تہلیل

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


تَہْلیل یعنی لا الہ الاّ اللّہ کہنا توحید اسلامی کے اہم ترین شعاروں میں سے ہے۔ یہ ذکر مؤمنین کے اذکار میں سے ہے۔ روایات میں اسے اعلی ترین قول، خدا کا محکم قلعہ اور ارکان ایمان میں سے کہا گیا ہے۔ امام رضا(ع) کی حدیث سلسلۃ الذہب خدا کے نزد اس ذکر کی اہمیت کی بیان گر ہے۔

مفہوم‌ شناسی

لغت میں تہلیل ہَلَلَ کے مادے سے آواز بلند کرنے کے معنا میں ہے۔[1] اس جملے کا صناعی مصدر ہَیلَلۃ ہے جیسے بسم اللہ الرحمن الرحیم کیلئے بسملۃ اور لاحول و لاقوة الا باللہ کیلئے حوقلۃ[2] آتا ہے۔

تہلیل دینی اصطلاح میں لاالہ الاّ اللّہ کہنے سے عبارت ہے۔اسے تہلیل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل: لاالہ الاّ اللّہ کو انجام دیتے وقت انسان اپنی آواز بلند کرتا ہے۔ [3]

قرآن و حدیث

لاالہ الاّ اللّہ کی عبارت دو مرتبہ اسی صورت کے ساتھ قرآن کریم میں آئی ہے۔[4] اور اس سے ملتی جلتی عبارتیں جیسے لاالہ الاّ أنا، لاالہ الاّ أنت اور خاص طور پر لاالہ الاہو، تیس(30) مرتبہ سے زیادہ قرآن میں آئی ہیں۔[5]

مفسرین حدیث نبوی، صحابہ اور تابعین کے اقوال کی اساس پر قرآن میں آنے والے کلمہ التقوی [6] کو لاالہ الاّ اللّہ ہی سمجھتے ہیں۔[7]

حدیثی اور تفسیری مصادر میں لاالہ الاّ اللّہ کے اسما اور توصیف کلمۃ التوحید،[8] کلمۃ الاخلاص،[9] کلمۃ الحق،[10] الکلمۃ الطیبۃ،[11] اور العروة الوثقی[12] کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔بعض اسے خدا کا اسم اعظم بھی سمجھتے ہیں۔[13]

اہمیت ذکر

ذکر لاالہ الاّ اللّہ مؤمنین کے اذکار میں سے ہے۔ روایات میں اسکے بارے میں درج ذیل تعبیریں وارد ہوئی ہیں:

← ارکان ایمان: احادیث کی روشنی میں اس کا اقرار کرنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے نیز ایمان کے ستّر اور کچھ ابواب میں سے سب سے بڑا باب ہے۔[14]
← بلند ترین سخن: پیامبر اکرم نے لاالہ الاّ اللّہ اور اسی جیسی عبارتوں: سبحان اللّہ و الحمدللّہ و اللّہ اکبر کو بلند ترین قول کہا ہے۔[15]
←تکرار کی سفارش:اس ذکر کی اہمیت کے پیش نظر پیغمبر اسلام صدر اسلام میں «قولوا لاالہ الاّ اللّہ تُفلحوا» کے ذریعے اسلام کی دعوت دیتے تھے۔[16] اسی طرح مسلمانوں کو توصیہ کرتے تھے کہ اپنے اسلام کی تجدید لاالہ الاّ اللّہ کہہ کر کرو۔[17]
← محکم الہی قلعہ:امام رضا(ع) نے اپنے اجدادسے مروی رسول اکرم کی حدیث قدسی کہ جو شیعوں کے درمیان حدیث سلسلۃ الذہب کے نام سے معروف ہے؛ میں خدا نے لاالہ الاّ اللّہ کو اپنا محکم قلعہ اور حصار کہا اور اسے اس میں شامل ہو جانے کو عذاب الہی سے امان کو موجب قرار دیا ہے۔[18]

عرفانی مقام اور اہمیت

لاالہ الاّ اللّہ قدیم الایام سے مسلمان عرفا کا مورد توجہ رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی اہمیت کی وجہ اس قرآن میں مذکور ہونا ہے۔ چنانچہ ابن عربی کہتا ہے:

