عذاب قبر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاد

عذاب قبر ان سختیوں اور پریشانیوں کو کہا جاتا ہے جن سے انسان موت کے بعد اور عالم برزخ میں روبرو ہوتا ہے۔ احادیث کے مطابق چغل خوری، طہارت و نجاست میں بے دقتی، مرد کا اپنی بیوی سے بغیر کسی وجہ کے دور رہنا، گھر والوں کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آنا اور نماز کو اہمیت نہ دینا عذاب قبر کے عوامل میں سے ہیں۔ دوسری طرف سے زیارت امام حسین، نجف میں دفن ہونا، اہل بیتؑ کے ساتھ محبت، جمعرات کی ظہر سے جمعہ کی ظہر کے درمیان فوت ہونا وغیرہ عذاب قبر کے ختم ہونے میں مؤثر جانا جاتا ہے۔

دوسری صدی ہجری میں معتزلہ کے کلامی مکتب کے بانی واصل بن عطا کے شاگرد ضرار بن عمر کے علاوہ تمام مسلمان عذاب قبر کے معتقد ہیں۔ متکلمین عذاب قبر کو ثابت کرنے کے لئے آیت: قالُوا رَبَّنا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ أَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ؛(ترجمہ: وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا) سے استناد کرتے ہیں۔ عذاب قبر بدن مثالی پر ہو گا یا دنیوی بدن پر، اس بارے میں اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے، لیکن اکثر متکلمین اس بات کے معتقد ہیں کہ عذاب قبر برزخی بدن پر ہوتا ہے۔

اہل سنت کے معتبر حدیثی منبع صحیح بخاری میں موجود ایک حدیث کے مطابق میت کے رشتہ داروں کا اس کی قبر پر گریہ کرنے کی وجہ سے بھی عذاب قبر میں مبتلا ہوتا۔ اہل سنت عالم دین اور صحیح مسلم کے شارح یحیی بن شرف نوَوَی کے مطابق اس حدیث کی تأویل کی گئی ہے؛ کیونکہ کسی میت پر اس کے رشتہ داروں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہونا سورہ فاطر کی آیت نمبر 18 کے ساتھ سازگار نہیں ہے جس میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اسی طرح حضرت عایشہ کے مطابق مذکورہ حدیث صحیح طور پر پیغمبر اکرمؐ سے نقل نہیں ہوئی ہے۔

مفہوم شناسی

عذاب قبر ان سختیوں اور پریشانیوں کو کہا جاتا ہے جن سے انسان موت کے بعد اور عالم برزخ میں روبرو ہوتا ہے۔ عالم برزخ میت کے دفن ہونے سے قیامت تک کے فاصلے کو کہا جاتا ہے۔[1] احادیث میں آگ کی حرارت، زمین کا دباؤ، حشرات کا ڈسنا اور انتہائی خوف و ہراس کو عذاب قبر کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[2]

کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث کے مطابق عذاب قبر صرف ان اشخاص تک محدود نہیں جو زمین میں دفن ہوتے ہیں بلکہ یہ چیز دنیا سے رخصت ہونے والے تمام انسانوں شامل کرتی ہے اگرچہ وہ زمین میں دفن نہ ہوئے ہوں۔[3] اسی طرح بحار الانوار میں امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق اکثر انسان فشار قبر میں مبتلا ہونگے۔[4] معصومینؑ سے منقول دعا اور مناجات میں عذاب قبر کی شدت سے خدا کی پناہ لی گئی ہے۔[5] احادیث کے مطابق جب پیغمبر اکرمؐ نے اپنی بیٹی رقیہ کو دفن کیا تو عذاب قبر کی برطرفی کے لئے دعا فرمائی۔[6] حضرت فاطمہ(س) نے امام علیؑ کو اپنی وصیت میں دفن کے بعد آپ کی قبر پر قرآن اور دعا پڑھنے کی درخواست کی ہیں۔[7]

حدیثی منابع میں قبر سے متعلق احادیث کو الگ باب میں جمع کیا گیا ہے، علامہ مجلسی بحار الانوار میں "أحوال البرزخ و القبر و عذابہ و سؤالہ و سائر ما يتعلق بذلك‏" نامی باب میں 128 احادیث اس بارے میں نقل کی ہیں۔[8]

علل و اسباب

عذاب قبر سے خدا کی پناہ مانگنا


اَللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِک مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ ضِیقِ الْقَبْرِ وَ مِنْ ضَغْطَةِ الْقبر[9]

(ترجمہ: خدایا! قبر کے عذاب، تتگی اور فشار سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔)

