مندرجات کا رخ کریں

رسول اکرمؐ کی شادیاں

ویکی شیعہ سے
مقالہ رسول اکرمؐ کی شادیاں جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔
ازواج رسول خدا
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: 25 عام الفیل)
سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: 1 یا 2 یا 4 ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: 3 ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: 3 ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: 4 ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: 5 ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: 5 یا 6 ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: 6 یا 7 ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: 7 ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: 7 ہجری)
میمونہ بنت حارث (ازدواج: 7 ہجری)

رسولِ اکرمؐ کی شادیاں، اور ان کی تعداد کا مسئلہ اُن موضوعات میں سے ہے جن پر متعدد مصنفین نے اپنی کتابوں اور مقالات میں طرح طرح کے ابہامات اور الزامات عائد کیے ہیں۔ خصوصاً بیسویں صدی عیسوی سے پہلے کے بعض عیسائی مصنفین نے رسولِ اکرمؐ کی شادیوں کو محض جنسی لذت یا نفسانی خواہشات کی تسکین کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی طرح بعض کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے متعدد شادیاں اسلئے کی تاکہ ان کے یہاں اولاد ذکور پیدا ہوں۔

تاہم شیعہ مورخ اور محدث سید مرتضی عسکری نے ان تمام دعووں کو محض اُن روایات کا نتیجہ قرار دیا ہے جو حضرت عائشہ سے منسوب کی جاتی ہیں، اور جن میں پیغمبر اسلامؐ کی ایسی تصویر پیش کی گئی ہے جو اُن کے مقام و منزلت سے سراسر ناسازگار ہے۔ ناقدین کی اسلام کے اصلی مصادر سے ناواقفیت اور ان پر عیسائی یا مادّی زاویۂ نگاہ کے اثرات کو بھی ان الزامات کا بنیادی سبب بتایا گیا ہے۔ دوسری طرف علما کے ایک گروہ نے رسولِ اکرمؐ کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ(س) جو آپؐ سے عمر میں چند برس بڑی تھیں، کے ساتھ پچیس سالہ ازدواجی زندگی، کو ان تمام شبہات کا قطعی جواب قرار دیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ کثرتِ ازدواج عربی معاشرے میں عام اور رائج امر تھا۔

اسلامی مآخذ کے مطابق، رسولِ اکرمؐ کی وہ تمام زوجات جن سے آپ نے حضرت خدیجہ(س) کے بعد نکاح کیا، سوائے حضرت عائشہ کے، سب بیوہ اور ان میں سے بعض کی عمر پچاس برس سے بھی زیادہ تھی۔ مزید برآں، مسلمان مصنفین نے پیغمبرِ اسلامؐ کی ازواج کے خاندانی پس منظر کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ یہ سب خواتین اُن قبائل سے تعلق رکھتی تھیں جو یا تو اسلام کے مخالف اور مسلمانوں سے برسرِ پیکار تھے یا عرب کے بڑے اور اثر و رسوخ والے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں۔ نیز یہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے یہ تمام شادیاں اس مختصر مدت میں کی جب آپ مسلسل جنگوں اور سیاسی کشمکش میں مشغول تھے۔ لہٰذا ان کے نزدیک، رسول اللہؐ کی یہ شادیاں زیادہ تر سیاسی نوعیت کی تھیں، تاکہ مختلف قبائل سے آپؐ کے تعلقات مستحکم ہوں اور اسلام کے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کیا جاسکے۔

علاوہ ازیں، آپؐ کی بعض شادیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف اخلاقی و خیر خواہانہ محرکات کی بنیاد پر انجام پائی تھیں، ان عوامل میں طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کی کفالت اور ان کی معاشی مدد وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح زینب بنت جحش سے آپ کے نکاح کو حکم الٰہی کا امتثال قرار دی گئی ہے، تاکہ جاہلیت کی ایک غلط رسم، یعنی منہ بولے بیٹے کی مطلقہ زوجہ سے شادی کی حرمت، کو ختم کیا جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ رسولِ اکرمؐ کی ازواج نے اسلامی تعلیمات کے فروغ، خاص طور پر احکامِ نسواں کی تعلیم و تفہیم میں نہایت اہم کردار ادا کیں ہیں۔

اہمیت

پیغمبر اسلامؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد شادیاں کی۔[1] مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ شریعت میں بعض احکام رسول اللہؐ سے مختص تھے(خصائص النبی)، ان میں سے ایک حکم یہ تھا کہ عام مسلمانوں کے برخلاف آپؐ کے لئے ایک ہی وقت میں چار سے زائد خواتین سے شادی کرنا جائز تھا۔[2] پیغمبر اکرمؐ کی ازواج کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ان کی تعداد تیرہ (13)،[3] بعض نے پندرہ (15)[4] اور بعض نے ان کی تعداد اکیس (21) تک ذکر کیا ہے، تاہم، متفقہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ رسول اللہؐ نے صرف گیارہ (11) ازواج کے ساتھ ازدواجی زندگی بسر کی ہیں۔[5] پیغمبر اکرمؐ کی ازواج کی تعداد کے بارے میں پایا جانے والا اختلاف کبھی مبالغہ آرائی کے ذریعے آپؐ کی شخصیت کو مجروح کرنے اور کبھی تاریخی حقائق سے ناواقفیت اور بعض ازواج کے ناموں میں اشتباہ ہونے کی بنا پر وجود میں آیا ہے۔[6]

