استغفار

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


استغفار، کے معنی، خداوند متعال سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں۔ استغفار سے مراد جملہ: "اللّهُمَّ إغفِرلي" یا "خدایا مجھے بخش دے" کہنا اور دہرانا، نہیں ہے، بلکہ استغفار کی روح، حق تعالی کی طرف پلٹنا اور ماضی کے نادرست اعمال سے ندامت اور ماضی کی تلافی کے لئے آمادگی سے عبارت ہے۔ مغفرت طلب کرنے کا عمل بعض خاص افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ انبیاء بھی اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے؛ حتی کہ پیغمبر اسلامؐ کو اللہ کی طرف سے ہدایت ہوتی ہے کہ اپنے لئے بھی اور مؤمنین کے لئے بھی استغفار کریں اور واسطے اور شفیع کا کردار ادا کریں تا کہ خداوند متعال اپنی رحمت ان پر نازل فرمائے۔

قرآن میں مغفرت طلبی کا مفہوم، کئی بار کئی ہیئتوں اور سانچوں میں بروئے کار لایا گیا ہے۔ استغفار کسی خاص وقت اور مقام تک محدود نہیں ہے بلکہ زیادہ تر مواقع اور مقامات پر اللہ کی جانب سے شرف قبولیت حاصل کرتا ہے، بایں حال، قرآن اور احادیث میں بعض اوقات، مقامات اور حالات و کیفیات بیان ہوئی ہیں، جہاں اس کی استجابت اور قبولیت کے اسباب فراہم ہوتے ہیں۔

قَالَ اللہُ عزَّ وَجَلَّ:

لغت اور اصطلاح میں

لغت میں، لفظ "استغفار" بمعنی طلب مغفرت،[1] "غ ف ر" سے ماخوذ ہے جس کے معنی "چھپانے" کے ہیں۔[2][3]
اصطلاح میں استغفار کے معنی زبانی یا عملی درخواست کے ہیں[4] مغفرت[5] اور گناہ کے چھپائے جانے، کے لئے[6] بارگاہ ربانی سے، اور اس کا مقصد و ہدف گناہ کے برے اثرات اسے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہنا ہے۔[7][8]

بعض علماء نے قرآن کی بعض آیات کریمہ میں لفظ "استغفار" کو "ایمان[9] اسلام،[10] یا نماز قائم کرنے سے[11] تفسیر کیا ہے اور یہ آیات کریمہ عمل کے مرحلے میں استغفار کے مصادیق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

استغفار یا تو زبانی ہے جیسے: "اَستَغفِرُ اللہَ" کہنا؛ یا فعلی ہے اور عملی ہے جیسے: ان اعمال کی انجام دہی، جو انسان کے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بنتے ہیں۔ زبانی استغفار کو فقہ کے ابواب طہارت، صلاۃ، صوم، حج، تجارت، ظہار اور کفّارات میں زیر بحث لایا گیا ہے۔

قرآن میں استغفار کے اطلاقات

استغفار.jpg

طلب مغفرت کا مفہوم 68 مرتبہ قرآن میں آیا ہے: 43 مرتبہ، باب استفعال کی مختلف صورتوں میں، 17 مرتبہ "إغفر" کے سانچے میں، تین مرتبہ صیغۂ "یغفر"، دو مرتبہ "تغفر" کی صورت میں اور یک مرتبہ "مغفرۃ" کی صورت میں۔[12]

قرآن کی دو آیتوں میں استغفار لفظ "حِطَّةٌ" کے ساتھ آیا ہے[13][14] اور منقول ہے کہ خداوند متعال نے بنو اسرائیل کو استغفار کا حکم دیا تا کہ اللہ کی مغفرت میں شامل ہوجائیں۔

قرآن کریم میں استغفار کے بعض اطلاقات

  • "وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعاً حَسَناً إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ"؛

ترجمہ: اور یہ کہ تم اپنے پروردگار سے بخشش کے طلبگار ہو، پھر اس کی بارگاہ میں لو لگاؤ، وہ تمہیں بہرہ مند کرے گا اچھے فائدوں سے ایک مقررہ مدت تک اور ہر مرتبہ والے کو اس کے درجہ کے مطابق عطا کرے گا اور اگر تم نے رو گردانی کی تو مجھے تمہارے لیے ایک بہت بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے [ ہود–3] ۔

