تکبیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

تکبیر، کے لفظی معنی بڑائی کا بیان کرنا، خدا کی بڑائی کا بیان کرنا، اور اللہ اکبر کہنا ہے اور قرآن کریم میں صرف ایک بار ذکر ہوا ہے. اللہ اکبر کے ذکر کی بہت فضیلت اور ثواب ہے اور اس کا کہنا، بلکہ ہر حال میں اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے. اور اس کا شمار دوسری دعاؤں اور واجب اذکار جیسے تسبیحات اربعہ، اور مستحبات جیسے حضرت فاطمہ(س) کی تسبیح اور اذان و اقامت کی فصول میں ہوتا ہے.

تکبیر کا لفظ صدر اسلام سے لے کر آج تک مسلمانوں کے اجتماع اور جنگوں میں رائج رہا ہے اور ایران، افغانستان، اور عراق کے جھنڈے پر بھی لکھا گیا ہے.

لفظی اور اصطلاح معنی

تکبیر کا لفظی معنی، بڑائی، خدا کی بڑائی کا بیان کرنا اور اللہ اکبر کہنا ہے.[1] دینی متون میں، تکبیر کا معنی بڑائی ہے یا خدا کی بڑائی کو بیان کرنا ہے. [2] تکبیر کا لفظی معنی (اشتقاقی ریشے کے لحاظ سے) ہر چیز یا ہر کسی کی بڑائی ہے. [3]

قرآن میں تکبیر

کبر کا اصلی لفظ مختلف باب میں (کبر، استکبار، تکبر، اکبار) قرآن میں مختلف جگہ پر استعمال ہوا ہے، لیکن تکبیر کا لفظ فقط ایک بار قرآن میں آیا ہے.[4] مفسرین نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس کا معنی خداوند کی تعظیم اور اس کی بڑائی ہے [5]اور بعض روایات کے مطابق، اللہ اکبر کہنے کا معنی ہے، [6]ان دونوں کو جمع کرنے کا امکان بھی موجود ہے.

قرآن کریم کی دوسری آیات میں بیان ہوا ہے کہ تکبیر کا لفظ صیغہ امر کے طور پر بیان ہوا ہے اور عام طور پر اس کے مخاطبین پیغمبر(ص) اور مومن ہیں.[7]ان تمام موارد میں، تکبیر کا لفظ فقط خداوند کے لئے استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی بڑائی کو بیان کرنے کے لئے باب تفعیل کی جگہ باب افعال استعمال ہوا ہے. [8]

تکبیر احادیث میں

حدیث کے متون میں عام طور پر تکبیر، اللہ اکبر کہنے یا خداوند کی تعظیم اور بڑائی کو بیان کرنے کے مترادف ہے، چنانچہ روایت میں [9] وہ ہدایت جو اس نے دی ہے اور جو عافیت اس نے بخشی ہے اس کی وجہ سے خداوند کی بڑائی کو بیان کرنے کے معنی میں آیا ہے. بعض دیگر روایات میں اللہ اکبرکا معنی یہ ہے کہ خداوند اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے جو وہم و وصف میں موجود ہو [10] یا اس کا مقایسہ بتوں یا دوسرے خداؤں سے کیا جائے. [11]

فقہی ابواب میں

طہارت، صلاۃ، حج اور تجارت کے باب میں تکبیر کا ذکر ہوا ہے.

اللہ اکبر کے ذکر کی بہت فضیلت اور ثواب ہے اور ہر حال میں اس ذکر کو پڑھنا مستحب ہے.[12] اور بہت سے دعاؤں اور دوسرے واجب اذکار جیسے تسبیحات اربعہ، اور مستحبات جیسے حضرت فاطمہ(س) کی تسبیح اور اذان واقامت کے باب میں بیان ہوا ہے.

