لوح محفوظ

ویکی شیعہ سے

لوحِ مَحْفوظ قرآن کے حقیقی مقام کو کہا جاتا ہے جس میں کائنات کے تمام واقعات درج ہوتے ہیں‌۔ لوح محفوظ علم الہی کے مطابق ہے اور اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ قرآن کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے لوح محفوظ کی شناخت ضروری ہے؛ کیونکہ بعض مفسرین کے مطابق تمام آسمانی کتابوں منجملہ قرآن کریم کی اصل حقیقت لوح محفوظ ہی ہے۔ لوح محفوظ کے مقابلے میں لوح محو و اثبات ہے جس میں کائنات کے غیر یقینی واقعات کو درج کیا جاتا ہے اسی بنا پر اس میں تبدیلی کا امکان پایا جاتا ہے۔

لوح محفوظ کو مابعد الطبیعیات امور میں سے قرار دئے جاتے ہیں جو محسوسات کے زمرے میں نہیں آتے؛ چونکہ وہ انسانی حواس سے پرے ہیں۔ لوح محفوظ کی سب سے اہم خصوصیت اس کی جامعیت ہے۔ مفسرین کی ایک جماعت علم الہی کو کنایتاً لوح محفوظ سے تعبیر کرتی ہے، لیکن دوسرے مفسرین، قرآن کی دوسری آیات سے استناد کرتے ہوئے اس نظریے کو رد کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض فلسفی حضرات لوح محفوظ کو عقل فعال یا جبرئیل پر اطلاق کرتے‌ ہیں، لیکن یہ نظریہ ظاہر شریعت کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت سے اس پر کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے۔

بعض علماء قرآن کی بعض آیات سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے قائل ہیں کہ چودہ معصومینؑ لوح محفوظ سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بعض مفسرین لوح محفوظ سے آگاہی کو صرف خدا کے ساتھ مختص قرار دیتے ہیں۔ مسلمان محققین کے مطابق کائنات کے تمام واقعات کا لوح محفوظ میں درج ہونے سے انسان کا مجبور ہونا لازم نہیں آتا؛ کیونکہ انسان کے افعال جس طرح واقع ہونگے(اختیار کے ساتھ) اسی طرح لوح محفوظ میں درج ہیں اور خدا کا علم کسی واقعیت کو تبدیل نہیں کرتا۔

اسلامی تعلیمات کی رُو سے لوح محفوظ کی اہمیت

لوح محفوظ ایک قرآنی اصطلاح ہے جو پیغمبر اکرمؑ پر نزول تدریجی کے ساتھ نازل ہونے سے پہلے قرآن کی حقیقت پر دلالت کرتی ہے۔[1] تفسیر المیزان کے مصنف علامہ طباطبائی اس بات کے معتقد ہیں کہ لوح محفوظ پر موجود قرآن عام انسانوں کے لئے قابل فہم نہیں ہے؛ اسی بنا پر خداوندعالم نے قابل فہم بنانے کے لئے اسے نچلے مقام کی طرف نازل کیا ہے۔[2]علامہ طباطبائی کے مطابق انبیاء پر نازل ہونے والی آسمانی کتابیں لوح محفوظ سے نقل کی گئی ہیں اسی بنا پر قرآن میں لوح محفوظ کو اُمّ‌ الکِتاب (اصلی کتاب) کا نام دیا گیا ہے۔[3] اسی طرح لوح محفوظ کی شناخت، نزول قرآن سے متعلق قرآنی آیات، قرآن کی تحریف ناپذیری اور قرآن کی حقیقت کو سمجھنا اہم مسائل میں شمار کئے گئے‌ ہیں۔[4]

کتاب بِحارُالاَنوار کے مصنف علامہ مجلسی لوح محفوظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا لوح ہے جو خدا کے علم کے مطابق ہے اور اس میں کائنات کے تمام واقعات تحریر ہیں اور یہ قابل تغییر نہیں ہے۔[5] شیعہ مفسر آیت اللہ جعفر سبحانی کے مطابق لوح محفوظ میں انسان سے مربوط یقینی طور پر رونما ہونے والے تمام حوادث و واقعات تحریر ہیں۔[6] چونکہ لوح محفوظ میں یقینی طور پر رونما ہونے والے واقعات ثبت ہیں اس بنا پر اسے قضائے الہی ثبت ہونے کے مقام سے تعبیر کی جاتی ہے۔[7]لوح محفوظ کے مقابلے میں ایک اور لوح کا بھی تذکرہ ملتا ہے جسے لوح محو و اثبات کہا جاتا ہے جس میں کائنات کے وہ واقعات اور حوادث ثبت ہیں جن کا واقع ہونا یقینی نہیں اور یہ قابل تغییر ہیں۔[8]

