرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص170و171.
  61. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص95.
  62. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص107ـ150.
  63. شهرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص106.
  64. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص17تا20.
  65. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص17ـ20.
  66. تاریخ فلسفہ در اسلام، مرکز نشر دانشگاهی، ج1، ص284.
  67. شهرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص49-50.
  68. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص120تا123.
  69. سبحانی، بحوثٌ فی الملل و النحل، ج1، ص226.
  70. سبحانی، بحوثٌ فی الملل و النحل، ج1، ص220-221.
  71. شہرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص86.
  72. شهرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص91-92.
  73. شہرستانی، الملل و النحل، 1375ش، ج1، ص88-89.
  74. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص136تا141.
  75. ربانی گلپایگانی، فرق و مذاهب کلامی، 1377ش، ص175و176.
  76. برنجکار، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، 1389ش، ص146تا147.
  77. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص52.
  78. کاشفی، کلام شیعہ، 1387ش، ص52
  79. ضمیری، کتاب شناسی تفصیلی مذاهب اسلامی، 1382ش، ص284-285
  80. ضمیری، کتاب شناسی تفصیلی مذاہب اسلامی، 1382ش، ص284
  81. حسینیان، فہرستی از مہم ‌ترین منابع دست‌ اول کلامی
  82. نگاه کریں: خسرو پناه، مسائل جدید کلامی و فلسفہ دین، 1388ش، ص23تا30؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلام، 1387ش، ص143
  83. یوسفیان، کلام جدید، 1390ش، ص15و16.
  84. یوسفیان، کلام جدید، 1390ش، ص18.
  85. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر کلام جدید، 1389ش، فهرست کتاب.

مآخذ

  • اشعری، علی بن اسماعیل، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، تصحیح: هلموت ریتر، بیروت، دار النشر و فرانز شتاینر، [بی ‌تا]
  • ایجی، عضد الدین عبد الرحمان بن احمد، المواقف فی علم الکلام، بیروت، عالم الکتب، [بی ‌تا].
  • بحرانی، ابن میثم، قواعد المرام فی علم الکلام، تحقیق: علی حسینی اشکوری، قم، مکتبة آیت ‌الله العظمی المرعشی النجفی، 1406ھ.
  • برنجکار، رضا، آشنایی با فرق و مذاهب اسلامی، قم، کتاب طه، چ4، 1389ش.
  • تاریخ فلسفہ در اسلام، بہ کوشش: میر محمد شریف، ترجمہ فارسی: زیر نظر نصر الله پور جوادی، تهران، مرکز نشر دانشگاهی، 1362ش.
  • تفتازانی، مسعود بن عمر، شرح المقاصد، تحقیق: عبد الرحمن عمیره، قم، الشریف الرضی، 1412ھ.
  • جبرئیلی، محمد صفر، سیر تطور کلام شیعہ، دفتر دوم: از عصر غیبت تا خواجہ نصیر طوسی، تهران، انتشارات پژوهشگاه فرهنگ و اندیشہ اسلامی، 1396ش.
  • حسینیان، فهرستی از مہم ‌ترین منابع دست‌اول کلامی، وبگاه ثقلین، تاریخ درج مطلب: 2 بهمن 1395، تاریخ بازدید: 13 دی 1399.
  • خسرو پناه، عبد الحسین، مسائل جدید کلامی و فلسفہ دین، قم، انتشارات بین المللی المصطفی، چ1، 1388ش.
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بر علم کلام، قم، دار الفکر، چ1، 1387ش.
  • ربانی گلپایگانی، علی، فرق و مذاهب کلامی، قم، مرکز جهانی علوم اسلامی، چ1، 1377ش.
  • ربانی گلپایگانی، علی، کلام تطبیقی (توحید، صفات و عدل الهی، قم، انتشارات مرکز جهانی علوم اسلامی، چ1، 1383ش.
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بر کلام جدید، قم، مرکز نشر هاجر، چ5، 1389ش.
  • سبحانی، جعفر، بحوثٌ فی الملل و النحل، قم، مؤسسہ امام صادق، چاپ اول، 1427ھ.
  • شبلی نعمانی، تاریخ علم کلام، ترجمہ سید محمد تقی فخر داعی، تهران، اساطیر، چ1، 1386ش.
  • شهرستانی، محمد بن عبد الکریم، الملل و النحل، تحقیق محمد بن فتح ‌الله بدران، قم، الشریف الرضی، 1375ش.
  • شیخ صدوق، علی بن محمد، الاعتقادات، تحقیق: علی میر شریفی و عصام عبد السید، قم، کنگره شیخ مفید، [بی ‌تا].
  • ضمیری، محمد رضا، کتاب شناسی تفصیلی مذاهب اسلامی، قم، مؤسسہ آموزشی ‌پژوهشی مذاهب اسلامی، چاپ اول، 1382ش.
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، تهران، انتشارات سمت، چ5، 1388ش.
  • طباطبایی، سید محمد حسین، شیعہ در اسلام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1383ش.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تحقیق: حسن حسن ‌زاده آملی، قم، مؤسسة النشر الاسلامی، 1413ھ.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نهایة المرام، تحقیق: فاضل عرفان، اشراف: جعفر سبحانی تبریزی، قم، مؤسسہ امام صادق (ع)، [بی‌تا].
  • فارابی، ابو نصر محمد بن محمد، احصاء العلوم، تحقیق: علی بو ملحم، بیروت، دار و مکتبة الهلال، 1996ء.
  • کاشفی، محمد رضا، کلام شیعہ، ماهیت، مختصات و منابع، قم، انتشارات پژوهشگاه فرهنگ و اندیشہ، چ3، 1387ش.
  • لاهیجی، عبد الرزاق، شوارق الالهام فی شرح تجرید الاعتقاد، اکبر اسد علی زاده، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1425 ھ (کتاب خانہ دیجیتال نور).
  • مطهری، مرتضی، مجموعہ آثار، تهران ـ قم، انتشارات صدرا، چ15، 1389ش.
  • معجم طبقات المتکلمین، اشراف: جعفر سبحانی، قم، اللجنة العلمیہ فی مؤسسة الامام الصادق (ع)، [بی‌تا].
  • یوسفیان، حسن، کلام جدید، تهران، انتشارات سمت، چ3، 1390ش.