نماز میں

تکبیر نماز میں یا واجب ہے یا مستحب:

واجب تکبیر

تکبیرۃ الاحرام. کہ جسے تکبیر افتتاح بھی کہا جاتا ہے. اور یہ نماز کے اجزاء، بلکہ ارکان سے ہے اور اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہو گی. [13]مومن کی نماز جنازہ میں واجب ہے کہ پانچ بار تکبیر کہی جائے. [14]عیدین (فطر اور قربان) کی نماز میں تکبیرۃ الاحرام کے علاوہ، قنوت میں نو اور تکبیریں (پانچ تکبیریں پہلی رکعت میں اور چار تکبیریں دوسری رکعت میں) کہی جاتی ہیں. بعض نے ان تکبیر کو واجب کہا ہے.[15]

مستحب تکبیر

تکبیرۃ الاحرام کے علاوہ، چھ دوسری تکبیر کہنا نماز کے آغاز میں- جسے تکبیر افتتاح بھی کہا جاتا ہے- اور ایک حالت سے دوسری حالت میں جانے- جیسے قیام سے رکوع ، رکوع سے سجدے، ایک سجدے سے دوسرے سجدے، دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت اور قنوت پڑھتے وقت- مستحب ہے. اس لئے دو رکعتی نماز میں، گیارہ تکبیر، تین رکعتی نماز میں سولہ اور چار رکعتی نماز میں ٢١ تکبیر مستحب ہے. [16] مشہور علماء کے مطابق رکوع سے پہلے اور سجدے سے پہلے اور بعد میں تکبیر کہنا مستحب ہے. بعض قدماء کی نگاہ میں واجب ہے. [17] تین بار تکبیر کہنا مستحب اور نماز کی تعقیب سے ہے. [18]

نماز میں تکبیر کے آداب

قول مشہور کے مطابق مستحب ہے کہ نماز گزار تکبیر کے وقت اپنے ہاتھوں کو کانوں تک یا چہرے یا گلے تک اوپر لے جائے. [19] اور مشہور یہ ہے کہ تکبیر اپنے ہاتھ اوپر لے جانے کے ساتھ ہی شروع کی جائے اور ہاتھ نیچے لانے کے ساتھ ختم کی جائے. [20] بعض نے کہا ہے کہ: تکبیر ہاتھ پورے اوپر لے جانے کے بعد کہی جائے. [21]

تکبیر کے بعض اور مستحبات، انگوٹھے کے علاوہ باقی انگلیوں کا آپس میں ملا ہوا ہونا اور ہاتھوں کی ہتیھلیوں کا قبلے کی طرف ہونا. [22]انگوٹھے کا دوسری انگلیوں کے ساتھ چپکا ہونا آیا مستحب ہے یا نہیں اس کے بارے میں اختلاف نظر ہے.[23] ہاتھوں کو کانوں سے اوپر لے جانا مکروہ ہے، بلکہ بعض قدماء کے ظاہری کلمات کی بناء پر حرام کہا گیا ہے.[24]

سجدے میں سھو اور شکر کی تلاوت

وہ آیات جن میں سجدہ واجب ہے انکی تلاوت کرنے سے پہلے تکبیر مستحب نہیں ہے، لیکن سجدے سے سر اٹھانے کے بعد مستحب ہے. بعض ظاہری کلمات کی بناء پر اس تکبیر کو واجب کہا گیا ہے. اگرچہ زیادہ احتمال یہی ہے کہ سب کا مطلب مستحب ہونا ہے. [25]

مشہور قول کے مطابق، سجدہ سہو میں نیت کے بعد اور سجدے میں جانے سے پہلے تکبیر مستحب ہے. [26] بعض نے کہا ہے کہ سجدہ شکر سے پہلے اور اس سے سر اٹھانے کے بعد تکبیر مستحب ہے.[27]

بارش کی نماز

مستحب ہے کہ نماز گزار، استسقاء کی نماز میں بہت زیادہ تکبیر کہے، [28]مستحب ہے کہ امام جماعت نماز کے بعد، منبر پر، قبلے کی طرف منہ کر کے اونچی آواز میں سو مرتبہ تکبیر کہے.[29]