  • "وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُوراً رَّحِيماً"؛

ترجمہ: اور جو برائی کرے یا خوداپنے اوپر ظلم کرے، پھراللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا پائے گا، مہربان [ نساء–110] ۔

  • "وَاسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ"؛

ترجمہ: اور اپنے پروردگار سے مغفرت کے طالب ہو، پھر اس سے لو لگاؤ، یقینا میرا پروردگار مہربان ہے، بڑی محبت والا [ ہود–90] ۔

  • "وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَاراً وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْاْ مُجْرِمِينَ"؛

ترجمہ: اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے بخشش کے طلبگار ہو، پھر اس سے لو لگاؤ کہ وہ تمہاری طرف گھٹا بھیجے خوب برستی ہوئی اور تمہاری قوت میں مزید قوت عطا کرے اور تم مجرمانہ طور پر رو گردانی اختیار نہ کرو [ ہود–51-52] ۔

  • "فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً" ﴿10﴾ "يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَاراً" ﴿11﴾ "وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَاراً" ﴿12﴾؛

ترجمہ: تو میں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے ٭ تا کہ بھیج دے بادل کو تم پر برستا ہوا ٭ اور تمہیں مدد پہنچائے مال اور اولاد کے ساتھ اور قرار دے تمہارے لئے باغ اور قرار دے تمہارے لئے نہریں ٭ [ نوح–10-11-12] ۔

  • "وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ" ﴿5﴾ " سَوَاء عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ" ﴿6﴾؛

ترجمہ: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ "آؤ تمہارے لئے پیغمبر خدا دعائے مغفرت کر دیں"، تو وہ اپنے سر جھٹک کر گھماتے ہیں اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں ٭ ان کے لئے برابر ہے کہ ان کے لئے آپ طلب مغفرت کیجئے یا طلب مغفرت نہ کیجئے، اللہ ہر گز انہیں نہیں بخشے گا۔ یقینا اللہ منزل تک نہیں پہنچاتا انہیں جو ایسے بدکردار [و نافرمان] ہوں ٭ [ منافقون–5 و 6] ۔

  • "وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ"؛

ترجمہ: اور پچھلے پہروں کو وہ [اللہ سے] طلب مغفرت کرتے تھے [ ذاریات–18] ۔

احادیث میں

  • "قال الصادقؑ:"إذَا أكثَرَ العَبدُ مِنَ الإِستِغفارِ رُفِعَت صَحِيفَتُهُ وَهيَ تَتَلَالَأُ"؛۔[15]
  • "عَلِيُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ زرارة بن اعين قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِاللَّهِ عَلَيهِ السَّلامُ يَقُولُ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْباً أُجِّلَ مِنْ غُدْوَةٍ إِلَی اللَّيلِ فَإِنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ لَمْ يُكتَبْ عَلَيهِ"؛۔[16]

ضرورت اور اہمیت

استغفار کا فرمان اور اس کی ترغیب بہت سی آیات کریمہ،[17] اور اس کے ترک کرنے پر توبیخ و بازخواست، بعض دیگر میں، جیسے آیت کریمہ: ("أَفَلاَ يَتُوبُونَ إِلَى اللّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ" [ مائدہ–74] )؛ سب کے لئے استغفار کی ضرورت کو واضح کرتی ہے، کیونکہ ایک طرف سے عام لوگ غفلت، نادانی، سرکشی، حیوانی جبلتوں اور ہوائے نفس کی وجہ سے، ہر وقت گناہ کے خطرے میں گھرے رہتے ہیں، چنانچہ اللہ سے ان کی روح کے تصفیے اور تزکيے کے لئے طلب مغفرت اور اس کی ضرورت، امرِ مسلّم ہے۔

دوسری طرف سے، کوئی بھی اس طرح سے اللہ کے حقوق ادا نہیں کرسکتا جس طرح کہ اس کے مرتبۂ ربوبی کے شایان شان ہے، بلکہ ہر کوئی اپنی معرفت و شناخت کی حدود تک اس امر کا اہتمام کرتا ہے، چنانچہ حقیقی زاہدین و عابدین بھی، اللہ کے حضور اپنے اعمال اور عبادات سے شرم محسوس کرتے ہیں اور اس کی بارگاہ میں اپنے آپ کو ملزم ہی نہیں بلکہ مقصّر سمجھتے اور استغفار کرتے ہیں اور استغفار کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔[18]

