دعائے اللہم کن لولیک

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعائے اللَّهُمَ کُنْ لِوَلِیکَ
تصویر دعای سلامتی امام زمان.jpg
امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی سلامتی کے لیے شکستہ نستعلیق میں لکھی گئی دعا
کوائف
دیگر اسامی: دعای سلامتی امام زمان عجل اللہ فرجہ
موضوع: امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی سلامتی اور نصرت کے لئے دعا
مأثور/غیرمأثور: ماثور
صادرہ از: امام باقر علیہ السلام و امام صادق علیہ السلام
راوی: محمد بن عیسی بن عُبَیْد
شیعہ منابع: الکافیتہذیب الأحکاممصباح المتہجداقبال الاعمال
مونوگرافی: شرح دعای سلامتی امام زمان (عج) ، (محسن قرائتی)
مخصوص وقت: شب قدرماہ رمضاندوران غیبت
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے اَللّهُمَّ کُنْ لِوَلیّک یا دعائے سلامتی امام مہدی عجل اللہ فرجہ، وہ دعا ہے جو شیعوں کے بارہویں امام، حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ کی سلامتی کے لئے پڑھی جاتی ہے۔ یہ دعا اللَّهُمَ کُنْ لِوَلِیکَ سے شروع ہوتی ہے اور تہذیب الأحکام میں امام باقر علیہ السلام و امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے

اس دعا میں مختلف تعبیروں کے ذریعہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی سلامتی کے لئے دعا ہے۔ یہ دعا شب قدر(23 رمضان) کے اعمال میں نقل ہوئی ہے لیکن کسی بھی وقت اس کو پڑھا جا سکتا ہے۔ دعا کی سند، مرسل ہے؛ لیکن کہتے ہیں معتبر روائی اور دعاؤں کے منابع میں اس کا ذکر ہونے کی وجہ سے اس کو معتبر اور صحیح مانا جا سکتا ہے۔

جن کتابوں میں یہ دعا نقل ہوئی ہے اس میں امام مہدی علیہ السلام کے نام کی جگہ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ کی تعبیر آئی ہے۔ اس لئے کچھ علماء نے کہا ہے کہ ممکن ہے یہ دعا ہے ہر امام کے لئے ان کے عہد امامت میں پڑھی جا سکتی ہو اور امام مہدی عجل اللہ فرجہ سے مخصوص نہ ہو۔ کتاب شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، تالیف محسن قرائتی اس دعا کے بارے میں لکھی گئی ہے۔

دعا کا متن

دعائے اللہم کن لولیک مختلف کتابوں میں الگ الگ تعبیروں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ مثلا مِصْباحُ الْمُتَہَجِّد میں شیخ طوسی نے یوں نقل کیا ہے: اللَّهُمَ کُنْ لِوَلِیکَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ فِی هَذِهِ السَّاعَةِ وَ فِی کُلِّ سَاعَةٍ وَلِیاً وَ حَافِظاً وَ قَائِداً وَ نَاصِراً وَ دَلِیلًا وَ عَیناً حَتَّی تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً وَ تُمَتِّعَهُ فِیهَا طَوِیلًا، خدایا تو اپنے ولی فلاں بن فلاں کے لئے ان لمحات میں اور ہر وقت ایک سرپرست، حافظ، رہبر، مددگار، رہنما اور نگہبان بننا، تاکہ تو اس کو لوگوں کی رغبت سے اپنی زمین پر آباد کرے اور لمبے وقت تک نعمتوں سے بہرہ مند فرمائے۔[1] یہ دعا کتاب اقبال الاعمال میں کچھ اضافات کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔[2]

تہذیب الاحکام میں یہ دعا امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہے؛[3] لیکن باقی منابع میں الصَّالِحِینَ کی تعبیر ہے اور واضح نہیں ہے کہ کون سے امام سے نقل ہوئی ہے۔[4]