عید کی نماز

مشہور قول کے مطابق عید فطر اور قربان کی تکبیر جس کیفیت سے بیان ہوئی ہے، مستحب ہے.[30] اور اس کا مقام عید فطر کی رات کو مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد، اور نماز صبح کے بعد اور عید کی نماز، عید کے دن ہو گی. قول مشہور کے مطابق یہ چار موارد جو ذکر ہوئے ہیں ان کے علاوہ، تکبیر جائز نہیں ہے.[31] جو منیٰ کے مقام پر حاضر ہو وہ عید قربان کے دن پندرہ نماز کے بعد تکبیر کہے کہ جس کی ابتداء عید کے دن ظہر کی نماز کے بعد ہوتی ہے اور تیرہ ذوالحجہ کو صبح کی نماز کے بعد ختم ہوتی ہے. اور منیٰ کے علاوہ دس نمازوں کے بعد، جس کی ابتداء عید کے دن ظہر کی نماز اور اس کا اختتام بارہ ذوالحجہ صبح کی نماز کے بعد ہے. [32]

تکبیر کا طریقہ

تکبیر کا طریقہ عیدین کی نماز میں اس طرح ہے: اللّہُ أَکبَرُ، اللّہُ أَکبَر، لا إلہَ إلاّ اللّہُ وَ اللّہُ أَکبَر، وَ الحَمْدُ لِلّہِ عَلی ما ہَدانا وَ لَہُ الشُّکرُ عَلی ما أَوْلانا اور عید قربان میں یہ جملہ آخر میں اضافہ کیا جاتا ہے. وَ رَزَقَنا مِنْ بَہِیمَةِ الأَنْعام [33]

البتہ فقہی منابع میں تکبیر کی عبارت مختلف ذکر ہوئی ہے، جیسے کہ:

  1. الحمد للہسے پہلے وللہ الحمد کا اضافہ کرنا.
  2. تھلیل کے بعد،واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد.
  3. تھلیل کے بعد، واللہ اکبر، اللہ اکبر علی ما ھدانا والحمد للہ علی ما اولانا.
  4. ابتداء میں تین تکبیر، اس کے بعد تھلیل، اس کے بعد تکبیر اور آخر میں: للہ الحمد، اللہ اکبر علی ما ھدانا.
  5. دو تکبیر، ایک تھلیل، ایک تکبیر، اس کے بعد وللہ الحمد علی ما ھدانا و لہ الشکر علی ما اولانا.
  6. دو تکبیر، اس کے بعد تھلیل، اور اس کے بعدواللہ اکبر، واللہ اکبر علی ما ھدانا ولہ الحمد علی ما اولانا [34]

آخری صورت جس کی نسبت مشہور سے دی گئی ہے. بعض کی نگاہ میں عید قربان کے دن ابتداء میں تین تکبیر بیان ہوئی ہیں، لیکن مشہور کے مطابق دو تکبیر ہے. بعض کلمات میں للہ الحمد کو الحمد للہ سے پہلے اور بعض دوسرے، وللہ الحمد، الحمد للہ کی جگہ پر اور بعض جگہ پر، الحمد للہ علی ما ھدانا ولہ الشکر علی ما اولانا کی جگہ پر اللہ اکبر علی ما ھدانا والحمد للہ علی ما اولانا آیا ہے. [35]

حج کے وقت

رمی جمرہ کے وقت مستحب ہے کہ ہر پتھر پھینکتے وقت تکبیر کہی جائے. [36] جو کوئی کعبہ میں داخل ہو، مستحب ہے کہ اس سے خارج ہونے کے بعد تین بار تکبیر کہے.[37] اور منیٰ کے مقام پر زیادہ سے زیادہ اللہ اکبر کہنا مستحب ہے. [38]

متعدد روایات میں آیا ہے کہ حج میں تکبیر کا کہنا، ایک عبادی عمل ہے اور جب کعبہ نظر آئے یا تلبیہ کے ختم ہوتے وقت (حج کے موقع پر لبیک کہنا) وہ شخص جو محرم ہے اس کے لئے مستحب ہے کہ تکبیر کہے. [39] اس کے علاوہ، عرفہ کے دن، [40]صفا و مروہ کی سعی کے درمیان، [41] عرفات میں وقوف کے مقام پر، [42] اور حجر الاسود کے سامنے کھڑا ہوتے وقت،[43] تکبیر کا کہنا شعائر اور مناسک دینی سے ہے.