لوح محفوظ کی تعبیر قرآن میں صرف ایک دفعہ آیت فِي لَوْحٍ مَحْفُوظٍ میں ذکر ہوا ہے۔[9] بعض مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں بھی مختلف تعبیروں کے ذریعے لوح محفوظ کی طرف اشارہ ہوا ہے منجملہ «كِتَابٍ مُبِينٍ»[10] (واضح اور آشکار کتاب)، «كِتَابٍ مَكْنُونٍ»[11] (پوشیدہ کتاب) اور «أُمِّ الكِتَابِ»[12] (اصلی کتاب) کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔[13]

لوح محفوظ کی حقیقت

لوح محفوظ مابعد الطبیعیات امور میں سے ہے اور اسے حواس خمسہ یا تجربہ وغیرہ کے ذریعے درک نہیں کیا جا سکتا۔[14] شیعہ مفسر قرآن آیت اللہ معرفت اور آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق لوح محفوظ علم خداوندی کی طرف اشارہ ہے اسی بنا پر اسے کسی مادی یا معنوی چیز مثلا ظرف، صفحہ یا مکان وغیرہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔[15] لیکن کتاب قرآن‌ شناسی کے مصنف آیت اللہ مصباح اس نظریے کو صحیح نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ لوح محفوظ کے بارے میں قرآنی تعابیر جیسے «وَعِندَہُ أمُّ الْكتَابِ» یعنی اصلی کتاب خدا کے پاس ہے، کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے یہ لوح عین ذات خدا نہیں بلکہ خدا کی ایک خلق کردہ چیز ہے۔[16] بعض محققین لوح محفوظ کی حقیقت کے بارے میں چھ نظریے بیان کرتے ہیں۔[17] کہا جاتا ہے کہ لوح و قلم کی تعبیر ہمارے ذہنوں کو مانوس کرنے یا تشبیہ و تنزیل کے قاعدے کے مطابق ہے لہذا اسے ہمارے پاس موجود قلم، کاغذ اور کتابوں سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہئے۔[18]

فلسفہ اور عرفان کی رو سے

بعض علمائے فلسفہ لوح محفوظ کو عقل فَعّال، جبرئیل[19] یا فَلَک اَعظم کے نَفْس کلی جس پر کائنات منقوش ہے، سے تطبیق کرتے ہیں۔[20]عرفانی تصور کائنات میں قلم کو لوح محفوظ کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔[21] مشہور صوفی مُحییِ‌ الدین بن‌ عربی اس بات کے معتقد ہیں کہ خداوند کا علم مخلوقات پر اجمالی اور قلم پر بطور تفصیلی ہے جسے لوح محفوظ میں ایجاد کیا جاتا ہے۔[22] ان تمام باتوں کے باوجود بعض محققین لوح محفوظ کو بعض فلسفی مفاہیم جیسے جوہر مُجَّرَد یا عقل اول وغیرہ پر تطبیق کرنے کو شریعت کے ظاہر کے خلاف قرار دیتے ہیں جس پر قرآن و سنت سے بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔[23]

خصوصیات

کہتے ہیں کہ لوح محفوظ کی سب سے اہم خصوصیت اس کی جامعیت ہے۔[24] احادیث کے مطابق کائنات کے تمام واقعات اور حوادث قلم کے ذریعے لوح محفوظ میں تحریر کئے گئے ہیں۔[25] اسی طرح بعض احادیث میں لوح محفوظ کی کچھ ظاہری خصوصیات جیسے اس کا زُمُرُّد ہونا[26] وغیرہ کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔ علامہ طباطبائی ان خصوصیات کو ایک قسم کی تمثیل قرار دیتے ہیں جو انسانی ذہنوں میں لوح محفوظ کی ایک تصویر ایجاد کرتی ہے۔[27]