استغفار کی اہمیت بھی کئی جہات سے قابل تشریح ہے:

  1. پیغمبر اکرمؐ اور دیگر انبیاء نے استغفار کی ہدایت کی ہے اور عام لوگوں کو بھی فرمان دیا گیا ہے کہ استغفار کیا کریں۔ بطور مثال قرآن کی آٹھ آیتوں میں مغفرت طلبی کی رغبت دلائی گئی ہے اور تقریبا 30 آیتوں میں انبیاء کے استغفار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور پانچ آیتوں میں رسول اکرمؐ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔[19]
  2. فرشتے مؤمنین،[20] اور اہل زمین کے لئے استغفار کرتے ہیں۔[21]
  3. گناہوں کی مغفرت کی طلب کو پرہیزگاروں کی صفت گردانا گیا ہے۔[22][23]

استغفار: مستحب، واجب اور حرام

استغفار اگرچہ بذات خود، مستحب ہے، لیکن کبھی بعض عوارض اور بیرونی عوامل کی وجہ سے واجب یا حرام ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حکم کی رو سے استغفار کی تین قسمیں ہیں:

  1. # مستحب استغفار: استغفار اس لحاظ سے ـ کہ بہترین دعا اور عبادت سمجھا جاتا ہے ـ تمام تر حالات ـ بالخصوص ذیل کے امور میں ـ مستحب ہے:[24] نماز کے دو سجدوں کے درمیان؛[25] نماز کی [تیسری اور چوتھی رکعات میں] تسبیحات اربعہ کے بعد؛[26] نماز ـ بالخصوص نماز وتر ـ کی قنوت میں؛[27] سَحَر کے وقت؛[28][29] جنازے اور تدفین کے وقت میت کے لئے، نیز مرحومین کی قبر کی زیارت کے وقت؛[30] نماز استستقاء میں؛[31] رمضان المبارک کے دوران؛[32] بعض آداب اور سنتوں کے ترک کئے جانے کے لئے، نیز اپنے سر اور صورت پر لطم اور طمانچے رسید کرنے کی صورت میں بطور کفارہ۔[33]
  2. واجب استغفار: استغفار بعنوان کفارہ، [حج کے دوران] جدال کے عوض جو تین مرتبہ سے کم ہو، اور فسوق [یعنی جھوٹ وغیرہ]،[34] یا اس کفارے [جیسے: غلام آزاد کرنے، دو مہینے روزہ رکھنے یا 60 افراد کو کھانا کھلانے] کے عوض، واجب ہے۔[35] گوکہ ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے عاجز ہونے کی صورت میں، اس کے عوض استغفار کے نعم البدل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔[36] نیز نماز میت میں اور غِیبت کرنے والے کی طرف سے اس شخص کے لئے استغفار کرنا، جس کی غیبت کی گئی ہے؛ کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔[37][38]
  3. حرام استغفار: مشرکین اور کفّار ـ بحوالۂ نصِّ قرآن کریم-[39] نیز مخالفین و منافقین کا استغفار، حرام ہے۔[40]

استغفار کے آداب

حضرت علیؑ نے اپنے حضور جملہ ""اَستَغفِرُاللهَ"" کو دہرانے والے شخص سے فرمایا: "ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَتَدْرِي مَا الإسْتِغْفَارُ؟ الِإسْتِغْفَارُ دَرَجَةُ الْعِلِّيِّينَ وَهُوَ إسْمٌ وَاقِعٌ عَلَی سِتَّةِ مَعَانٍ؛ أَوَّلُهَا: النَّدَمُ عَلَی مَا مَضَی وَالثَّانِي: الْعَزْمُ عَلَی تَرْكِ الْعَوْدِ إِلَيْهِ أَبَداً وَالثَّالِثُ: أَنْ تُؤَدِّيَ إِلَی الْمَخْلُوقِينَ حُقُوقَهُمْ حَتَّی تَلْقَی اللَّهَ أَمْلَسَ لَيْسَ عَلَيْكَ تَبِعَةٌ وَالرَّابِعُ: أَنْ تَعْمِدَ إِلَی كُلِّ فَرِيضَةٍ عَلَيْكَ ضَيَّعْتَهَا فَتُؤَدِّيَ حَقَّهَا وَالْخَامِسُ أَنْ تَعْمِدَ إِلَي اللَّحْمِ‏ الَّذِي نَبَتَ عَلَی السُّحْتِ فَتُذِيبَهُ بِالْأَحْزَانِ حَتَّی تُلْصِقَ الْجِلْدَ بِالْعَظْمِ وَيَنْشَأَ بَيْنَهُمَا لَحْمٌ جَدِيدٌ وَالسَّادِسُ أَنْ تُذِيقَ الْجِسْمَ أَلَمَ الطَّاعَةِ كَمَا أَذَقْتَهُ حَلَاوَةَ الْمَعْصِيَةِ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَقُولُ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ"