رسولِ اکرمؐ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایک تہائی حصے میں ہونے والی آپ کی متعدد شادیوں کے علل و اسباب سے متعلق گفتگو، سیرت نبوی کے مباحث میں ہمیشہ ایک اہم اور قابل توجہ پہلو کے طور پر زیر غور رہی ہے۔[7] کہا جاتا ہے کہ اس بارے میں دو بالکل متضاد نظریات پائے جاتے ہیں: ایک گروہ ان شادیوں کو سیاسی و اجتماعی مصالح اور متعلقہ ازواج کے مفاد کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ دوسرا گروہ انہیں خواہشات نفسانی یا جنسی لذت کی تسکین کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہیں پیغمبر اکرمؐ کی اخلاقی اور انصاف محور عملی سیرت سے ناموزوں قرار دیتے ہیں۔[8]

الزام تراشی اور گوناگوں تجزیوں کی بنیاد

مسلمان مفکرین اس بات کے معتقد ہیں کہ رسولِ اکرمؐ کی تمام شادیاں اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت اور بلند اخلاقی مقاصد پر مبنی تھیں۔[9] اس کے برعکس بعض مستشرقین اور مغربی مصنفین نے پیغمبر اسلامؐ کی متعدد شادیوں کو عورتوں سے آپؐ کی غیر معمولی رغبت اور خواہشات نفسانی کی تسکین کا ذریعہ قرار دیا ہے۔[10] مشہور مستشرق کارل ارنِست (Carl Ernst) اپنی کتاب "محمد کی اقتدا" میں لکھتے ہیں کہ اکثر عیسائی مفکرین رسول اسلامؐ کے تعدد زوجات کو اُن کی کمزوری شمار کرتے ہیں، کیونکہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ محمدؐ بھی عیسیٰ مسیح کی طرح مجرد زندگی گزاریں۔[11]

اسی طرح فرانسیسی ماہرِ عمرانیات گوستاو لوبون (Gustave Le Bon) نے کہا ہے کہ رسول اکرمؐ پر اگر کوئی تنقید کی جا سکتی ہے تو وہ صرف یہی ہے کہ آپ کو عورتوں سے شدید رغبت تھی۔[12] بہت سے مغربی مصنفین نے پیغمبر اسلامؐ کی تمام یا اکثر شادیوں کو محض جنسی لذت، کام جُوئی یا عورتوں سے رغبت کی نشانی قرار دیئے ہیں۔[13] یہاں تک کہ بعض نے تو آپؐ کی فطری جنسی قوت کو بھی ایک عیب یا نقطۂ ضعف قرار دیا ہے۔[14] کہا گیا ہے کہ انیسویں صدی عیسوی کے اکثر مستشرقین نے پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں اسی نقطۂ نظر کو اپنایا ہے۔[15]

تاہم ان کے مقابلے میں انیسویں صدی عیسوی کے انگریز مستشرق جان ڈاون‌پورت (John Davenport) اپنی معروف تصنیف "محمد اور قرآن کی بارگاہ میں معذرت خواہی" میں رسول اکرمؐ کو لذت‌ پرستی سے بالکل بری قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمدؐ متعدد شادیوں کے ذریعے اولاد ذکور کے خواہاں تھے۔[16] فرانسیسی مستشرق ماکسیم رودنسون (Maxime Rodinson) نے بھی اسی نظریے کو تقویت دیا ہے۔[17]

اسلامی مفکر حسن یوسفی اشکوری کے مطابق رسول اکرمؐ کی تمام شادیوں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔ اُن کے نزدیک بعض شادیاں یقیناً اسلام اور مسلمانوں کی مصلحتوں اور تبلیغی حکمتوں کے لیے تھی،[18] لیکن کچھ شادیاں، مثلاً حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے شادی، ایسی بھی تھی جن میں دیگر حکمتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی، دینی اور شخصی محرکات بھی شامل تھے۔[19] یوسفی اشکوری کے نزدیک، اسلام میں ازدواجی زندگی ایک فطری و انسانی ضرورت ہے، اور پیغمبرؐ بھی انسان ہونے کی حیثیت سے انسانی غریزوں سے مستثنی نہیں تھے، چنانچہ آپ کی بعض شادیوں میں مشروع شخصی خواہشات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ وہ اس بات کی تائید میں سورہ احزاب آیت نمبر 52 کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں، جس میں پیغمبر اکرمؐ کے لیے مزید شادی کرنے پر پابندی کا ذکر ہے۔[20]

عراق کے شیعہ عالم محمد حسین کاشف الغطاء کا خیال ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے متعدد شادیوں کے ذریعے روحانی عظمت، ضبطِ نفس، استقامت، اور عدل و انصاف کا عملی مظاہرہ امت کے سامنے پیش کیا۔[21] اسی طرح کارل ارنِست (متولد 1950ء) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک پیغمبر اسلامؐ انسان کامل اور اسوۂ حسنہ ہیں، لہٰذا آپ نے زندگی کے ہر گوشے میں، بشمول شادی اور عائلی زندگی کی تشکیل میں ایک دینی نمونہ امت کے سامنے رکھ دیا ہے، کیونکہ حیات بشری تولید مثل اور عائلی زندگی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔[22]

الزامات اور ابہامات کے اصلی محرکات

محققین نے پیغمبرِ اسلامؐ کی ازدواجی زندگی کے بارے میں پائے جانے والے ابہامات اور الزامات کے اصل محرکات تک پہنچنے کے لئے کچھ نکات کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں: بعض تجزیہ کاروں کی مادی ذہنیت، عیسائی اعتقادات کا اثر جو تجرد اور شریک حیات انتخاب نہ کرنے کو زہد اور قربِ الٰہی کی علامت سمجھتی ہے، مسلمان بادشاہوں اور حکمرانوں کے غلط کرتوت اور ان کے حرم سرا، مسلمانوں کی تاریخی اور حدیثی منابع میں موجود من گھڑت اور جعلی روایات، مغربی محققین کی تحقیقی کمزویاں اور محدودیتیں اور اصل اسلامی منابع سے ان کی دوری شامل ہیں۔[23]