جن کتابوں میں یہ دعا نقل ہوئی ہے ان میں سے اکثر میںفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ کی تعبیر آئی ہے۔[5] چھٹی اور ساتویں صدی کے شیعہ محدث، سید بن طاووس اپنی کتاب اقبال الاعمال میں فلاں بن فلاں کی جگہ اس طرح لائے ہیں: اللَّهُمَ کُنْ لِوَلِیکَ الْقَائِمِ بِأَمْرِکِ الْحُجَّةِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَهْدِی عَلَیهِ وَ عَلَی آبَائِهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَ السَّلَامِ.[6] کتاب مصباح کفعمی میں بھی مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَہْدِی ہی آیا ہے[7] گیارہویں صدی کے شیعہ محدث محمد تقی مجلسی نے کہا ہے کہ دعا کے فقروں کا ظاہر اس بات کا شاہد ہے کہ فلاں بن فلاں کی جگہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کا نام لینا جائز ہے البتہ اگر آپ کے لقب سے استفادہ کریں تو بہتر ہے۔[8] کتاب مفاتیح الجنان میں ہے کہ فلاں بن فلاں کی جگہ الحُجَّۃِ بْنِ الحَسَنِ کہیں۔[9] کچھ لوگوں نے یہ احتمال دیا ہے کہ کیونکہ دعا میں فلاں بن فلاں آیا ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ دعا ہر زمانے کے امام کے لئے ان کے عہد امامت میں پڑھی جاتی ہو اور ہمارے امام زمانہ سے مخصوص نہ ہو۔[10]

دعا پڑھنے کا وقت

روایت دعا کے ابتدائی فقروں،[نوٹ 1] کی بنیاد پر اگرچہ یہ دعا، ماہ رمضان کی تیئسویں کی شب سے مخصوص ہے؛ لیکن اس کو ہر حال میں اور ہر وقت پڑھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ کہا گیا ہے کہ اس دعا کو تیئسویں شب، بلکہ سارے رمضان بھر، اور زندگی کے ہر لمحہ میں (کھڑے ہونے، بیٹھنے، اور سجدہ کرنے) کی ہر حالت میں پڑھا جا سکتا ہے۔[11] اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ہر شب و روز اور نمازوں میں اس دعا کا پڑھنا مناسب ہے۔[12] اسی طرح سفارش کی گئی ہے کہ اس دعا کو حمد خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ پر صلوات بھیجنے کے بعد پڑھا جائے۔[13]

دعا کے مندرجات

دعائے اللہم کن لولیک مختلف تعبیروں کے ساتھ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی سلامتی کے لئے وارد ہوئی ہے۔[14] اس دعا میں 6 الفاظ ولیاً، حافظاً، قائداً، ناصراً، دلیلاً و عیناً کے ذریعہ اللہ سے چاہا گیا ہے کہ وہ امام کا سرپرست اور ولی ہو اور ان کو اپنی حفاظت، رہبری، مدد، رہنمائی اور نگہبانی میں رکھے۔[15] فی هذه الساعۃ سےشب قدر 23 رمضان) کی طرف اشارہ ہے اور فی کل ساعۃ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ سے لگاؤ اور ان کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنے کو بیان کرتا ہے۔[16] آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ عالم حسن بن سلیمان حلی کے مطابق حَتَّی تُسْکِنَهُ أَرْضَکَ طَوْعاً سے ظہور امام زمانہ اور آپ کے اقتدار کا زمانہ مراد ہے کیونکہ زمانہ غیبت میں آپ کا حق، غضب ہوا ہے اور آپ لوگوں کے درمیان حق کا اظہار نہیں کرسکتے۔[17] ان کی نظر میں تُمَتِّعَهُ فِیهَا طَوِیلًا بھی رجعت اور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی شہادت کے بعد کا زمانہ ہے۔[18] محسن قرائتی کے بقول تُمَتِّعَهُ فِیهَا طَوِیلًا سے مراد آپ کی عالمی حکومت کے طویل ہونے کی آرزو ہے۔[19]

سند اور اعتبار

دعائے اللہم کن لولیک، روائی اور دعاؤں کی کتابوں میں صرف محمد بن عیسی بن عُبَید سے [نوٹ 2] نقل ہوئی ہے [20] محمد بن عیسی کی وثاقت کے بارے میں اختلاف ہے۔[21] نجاشی نے[22] انھیں ثقہ کہا ہے اور شیخ طوسی نے[23] ضعیف شمار کیا ہے۔ علامہ حلی کے مطابق، محمد بن عیسی کی وثاقت کو قبول کرلینا ہی نظر قوی ہے۔[24] علامہ مجلسی کے بقول دعا کی سند، مرسل ہے۔[25] اس کے باوجود محسن قرائتی کہتے ہیں کہ الکافی[26] ، تہذیب الأحکام[27] اور دیگر معتبر کتابوں جیسے المزار الکبیر تالیف ابن مشہدی،[28] المصباح تالیف کفعمی[29] اوراقبال الاعمال تالیف سید بن طاووس؛[30] میں اس دعا کا موجود ہونا اور دعا کے مندرجات و مفاہیم کا عقل و نقل سے سازگار ہونا اور پھر یہ کہ اس دعا کے تمام جملات کا الگ الگ کرکے دوسری دعاؤں میں بھی وارد ہونا، یہ سب اس بات پر شاہد ہے کہ دعا کی صحت و اعتبار پر بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔[31]

