مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:غارات

ویکی شیعہ سے
غارات
معاویہ کے سپاہیوں کی غارات اور امام علیؑ کے سپاہیوں کی جانب سے ان کی تعقیب کا نقشہ راہ [1]
معاویہ کے سپاہیوں کی غارات اور امام علیؑ کے سپاہیوں کی جانب سے ان کی تعقیب کا نقشہ راہ [1]
تاریخجنگ نہروان سے امام علیؑ کی شہادت تک
مقامعراق، حجاز، یمن اور مصر
مختصات10 سے زیادہ موارد
علل و اسبابامام علیؑ کے پیروکاروں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور شامی حکومت کو مستحکم کرنا
قلمرومصر کا شامی حکومت کے ساتھ ملحق ہونا
نتیجہامام علیؑ کے سپاہیوں کی تضعیف
فریق 1لشکر امام علیؑ
فریق 2لشکر معاویۃ بن ابی‌ سفیان
سپہ سالار 1جاریۃ بن قدامہ، حجر بن عدی و ...
سپہ سالار 2ضحاک بن قیس، بسر بن ارطاۃ و ...
نقصان 1امام علیؑ کے پیروکاروں کا قتل و غارت

غارات، معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے امام علیؑ کی حکومت پر کئے جانے والے باقاعدہ حملوں کو کہا جاتا ہے، جو امام علیؑ کے زیر تسلط علاقوں میں عدم تحفظ پیدا کرنے اور آپؐ کی طاقت کو کمزور کرنے کے مقصد سے کئے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ معاویہ نے حکومت علوی کے زیر اثر علاقوں کے داخلی اختلافات اور کوفہ والوں کی طرف سے امام علی کی دعوت کو نظر انداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپؑ کی حکومت پر کاری اور مؤثر ضربات لگائی۔

دستیاب مصادر کے مطابق معاویہ ان حملوں کو پراکندہ اور اچانک طور پر یوں ترتیب دیتے تھے کہ امام علیؑ کے سپاہیوں کو فوری ردعمل اپنانے کا موقع ہی نہ مل پائے۔ معاویہ نے مختلف گروہوں کو کمزور علاقوں میں بھیج کر وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا بزار گرم کیا اور عراق، حجاز اور یمن کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ محمد بن ابی بکر کے قتل کے ساتھ مصر پر معاویہ کے قبضے سے شام میں معاویہ کی حکومت کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح بُسر بن ابی ارطاۃ کے توسط سے حجاز اور یمن پر ہونے والے حملوں اور عراق پر متعدد یورشوں نے امام علیؑ کی حکومت کو شدید کمزور کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ ان حملوں نے اسلامی معاشرے میں افراتفری پھیلا دی اور بہت سے لوگوں کو معاویہ کی طرف مائل کر دیا۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں امام علیؑ کو کوئی ضروری سیاسی، اقتصادی اور عسکری یکجہتی قائم کرنے کا موقع میسر ہی نہیں آیا۔ نتیجتاً، بہت سے شیعہ مارے گئے اور ان کی عورتیں قید کر لی گئیں۔ اس صورتحال نے آخر کار امام حسنؑ کو معاویہ کی ساتھ صلح کرنے اور پھر معاویہ کے ذریعہ بنی امیہ کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔

امام علی کی حکومت کو کمزور کرنے میں ان حملوں کا کردار

غارات سے مراد معاویہ بن ابی سفیان کے سپاہیوں کی طرف سے امام علیؑ) کے خلاف ہونے والے ان مسلح حملوں کا سلسلہ ہے جو امام علیؑ کی حکومت کو غیر محفوظ بنانے[2] اور معاویہ کی حکومت کو وسعت دینے کے مقصد سے کئے گئے۔[3] یہ حملے جنگ نہروان (38ھ) سے لے کر امام علیؑ کی شہادت (40ھ) اور حتیٰ کہ اس کے بعد کے دور میں بھی ہوئے۔[4] معاویہ کی جانب سے ہونے والے یہ حملے امام علیؑ کی حکومت کے ان اہم واقعات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آپ کے دور حکومت میں عدم تحفظ پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔[5]