شیعہ تاریخی محقق سید مرتضی عسکری (1293-1386ہجری شمسی) کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کی شخصیت کے بارے میں جو غلط تصویر دنیا کے سامنے رکھی گئی ہے ان کی اصل اور واحد علت وہ روایات ہیں جو اسلامی منابع میں حضرت عائشہ سے منقول ہیں۔ ان کے مطابق ان احادیث میں پیغمبر اکرمؐ کو عورتوں کا دلدادہ شخص قرار دیا گیا ہے۔[24] علامہ عسکری اپنی کتاب "اسلام میں عائشہ کا کردار" کی تصنیف کا اصل مقصد اسی نکتہ کو دنیا کے سامنے رکھنا قرار دیتے ہیں۔[25] اسی طرح شیعہ محقق حسن عاشوری لنگرودی اپنی کتاب "ازواج پیامبر" میں مستشرقین کی جانب سے پیغمبر اکرمؐ پر لگائے جانے والے الزامات اور تہمتوں کے علل و اسباب کو ان کا قرآن اور اصل اسلامی متون کی طرف مراجعہ نہ کرنا اور صرف غیر معتبر اور جعلی روایات پر مبنی منابع تک اکتفا کرنا قرار دیتے ہیں۔[26]

تحقیقی مطالعات میں ان کا انعکاس

پیغمبر اسلامؐ کی ازدواجی زندگی اور اس کے دینی و تاریخی پہلوؤں پر، مختلف اسلامی محققین اور مستشرقین نے اپنی کتابوں اور مقالات میں گفتگو کی ہیں۔ عاشوری لنگرودی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں اس موضوع پر لکھی گئی سترہ (17) فارسی اور عربی کتابوں کا ذکر کیا ہے۔[27] اسی طرح کتاب «پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھے گئے مقالات(1383ہجری شمسی)» میں «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا فلسفہ» کے عنوان کے تحت دس (10) مقالات کی فہرست ذکر کی گئی ہے۔[28] شیعہ سیرت نگار و مورخ سید جعفر مرتضی عاملی نے اپنی مفصل تصنیف «الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم» میں پیغمبر اسلامؐ کی تعددِ زوجات کے موضوع پر تفصیلی باب قائم کیا ہے۔[29] اسی طرح کتاب «مستشرقان و پیامبر اعظم(ص)» کے مصنف نے بھی اپنی تصنیف کے دو ابواب کو پیغمبر اکرمؐ کی تعددِ زوجات اور اس بارے میں مغربی مصنفین کے نظریات سے مخصوص کیا ہے۔[30]

اس سلسلے میں تحریر کی گئی دیگر اہم کتابوں میں شامل ہیں: «پیغمبر اکرمؐ کی تعدد ازواج کی حکمت» (سید مرتضی عسکری، متکلم و سیرت‌پژوہ شیعہ)،[31] «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تاریخی تجزیہ» (مصطفی جعفرپیشہ‌ فرد)،[32] «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا فلسفہ» (جواد شادی)،[33] «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تجزیہ و تحلیل» (حمیدہ برہانیان)،[34] «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تجزیہ اور اعتراضات کا جواب» (محمدرضا عباسی)،[35] اور عربی زبان میں «نساء حول الرسول(ص)» (محمود مہدی استانبولی)۔[36]

تاریخ اور تعداد

پیغمبر اسلامؐ نے اپنی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ کے انتقال کے ایک سال بعد سودہ سے نکاح کیا جو پچپن (55) سالہ بیوہ تھیں۔[37] اس کے بعد آپؐ نے مکہ میں عائشہ سے نکاح کی تجویز دی اور غزوۂ بدر (2ھ) کے بعد مدینہ میں ان کے والد حضرت ابوبکر کے اصرار پر عائشہ کو اپنے گھر لے آئے۔[38] آپ کی چوتھی زوجہ حفصہ بنت عمر بھی ایک بیوہ خاتون تھیں اور روایت کے مطابق حسن و جمال میں بھی نمایاں نہ تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے والد حضرت عمر نے جب ان کا نکاح حضرت عثمان اور حضرت ابوبکر سے کرنے کی تجویز دی تو انہوں نے انکار کیا۔[39]

تحقیقی روایت کے مطابق، رسولِ اکرمؐ کی اکثر شادیاں مشکل ترین جنگی حالات اور داخلی بحرانوں کے دوران، یعنی 3 ہجری سے سات ہجری کے درمیانی عرصہ میں ہوئیں۔[40] ان شادیوں میں سے بیشتر کا تعلق قریش اور یہودی قبائل کی خواتین سے تھا، جبکہ آپؐ کی ازواج میں کوئی خاتون انصار سے نہیں تھی۔[41] آپؐ کی گیارہ (11) ازواج میں سے نو (9) مکہ کی اور دو (2) یہودی نژاد تھیں۔[42] سورہ احزاب کی آیت نمبر 52 سنہ 7ھ کے آخر یا 8ھ کے آغاز میں نازل ہوئی جس میں پیغمبر اکرمؐ پر مزید نکاح کرنے کی پابندی عائد کی گئی۔[43]