لوح محفوظ تک غیر خدا کی دسترسی

بعض محققین، قرآن کی بعض آیات سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ بعض لائق اور شائستہ انسان لوح محفوظ سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔[28] یہ محققین سورہ واقعہ کی آیت نمبر 77-79 [یادداشت 1] اور سورہ احزاب کی آیت نمبر 33 [یادداشت 2] کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ چودہ معصومینؑ منجملہ ان افراد میں سے ہیں جن کو یقینی طور پر لوح محفوظ تک پہنچ حاصل ہے۔[29] شیعہ متکلم سید علی میلانی بھی اس بات کے معتقد ہیں کہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ‌ معصومینؑ لوح محفوظ کے ساتھ بلاواسطہ رابطہ رکھتے ہیں۔[30] علامہ طباطبائی بھی انبیاء اور ائمہ معصومینؑ کے علم غیب کو ان کی لوح محفوظ سے آگاہی سے تفسیر کرتے ہیں۔[31]

ان تماتم باتوں کے باوجود بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی (حتی انبیاء اور ائمہ معصومینؑ) لوح محفوظ سے آگاہ نہیں ہیں اور لوح محفوظ صرف اور صرف خدا کے اختیار میں ہے۔[32] آیت اللہ معرفت بھی امام صادقؑ سے مروی ایک حدیث سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حتی پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ بھی لوح محفوظ تک دسترسی نہیں رکھتے ہیں۔[33]

لوح محفوظ اور انسان‌ کا مختار ہونا

اسلامی محققین کے مطابق کائنات کے تمام واقعات کا لوح محفوظ میں ثبت و ضبط ہونے کے معنی انسان کا مجبور ہونا نہیں ہے۔[34] آیت اللہ مصباح یزدی نے کتاب خداشناسی میں اس اعتراض کو ذکر کیا ہے کہ کائنات کے تمام واقعات منجملہ انسانی افعال کا لوح محفوظ میں ثبت و ضبط ہونا انسان کے مختار ہونے کے ساتھ منافات رکھتا ہے۔[35] آیت اللہ مصباح اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں کہ انسان کے تمام افعال کا لوح محفوظ میں ثبت و ضبط ہونے کا مطلب انسان کا مجبور ہونا نہیں ہے، کیونکہ لوح محفوظ میں انسان کے افعال اسی طرح ثبت ہیں جس طرح یہ واقع ہونگے؛ بالفاظ دیگر، انسان کے افعال انسان کی اپنی مرضی اور اختیار کے ساتھ واقع ہونا ثبت ہے اور خدا کا علم کسی واقعیت کو تبدیل نہیں کرتا؛[36] مثال کے طور پر استاد امتحان سے پہلے ہی جانتا ہے کہ فلان طالب علم امتحان میں کامیاب ہوگا اور فلان طالب علم ناکام ہوگا۔[37]

متعلقہ مضامین

نوٹ

  1. إِنَّہُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ - فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ - لَا يَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُونَ: بےشک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے۔ نگاہوں سے پوشیدہ ایک کتاب کے اندر ہے۔ اسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا۔
  2. إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيراً: اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔

حوالہ جات

  1. کلانتری، «لوح محفوظ»، ص119.
  2. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج10، ص138.
  3. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج18، ص84.
  4. دہقانی، و دیگران، «معناشناسی لوح محفوظ در قرآن»، ص6.
  5. مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج2، ص132.
  6. سبحانی، مع الشیعۃ الإمامیۃ فی عقائدہم، 1440ھ، ص144-145.
  7. قلی‌زادہ، و توکلی، «بررسی تطبیقی چیستی لوح محفوظ و ویژگی‌ہای آن در المیزان و مجمع البیان»، ص185.
  8. مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج2، ص132.
  9. عبدالباقی، المعجم المفہرس، 1364ھ، ص653.
  10. سورہ انعام، آیہ 59.
  11. سورہ واقعہ، آیہ 78.
  12. سورہ زخرف، آیہ 4.
  13. ملاحظہ کریں: معرفت، التمہید، 1428ھ، ج3، ص34؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج26، ص354؛ سبحانی، مع الشیعۃ الإمامیۃ فی عقائدہم، 1440ھ، ص144.
  14. کلانتری، «لوح محفوظ»، ص121.
  15. معرفت، التمہید، 1428ھ، ج3، ص34؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج26، ص354.
  16. مصباح یزدی، خداشناسی، 1396ہجری شمسی، ص485.
  17. کلانتری، «لوح محفوظ»، ص122.
  18. جعفری، «بحثی دربارہ لوح محفوظ و لوح محو و اثبات»، ص85.
  19. تہاونی، کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم، 1996م، ج2، ص1416.
  20. ملا صدرا، الحکمۃ المتعالیہ، 1981ء، ج6، ص295.
  21. زمانی، «جایگاہ لوح و قلم در جہان‌شناسی عرفانی ابن عربی و عطار نیشابوری»، ص119.
  22. ابن‌عربی، التدبیرات الالہیہ، 1424ھ، ص108.
  23. انصاری، «لوح محفوظ»، ص1940.
  24. قلی‌زادہ، و توکلی، «بررسی تطبیقی چیستی لوح محفوظ و ویژگی‌ہا آن در المیزان و مجمع البیان»، ص189.
  25. شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385ہجری شمسی، ج1، ص19.
  26. شیخ مفید، الإختصاص، 1413ھ، ص49.
  27. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج8، ص170.
  28. غرویان، و دیگران، بحثی مبسوط در آموزش عقاید، 1371ہجری شمسی، ج1،‌ ص255-256.
  29. غرویان، و دیگران، بحثی مبسوط در آموزش عقاید، 1371ہجری شمسی، ج1،‌ ص255-256.
  30. حسینی میلانی، با پیشوایان ہدایتگر، 1389ہجری شمسی، ج4، ص198.
  31. طباطبایی، بررسی‌ہای اسلامی، 1388ہجری شمسی، ج1، ص195.
  32. صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ص109-110.
  33. معرفت، التفسیر و المفسرون، 1425ھ، ج1، ص513.
  34. مصباح یزدی، خداشناسی، 1396ہجری شمسی، ص487-488.
  35. مصباح یزدی، خداشناسی، 1396ش، ص487.
  36. مصباح یزدی، خداشناسی، 1396ہجری شمسی، ص487-488.
  37. تہمورسی، «لوح محفوظ»، ص533.