یہ حملے بذات خود معاویہ کے حکم سے[6] مکمل طور پر پراکندہ اور غیر متوقع انداز میں ترتیب دئے جاتے تھے کہ امام علیؑ کے سپاہیوں کا فوری ردعمل بھی کارگر ثابت نہیں ہوتے تھے۔[7] تیونس کے مورخ ہشام جُعیط کے مطابق معاویہ کی غارت گری زمانہ جاہلیت کے قتل و غارت سے مشابہت رکھتی تھی جہاں بعض قبائل دوسرے قبائل پر حملہ کر کے قتل و غارت کا بازار گرم کرتے تھے۔[8] بعض محققین نے ان غارات کی تعداد دس سے زیادہ بتائی ہے۔[9]

معاویہ نے امام علیؑ کی حکومت پر برتری حاصل کرنے کے لئے ان حملوں کو اس تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جس سے امام علیؑ دفاعی موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور ان حملوں کے تسلسل کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔[10] امام علیؑ نے معاویہ کے ساتھ بھرپور جنگ کرنے کو ان غارات کا بنیادی راہ حل قرار دیتے ہوئے چالیس ہزار کے لشکر کو صفین کی طرف روانہ کرنے کا انتظام کیا تاکہ معاویہ کا مقابلہ کر سکیں، لیکن لشکر صفین کی طرف روانہ ہونے سے پہلے ہی امامؑ ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور لشکر واپس کوفہ لوٹ آیا۔[11]

تیسری صدی ہجری کے شیعہ مورخ ابو اسحاق ثقفی نے ان غارات کی فہرست کو الغارات نامی کتاب میں جمع کیا ہے۔[12]

حملوں کے زیرِ اثر علاقے اور ان کے نتائج

دستیاب مصادر کے مطابق معاویہ قتل و غارت کے لئے ایسے دور دست اور محروم علاقوں کا انتخاب کرتا جہاں امام علیؑ کی حکومت کی خاص توجہ مرکوز نہیں ہوتی۔[13] بنیادی قتل و غارت کے علاوہ، معاویہ نے جزوی قتل و غارت اور تباہی پھیلانے کے لئے مختلف گروہوں کو بھی تیار کیا ہوا تھا اور انہیں مختلف علاقوں میں بھیجتا تھا۔[14] جن شہروں اور علاقوں کو ان غارات میں نشانہ بنایا گیا ان میں عین التمر، ہیت، انبار، تیماء، واقصہ، ثعلبیہ، قُطقُطانہ، یمن اور حجاز کا مغربی علاقہ شامل ہیں۔[15]

ان میں سے بعض غارات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:[16]

معاویہ کے کمانڈر مورد حملہ علاقے حاصل شدہ اثرات اور نتائج امام علیؑ کا ردعمل
عبداللہ بن عامر حضرمی بصرہ امام علیؑ کے ساتھی اعین بن ضبیعہ کی شہادت امام علی کی طرف سے جاریہ بن قدامہ کو بصرہ روانہ کیا گیا، شام کے لشکر کی شکست اور ابن عامر کا قتل
بُسر بن ابی ارطاۃ مدینہ، مکہ اور یمن حجاز و یمن میں قتل و غارت اور وہاں کے مکینوں کی طرف سے معاویہ کی بیعت امام علی کی طرف سے جاریہ بن قدامہ کو ان علاقوں کی طرف روانہ کرنا اور بُسر کا شام کی طرف فرار
سفیان بن عوف ہیت، انبار اور مدائن قتل و غارت اور امامؑ کے پیروکاروں کا قتل کوفہ والوں کا امام علیؑ کا ساتھ نہ دینا اور امامؑ کا ان سے شکوہ
ضحاک بن قیس عراق کے مختلف علاقے لوگوں اور مکہ سے واپس آنے والے حاجیوں کا قتل و غارت امام علیؑ کی طرف سے حجر بن عدی کو روانہ کرنا اور شام کے لشکر کی شکست
نعمان بن بشیر عین التمر عین التمر میں امامؑ کے حاکم مالک بن کعب کے ساتھ جھڑپ نعمان کی شکست اور دمشق کی طرف فرار