ترجمہ: تم پر تیری ماں روئے، کیا جانتے ہو کیا جانتے ہو کہ استغفار کیا ہے؟ استغفار عالی مرتبہ لوگوں کا درجہ ہے؛ اور وہ چھ شرطوں سے مشروط ہے:

  • ماضي اعمال سے پشیمانی
  • گناہ کی طرف پلٹنے کو ترک کرنے کا عزم، ہمیشہ کے لئے
  • یہ کہ لوگوں کے حقوق کو ادا کرو تا کہ ہر قسم کے گناہ سے پاک ہوکر اللہ کا دیدار کرو
  • ہر وہ واجب جو تمہارے ذمے تھا، اور تو نے انجام نہیں دیا، کو انجام دو
  • یہ کہ جو گوشت تمہارے بدن پر گناہ کے وقت اگا ہے، غم و اندوہ کی وجہ سے مٹ جائے، اور تمہاری کھال ہڈی سے چپک جائے اور تازہ گوشت اگ آئے
  • یہ کہ جسم کو طاعت کا رنج چھکا دو، جیسا کہ اسے نافرمانی کی مٹھاس چھکا چکے تھے
  • اگر تم ایسا کرسکے تو تب ہی کہہ دو: استغفراللہ[41]

استغفار کے بعض آداب درج ذیل ہیں:

  • استغفار بوقت سَحَر۔
  • استغفار شب جمعہ کو۔
  • خطاؤں کا اعتراف [بارگاہ الہی میں]۔
  • ایمان کا اقرار اور خداوند متعال کے حضور تسلیم کا اظہار۔
  • خداوند متعال کی ربوبیت کی طرف توجہ۔
  • خداوند متعال کی ولایت مطلقہ کی طرف توجہ۔
  • انبیاء سے توسل۔
  • مغفرت طلب کرتے وقت اللہ کی صفات کمال کا ذکر بجا لانا۔
  • اللہ کی یاد۔[42][43]


استغفار کے بعض عوامل

استغفار کے لئے ماحول فراہم کرنے والے بعض عوامل کچھ یوں ہیں:

  • اللہ کی مغفرت سے آگہی۔
  • اللہ کی رحمت کی نسبت پرامید ہونا۔
  • خداوند متعال کی طرف سے توبہ کی قبولیت کی طرف توجہ۔
  • اللہ کی حکمتوں کی طرف توجہ۔
  • اللہ کی خالقیت کی طرف توجہ۔
  • رحمت پروردگار کی طرف توجہ۔
  • اللہ کی عزت کی طرف توجہ۔
  • تمام امور کے اللہ کی طرف پلٹنے کی طرف توجہ۔
  • بندوں مغفرت پر اللہ کی قدرت کی طرف توجہ۔
  • مشاہدۂ عذاب۔
  • وفائے عہد۔[44][45]

استغفار کی اجابت

خداوند متعال کی طرف سے استغفار کی اجابت و قبولیت حتمی ہے کیونکہ:

  1. بعض آیات کریمہ میں خداوند متعال نے استغفار کی قبولیت پر تصریح فرمائی ہے: "فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ"

[ ہود–61] ۔ نیز ارشاد فرماتا ہے: "اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" [ غافر–60] ۔ خداوند متعال نے دعا کی استجابت کا وعدہ کیا ہے اور استغفار بہترین دعاؤں میں سے ایک دعا کے طور پر[46][47] اس الہی وعدے میں شامل ہے اور استغفار کی قبولیت کا وعدہ استغفار کی ترغیب کا سبب ہوسکتا ہے۔