تجارت اور سفر میں

مستحب ہے کہ جب کوئی کسی چیز کی خرید کرے تو تکبیر کہے. [44] اور کسی بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر اور تھلیل کہنا سفر کے آداب سے ہے. [45]

تکبیر تاریخ میں

جوامع اسلامی کی تاریخ اور آداب و رسوم میں، تکبیر اللہ اکبر کہنے کا خاص مقام ہے.

  • حدیثی منابع کے مطابق، تکبیر کی سنت اسلام سے پہلے تھی، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ حضرت آدم(ع) نے حجر الاسود کے سامنے تکبیر کہی تھی. [46] اور عبدالمطلب نے بھی زمزم کے کنویں کی تعمیر کرتے وقت تکبیر کہی تھی اور قریش نے *بھی اس کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا تھا.[47]
  • صدر اسلام کی تاریخ میں، تکبیر ابتداء سے ہی ایک دینی اور سماجی سنت رہی ہے، چنانچہ رسول اکرم(ص) نے وحی کے نزول کے بعد تکبیر کہی تھی. [48] اسی طرح آپ نے جنگ خندق اور دوسرے کئی مقام پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ اکٹھے مل کر تکبیر کہیں [49] اور بنی نضیر، [50] اور خبیر [51] یھودیوں کے ساتھ جنگ کرتے وقت بھی تکبیر کہی.
  • اسی طرح نقل ہوا ہے کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی(ع) اور فاطمہ(س) کی شادی کی رات بھی تکبیر کہی تھی اور اس کے بعد ایسی مجالس میں تکبیر کہنے کا رواج ہو گیا. [52]
  • پیغمبر(ص) نے نجاشی کے فوت ہونے کی خبر سنی تو چار مرتبہ تکبیر کہی. [53] روایت میں کہا گیا ہے کہ آپ(ص) تشیع جنازے میں، چار یا پانچ مرتبہ تکبیر کہتے تھے [54]اور اس وقت سے نماز میت میں چار تکبیر کہنے کی سنت شروع ہوئی.

امام علی(ع) رزم میں تھلیل اور تکبیر کہتے تھے اور دوسرے لوگ بھی آپ کے ساتھ ہم صدا ہو جاتے.[55] اور اس کے علاوہ نقل ہوا ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک جنگوں اور مسلمانوں کے دوسرے اجتماع میں تکبیر ایک شعر کی صورت میں رائج ہوا ہے. [56]

  • انقلاب اسلامی ایران کے بعد (١٣٥٧ش) ہر مجلس میں خطیب کی تائید کے وقت اور کسی بیانیہ یا قطعنامہ کے ہر بند کی قرائت کے بعد، مٹھی کو بند کر کے بلند آواز میں تکبیر کہی جاتی ہے.