مصر پر قبضہ

مصر پہلا علاقہ تھا جس پر معاویہ نے حملہ کیا[17] اور کہا جاتا ہے کہ مصر پر قبضے نے شام کے لشکر کی مالی اور روحی طاقت میں بڑا کردار ادا کیا۔[18] جنگ صفین کے بعد امام علیؑ کے والی محمد بن ابی بکر کے خلاف مصر میں بغاوتیں شروع ہوئیں۔[19] امام علیؑ نے مالک اشتر نخعی کو جو اس وقت جزیرہ کا حاکم تھا، طلب کیا اور انہیں مصر کا نیا گورنر بنا کر بھیجا۔[20] لیکن مالک اشتر کو مصر پہنچنے سے پہلے ہی معاویہ نے دھوکہ دے کر قتل کر دیا۔[21] عمرو بن عاص ایک لشکر کے ساتھ مصر کی طرف بڑھا۔ مصر کے لشکر کی شکست کے بعد محمد بن ابی بکر کے اطراف میں موجود لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا[22] اور آخر کار محمد بن ابی بکر قتل ہو گئے[23] اور عمرو بن عاص معاویہ کی طرف سے وہاں کا گورنر بن گیا۔[24]

حجاز اور یمن کی غارت گری

بُسر بن ابی ارطاۃ کا مدینہ، مکہ اور یمن پر حملہ معاویہ کے غارات کی اہم ترین اور پرتشدد ترین کارروائیوں میں شمار کیا گیا ہے[25] جس میں مکہ اور مدینہ کے لوگوں کو جو امام علیؑ کی بیعت میں تھے، معاویہ کی بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔[26]

بُسر بن ابی ارطاۃ نے معاویہ کے حکم پر حجاز اور یمن کا رخ کیا اور وہاں کے لوگوں کو معاویہ کی بیعت کرنے پر مجبور کیا۔[27] مدینہ میں امام علیؑ کے حاکم ابو ایوب انصاری بُسر کے آنے سے پہلے ہی وہاں سے فرار ہو گیا۔[28] بُسر مدینہ کے بعد مکہ چلا گیا اور وہاں کے اکثر لوگ جو خود کو عثمان کے خون کا انتقام لینے والا سمجھتے تھے، آسانی سے بُسر کی بیعت میں آ گئے۔[29]

بُسر مکہ کے بعد یمن چلا گیا اور راستے میں ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جو امام علیؑ کے معتقد تھے اور ان کے مال و متاع ضبط کر لئے گئے۔[30]

امام علیؑ نے بُسر بن ابی ارطاۃ کے حملے کے بعد فرمایا:
«میں جانتا تھا کہ شام کے لوگ عنقریب تم پر غالب آ جائیں گے، کیونکہ وہ اپنے باطل کی حمایت پر متحد ہیں اور تم حق کے دفاع میں منتشر ہو! تم حق میں اپنے امام کی نافرمانی کرتے ہو اور وہ باطل میں اپنے امام کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ اپنے شہروں میں اصلاح و آبادی میں لگے ہوئے ہیں اور تم فتہ و فساد میں»۔[31]

امام علیؑ نے جاریۃ بن قدامہ کو بُسر سے مقابلے کے لئے روانہ کیا۔ جاریہ نے بُسر کے کچھ افراد کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ جاریہ مکہ میں تھا کہ امام علیؑ کی شہادت کی خبر ان تک پہنچی۔[32] بعض مصادر کے مطابق یمن میں امام علیؑ کے والی عبید اللہ بن عباس نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بُسر کا تعاقب کیا اور ان کے شام پہنچنے سے پہلے ان تک پہنچے اور ان کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں شام کے لشکر کو سخت شکست ہوئی اور بے شمار جانی نقصان ہوا۔[33]