امام زمانہ کے لئے دعا کیوں؟

محسن قرائتی کے بقول دیگر ائمہ معصومین کی طرح بارہویں امام کی بھی فطری اور قدرتی زندگی ہے اور آپ کو بیماری اور درد و رنج بھی ہوتا ہے لہذا آپ کی سلامتی کے لئے دعا کرنا اور صدقہ دینا ایک فطری بات ہے[32] انھوں نے امام زمانہ کی سلامی کے لئے دعا کرنے کی وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ دعا بار امامت کے اٹھانے اور اس سنگین ذمہ داری کے نبھانے میں امام کی حفاظت کی دعا ہے، چاہے یہ ذمہ داری زمانہ غیبت میں ہو یا دوران ظہور میں؛ کیونکہ ایسی بڑی ذمہ داری، اللہ کی حفاظت اور اس کی خاص عنایت کی نیاز مند ہے۔[33] اسی طرح ائمہ علیہم السلام سے منقول دعاؤں میں بھی امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کی سلامتی کے لئے دعا کی گئی ہے۔[34]

کتاب «شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)» تالیف محسن قرائتی

مونو گرافی(یک موضوعی آثار)

فارسی کتاب شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، تالیف محسن قرائتی اور باہتمام حسن سلم ‌آبادی، میں دعائے سلامتی امام زمانہ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کی شرح کی گئی ہے۔ مؤلف نے مقدماتی مباحث اور سند کے جائزے کے بعد، دعا کے فقرے اور الفاظ کا جائزہ لیا ہے۔[35] کتاب کے آخر میں امام زمانہ کی سلامتی کے لئے دعا کرنے کے فوائد کا ذکر ہوا ہے اور استجابت دعا کے شرائط کا تذکرہ کیا گیا ہے۔[36] مؤلف کا خیال ہے کہ یہ دعا غلطی سے دعائے فرج کے نام سے مشہور ہوگئی ہے۔[37] یہ کتاب قم میں چھپی ہے اور بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود(عج) کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰و۶۳۱۔
  2. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  3. طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲و۱۰۳.
  4. دیکھئے: کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰و۶۳۱؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲.
  5. دیکھئے: کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۳؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰و۶۳۱؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲؛ کفعمی، البلد الامین، ۱۴۱۸ق، ص۲۰۳.
  6. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  7. کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۵۸۶.
  8. مجلسی، روضة المتقین، ۱۴۰۶ق، ج۳، ص۴۴۹.
  9. قمی، مفاتیح الجنان، مجمع إحیاء الثقافة الإسلامیة، ص۳۰۷، ماہ رمضان کی تیئسویں کی شب کی دعاؤں کے ذیل میں
  10. دیکھئے: قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۴۸.
  11. دیکھئے: کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲و۱۰۳؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲؛ کفعمی، البلد الامین، ۱۴۱۸ق، ص۲۰۳؛ سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  12. دیکھئے: قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۳۵و۳۶.
  13. دیکھئے: کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲و۱۰۳؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲؛ کفعمی، البلد الامین، ۱۴۱۸ق، ص۲۰۳؛ سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  14. دیکھئے: قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۶۱.
  15. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۶۱.
  16. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۵۷.
  17. حلی، مختصر البصائر، ۱۴۲۱ق، ص۴۶۰.
  18. حلی، مختصر البصائر، ۱۴۲۱ق، ص۴۶۰و۴۶۱.
  19. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۸۷-۹۱.
  20. دیکھئے: کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲و۱۰۳؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲؛ سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  21. دیکھئے: علامہ حلی، رجال العلامۃ الحلی، ۱۴۱۱ق،‌ ص۱۴۲.
  22. نجاشی، رجال نجاشی، ۱۳۶۵ش، ص۳۳۳.
  23. طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۳۹۱.
  24. علامہ حلی، رجال العلامۃ الحلی، ۱۴۱۱ق،‌ ص۱۴۲.
  25. مجلسی، مرآة العقول، ۱۴۰۴ق، ج۱۶، ص۳۹۴؛ مجلسی، ملاذ الاخیار فی فہم تہذیب الاخبار، ۱۴۰۶ق، ج۵، ص۱۰۶.
  26. کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲،‌ ح۴.
  27. طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲، ح۳۷.
  28. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۲.
  29. کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۵۸۶.
  30. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵.
  31. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش، ص۲۶-۲۹.
  32. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۶۲.
  33. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش،‌ ص۶۷.
  34. نمونہ کے طور پر دیکھئے: طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۱، ص۴۰۹و۴۱۳ و ج۲، ص۴۰۵.
  35. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش، ص۵و۶.
  36. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش، ص۹۳-۱۰۳.
  37. قرائتی، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، ۱۳۹۳ش، ص۷.
  1. یہ فقرے اس طرح ہیں: تُکرِّرُ فِی لَیلَةِ ثَلَاثٍ وَ عِشْرِینَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ هَذَا الدُّعَاءَ سَاجِداً وَ قَائِماً وَ قَاعِداً وَ عَلَی کلِّ حَالٍ وَ فِی الشَّهْرِ کلِّهِ وَ کیفَ أَمْکنَک وَ مَتَی حَضَرَک مِنْ دَهْرِک تَقُولُ بَعْدَ تَحْمِیدِ اللَّهِ تَبَارَک وَ تَعَالَی وَ الصَّلَاةِ عَلَی النَّبِی ص... (کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲و۱۰۳؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰.)
  2. دعا کی سند یوں ہے: مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی بِإِسْنَادِهِ عَنِ الصَّالِحِینَ ع (کلینی، الکافی،‌ ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۲؛ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۶۳۰؛ ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۶۱۱.) تہذیب میں الصَّالِحِینَ کی جگہ الصَّادِقِینَ آیا ہے (طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۳، ص۱۰۲) اقبال کی سند ذرا مکمل ہے اور اس طرح سے ہے: ذَکَرَهُ ابْنُ أَبِی قُرَّةَ فِی کتَابِهِ-: فَقَالَ بِإِسْنَادِهِ إِلَی عَلِی بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِی بْنِ فَضَّالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی بْنِ عُبَیدِ بِإِسْنَادِهِ عَنِ الصَّالِحِینَ ع... (سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱،‌ ص۸۵).

