رفاعہ بن شداد

ویکی شیعہ سے
(رفاعۃ بن شداد بجلی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رِفاعَہ بن شَدّاد بَجَلی
معلومات شخصیت
نام: رِفاعَہ بن شَدّاد بَجَلی فِتیانی
وفات: سنہ 66 ہجری، کوفہ
اصحاب: امام علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام، مختار بن ابی عبیدہ ثقفی
سماجی خدمات: قاضی اہواز، شرکت: جنگ جمل، جنگ صفین، قیام توابین و قیام مختار

رفاعہ بن شداد بجلی فتیانی (متوفی سنہ 66 ھ)، حضرت علی علیہ السلام و مختار ثقفی کے ساتھیوں اور توابین کے رہبروں میں سے ہیں۔ انہوں نے حضرت کے ساتھ جنگ صفین و جنگ جمل میں شرکت کی اور آپ کے دور خلافت میں اہواز میں قاضی کے عہدے پر فائز رہے۔ امام حسین ؑ کے قیام کی تحریک میں رفاعۃ ان پہلے افراد میں سے ہے جنہوں نے امام حسین ؑ کو خط لکھا۔ واقعۂ عاشورا کے بعد سلیمان بن صرد کے ساتھ ان کا شمار توابین کے رہبروں میں ہوتا ہے۔ توابین کے قیام کے بعد مختار کے ساتھ مل گئے۔ تاریخی منابع میں مختصر مدت کی مختار اور اس کی باہمی جدائی کے بارے میں بات موجود ہے۔ بالآخر قیام مختار میں قتل ہوئے۔

نسب

نسب کے لحاظ سے ان کا تعلق بجیلہ نامی قبیلے سے تھا۔ اس قبیلے کے بہت سے افراد نے حضرت علی ؑکی خلافت میں آپ کا ساتھ دیا۔ جنگ صفین میں چند افراد کو چھوڑ تمام قبیلہ حضرت علی ؑ کے ساتھ تھا۔[1] امام باقر و امام صادق علیہما السلام کی امامت کے دور میں اس قبیلے کے بہت سے افراد نے مذکورہ اماموں کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ نجاشی نے اپنی رجالی کتاب میں پچاس سے زیادہ ایسے افراد کا نام لیا ہے جو اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔[2]

حضرت علی (ع) کی ساتھ

رفاعہ ربذہ میں حضرت ابو ذر کی تشییع جنازہ میں مالک اشتر کے ساتھ موجود تھے۔[3] حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں اہواز کے قاضی تھے۔ مآخذ میں حضرت علی کے خطوط میں حضرت نے ان کا نام لے کر انہیں خطاب کیا ہے۔ اس کا کچھ حصہ دعائم الاسلام میں موجود ہے[4] بلکہ یہ خط علایحدہ صورت میں بھی شائع ہوا ہے۔[5]

جنگ جمل میں پیادہ لشکر کی کمان رفاعہ کے ہاتھوں میں تھی[6] اور جنگ صفین میں بجیلہ قبیلے کے پرچمدار تھے۔[7]

امام علی (ع) کے بعد

شیخ طوسی نے انہیں امام حسن (ع) کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔[8] جس وقت زیاد بن ابیہ نے حجر بن عدی کے ساتھیوں کو طلب کیا۔ رفاعہ عمرو بن حمق کے ساتھ مدائن فرار کر گئے۔ پھر وہاں سے موصل جاتے ہوئے عمرو راستے میں مریض ہوگئے تو انہوں نے رفاعہ سے کہا: تم اپنی جان بچاو تو وہ موصل چلے گئے۔[9]

واقعہ کربلا

رفاعہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے امام حسین ؑ کو خط لکھا اور انہیں کوفہ آنے کی دعوت دی۔[10] لیکن وہ کربلا میں موجود نہیں تھے۔ وہ سلیمان بن صرد کے ہمراہ توابین کے سر کردہ لیڈروں میں تھے۔[11] سلیمان بن صرد کے مارے جانے کے بعد انہوں نے لشکر کو اکٹھا کیا اور عراق واپس آ گئے۔ قیام مختار میں ان کے ساتھ تھے[12] لیکن اس نے جب انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ مخفیانہ ایک مخصوص فکر رکھتے ہیں تو اسن سے جدا ہو کر مخالفین کے ساتھ مل گئے۔[13] مگر جب انہوں نے مختار کے دشمنوں نے یالثارات عثمان کا نعرہ بلند کیا تو وہ غضبناک ہوئے اور پھر مختار کے ساتھ مل گئے اور بالآخر سنہ 66 ھ میں قیام مختار میں قتل ہوئے۔[14]