ماخذ

  • ابن‌عربی، التدبیرات الالہیۃ فی إصلاح المملکۃ الإنسانیہ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1424ھ۔
  • انصاری، مسعود، «لوح محفوظ»، در جلد دوم دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران، دوستان و ناہید، 1377ہجری شمسی۔
  • ‌ تہاونی، محمد علی، کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم، بیروت، مکتبۃ لبنان ناشرون، 1996ء۔
  • تہمورسی، رامین، «لوح محفوظ»، در جلد 14 دایرۃ المعارف تشیع، تہران، حکمت، 1390ہجری شمسی۔
  • جعفری، «بحثی دربارہ لوح محفوظ و لوح محو و اثبات»، در مجلہ کلام اسلامی، شمارہ 34، تابستان 1379ہجری شمسی۔
  • حسینی میلانی، سید علی، با پیشوایان ہدایتگر، قم، الحقائق، 1389ہجری شمسی۔
  • دہقانی، فرزاد، و دیگران، «معناشناسی لوح محفوظ در قرآن»، در مجلہ ذہن، شمارہ 73، بہار 1397ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، مع الشیعۃ الامامیہ فی عقائدہم، قم، موسسہ امام صادق(ع)، 1440ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، داوری، 1385ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإختصاص، قم، المؤتمر العالمی لألفیۃ الشیخ المفید، 1413ھ۔
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • طباطبایی، محمدحسین، بررسی‌ہای اسلامی، بہ کوشش: سید ہادی خسروشاہی، قم، بوستان کتاب، 1388ہجری شمسی۔
  • عبدالباقی، محمد فؤاد، المعجم المفہرس لألفاظ القرآن الکریم، قاہرہ، دار الکتب المصریہ، 1364ھ۔
  • غرویان، محسن، و دیگران، بحثی مبسوط در آموزش عقاید، قم، دار العلم، 1371ہجری شمسی۔
  • قلی‌زادہ، رضا، و محمدجواد توکلی، «بررسی تطبیقی چیستی لوح محفوظ و ویژگی‌ہای آن در المیزان و مجمع البیان»، در مجلہ تفسیر پژوہی، شمارہ 17، بہار و تابستان 1401ہجری شمسی۔
  • کلانتری، ابراہیم، «لوح محفوظ»، در مجلہ مقالات و بررسی‌ہا، شمارہ 83، پاییز و زمستان 1383ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول(ص)، تہران، دار الکتب الإسلامیہ، 1404ھ۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، خداشناسی، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی(رہ)، 1396ہجری شمسی۔
  • معرفت، محمدہادی، التفسیر و المفسرون فی ثوبہا القشیب، مشہد، دانشگاہ علوم اسلامی رضوی، 1425ھ۔
  • معرفت،‌ محمدہادی، التمہید فی علوم القرآن، قم، التمہید، 1428ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، الحکمۃ المتعالیۃ فی الأسفار العقلیۃ الأربعہ، تعلیقہ: محمدحسین طباطبایی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1981ء۔