یہ انسان پر رحمت خداوند ہے کہ اس نے خود قرآن میں ایسی تعبر استعمال کی ورنہ کیسے ممکن ہے کہ انسان علم حق کی ابتدا لاالہ سے کرتا اور پھر اسکے مقام اثبات پر پہنچتا۔[19]

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ لاالہ الاّ اللّہ کے بارے میں منقول احادیث لاالہ الاّ اللّہ کی عرفانی تفاسیر کی رشد و تکامل میں مؤثر ہیں۔ ابوحامد غزالی نے احیاء علوم الدین[20] میں اس سے مربوط احادیث کا ایک مجموعہ ذکر کیا۔ ان احادیث میں سے حدیث اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ اگر کوئی اخلاص سے لاالہ الاّ اللّہ کہے تو وہ وارد بہشت ہو گا۔[21]

عرفا لاالہ الاّ اللّہ کے جملے کو ذکر خفی (قلبی) کا نام دیتے ہیں۔[22] کیونکہ اس کے تلفظ کی ادائگی میں لبوں کو حرکت نہیں دی جاتی ہے اور اسے دل ہی دل میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ [23]

متعلقہ رابط

حوالہ جات

  1. جوہری، ج۵، ص۱۸۵۲؛ ابن فارس، ج۶، ص۱۱؛ ابن منظور، ج۱۵، ص۱۲۰؛ مرتضی زبیدی، ج۱۵، ص۸۱۰
  2. ازہری، ج۵، ص۳۷۰؛ ثعالبی، ص۲۲۴-۲۲۵
  3. ازہری، ج۵، ص۳۶۸
  4. رجوع کریں؛ صافات: ۳۵؛ محمد: ۱۹
  5. رجوع کریں؛ عبدالباقی، ذیل «إلہ”
  6. فتح: ۲۶
  7. دیکھیں: بخاری جُعْفی، ج۷، ص۲۲۹؛ ترمذی، ج۵، ص۶۲؛ طبری، ج۲۶، ص۶۶۶۷؛ ابن بابویہ، ۱۳۸۶، ج۱، ص۲۵۱؛ طوسی، ج۴، ص۲۸۳
  8. فضل بن حسن طَبْرِسی، ج۶، ص۴۸۰، ج۸، ص۵۸۴
  9. ابن بابَویہ، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۹۹؛ ہمو، ۱۴۰۴، ج۲، ص۱۱۹
  10. ابن حَجَر عَسقَلانی، ج۸، ص۱۶۰
  11. قُرطُبی، ج۹، ص۳۵۹؛ طباطبائی، ج۱۲، ص۵۱
  12. شوکانی، ج۱، ص۲۷۷
  13. رجوع کریں؛ نَوَوی، ج۱۷، ص۱۸؛ مازندرانی، ج۱۰، ص۳۱۶
  14. رجوع کریں ابن حنبل، ج۲، ص۱۲۰، ۱۴۳، ۳۷۹؛ بخاری جعفی، ج۱، ص۸؛ علی بن حسن طبرسی، ص۸۶
  15. رجوع کریں: بخاری جعفی، ج۷، ص۲۲۹؛ طَبَرانی، ج۳، ص۳۱۵
  16. رجوع کریں: ابن حنبل، ج۳، ص۴۹۲، ج۴، ص۶۳؛ ابن شہر آشوب، ج۱، ص۵۱؛ مجلسی، ج۱۸، ص۲۰۲
  17. رجوع کریں: حاکم نیشابوری، ج۴، ص۲۵۶؛ متقی، ج۱، ص۴۱۶
  18. رجوع کریں: ابن بابویہ، ۱۳۸۷، ص۲۵؛ قضاعی، ج۲، ص۳۲۳-۳۲۴؛ ابن عساکر، ج۵، ص۴۶۲، ج۷، ص۱۱۵؛ مجلسی، ج۴۹، ص۱۲۷
  19. ج۲، ص۲۲۴-۲۲۵
  20. رجوع کریں؛ ج۱، ص۲۹۸-۳۰۰
  21. احیاء علوم الدّین، ج۱، ص۲۹۹
  22. رجوع کریں؛ نراقی، ص۳۳۳
  23. زرکشی، ص۸۲