  1. اس حقیقت کے پیش نظر کہ قرآن کریم اپنی بہت سی آیتوں میں استغفار کا حکم دیتا ہے،[48] عدم قبولیت بعید از تصور، نظر آتی ہے۔
  2. اللہ کے بہت سے اوصاف، جیسے: "غفور، غفّار، عفوّ وغیرہ" اللہ کی مغفرت و بخشش کی بشارت کا ثبوت ہیں وہی مغفرت جس کی امید استغفار سے رکھی جاتی ہے۔

استغفار کے بہترین اوقات

استغفار کسی خاص وقت اور مقام اور خاص قسم کے حالات و کیفیات کے لئے محدود نہیں ہے؛ لیکن خاص قسم کے زمانی اور مکانی حالات میں، اس کا کردار خاص ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم نے بعض آیات میں،[49][50] واضح و صریح طور پر، سحر یا رات کے پچھلے پہر کو منتخب فرماتا ہے اور آیت ("قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" [ ؟؟] ترجمہ:انہوں نے کہا میں تمہارے لیے پروردگار سے بخشش کی التجا کروں گا۔ یقینا وہ بخشنے والا ہے، بڑا مہربان|سورت=یوسف|آیت=98 میں، تقریبا تمام مفسرین کی رائے کے مطابق، دوسرے اوقات کے مقابلے میں وقت سحر کی برتری کو گوش گذار کرایا گیا ہے۔

استغفار کے آثار و برکات

آیات و روایات میں استغفار کے لئے بہت سارے تعمیری اور قابل بیش بہاء آثار بیان کئے گئے ہیں جیسے: معاشرے کی صلاح و فلاح، اللہ کی طرف کی برکات کا نزول اور دنیاوی اور اخروی عذاب کا ازالہ وغیرہ۔[51][52]

اللہ کے عذاب کا سد باب

سورہ انفال کی آیت 33 میں،[53] کے مطابق، لوگ جب تک کہ استغفار کرتے رہیں گے، خداوند متعال ان پر عذاب نازل نہیں کرے گا۔ مذکورہ آیت کی ابتدا، عذاب کے نہ آنے کے ایک اور سبب ـ یعنی رسول خداؐ کی موجودگی ـ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مفسرین اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اس لئے کئی شان نزول اور احتمالات بیا کرتے ہیں؛ لیکن آیت، اس عام قانون پر مشتمل ہے کہ لوگوں کے درمیان رسول اللہؐ کی موجودگی اور لوگوں کا استغفار، دونوں، شدید اور سنگین بلاؤں اور دردناک فطری اور غیر فطری سزاؤں اور مکافاتوں: ـ جیسے تباہ کن جنگوں، سیلابوں اور زلزلوں ـ کے مقابلے میں ان کے لئے امن و سکون کا موجب ہے۔[54]

امام علیؑ فرماتے ہیں: [55]

گناہوں کی بخشش و مغفرت

در آیت 10 سورہ نوح،[56] حضرت نوحؑ کے فرمانِ استغفار کے بعد، اللہ کے بہت زیادہ بخشنے کی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ غفّار کا وصف، غفور، رحیم،[57] وَدود،[58] وغیرہ کی مانند بندوں کے گناہوں کی مغفرت، اور ان پر رحمت کے نزول کے سلسلے میں اللہ کے اہم وعدے اور عظیم بشارت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔[59] ایک روایت میں گناہ سے استغفار، روح سے گناہوں کے زنگ کے ازالے اور روح کو معنوی جلا بخشنے کا سبب، قرار دیا گیا ہے۔[60]

رزق اور اولاد میں برکت

سورہ نوح کی آیات 10 تا 12 میں،[61] بارشوں کے آنے سے خشک سالی کے خاتمے، افلاس اور تنگدستی کے ازالے اور آمدنی اور رزق کے بڑھ جانے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ نیز ان آیات کی رو سے، لاولد ہونے کے خدشہ ختم ہونا، یا فرزندوں کی تعداد میں اضافہ، استغفار کے آثار و ثمرات میں شمار کیا گیا ہے۔