علل الشرائع میں امام علیؑ سے منقل ایک حدیث میں عذاب قبر کو چغل خوری، بول اور مرد کا اپنی بیوی سے دوری اختیار کرنے کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔[10] بحار الانوار کے حاشیے میں مرد کا اپنی بیوی سے دوری اختیار کرنے کو نشوز سے[11]اور بول کو طہارت اور نجاست و...[12] میں بے پروائی سے تفسیر کی گئی ہے۔

شیخ عباس قمی مذکورہ حدیث کو مد نظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ عذاب قبر عموما انہی 3 گروہ کے ساتھ مختص ہے۔[13] ان کے علاوہ دوسری چیزیں جو عذاب قبر کا سبب بنتی ہیں یہ ہیں:

  • بداخلاقی: پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث کے مطابق سعد بن معاذ کے عذاب قبر کی علت گھر والوں کے ساتھ اس کی بداخلاقی ہے۔[14]
  • نماز کو اہمیت نہ دینا: علی مشکینی کی کتاب المواعظ العددیہ میں منقول ایک حدیث کے مطابق نماز ادا کرنے میں سستی سے کام لینا قبر کی تنگی اور فشار قبر کا باعث ہے۔[15]
  • خدا کی نعمتوں کو ضایع کرنا:[16] ایک حدیث کے مطابق مؤمن کے لئے عذاب قبر ان نعمتوں کا کفارہ ہے جنہیں اس نے ضایع کی ہیں۔[17]

اسی طرح احادیث کے مطابق غیبت،[18] ائمہ معصومینؑ کی ولایت کو قبول نہ کرنا،[19] مظلوم کی مدد نہ کرنا[20] اور بغیر وضو کے نماز پڑھنا[21] عذاب قبر کا باعث بنتا ہے۔ کتاب جامع السعادات کے مطابق جس شخص کی ماں اس سے ناراض ہو اس کی سکرات موت اور عذاب قبر میں سختی ہو گی۔[22]

غذاب قبر میں کمی کے اسباب

حدیثی کتابوں میں عذاب قبر سے رہائی یا اس میں کمی کے کچھ اسباب کا ذکر ہوئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • محبت اہل بیتؑ: بحار الانوار میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ اور آپ کی اہل بیتؑ کی محبت 7 جگہوں پر کام آتی ہے؛ من جملہ ان میں سے ایک قبر ہے۔[23]
  • مخصوص مستحب نمازوں کا پڑھنا: سید بن طاووس کی کتاب اقبال الاعمال میں معصومینؑ سے منقول احادیث میں رجب اور شعبان میں مخصوص نمازوں کا پڑھنا عذاب قبر کے برطرف ہونے کا سبب ہے۔[24]
  • نجف اشرف میں دفن ہونا: کتاب ارشاد القلوب میں حسن بن محمد دیلمی کے مطابق احادیث میں آیا ہے کہ نجف کی مٹی کی یہ خاصیت ہے کہ یہاں دفن ہونے والوں سے عذاب قبر اور نکیر و منکر کے سوالات نہیں ہونگے۔[25]
  • قرآن کی تلاوت: حدیثی منابق میں فضائل السور کی باب میں بعض احادیث نقل ہوئی ہیں ان کے مطابق قرآن کی بعض سورتوں کا پڑھنا عذاب قبر کے برطرف ہونے کا سبب ہے؛ من جملہ ان میں ہر جمعہ کو سورہ زخرف اور سورہ نساءکی تلاوت پر مداومت کرنا [26] اور سوتے وقت سورہ تکاثر کی تلاوت کرنا۔[27]
  • قبر میں میت کے ساتھ دو تر لکڑیوں کا رکھنا: کتاب الکافی میں امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث کے مطابق میت کے ساتھ قبر میں دو تر لکڑیوں کے رکھنے کا فلسفہ میت سے عذاب قبر کی برطرفی ہے۔[28] اسی طرح ایک اور حدیث کے مطابق دفن کے بعد میت کی قبر پر پانی چھڑکنا میت سے عذاب قبر کی برطرفی کا سبب بنتا ہے۔[29]

احادیث کے مطابق ان کے علاوہ بعض دوسرے عوامل بھی ہیں جن کی وجہ سے عذاب قبر میں کمی آتی ہے یا عذاب قبر ختم ہوتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

کتاب شرح چہل حدیث میں امام خمینی کے مطابق قبر اور عالم برزخ کا طویل ہونے کا معیار دنیا کی محبت ہے اس بنا پر دنیا کے ساتھ جتنی محبت کم ہو گی برزخ و قبر زیادہ روشن‌ اور وسیع ہو گی اور انسان کا وہاں قیام کی مدت کم ہو گی۔[38]