آپ کی دیگر ازواج جو سب کے سب بیوہ اور عمر رسیدہ تھیں: منجملہ ان میں ام سلمہ جو ایک معمر خاتون تھیں جن کے کئی بچے تھے اور ابتدا میں نکاح سے گریزاں تھیں۔[44] ام حبیبہ بنت ابوسفیان جن کی عمر 37 سال اور ان کے شوہر کا انتقال حبشہ میں ہوا تھا،[45] میمونہ، عمر 51 سال، رسول خدا سے نکاح سے پہلے دو بار شادی کرچکی تھیں، اور انہوں نے خود رسولِ اکرمؐ کو نکاح کی پیشکش کی،[46] زینب بنت جحش، عمر 50 سال، جن سے نکاح کا مقصد ایک جاہلی رسم کے خاتمے کی صورت میں شرعی اصلاح تھا۔[47] اور زینب بنت خزیمہ، جو اس سے قبل دو بار نکاح کرچکی تھیں۔[48] اسی طرح جویریہ بنت حارث اور صفیہ بنت حیی ابتدائی طور پر رسولِ اکرمؐ کی ملکیت میں بطورِ کنیز تھیں، اور اسلامی قوانین کے مطابق کنیزوں کے ساتھ جنسی رابطہ برقرار کرنا جائز تھا،[49] لیکن آپؐ نے ان دونوں کو پہلے آزاد کیا، پھر ان کی اپنی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کیا۔[50]

پیش کردہ علل و اسباب

مسلمان اور غیر مسلمان بعض علماء اور محققین نے رسولِ اکرمؐ کی متعدد شادیوں کے مختلف علل و اسباب بیان کرتے ہوئے ان مغربی اور عیسائی مستشرقین اور مصنفین کے اعترضات کا جواب دیا ہے جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی متعدد شادیوں کو آپ کی خواہشات نفسانی اور جنسی لذت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا تھا۔

حضرت خدیجہ کے ساتھ ایک مدت تک زندگی بسر کرنا

مشہور کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے 25 سال کی عمر میں[51] خود حضرت خدیجہ کی تجویز پر جو اس وقت 40 سال کی تھیں، ان سے شادی کی[52] اور ان کی وفات تک یعنی 25 سال ان کے ساتھ مشترکہ ازدواجی زندگی بسر کی[53] اور اس مدت میں ان کے علاوہ کسی عورت سے شادی نہیں کی،[54] جبکہ اس زمانے میں عرب معاشرے میں متعدد شادیوں کا رواج عام تھا۔[55] لیکن پیغمبر اکرمؐ نے اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ صرف حضرت خدیجہ کے ساتھ گزاریں۔[56]

علامہ طباطبائی صاحب تفسیر المیزان کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کی عملی سیرت آپ کے بارے میں کئے جانے والے ان ادعا کے خلاف کو ثابت کرتی ہے جن میں آپ کو ایک شہوت پرست انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، کیونکہ آپ نے اپنی عمر کے ایک تہائی حصے کو صرف حضرت خدیجہ کے ساتھ بسر کیں اور آپ کی متعدد شادیاں حیات طیبہ کے آخری ایک تہائی حصے میں ہوئی ہیں۔[57] یوں حضرت خدیجہ کے علاوہ آپ کی باقی تمام شادیاں عمر کے 54 سے 61 سال کی عمر میں انجام پائی ہیں۔[58]

حضرت خدیجہ جیسی عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ شادی سے آپ کی پشیمانی سے متعلق ادعا کے جواب میں کہا گیا ہے کہ تاریخی شواہد منجملہ خود حضرت خدیجہ کی عظیم شخصیت جس نے اپنے تمام مال و دولت کو اسلام کی سربلندی کے لئے حضرت محمدؐ کے سپرد کیں لیکن اس کے باوجود اپنے آپ کو پیغمبر اکرمؐ کی ایک کنیز قرار دیتی تھیں،[59] پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے حضرت خدیجہ کی حیات اور ان کی وفات کے بعد ان کی تمجید و تعریف اور انہیں بہشت کی چار برگزیدہ خواتین میں سے ایک قرار دینا،[60] حضرت خدیجہ کی زندگی حتی ان کی وفات کے ایک سال تک کسی اور عورت سے شادی نہ کرنا[61] سب کے سب اس دعوے کو رد کرتے ہیں جس میں کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ حضرت خدیجہ کے ساتھ شادی سے راضی نہیں تھے،[62] علاوہ بر این شادی کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے، مشہور کے مطابق ان کی عمر اس وقت 40 سال تھی جبکہ بعض مورخین اس وقت ان کی عمر 25 سال بتائے جانے کے قول کو صحیح قرار دیتے ہیں۔[63]

بیوہ اور عمر رسیدہ خواتین سے شادی

علامہ طباطبائی کے مطابق اگر پیغمبر اکرمؐ کی شادیاں خواہشات نفسانی کی تسکین کے لئے تھیں تو انہیں چاہئے تھا کہ حضرت خدیجہ کے بعد جوان عورتوں سے شادی کرتے نہ بیوہ اور عمر رسیدہ خواتین سے۔[64] حالانکہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپ کی پہلی شادی سودہ نامی ایک عمر رسیدہ بیوہ خاتون سے ہوئی[65] اور حضرت عائشہ کے علاوہ آپؐ کی تمام ازواج بیوہ تھیں۔[66]

اولاد ذکور کی خواہش سے شادی کا تنقیدی جائزہ

پیغمبر اکرمؐ کی متعدد شادیوں کے علل و اسباب کو اولادِ ذکور کی خواہش میں منحصر کرنے کے دعوے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اولاً اس مفروضے کے حق میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ ثانیاً اگر واقعی آپؐ کی ایسی کوئی خواہش ہوتی تو مناسب یہی تھا کہ آپؐ بیوہ یا یائسہ خواتین کے بجائے جوان عورتوں سے عقد کرتے۔ مزید یہ کہ اگر اس نوعیت کا کوئی مقصد پیشِ نظر ہوتا تو آپؐ اپنے بیٹوں کے انتقال کے فوراً بعد یہ قدم اٹھاتے، نہ کہ پچاس برس کی عمر کے بعد۔ اس کے علاوہ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپؐ کی بعض ازواج، نکاح سے پہلے آپؐ کی ملکیت میں بطور کنیز موجود تھیں، اور اگر اولادِ ذکور ہی مقصود ہوتا تو آپؐ شادی کے بغیر بھی ان سے صاحب اولاد ہو سکتے تھے۔[67]