عراق کے مختلف علاقوں کی غارت گری

معاویہ نے عراق پر حملے کے لئے چار دستے تشکیل دئے اور انہیں عراق کے مختلف علاقوں میں بھیجا تاکہ یہ ظاہر کر سکے کہ علی بن ابی طالبؑ ان کا دفاع نہیں کر سکتے۔[34]

  • ضحاک کا عراق کے مختلف علاقوں پر حملہ: عراق میں ہونے والی پہلی غارت گری ضحاک بن قیس کے ذریعے ہوئی۔[35] معاویہ نے ضحاک کو حکم دیا کہ وہ صبح ایک شہر میں تو رات دوسرے شہر میں پہنچ جائے اور جو لوگ علیؑ کی اطاعت میں ہیں، انہیں لوٹ مار کا شکار کرے۔[36] بعض مورخین کے مطابق معاویہ کے سپاہیوں کی جانب سے امام علیؑ کے زیر حکومت علاقوں میں ہونے والی غارتوں میں یہ پہلی عارت گری تھی۔[37] ضحاک نے عام لوگوں کے علاوہ مکہ سے واپس آنے والے حاجیوں کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔[38] امام علیؑ نے حجر بن عدی کو چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ ضحاک سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا۔ حجر بن عدی کے لشکر کے ساتھ جھڑپ میں شام کے لشکر کی شکست کے بعد ضحاک اپنے ساتھیوں سمیت راتوں رات فرار ہو گئے۔[39] ضحاک کے حملے کے بعد امام علیؑ نے کوفہ کے لوگوں کو ان کی سستی اور عدم تعاون پر ملامت کی۔[40]
  • سفیان بن عوف کا مدائن، ہیت اور انبار پر حملہ: 39 ہجری میں معاویہ نے سفیان بن عوف کو ہیت، انبار اور مدائن کی طرف بھیجا۔ سفیان نے ان شہروں میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور جن لوگوں نے ان شہروں میں مزاحمت کی، انہیں بھی قتل کر دیا۔[41] معاویہ نے سفیان بن عوف کو عراق کے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے، سب کو اپنی بیعت پر مجبور کرنے، راستے میں آنے والی تمام آبادیوں کو تباہ و برباد کرنے اور مخالفین کو قتل کر کے ان کا مال و ضبط کرنے کی سفارش کی تھی۔[42] جب انبار کی غارت گری کی خبر امامؑ تک پہنچی تو آپؑ نے کوفہ والوں کے نام ایک خط لکھا جو نماز کے بعد ان کے گوش گزار کیا جائے۔[43] امامؑ نے کوفہ والوں کو مرد نما بے غیرت مردوں کے نام سے خطاب کیا جو بچوں جیسی خیال پردازی میں رہتے ہیں(أَشْبَاہَ الرِّجَالِ وَ لَا رِجَالَ حُلُومُ الْأَطْفَال)[44] اور امید ظاہر کی کہ کاش انہیں کبھی دیکھا اور پہچانا نہ ہوتا۔[45] امام علیؑ اسی موقع پر فرماتے ہیں کہ اس حملے میں ایک مسلمان عورت اور ایک اہل کتاب عورت کو لوٹا گیا اور اگر کوئی مسلمان ان واقعات کے رنج سے مر جائے تو قابل ملامت نہیں ہے۔[46]
  • نعمان بن بشیر کا عین التمر پر حملہ: معاویہ نے نعمان بن بشیر کو دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ عین التمر کی طرف بھیجا۔[47] انصار میں سے وہ واحد شخص تھا جو معاویہ سے جا ملا۔[48] عین التمر میں امامؑ کے والی[49] مالک بن کعب نے شامی فوج کا مقابلہ کیا اور نعمان کا لشکر واپس شام لوٹ گئے۔[50]