رشتہ داروں کے رونے سے میت پر عذاب قبر

اہل‌ سنت حدیثی منابع میں پیغمبر اکرمؐ کی طرف ایک حدیث کی نسبت دی گئی ہے جس کے تحت میت کے رشتہ داروں کا اس کی قبر پر گریہ کرنے سے قبر میں اس میت پر غذاب ہوتا ہے۔[39] اس حدیث کے راوی خلیفہ دوم اور عبداللہ بن عمر ہیں جس کے متعلقہ حضرت عایشہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ حدیث پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے بطور صحیح نقل نہیں ہوئی ہے؛[40] کیونکہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ: "مردے پر اس کے گناہوں کی وجہ سے قبر میں عذاب ہوتا ہے جبکہ اس کے رشتہ دار اس پر گریہ و زاری کر رہے ہوتے ہیں"۔[41]

صحیح مسلم کے شارح نوَوَی کے بقول اہل سنت علماء کے درمیان مذکورہ حدیث کی تأویل کے بارے میں اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے؛ بعض اس حدیث کو ان اشخاص کے ساتھ مختص مانتے ہیں جنہوں نے مرنے کے بعد ان پر گریہ نہ کرنے کی وصیت کی ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ دوسروں کے رونے پر قبر میں میت پر عذاب‌ نازل ہونا آیہ: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ؛(ترجمہ: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا (گنہگار) کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا)[42] کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔[43]

عذاب قبر برزخی بدن پر یا دنیوی بدن پر؟

عذاب قبر دنیوی بدن پر ہو گا یا برزخی بدن پر، اختلاف‌ پایا جاتا ہے؛ مشہور متکلمین اور حکماء کے مطابق موت کے بعد انسان کی روح بدن مثالی (ایسا بدن جو دنیوی بدن کی طرح ہو گا اس فرق کے ساتھ کہ اس کا مادہ اور خواص جیسے حجم اور وزن وغیرہ نہیں رکھتا) کے ساتھ تعلق پکڑتی ہے۔[44] لیکن امامیہ متکلم سید مرتضی اور سدیدالدین حمصی رازی کی طرف نسبت دی گئی ہے کہ یہ حضرات اس بات کے معتقد ہیں کہ موت کے بعد روح دوبارہ اسی بدن دنیوی کی طرف لوٹ آتی ہے اور فشار قبر اسی دنیوی بدن پر ہی ہوگا۔[45] عبدالرزاق لاہیجی کے کہنا ہے کہ جو لوگ روح کی بقا کے قائل نہیں ہیں وہ عذاب قبر کو بدن کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں جبکہ جو لوگ روح کی بقا کے قائل ہیں ان کے مطابق موت کے بعد روح دوبارہ دنیوی بدن کی طرف لوت آتی ہے اور عذاب قبر روح کے ساتھ مختص ہے یا روح اور بدن دونوں کو شامل کرتا ہے۔[46]

مکتب اشعریہ کے بانی ابوالحسن اشعری کہتے ہیں کہ عذاب قبر کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف‌ پایا جاتا ہے؛ ان کے مطابق اکثر مسلمان عذاب قبر کے معتقد ہیں لیکن معتزلہ اور خوارج کی طرف نسبت دی جاتی ہے کہ وہ عذاب قبر پر اعتقاد نہیں رکھتے۔[47] ابن‌ابی‌الحدید طبقات المعتزلہ میں سے قاضی القضاۃ سے نقل کرتے ہیں کہ چونکہ واصل بن عطا کے شاگرد ضرار بن عمر عذاب قبر پر اعتقاد نہیں رکھتا اس لئے تمام معتزلہ کی طرف یہ نسبت دی گئی ہے، حالانکہ معتزلہ عذاب قبر کو جائز مانتے ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت کم لوگ عذاب قبر پر یقین نہیں رکھتے لیکن ان کی اکثریت عذاب قبر پر یقین رکھتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ اسے روح کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں نہ جسم کے ساتھ[48]