مآخذ

  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تحقیق و تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر نشر اسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۹ھ۔
  • حلی، حسن سلیمان بن محمد، مختصر البصائر، تصحیح و تحقیق مشتاق مظفر، قم، دفتر نشر اسلامی، چاپ اول، ۱۴۲۱ھ۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دوم، ۱۴۱۹ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق و تصحیح حسن موسوی خرسان، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • ‌ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، تحقیق و تصحیح جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر نشر اسلامی، چاپ سوم، ۱۳۷۳ش.
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد و سلاح المتعبد، بیروت، مؤسسہ فقہ شیعہ، چاپ اول، ۱۴۱۱ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف بن مطہر، رجال العلامۃ الحلی، تحقیق و تصحیح محمد صادق بحر العلوم، نجف،‌ دار الذخائر، چاپ دوم، ۱۴۱۱ھ۔
  • قرائتی، محسن، شرح دعای سلامتی امام زمان(عج)، بہ کوشش حسن سلم ‌آبادی، قم، بنیاد فرہنگی حضرت مہدی موعود(عج)، ۱۳۹۳ش.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی عاملی، البلد الامین و الدرع الحصین، بیروت، مؤسسہ الاعلمی، چاپ اول، ۱۴۱۸ھ۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی عاملی، المصباح، قم،‌ دار الرضی، چاپ دوم، ۱۴۰۵ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی،‌ تحقیق و تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، مرآة العقول فی شرح أخبار آل الرسول، تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، چاپ دوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، ملاذ الاخیار فی فہم تہذیب الاخبار، تحقیق مہدی رجائی، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی،‌ چاپ اول، ۱۴۰۶ھ۔
  • مجلسی، محمد تقی، روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، تحقیق و تصحیح حسین موسوی کرمانی و علی ‌پناہ اشتہاردی، قم، مؤسسہ فرہنگی اسلامی کوشانپور، چاپ دوم، ۱۴۰۶ھ۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال نجاشی، قم، دفتر نشر اسلامی، چاپ ششم، ۱۳۶۵ش۔
  • ‌قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، مجمع إحیاء الثقافۃ الإسلامیۃ، بےتا۔