مذہبی اور سیاسی مقاصد کے لئے

اکثر مسلمان علما کا کہنا ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ کی ان متعدد شادیوں کے پس منظر میں محض بلند اور متعالی دینی و سماجی مقاصد کارفرما تھے، نہ کہ ذاتی خواہشات یا مادی اغراض۔ وہ اس رائے کے حق میں قرآن مجید کی آیات، تاریخی روایات، اور بعض عقلی و کلامی دلائل (جیسے عصمت نبوی اور خیرخواہیِ عامہ) پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک پیغمبرِ اکرمؐ کی ازدواجی زندگی حکمت، مصلحت، اور اصلاحِ امت کے اصولوں پر مبنی تھی۔[68] ابن خلدون کے مطابق، اُس زمانے میں جب عرب معاشرہ مسلسل جنگ و خونریزی میں مبتلا تھا اور لڑائیاں قبائلی زندگی کا فطری جزو بن چکی تھیں، اُس ماحول میں ازدواجی تعلقات جنگوں کے خاتمے اور قبائلی دشمنیوں کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ تھے۔[69]

اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلامؐ کی بیشتر شادیاں قبائلی اتحاد اور سماجی استحکام کے لیے انجام پائیں۔ ان شادیوں کے ذریعے آپؐ نے مختلف قبائل کے ساتھ خاندانی رشتے قائم کیے تاکہ مسلمانوں کا سیاسی و اجتماعی اثر و رسوخ مضبوط ہو۔ مثلاً: حضرت عائشہ سے آپ کا نکاح قبیلہ تیم کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث بنا،[70] اور صفیہ بنت حیی بن اخطب (جو بنی‌ نضیر کے یہودی سردار کی بیٹی تھیں) سے نکاح کے ذریعے آپؐ نے یہودی قبائل کے ساتھ صلح اور تعلقات کی راہ ہموار کی اور ان کی اسلام دشمن سازشوں کا سدِّباب فرمایا۔[71] اسی طرح بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ امّ حبیبہ (ابو سفیان کی بیٹی) سے آپؐ کا نکاح، قریش کے ایک بڑے دشمن خاندان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا باعث بنی اور ابو سفیان کے اسلام قبول کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی۔[72] اسی طرح جویریہ بنت حارث (بنی‌ مصطلق کے سردار کی بیٹی) سے نکاح کے نتیجے میں، مسلمان مجاہدین نے اُس قبیلے کے تقریباً دو سو خاندان کو جو اسیر ہو گئے تھے، اس وجہ سے آزاد کر دیا کہ وہ اب رسول خداؐ کے قریبی رشتہ دار شمار ہوتے ہیں؛ اور جب بنی‌ مصطلق کے لوگوں نے یہ کرم دیکھا، تو سب کے سب اسلام لے آئے۔[73]

اسلامی مطالعات کے امریکی محقق کارل ارنَسٹ کے مطابق، پیغمبرِ اسلامؐ کی بعض شادیاں سیاسی تدبیر کے طور پر انجام پائیں، تاکہ عرب قبائل کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کی جا سکے۔[74] اسی طرح مستشرق ڈیوِڈ مارگولیوَتھ (1858–1940ء) نے اپنی کتاب محمد اور پیدایشِ اسلام میں یہ رائے دی ہے کہ رسولِ اسلامؐ کی شادیاں زیادہ تر سیاسی نوعیت کی تھی۔[75] البتہ ان کے بقول، حضرت خدیجہ کی حیاتِ مبارکہ میں نہ تو آپؐ کو اس نوعیت کے نکاح کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی ایسے مواقع میسر آئے؛ چنانچہ ازواجی حکمتِ عملی کا یہ پہلو آپؐ نے ان کی وفات کے بعد بروئے کار لایا۔[76]

ازواجِ مطہرات کے ذریعے شریعت کی ترویج

کہا گیا ہے کہ رسول اکرمؐ کا حضرت عائشہ سے نکاح کرنے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ اسلامی احکام کو خواتین کے درمیان رائج اور منتقل کریں؛ کیونکہ حضرت عائشہ کو پیغمبر اکرمؐ کی سب سے ذہین و فہیم زوجہ سمجھا گیا ہے، اور بعض صحابہ کرام بھی اپنے پیچیدہ مسائل ان سے دریافت کیا کرتے تھے۔[77] اسی تناظر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ازواج مطہرات نے دینِ اسلام کی تبلیغ و ترویج میں نہایت اہم اور منفرد کردار ادا کیا، اور فقہ اسلامی میں مستعمل احادیث کا ایک نمایاں حصہ ان پاکیزہ خواتین کے ذریعے مروی ہیں۔[78]

اخلاقی اور خیرخواہانہ مقاصد پر مبنی شادیاں

رسول اکرمؐ کی بعض شادیوں کے پسِ پردہ محرکات کو اخلاقی اور غیر جنسی قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً بیوہ اور اسیر خواتین سے نکاح کو اُن خواتین کے سماجی مقام کی بحالی اور معاشرتی تحفظ کے لیے ایک اصلاحی اقدام کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ کیونکہ حضرت عائشہ کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ کی تمام ازواج بیوہ تھیں۔[79] اسی طرح، اُمّ حبیبہ سے نکاح کو اُن خواتین کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھا گیا ہے جو قبول اسلام کے باعث مصائب اور تکالیف سے دوچار ہوئیں۔[80]

یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے اُمّ سلمہ سے نکاح اس لیے کیا کہ وہ تنگدست تھیں اور اپنے یتیم بچوں کی کفالت نہیں کر سکتی تھیں؛[81] اور سودہ سے اس وجہ سے شادی کی کہ اُن کے تمام قبیلے والے مشرک تھے، اور شوہر کے انتقال کے بعد اُن کے قتل ہونے یا دوبارہ شرک کی طرف لوٹ جانے کا خطرہ تھا۔[82] اسی طرح زینب بنت خزیمہ سے نکاح کو اُن کے سماجی مقام کے تحفظ اور اُن کی سابقہ نیک نامی کے اعتراف کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ کیونکہ وہ زمانۂ جاہلیت میں نہایت سخی اور فیاض خاتون کے طور پر معروف تھیں، یہاں تک کہ انہیں اُمّ المساکین (یعنی غریبوں کی ماں) کہا جاتا تھا۔[83] مزید برآں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے جویریہ اور صفیہ کو پہلے کنیزی سے آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح فرمایا، تاکہ اسیروں و کنیزوں کی آزادی کو عام کرنے کی ایک عملی مثال قائم ہو۔[84]

غلط رسومات کے خاتمے کے لیے

کہا گیا ہے کہ رسول اکرمؐ کا زینب بنت جحش سے نکاح الٰہی حکم کی تعمیل اور رسمِ جاہلیت کے خاتمے کے لیے تھا۔ زینب بنت جحش دراصل زید بن حارثہ کی زوجہ تھی، اور زید رسول خداؐ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں عرب لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی فرزند کی حیثیت دیتے تھے اور ان کی موت یا طلاق کے بعد ان کی بیوی سے نکاح کو ناجائز سمجھتے تھے۔[85] لذا اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرمؐ کو زینب بنت حجش سے نکاح کا حکم دیا تاکہ اس باطل رسم کا خاتمہ ہو اور لوگوں پر یہ بات واضح ہو جائے کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی مانند نہیں ہے۔[86]

امریکی محقق ڈیوڈ پاورز نے، جو اسلامی و عربی مطالعات کے ماہر تھے، اس نکاح کو عقیدۂ خاتمیت کے تناظر میں دیکھا ہے۔ اُن کے مطابق رسول اکرمؐ نے زید کی سابقہ زوجہ سے نکاح اس لیے کیا تاکہ اُن کے بعد کوئی شخص ’’محمد کا فرزند‘‘ کہلا کر نبوت یا میراث کا مدعی نہ بن سکے۔[87]