قرآنی دلائل

علامہ مجلسی نے شیخ بہائی سے نقل کیا ہے کہ کلامی کتابوں میں عذاب قبر کے اثبات کے لئے آیہ: قالُوا رَبَّنا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ أَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ؛(ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا[49] سے یوں استدلال کی جاتی ہے پہلی موت دنیا میں اور دوسری موت قبر میں اسی طرح پہلی دفعہ زندہ ہونا قبر میں جبکہ دوسری دفعہ زندہ ہونا قیامت میں ہے۔[50] علامہ مجلسی کے مطابق بعض مفسرین مانند عبداللہ بن عمر بیضاوی اور فضل بن حسن طبرسی جوامع الجامع میں آیہ مذکور میں دو موت اور دو زندگی سے نطفہ منعقد ہونے سے پہلے کی موت اور دنیا میں واقع ہونے والی موت نیز نطفہ منعقد ہونے کے بعد کی زندگی اور قیامت میں زندہ ہونے سے تعبیر کرتے ہیں۔[51] اسی طرح علامہ مجلسی پہلے نظریے کو مجمع البیان میں فضل بن حسن طبرسی اور فخر رازی کی طرف نسبت دیتے ہیں۔[52]

علامہ مجلسی آیہ: وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ؛(ترجمہ: اور جو کوئی میری یاد سے روگردانی کرے گا تو اس کے لئے تنگ زندگی ہوگی۔ اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا محشور کریں گے۔)[53] میں لفظ "مَعِيشَةً ضَنْكًا" کو عذاب قبر سے تفسیر کرتے ہیں۔[54]

کتابیات

عذاب قبر کے بارے میں شیخ عباس قمی کی کتاب منازل الآخرۃ، محمد شجاعی کی کتاب عروج روح اور نعمت‌اللہ صالحی حاجی‌آبادی کی کتاب انسان از مرگ تا برزخ میں بحث کی گئی ہے۔ اسی طرح اس سلسلے میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • "تحقیقی قرآنی و روایی دربارہ عذاب قبر"، تحریر مهدی فَربودی، یہ کتاب سنہ ۱۳۸۶ش میں منتشر ہوئی ہے اسی طرح "عذاب‌ ہای قبر:‌ تحقیقی قرآنی و روایی دربارہ عالم قبر" کے عنوان سے بھی شایع ہوئی ہے۔[55]
  • ‌"عالم قبر: راز بزرگ"، تحریر جابر رضوانی۔[56]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۵، ص۶۸؛ اردبیلی، تقریرات فلسفہ، ۱۳۸۵ش، ج۳، ص۲۳۹-۲۴۰۔
  2. قمی، منازل الآخرہ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ص۱۳۷-۱۴۹۔
  3. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۲۷۹۔
  4. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۶۱۔
  5. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں:‌ کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۵۲۶؛ ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۳۳۸، ۴۳۹۔
  6. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۶۱۔
  7. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۹، ص۲۷۔
  8. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۰-۲۸۲۔
  9. طبرسی، مکارم الأخلاق، دعای ہر صبح و شام، ۱۳۷۰ش، ص۲۷۹۔
  10. شیخ صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۱۰۔
  11. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۲۲، پانویس۔
  12. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۴۵، پانویس۔
  13. قمی، منازل الآخرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ص۱۳۸۔
  14. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۶۱۔
  15. مشکینی، تحریر المواعظ العددیہ، ۱۳۸۲ش، ص۲۳۲-۲۳۳۔
  16. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۰۹۔
  17. شیخ صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۵۰۔
  18. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۴۵۔
  19. ملاحظہ کریں: علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۲۶۲۔
  20. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱، ۱۴۱۳ق، ص۵۸۔
  21. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج۱، ۱۴۱۳ق، ص۵۸؛ علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۰۹۔
  22. نراقی، جامع السعادات، ۱۳۸۳ش، ج۲، ص۲۶۳۔
  23. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷، ص۲۴۸۔
  24. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۶۴،۶۲۹، ۶۵۶، ۶۶۵، ۶۸۳، ۷۲۳۔
  25. دیلمی، ارشاد القلوب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۴۳۹۔
  26. قمی، سفینۃ البحار، ۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۹۷۔
  27. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۹، ص۳۳۶۔
  28. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۳۔
  29. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۲۰۰۔
  30. ابن‌قولویہ، کامل الزیارات، ۱۳۵۶ش، ص۱۴۲-۱۴۳۔
  31. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۳۲۱۔
  32. قمی، سفینۃ البحار، ۱۳۷۸ش، ج۲، ص۳۹۷۔
  33. ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۵۱۔
  34. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۸۳۔
  35. مشکینی، مواعظ العددیہ، ۱۳۸۲ش، ص۷۵۔
  36. مشکینی، مواعظ العددیہ، ۱۳۸۲ش، ص۷۵۔
  37. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۳-۴۔
  38. امام خمینی، شرح چہل حدیث، ۱۳۸۰ش، ص۱۲۴۔
  39. بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۸۰، بَابُ مَا يُكْرَہ مِنَ النِّيَاحَۃ عَلَى المَيِّتِ، ح۱۲۹۱-۱۲۹۲۔
  40. نووی، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، ۱۳۹۲ق، ج۶، ص۲۲۸۔
  41. نووی، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، ۱۳۹۲ق، ج۶، ص۲۲۸۔
  42. سورہ فاطر، آيہ 18۔
  43. نووی، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج، ۱۳۹۲، ج۶، ص۲۲۸۔
  44. ملایری، «نظریہ ہای بدن برزخی-بررسی و نقد»، ص۱۰۹-۱۱۵۔
  45. ملایری، «نظریہ ہای بدن برزخی-بررسی و نقد»، ص۱۱۳-۱۱۵۔
  46. لاہیجی، گوہر مراد، ۱۳۸۳ش، ص۶۴۹-۶۵۰۔
  47. اشعری، مقالات الاسلامیین، ۱۴۰۰ق، ص۴۳۰۔
  48. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۷۳۔
  49. سورہ غافر، آیہ 11۔
  50. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۱۱۔
  51. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۱۴۔
  52. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۱۴۔
  53. سورہ طہ، آیہ ۱۲۴۔
  54. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۲۱۵۔
  55. «عالم قبر»، سایت بازار کتاب.
  56. «عالم قبر، راز بزرگ»، سایت کتابخانہ ملی۔