روایت

رفاعہ نے عمرو بن حمق خزاعی[15] اور عبد الملک بن عمیر نے ان سے روایت نقل کی ہے۔[16]

حوالہ جات

  1. نصر بن مزاحم، ص۶۰،۲۰۵ ،۲۲۸ـ۲۲۹
  2. نجاشی، ص۷۱، ۱۱۹،۲۱۵،۴۱۲، ۴۱۳، ۴۴۶، ۲۳۸، ۳۰۲
  3. کشی، ص۶۵
  4. دعائم الاسلام، ج۱، ص۲۲۷؛ ج۲، ص۳۶، ۳۸، ۱۷۶، ۲۵۸، ۴۰۴، ۴۴۲، ۴۴۵، ۴۵۹، ۴۸۷، ۴۹۹، ۵۳۰، ۵۳۴؛ مستدرک ج۲، ص۴۵۰، ج۱۳، ص۳۹۳؛ بحار الانوار، ج۷۹، ص۱۰۱
  5. نامہ امام علی به رفاعہ بن شداد بجلی
  6. الفتوح، ج۲، ص۴۶۸
  7. نصر بن مزاحم، ص۲۰۵
  8. شیخ طوسی، رجال، ۱۴۱۵ق، ص۹۴.
  9. اسد الغابہ، ج۳، ص۷۱۵؛ انساب الاشراف، ج۵، ص۲۷۲؛ ذهبی، تاریخ الاسلام، ج۴، ص۸۸؛ طبری، ج۵، ص۲۶۵
  10. الامامہ و سیاسہ، ج۲، ص۷؛انساب الاشراف، ج۳، ۱۵۷؛ ابن خلدون، ج۳، ص۲۷؛ طبری، ج۵، ص۳۵۲
  11. انساب الاشراف، ج۶، ص۳۶۴
  12. البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۶۴
  13. البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۹۱
  14. زرکلی، الاعلام، ج۳، ص۲۹؛ طبری، ج۶، ص۶۱۶؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۲۳۵؛البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۲۶۷؛ طبری، ج۶، ص۵۰
  15. ذہبی، تاریخ الاسلام، ج۴، ص۸۷
  16. ذہبی، تاریخ الاسلام ج 5 ص 227


مآخذ

  • ابن اثیر جزری، عزالدین بن الأثیر أبو الحسن علی بن محمد الجزری، أسد الغابہ فی معرفہ الصحابہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ء
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت ۱۳۹۹ـ۱۴۰۲ق/۱۹۷۹ـ ۱۹۸۲ء
  • ابن اعثم کوفی، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ء
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرہم من ذوی الشأن الأکبر، تحقیق خلیل شحادة، بیروت، دارالفکر، ط الثانیہ، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸ء
  • ابن قتیبہ، أبو محمد عبدالله بن مسلم دینوری، الإمامہ و السیاسہ المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰ء
  • ابن کثیر، أبو الفداء اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۷ق/ ۱۹۸۶ء
  • زرکلی، خیر الدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت، دار العلم للملایین، ط الثامنہ، ۱۹۸۹ء
  • شیخ طوسی، رجال الطوسی، ناشر: جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۱۵ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم والملوک، بیروت، ۱۴۰۷ق.
  • علامہ مجلسی، بحار الأنوار، مؤسسہ الوفاء، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال: تلخیص، محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸ش.
  • محدث نوری، مستدرک الوسائل، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، ۱۴۰۸ق.
  • نجاشی، احمد بن علی، فہرست اسماء مصنّفی الشیعۃ المشتہر برجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم ۱۴۰۷ق.
  • نصر بن مزاحم، وقعۃ صفّین، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہره ۱۳۸۲، چاپ افست قم ۱۴۰۴ق.
  • نعمان بن محمد تمیمی مغربی، دعائم الإسلام، ۲ جلد، دار المعارف مصر، ۱۳۸۵ق.