حوالہ جات

  1. زوزنی، ج ۲، ص۵۶۳
  2. رجوع کنید بہ ابن منظور، ذیل «کبر»
  3. جوہری، ذیل «کبر»
  4. اسراء: ۱۱۱
  5. طبرسی، ج ۶، ص۶۸۹
  6. حویزی، ج ۳، ص۲۳۹
  7. بقرہ: ۱۸۵؛ حج: ۳۷؛ مدّثّر: ۳
  8. یوسف: ۳۱
  9. حرّ عاملی، ج ۷، ص۴۳۳
  10. ابن بابویہ، ۱۳۶۱ش، ص۱۱ـ۱۲
  11. ہمو، ۱۴۰۱، ج ۲، ص۲۳۹
  12. وسائل الشیعة، ج ۷، ص۱۸۳ ـ ۱۹۱
  13. جواہر الکلام، ج ۹، ص۲۰۱
  14. جواہر الکلام، ج ۱۲، ص۳۱
  15. جواہرالکلام، ج۱۱، ص۳۹۵
  16. جواہرالکلام، ج ۱۰، ص۳۵۱ ـ ۳۵۲
  17. جواہرالکلام، ج ۱۰،ص ۱۰۱ ـ ۱۰۳ و ۱۶۹؛ الحدائق الناضرة، ج ۸، ص۲۹۰
  18. جواہر الکلام، ج ۱۰، ص۴۰۸
  19. جواہرالکلام، ج ۹، ص۲۲۹ ـ ۲۳۳؛ مستمسک العروة، ج ۶، ص۸۲ ـ ۸۵
  20. جواہر الکلام، ج ۹، ص۲۳۵
  21. مستمسک العروة، ج ۶، ص۸۵؛ العروة الوثقی (و حواشی)، ج ۱، ص۶۳۱
  22. مستمسک العروة، ج ۶، ص۸۶
  23. جواہر الکلام، ج ۹، ص۲۳۶ ـ ۲۳۷؛ العروة الوثقی، ج ۱، ص۶۳۱
  24. جواہر الکلام، ج ۹، ص۲۳۲
  25. جواہرالکلام، ج ۱۰، ص۲۲۴ ـ ۲۲۵
  26. جواہرالکلام، ج ۱۲، ص۴۴۲ و ص۴۴۷ ـ ۴۴۸
  27. جواہرالکلام، ج ۱۰، ص۲۴۵
  28. جواہرالکلام، ۱۲/ ۱۳۷
  29. جواہرالکلام، ج۱۲، ۱۴۶
  30. جواہرالکلام، ج۱۱، ص۳۷۸ و ۳۸۲
  31. جواہرالکلام، ج ۱۱، ص۳۸۱
  32. جواہرالکلام، ج ۱۱، ص۳۸۴
  33. شرائع الإسلام، ج ۱، ص۹۰
  34. جواہر الکلام، ج ۱۱، ص۳۸۶ ـ ۳۸۸
  35. جواہر الکلام، ج ۱۱، ص۳۸۸ ـ ۳۹۰
  36. جواہرالکلام، ج۱۹، ص۱۰۶
  37. جواہرالکلام، ج۲۰، ص۶۴
  38. وسائل الشیعة، ج ۱۴، ص۲۷۰
  39. ابن حنبل، ج ۳، ص۳۲۰؛ حرّعاملی، ج ۱۲، ص۳۸۹
  40. ابن حنبل، ج ۳، ص۱۱۰، ۱۴۷
  41. شافعی، ج ۲، ص۲۱۰؛ ابن حنبل، ج ۲، ص۱۴؛ طوسی، ج ۵، ص۱۴۶
  42. ابن بابویہ، ۱۴۰۱، ج ۲، ص۳۲۲ـ۳۲۳؛ ابن قدامہ، ج ۳، ص۴۲۹
  43. شافعی، ج ۲، ص۱۷۰؛ بخاری جُعْفی، ج ۲، ص۱۶۲ـ۱۶۳؛ حرّعاملی، ج ۱۳، ص۳۳۶
  44. جواہر الکلام، ج ۲۲، ص۴۵۲
  45. جواہرالکلام، ج۱۸، ص۱۴۵
  46. مجلسی، ج ۲۶، ص۲۷۰
  47. کلینی، ج ۴، ص۲۲۰
  48. ابن کثیر، ج ۱، ص۴۱۳
  49. طبری، ج ۲، ص۲۳۵ـ۲۳۶؛ مجلسی، ج ۱۷، ص۱۷۰، ج ۲۰، ص۱۸۹
  50. قمی، ج ۲، ص۳۵۹
  51. مجلسی، ج ۲۱، ص۴۰
  52. حرّعاملی، ج ۱۴، ص۶۳
  53. بخاری جعفی، ج ۲، ص۷۱
  54. ابن حنبل، ج ۴، ص۳۶۷، ۳۷۲؛ مسلم بن حجاج، ج ۱، ص۶۵۷
  55. مجلسی، ج ۳۲، ص۵۰۸
  56. جبرتی، ج ۱، ص۷۸