امام علیؑ نے نعمان بن بشیر کے حملے کے بعد فرمایا:
«میرا واستہ ایسے لوگوں کے ساتھ پڑا ہے جو میرے حکم کی پیروی نہیں کرتے اور میری دعوت کامثبت جواب نہیں دیتے۔ اے بے بنیاد لوگو! ... کیا تمہارا کوئی دین نہیں جو تمہیں متحد کرے، یا کوئی غیرت نہیں جو تمہیں ہلا دے؟»[51]

  • عبداللہ حضرمی کا بصرہ میں فساد: معاویہ نے عبداللہ بن عامر حضرمی (خضرمی) کو بصرہ کی طرف بھیجا۔[52] کہا جاتا ہے کہ بصرہ کے لوگ امام علیؑ سے کینہ رکھتے تھے کیونکہ جنگ جمل میں ان میں سے بہت سے مارے گئے تھے۔[53] عبد اللہ قبیلہ بنی تمیم کے پاس گیا اور اس کے ہم خیال لوگ بصرہ کے مختلف حصوں سے اس کے ساتھ متحد ہو گئے۔[54] امام علیؑ نے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے جاریہ بن قدامہ کو بصرہ روانہ کیا۔ جاریہ نے ابن حضرمی کو شکست دی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔[55]

نتائج

دستیاب مصادر کے مطابق معاویہ کی کارروائیوں کے نتیجے میں امام علیؑ کی زیر حکومت علاقے افراتفری کا شکار ہو گئے اور بعض افراد اس خیال سے کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے، معاویہ کی طرف مائل ہو گئے۔ مسلسل حملوں کی وجہ سے امام علیؑ اپنی افواج کو متحرک کرنے میں ناکام رہے۔[56] معاویہ کے حملوں کے نتیجے میں امام علیؑ کے خالص شیعوں میں سے بہت سے قتل ہوئے[57] اور ان کی خواتین پہلی مسلمان خواتین میں سے تھیں جو لونڈیوں کی شکل میں بازاروں میں فروخت ہوئیں۔[58]

لبنان کے شیعہ عالم محمد جواد مغنیہ نے امام حسنؑ کے صلح کو انہی غارات کے تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ان غارت گریوں اور مسلمانوں میں پھیلنے والی دہشت کے نتیجے میں، امام حسنؑ کے حقیقی ساتھی جو ان کی مدد کرنا چاہتے تھے، بہت کم رہ گئے تھے۔[59] آخر کار اسلامی کی مرکزی حکومت کے کمزور ہونے کے بعد معاویہ بن ابی سفیان کو کامیابی ملی اور اسلامی معاشرے میں خلافت بنی امیہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔[60]

پس منظر

کہا جاتا ہے کہ جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان کی وجہ سے امام علیؑ کی حکومت فرسودگی کا شکار ہو گئی تھی اور آپؑ کے بعض سپاہیوں کے اختلاف اور نافرمانی نے معاویہ کے ان غارات کی راہ ہموار کی۔[61] علی بن ابی طالبؑ نے جنگ نہروان میں اپنے سپاہیوں کی چھانٹی کے بعد شام کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا۔[62] معاویہ جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے امام علیؑ کے لشکر میں پیدا ہونے والے اختلافات اور عدم اطمینان سے آگاہ ہو گیا تھا، نے اس موقع کو غنیمت جان کر امام کے لشکر میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش کی۔[63] معاویہ خود جانتا تھا کہ اس میں امام علیؑ کی حکومت کے ساتھ براہ راست مقابلے کی طاقت موجود نہیں، اسی الئے اس نے امام علیؑ کی حکومت کے زیرِ اثر علاقوں میں قتل و غارت گری کا سہارا لیا۔[64] امام علیؑ کے لشکر کی کمزوری اور کچھ سپاہیوں کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے امام علیؑ کی حکومت ان حملوں کو روکنے میں بڑی حد تک ناکام رہی۔[65]