مآخذ

  • قرآن ترجمہ محمد حسین نجفی۔
  • اردبیلی، سید عبدالغنی، تقریرات فلسفہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۵ش۔
  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃاللہ، شرح نہج البلاغۃ، تصحیح محمد ابوالفضل، قم، مکتبۃ آیۃاللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، تہران، دارلکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۹ھ۔
  • ابن‌قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، تصحیح عبدالحسین امینی، نجف، دارالمرتضویہ، ۱۳۵۶ش۔
  • اشعری، ابوالحسن، مقالات الاسلامیین و اختلاف المصلین، آلمان-ویسبادن، فرانس شتاینر، ۱۴۰۰ھ۔
  • امام خمینی، سید روح‌اللہ، شرح چہل حدیث، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۰ش۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق محمدزہیر بن ناصر الناصر، دارالطوق، ۱۴۲۲ھ۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، ارشادالقلوب الی الصواب، قم، الشریف الرضی، قم، ۱۴۱۲ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الامالی، تہران، کتابچی، ۱۳۷۶ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ، تہران، نشر صدوق، ۱۳۶۷ش۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرائع، قم، کتابفروشی داوری، ۱۳۸۵ش/۱۹۶۶ء۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، ۱۴۱۲ق/۱۳۷۰ش۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الامالی، تصحیح: موسسۃ البعثۃ، قم، دارالثقافۃ، قم، ۱۴۱۴ھ۔
  • قمی، شیخ عباس، سفینہ البحار و مدینہ الحکم و الاثار، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
  • قمی، شیخ عباس، منازل الآخرہ، منازل الآخرۃ والمطالب الفاخرۃ، تحقیق سید یاسین موسوی، مؤسسۃ النشر الاسلامی۔
  • «عالم قبر، راز بزرگ»، سایت کتابخانہ ملی، تاریخ بازدید: ۱۰ مہر ۱۳۹۹ش۔
  • «عالم قبر»، سایت بازار کتاب، تاریخ بازدید: ۱۰ مہر ۱۳۹۹ش۔
  • علامہ طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، مکتبۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۷ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، کافی،‌ تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ھ۔
  • لاہیجی، عبدالرزاق، گوہر مراد، مقدمہ زین‌العابدین قربانی، تہران، سایہ ۱۳۸۳ش۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحار الانوار، تصحیح جمعی از محققان، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مشکینی اردبیلی، علی، تحریر المواعظ العددیہ، قم، انتشارات الہادی، ۱۳۸۲ش۔
  • ملایری، موسی، «نظریہ‌ہای بدن برزخی-بررسی و نقد»، پژوہش دینی، شمارہ۲۱، زمستان ۱۳۸۹ش۔
  • نراقی، محمدمہدی، جامع السعادات، قم، مؤسسہ مطبوعاتی ایرانیان، ۱۳۸۳ش۔
  • نوری، میرزاحسین، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسہ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۷ھ۔
  • نووی، یحیی بن شرف، المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج، بیروت، دارحیاء النراث العربی، ۱۳۹۲ھ۔