مآخذ

  • قرآن.
  • ابن بابویہ، کتاب من لایحضرہ الفقیہ، چاپ حسن موسوی خرسان، بیروت ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱.
  • ہمو، معانی الاخبار، چاپ علی اکبر غفاری، قم ۱۳۶۱ ش.
  • ابن حنبل، مسند احمدبن حنبل، استانبول ۱۴۰۲/ ۱۹۸۲.
  • ابن قدامہ، المغنی، چاپ افست بیروت ۱۴۰۳/ ۱۹۸۳.
  • ابن کثیر، السیرة النبویة، چاپ مصطفی عبدالواحد، بیروت، بی‌تا.
  • ابن منظور؛ محمدبن اسماعیل بخاری جعفی، صحیح البخاری، استانبول ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱.
  • عبدالرحمان بن حسن جبرتی، تاریخ عجائب الا´ثار فی التراجم و الاخبار، بیروت. دارالجلیل، بی‌تا.
  • اسماعیل بن حماد جوہری، الصحاح: تاج اللغة و صحاح العربیة، چاپ احمد عبدالغفور عطار، بیروت] بی‌تا. چاپ افست تہران ۱۳۶۸ ش.
  • حرّعاملی.
  • عبدعلی بن جمعہ حویزی، کتاب تفسیر نورالثقلین، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، قم، ۱۳۸۳ـ ۱۳۸۵.
  • حسین بن احمد زوزنی، کتاب المصادر، چاپ تقی بینش، تہران ۱۳۷۴ ش.
  • محمدپادشاہ بن غلام محیی الدین شاد، آنندراج: فرہنگ جامع فارسی، چاپ محمد دبیرسیاقی، تہران ۱۳۶۳ ش.
  • محمدبن ادریس شافعی، الاُمّ، چاپ محمد زہری نجار، بیروت، بی‌تا.
  • طبرسی.
  • طبری، تاریخ (بیروت).
  • محمدبن حسن طوسی، کتاب الخلاف، قم ۱۴۰۷ـ۱۴۱۷.
  • علی بن ابراہیم قمی، تفسیر القمی، چاپ طیب موسوی جزائری، قم ۱۴۰۴.
  • کلینی.
  • محمدباقربن محمدتقی مجلسی، بحارالانوار، بیروت ۱۴۰۳.
  • ہ‌مان، ج ۳۲، چاپ محمدباقر بہبودی، تہران ۱۳۶۵ ش.
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، استانبول ۱۴۰۱/ ۱۹۸۱.
  • الموسوعة الفقہیة، ج ۱۳، کویت: وزارة الاوقاف و الشئون الاسلامیة، ۱۴۰۸/ ۱۹۸۸.
  • محمدحسن بن باقر نجفی، جواہرالکلام فی شرح شرایع الاسلام، ج ۱۱، چاپ عباس قوچانی، بیروت ۱۹۸۱.
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، قم، ۱۴۱۴ ق.
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناظرہ فی احکام العترہ الطاہرہ، موسسہ النشر الاسلامی، قم، ۱۳۶۳ ش.
  • یزدی، محمد کاظم بن عبدالعظیم، مستمسک العروہ الوثقی، موسسہ الدار التفسیر، قم، ۱۴۱۶ق‌.
  • محقق حلی، جعفربن حسن، شرایع الاسلام فی مسایل الحلال و الحرام، اسماعیلیان، قم، ۱۴۰۸ق.