کوفہ کے بہت سے لوگ امام علیؑ کی طرف سے ان غارتگروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے دی جانے والی دعوت پر توجہ نہیں دیتے تھے، اسی لئے امام علیؑ کوفہ کے لوگوں کو بہت ملامت کرتے تھے۔[66] مصری سنی مصنف طہ حسین (1889-1973ء) نے کوفہ والوں کی عافیت طلبی کو ان کا امام علی کے ساتھ نہ دینے کی وجوہات میں شمار کیا ہے۔[67] شیعہ مورخ رسول جعفریان کے مطابق معاویہ نے عراق کے لوگوں کی سستی اور وہاں کے ناگفتہ بہ حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد امام علیؑ کے زیرِ اثر مختلف علاقوں پر حملہ کیا تاکہ ان کی طاقت کو کمزور کرے اور عراق پر غلبہ حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو۔[68]

حوالہ جات

  1. عسکری، اطلس غدیر و عاشورا، 1391شمسی، ص22۔
  2. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص284۔
  3. قرشی، موسوعۃ الامام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، 1423ھ، ج11، ص218۔
  4. روغنچیان و پورآرین، «معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار»، ص34۔
  5. روغنچیان و پورآرین، «معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار»، ص29۔
  6. رحیمی، «امام حسنؑ کو صلح کی طرف سوق دینے میں غارات کا کردار»، ص72۔
  7. روغنچیان و پورآرین، «معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار»، ص38۔
  8. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص284۔
  9. رحیمی، «امام حسنؑ کو صلح کی طرف سوق دینے میں غارات کا کردار»، ص72۔
  10. حسین، علی و بنوہ، دار المعارف، ص136۔
  11. پژوہشکدہ تحقیقات اسلامی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام علیؑ، 1375شمسی، ص181-182۔
  12. جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص317۔
  13. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص286۔
  14. مغنیہ، الشیعۃ و الحاکمون، 1421ھ، ص55۔
  15. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص286۔
  16. رحیمی، «امام حسنؑ کو صلح کی طرف سوق دینے میں غارات کا کردار»، ص73-74۔
  17. جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص317۔
  18. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج1، ص322۔
  19. جعفریان، تاریخ خلفا 1380شمسی، ص317۔
  20. ابن اثیر، الکامل، 1385ھ، ج3، ص352۔
  21. ابن اثیر، الکامل، 1385ھ، ج3، ص353۔
  22. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، 1408ھ، ج2، ص642۔
  23. ابن اثیر، أسد الغابۃ، 1409ھ، ج4، ص326۔
  24. جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص320۔
  25. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص289-290؛ جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص325۔
  26. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص289-290۔
  27. قرشی، موسوعۃ الامام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، 1423ھ، ج11، ص218۔
  28. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج5، ص139۔
  29. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص290۔
  30. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج2، ص554۔
  31. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 25، ص67۔
  32. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج2، ص458۔
  33. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج4، ص238۔
  34. قرشی، موسوعۃ الامام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، 1423ھ، ج11، ص220۔
  35. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج2، ص416۔
  36. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج2، ص437۔
  37. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج2، ص437۔
  38. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج2، ص438۔
  39. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج2، ص196۔
  40. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 29، ص72۔
  41. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج5، ص134۔
  42. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج2، ص466-467۔
  43. دینوری، الأخبار الطوال، 1368شمسی، ص211۔
  44. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 27، ص70۔
  45. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 27، ص70۔
  46. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 27، ص69-70۔
  47. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج5، ص133۔
  48. جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص322۔
  49. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج2، ص195۔
  50. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج2، ص446۔
  51. نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ 39، ص81-82۔
  52. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج2، ص374۔
  53. جعفریان، تاریخ خلفا، 1380شمسی، ص320۔
  54. ثقفی، الغارات، 1353شمسی، ج2، ص378۔
  55. ابن حجر، الإصابۃ، 1415ھ، ج1، ص556۔
  56. پژوہشکدہ تحقیقات اسلامی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام علیؑ، 1375شمسی، ص180۔
  57. جعفریان، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ، 1381شمسی، ص110۔
  58. پژوہشکدہ تحقیقات اسلامی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام علیؑ، 1375شمسی، ص180۔
  59. مغنیہ، الشیعۃ و الحاکمون، 1421ھ، ص56۔
  60. روغنچیان و پورآرین، «معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار»، ص29۔
  61. سبحانی، فروغ ولایت، 1380شمسی، ص736۔
  62. سبحانی، فروغ ولایت، 1380شمسی، ص735۔
  63. سبحانی، فروغ ولایت، 1380شمسی، ص735-736۔
  64. پژوہشکدہ تحقیقات اسلامی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام علیؑ، 1375شمسی، ص175۔
  65. روغنچیان و پورآرین، «معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار»، ص29۔
  66. جُعَیط، الفتنہ، 2000ء، ص287۔
  67. حسین، علی و بنوہ، دار المعارف، ص135۔
  68. جعفریان، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ، 1381شمسی، ص109۔