مآخذ

  • قرآن کریم؛
  • ابن بابویہ، الامالی، قم ۱۴۱۷؛
  • ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، چاپ حسین اعلمی، بیروت ۱۴۰۴/۱۹۸۴؛
  • ابن حجر عسقلانی، فتح الباری: شرح صحیح البخاری، بیروت: دارالمعرفہ، [بی‌تا]؛
  • ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، [بی‌تا]؛
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، نجف ۱۹۵۶؛
  • ابن عربی، الفتوحات المکیہ، بیروت: دارصادر، [بی‌تا]؛
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۵۱۴۲۱/ ۱۹۹۵ ۲۰۰۰؛
  • ابن فارس، معجم مقاییس اللغہ؛
  • ابن منظور، لسان العرب؛
  • احمد بن محمد مہدی نراقی، کتاب الخزاین، چاپ حسن حسن‌ زادہ آملی و علی اکبر غفاری، تہران [۱۳۸۰]؛
  • اسماعیل بن حماد جوہری، الصحاح: تاج اللغہ و صحاح العربیہ، چاپ احمد عبد الغفور عطار، قاہرہ ۱۳۷۶، چاپ افست بیروت ۱۴۰۷؛
  • سلیمان بن احمد طبرانی، مسند الشامیین، چاپ حمدی عبد المجید سلفی، بیروت ۱۴۱۷/ ۱۹۹۶؛
  • طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن؛
  • طبری، جامع البیان؛
  • طوسی، مجمع البیان؛
  • عبد الملک بن محمد ثعالبی، فقہ اللغہ و سر العربیہ، چاپ سلیمان سلیم بواب، دمشق ۱۴۰۹/۱۹۸۹؛
  • علی بن حسام الدین متقی، کنزالعمال فی سنن الاقوال و الافعال، چاپ بکری حیانی و صفوہ سقا، بیروت ۱۴۰۹/ ۱۹۸۹؛
  • علی بن حسن طبرسی، مشکاہ الانوار فی غرر الاخبار، چاپ مہدی ہوشمند، قم ۱۴۱۸؛
  • فضل بن حسن طبرسی، جوامع الجامع؛
  • مجلسی، بحار الانوار؛
  • محمد بن احمد ازہری، تہذیب اللغہ، بج ۵، چاپ عبد اللّہ درویش، قاہرہ [بی‌تا]؛
  • محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، بیروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵؛
  • محمد بن اسماعیل بخاری جعفی، صحیح البخاری، استانبول ۱۴۰۱/۱۹۸۱؛
  • محمد بن بہادر زرکشی، معنی لاالہ الااللہ، چاپ علی محیی الدین علی قرہ داغی، قاہرہ ۱۹۸۵؛
  • محمد بن سلامہ قضاعی، مسند الشہاب، چاپ حمدی عبدالمجید سلفی، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵؛
  • محمد بن عبداللّہ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، چاپ یوسف عبد الرحمان مرعشلی، بیروت ۱۴۰۶؛
  • محمد بن علی شوکانی، فتح القدیر، بیروت: دار احیاء التراث العربی، [بی‌تا]؛
  • محمد بن عیسی ترمذی، سنن الترمذی، ج۲، ۵، چاپ عبد الرحمان محمد عثمان، بیروت ۱۴۰۳؛
  • محمد بن محمد غزالی، احیاء علوم الدین، قاہرہ، [۱۳۷۷/۱۹۵۷]؛
  • محمد بن محمد مرتضی زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۴/۱۹۹۴؛
  • محمد صالح بن احمد مازندرانی، شرح اصول الکافی، مع تعالیق ابو الحسن شعرانی، چاپ علی عاشور، بیروت ۱۴۲۱/۲۰۰۰؛
  • محمد فؤاد عبد الباقی، المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم، قاہرہ ۱۳۶۴، چاپ افست تہران [۱۳۹۷]؛
  • یحیی بن شرف نووی، صحیح مسلم بشرح النووی، بیروت ۱۴۰۷/ ۱۹۸۷؛

بیرونی رابط