حوالہ جات

  1. مسعودی، مروج الذہب، 1380ش، ج3، ص23۔
  2. کرکی، جامع المقاصد، 1414ھ، ج12، ص58؛ سیوطی، الخصائص الکبری، دار الکتب العلمیہ، ج2، ص426۔
  3. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج2، ص643؛ عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص54-66۔
  4. مسعودی، مروج الذہب، 1380ش، ج3، ص23؛ ذہبی، تاریخ الاسلام، 1413ھ، ج1، ص592۔
  5. طبرسی، اعلام الوری، 1375ش، ج1، ص274-280۔
  6. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص35-40۔
  7. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص163۔
  8. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص163-164۔
  9. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص54-72؛ عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص58-64۔
  10. صمیمی، محمد در اروپا، 1382ش، ص419-421؛ انصاری، بازشناسی قرآن، 1378ش، ص362-363۔
  11. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390ش، ص112۔
  12. لو بن، تمدن اسلام و عرب، 1318ش، ص116-124۔
  13. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص195۔
  14. دشتی، بیست و سہ سال، بیروت، ص199-200۔
  15. صمیمی، محمد در اروپا، 1382ش، ص419-421۔
  16. داونپورت، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن، 1388ش، ص35۔
  17. انصاری، کوروش بزرگ و محمد بن عبداللہ، 1370، ص278-279؛ داونپورت، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن، 1388ش، ص35-36۔
  18. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص167۔
  19. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص172۔
  20. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص172۔
  21. کاشف‌الغطاء، الفردوس الاعلی، 1426ھ، ص122۔
  22. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390ش، ص30۔
  23. عبدالمحمدی، مستشرقان و پیامبر اعظم(ص)، 1392ش، ص195-196۔
  24. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص72۔
  25. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص72۔
  26. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص72۔
  27. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص28-29۔
  28. خانہ پژوہش قم، مقالہ‌شناسی پیامبر اسلام(ص)، 1383ش، ص300۔
  29. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1385ش، ج6، ص198-209۔
  30. عبدالمحمدی، مستشرقان و پیامبر اعظم(ص)، 1392ش، ص195-240۔
  31. «پیغمبر اکرمؐ کی تعدد ازواج کی حکمت»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔
  32. «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تاریخی تجزیہ»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔
  33. «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا فلسفہ»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔
  34. «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تجزیہ و تحلیل»، سایت کتابخانہ ملی۔
  35. «پیغمبر اکرمؐ کی شادیوں کا تجزیہ اور اعتراضات کا جواب»، خانہ کتاب و ادبیات ایران۔
  36. استانبولی، نساء حول الرسول، 1421ھ، ص307-362۔
  37. ابن‌خلدون، مقدمہ ابن‌خلدون، 1410ھ، ج1، ص286؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج1، ص414۔
  38. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص45۔
  39. ابن‌سعد، الطبقات الكبرى، 1410ھ، ج8، ص81-83؛ استانبولی، نساء حول الرسول، 1421ھ، ص350۔
  40. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص56۔
  41. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص57 و 73۔
  42. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص86۔
  43. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص37-38۔
  44. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8، ص91؛ مغربی، دعائم الاسلام، 1385ھ، ج2، ص204؛ ابن‌سیدالناس، عیون الاثر، 1414ھ، ج2، ص386۔
  45. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8، ص70؛ استانبولی، نساء حول الرسول، 1421ھ، ص350۔
  46. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8، ص104؛ استانبولی، نساء حول الرسول، 1421ھ، ص335۔
  47. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج2، ص646؛ ایوب، زوجات النبی، 1417ھ، ص24۔
  48. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8، ص91؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج1، ص429۔
  49. سورہ مؤمنون، آیہ 6؛ سورہ معارج، آیہ 29-31۔
  50. ابن‌راہویہ، مسند ابن‌راہویہ، 1412ھ، ج4، ص255؛ ابن‌سیدالناس، عیون الاثر، 1414ھ، ج2، ص136۔
  51. ابن‌شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، 1376ھ، ج1، ص149۔
  52. ابن‌کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 1407ھ، ج2، ص293؛ بلاذری، أنساب الأشراف، 1417ھ، ج1، ص98۔
  53. ابن‌کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 1407ھ، ج2، ص295۔
  54. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج1، ص190۔
  55. ہیکل، حیاۃ محمد، دار الکتب، ص205۔
  56. طباطبایی، فرازہایی از اسلام، نشر جہان‌آرا، ص174۔
  57. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص195۔
  58. قدردان قراملکی و محرمی، پاسخ بہ شبہات کلامی: دربارہ پیامبر اعظم، 1393ش، ص300۔
  59. مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج16، ص22۔
  60. عسقلانی، الاصابہ، 1415ھ، ج8، ص264؛ صدوق، الخصال، 1362ش، ج1، ص206۔
  61. ابن‌کثیر، البدایۃ والنہایۃ، 1407ھ، ج2، ص295؛ ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج1، ص190۔
  62. غلامی، «نقدی بر مقالہ محمد(ص) و زنان»۔
  63. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1385ش، ج2، ص200-202۔
  64. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص195۔
  65. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص55؛ خُنجی، ازواج رسول‌اللہ، وبگاہ ایران‌تاریخ، ص17-18۔
  66. عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص54-66۔
  67. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص76-78۔
  68. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص196-197؛ عسکری، نقش عایشہ در اسلام، 1390ش، ج1، ص54-72؛ ابوالقاسم‌زادہ و کاظم‌نژاد، «کنکاشی دربارہ علل تعدد ہمسران پیامبر»، ص84۔
  69. ابن‌خلدون، مقدمہ ابن‌خلدون، 1410ھ، ج1، ص286۔
  70. قدردان قراملکی و محرمی، پاسخ بہ شبہات کلامی: دربارہ پیامبر اعظم، 1393ش، ص298۔
  71. مقریزی، امتاع الاسماع، دار الکتب العلمیہ، ج1، ص316؛ عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص98۔
  72. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج8، ص70۔
  73. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج2، ص625؛ عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص98۔
  74. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390ش، ص111۔
  75. صمیمی، محمد در اروپا، 1382ش، ص420۔
  76. صمیمی، محمد در اروپا، 1382ش، ص420۔
  77. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص93؛ طبارہ، مع الأنبیاء فی القرآن، 2003م، ص54۔
  78. یوسفی اشکوری، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، ص166۔
  79. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص196-197۔
  80. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج4، ص196-197۔
  81. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویہ، دار المعرفہ، ج2، ص627؛ عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص97-98۔
  82. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص97؛ قدردان قراملکی و محرمی، پاسخ بہ شبہات کلامی: دربارہ پیامبر اعظم، 1393ش، ص300۔
  83. عاشوری لنگرودی، ہمسران پیامبر، 1386ش، ص97؛ قدردان قراملکی و محرمی، پاسخ بہ شبہات کلامی: دربارہ پیامبر اعظم، 1393ش، ص300۔
  84. ابن‌راہویہ، مسند ابن‌راہویہ، 1412ھ، ج4، ص255؛ ابن‌سیدالناس، عیون الاثر، 1414ھ، ج2، ص136۔
  85. طباطبایی، فرازہایی از اسلام، نشر جہان‌آرا، ص174۔
  86. سورہ احزاب، آیہ 37۔
  87. سلیمانی، «زید و خاتمیت نبوت»۔