مآخذ

  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسد الغابۃ، دار الفکر، بیروت، 1409ھ۔
  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الاضواء، 1411ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، تاریخ ابن خلدون، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت، دار الفکر، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق محمدباقر محمودی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1394ھ۔
  • پژوہشکدہ تحقیقات اسلامی، تاریخ اسلام در عصر امامت امام علیؑ، تہران، نمایندگی ولی فقیہ در سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق و تصحیح جلال الدین محدث، تہران، انجمن آثار ملی، 1353ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ خلفا، قم، دلیل ما، 1380ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، حیات فکری-سیاسی امامان شیعہ، قم، انصاریان، 1381ہجری شمسی۔
  • جُعَیط، ہِشام، الفتنۃ: جَدلیّۃ الدین و السیاسۃ فی الاسلام المُبکِر، ترجمہ خلیل احمد خلیل، بیروت، دار الطلیعہ، 2000ء۔
  • حسین، طہ، علی و بنوہ، قاہرہ، دار المعارف، بی تا۔
  • دینوری، احمد بن داود، الاخبار الطوال، قم، منشورات الرضی، 1368ہجری شمسی۔
  • رحیمی، عبدالرفیع، «نقش غارات در تسریع صلح امام حسن(ع)» (امام حسنؑ کو صلح کی طرف سوق دینے میں غارات کا کردار)، فصلنامہ سخن تاریخ، شمارہ 21، بہار اور موسم گرما سنہ 1995ء۔
  • روغنچیان، عباس، و فؤاد پورآرین، «غارات معاویه و تاثیر آن در برآمدن امویان» (معاویہ کی غارات اور امویوں کے ظہور میں اس کا کردار)، مجلہ تاریخ نو، شمارہ 13، موسم سرما سنہ 2015ء۔
  • سبحانی، جعفر، فروغ ولایت تاریخ تحلیلی زندگانی امیرالمؤمنین علیؑ، قم، مؤسسہ امام صادقؑ، 1380ہجری شمسی۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، 1414ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الامم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، دوسری اشاعت، 1387ھ۔
  • عسکری، علی بابا، اطلس غدیر و عاشورا، قم، مؤسسہ علمی فرہنگی دار الحدیث، 1391ہجری شمسی۔
  • قرشی، باقر شریف، موسوعۃ الامام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، قم، مؤسسۃ الکوثر للمعارف الاسلامیۃ، 1423ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، الشیعۃ و الحاکمون، بیروت، دار الجواد، 1421ھ۔
  • نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، 1414ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن أبی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، پہلی اشاعت، بی تا۔