مآخذ

  • ابن‌خلدون، عبدالرحمن بن محمد، مقدمہ ابن‌خلدون، تہران، نشر استقلال، 1410ھ۔
  • ابن‌راہویہ، اسحاق بن ابراہیم، مسند ابن‌راہویہ، مدینہ، مکتبۃ الایمان، 1412ھ۔
  • ابن‌سعد، محمد بن سعد، الطبقات‌ الكبرى، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1410ھ۔
  • ابن‌سیدالناس، محمد بن محمد، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، بیروت، دار القلم، 1414ھ۔
  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، نجف، المکتبۃ الحیدریہ، 1376ھ۔
  • ابن‌کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، بیروت، ‌دار الفکر، 1407ھ۔
  • ابن‌ہشام، عبدالملک بن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقا و ابراہیم الابیاری و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • ابوالقاسم‌زادہ، مجید، و مہری کاظم‌نژاد، «کنکاشی دربارۂ علل تعدد ہمسران پیامبر»، در مجلہ معرفت، شمارہ 108، آذر 1385ہجری شمسی۔
  • ارنست، کارل، اقتدا بہ محمد(ص)، ترجمہ قاسم کاکایی، تہران، ہرمس، 1390ہجری شمسی۔
  • استانبولی، محمود مہدی، نساء حول الرسول، جدہ، مکتبۃ السوادی، 1421ھ۔
  • انصاری (روشنگر)، مسعود، بازشناسی قرآن، پاریس، نشر نیما، 1378ہجری شمسی۔
  • انصاری (روشنگر)، مسعود، کوروش بزرگ و محمد بن عبداللہ، بی‌نا، 1370.
  • ایوب، سعید، زوجات النبی: قراءۃ فی تراجم امہات المؤمنین فی حرکۃ الدعوہ، بیروت، دار الہادی، 1417ھ۔
  • «بررسی تاریخ ازدواج‌ہای پیامبر اعظم(ص)»، خانہ کتاب و ادبیات ایران، تاریخ اخذ: 3 نومبر 2025ء۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف، بیروت، دار الفکر، 1417ھ۔
  • «تحلیل و بررسی ازدواج‌ہای پیامبر اسلام(ص)»، سایت کتابخانہ ملی، تاریخ اخذ: 3 نومبر 2025ء۔
  • «تحلیلی بر ازدواج‌ہای پیامبر(ص)»، خانہ کتاب و ادبیات ایران، تاریخ اخذ: 3 نومبر 2025ء۔
  • «حکمت تعدد ہمسران پیامبر(ص)»، خانہ کتاب و ادبیات ایران، تاریخ اخذ: 3 نومبر 2025ء۔
  • خانہ پژوہش قم، مقالہ‌شناسی پیامبر اسلام، قم، مؤسسہ اطلاع‌رسانی مرجع، 1383ہجری شمسی۔
  • خُنجی، امیرحسین، ازواج رسول‌اللہ: اُمہات المؤمنین، وبگاہ ایران‌تاریخ، بی‌تا۔
  • داونپورت، جان، عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن، ترجمہ غلامرضا سعیدی، تہران، نشر اطلاعات، 1388ہجری شمسی۔
  • دشتی، علی، بیست و سہ سال، ویرایش بہزاد پوربیات، بیروت، بی‌تا۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام ووفیات المشاہیر والأعلام، بیروت، دار الکتاب العربی، 1413ھ۔
  • سلیمانی، مجید، «زید و خاتمیت نبوت»، کانال تلگرامی کاریز، تاریخ اخذ: 15 ستمبر 2025ء۔
  • سیوطی، عبدالرحمان بن ابی‌بکر، الخصائص الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، بی‌تا۔
  • صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، الخصال، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1362ہجری شمسی۔
  • صمیمی، مینو، محمد در اروپا، ترجمہ عباس مہرپویا، تہران، انتشارات اطلاعات، 1382ہجری شمسی۔
  • طبارہ، عفیف عبدالفتاح، مع الانبیاء فی القرآن، بیروت، دار العلم للملایین، 2003ء۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم‏، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین‏، فرازہایی از اسلام، تنظیم مہدی آیت‌اللہی، تہران، نشر جہان‌آرا، بی‌تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، 1375ہجری شمسی۔
  • عاشوری لنگرودی، حسن، ہمسران پیامبر(ص) (پرسش‌ہا و پاسخ‌ہا: 4)، تہران، نشر ہستی‌نما، 1386ہجری شمسی۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، قم، دار الحدیث، 1385ہجری شمسی۔
  • عبدالمحمدی، حسین، مستشرقان و پیامبر اعظم(ص)، قم، مرکز ترجمہ و نشر بین‌المللی المصطفی، 1392ہجری شمسی۔
  • عسقلانی، احمد بن علی بن محمد، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1415ھ۔
  • عسکری، سید مرتضی، نقش عایشہ در اسلام، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی علامہ عسکری، 1390ہجری شمسی۔
  • غلامی، علی، «نقدی بر مقالہ محمد(ص) و زنان»، سایت پژوہہ، تاریخ درج مطلب: 8 جنوری 2018ء، تاریخ اخذ: 27 اگست 2025ء۔
  • «فلسفہ ازدواج‌ہای پیامبر(ص)»، خانہ کتاب و ادبیات ایران.
  • قدردان قراملکی، محمدحسن، و غلامحسن محرمی، پاسخ بہ شبہات کلامی: دربارہ پیامبر اعظم(ص)، تہران، انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
  • کاشف‌الغطاء، محمدحسین، الفردوس الاعلی، با تعلیقات محمدعلی قاضی طباطبایی، قم، دار انوار الہدی، 1426ھ۔
  • کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد فی شرح القواعد، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، 1414ھ۔
  • لو بن، گوستاو، تمدن اسلام و عرب، ترجمہ محمدتقی فخر داعی، تہران، چاپخانہ علمی، 1318ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ دوم، 1403ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب ومعادن الجوہر، قم، انتشارات الشریف الرضی، 1380ہجری شمسی۔
  • مغربی، قاضی نعمان، دعائم الاسلام، قم، مؤسسہ آل‌البیت(ع)، 1385ھ۔
  • مقریزی، تقی‌الدین، امتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال والأموال والحفدۃ والمتاع، تحقیق عبدالحمید النمیسی، دار الکتب العلمیہ، بی‌تا۔
  • ہیکل، محمد حسنین، حیاۃ محمد(ص)، قاہرہ، دار الکتب، بی‌تا۔
  • یوسفی اشکوری، حسن، «تأملی در علل چندہمسری پیامبر اسلام»، در فصلنامہ نقد دینی، شمارہ 2، تابستان 1399ش، تاریخ اخذ: 328 اگست 2025ء۔