خوشحالی اور طولِ عمر

حقیقی استغفار اچھی اور اچھی اور خوبصورت زندگی کا سبب ہے جو مال و دولت، خوشحال، امن و سکون اور عزت سے بھرپور ہو،[62][63][64] جیسا کہ سورہ ہود کی آیت 3 میں،[65] اس اچھی مادی دنیا کو "متاع حَسَن" کا عنوان دیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے "متاع حسن" کو طویل عمر، قناعت، لوگوں کو چھوڑ دینا اور صرف اللہ سے لو لگانا اور اسی کی طرف توجہ دینا اور بالنتیجہ "طلب مغفرت"، قرار دیا ہے۔[66] ایک نقل کے مطابق، حسن بصری نے خشک سالی، غربت اور تنگدستی اور لاولد ہونے، کا شکوہ کرنے والے اور ان مسائل کے حل کی کوشش کرنے والے افراد سے ـ سورہ نوح کی دسویں اور گیارہویں آیات کا حوالہ دے کر، استغفار کی تلقین کی ہے۔[67]

توسل اور استغفار

مفصل مضمون: توسل

استغفار کے لئے واسطہ جوئی اور واسطہ پذیری، قرآن کریم میں تائید شدہ اور تصدیق شدہ ہے، جیسا کہ خداوند متعال کی طرف سے مطلق طور پر وسیلہ جوئی کا حکم دیا گیا ہے۔[68] بعض آیات، میں لوگوں کی رسول اللہؐ سے وساطت طلبی اور آنحضرتؐ کے ان کے لئے استغفار کا واسطہ بننے، کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[69] اور بعض دوسری آیات میں، خداوند متعال اپنے رسولؐ کو فرمان دیتا ہے کہ اپنے لئے اور مؤمن لوگوں کے لئے استغفار کیا کریں۔[70]

بعض آیات کریمہ میں خداوند متعال نے والدین،[71][72] اور دوسرے اعزّاء و اقارب[73] اور مؤمنین،[74] کے لئے استغفار کو پسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔

بعض آیات کا مفہوم،[75] جن میں رسول خداؐ اور مؤمنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے منع کیا گیا ہے، خود مؤمنین کے لئے استغفار کے جائز ہونے کا ثبوت ہے۔[76]

سورہ یوسف کی آیات 97 اور 98،[77] بھی استغفار میں وسیلہ جوئی کے جواز پر بخوبی دلالت کرتی ہیں، کیونکہ جب پیغمبر خدا حضرت یعقوبؑ کے فرزندوں نے ان سے اپنے لئے استغفار میں وساطت کرنے کی درخواست کی تو پیغمبر(‏ع) نے ان سے وعدہ کیا کہ مستقبل میں ان کے لئے خدا سے طلب مغفرت کریں گے۔

انبیاء اور دوسرے معصومین کا استغفار

زیادہ تر قرآنی آیات کا تعلق عام انسانوں کے استغفار سے تعلق رکھتی ہیں،[78] اور ایک مقام پر "رِبِّیون" کے استغفار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[79] "رِبِّیون" سے مقصود وہ لوگ ہیں جو اللہ سے اختصاص پا چکے ہیں [اور اللہ والے ہوگئے ہیں] اور وہ اللہ کے سوا کسی اور سے لو نہیں لگاتے۔[80]

بعض آیات میں انبیاء اور فرشتوں کے استغفار کا حوالہ دیا گیا ہے۔

قرآن کی 30 آیتوں کا تعلق انبیاء کے اپنے لئے استغفار سے متعلق ہیں، اور یہ استغفار ـ ان کی عصمت کی رو سے، گناہ سے مغفرت طلبی کے معنی میں نہیں ہے۔[81][82]

شیعہ نیز مالک، ابوحنیفہ اور شافعی کے اصحاب میں سے بہت سے فقہاء کے نزدیک، انبیائے الہی تمام گناہوں حتی کہ صغائر سے معصوم ہیں کیونکہ سب لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کے کلام اور سیرت کی پیروی کریں اور اللہ کا یہ فرمان ان کی طرف سے گناہوں ـ حتی کہ صغیرہ گناہوں ـ کے ارتکاب سے سازگار نہیں ہے[83][84]

نیز قرآن نے "مُخلَصین" کے وصف سے انبیاء کی تعریف کی ہے[85]

اور سورہ ص کی آیات 82 اور 83 کے مطابق،[86] شیطان کے پاس اللہ کے مخلص بندوں کے گمراہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے چنانچہ انبیاء کی مغفرت طلبی مختلف پہلؤوں سے قابل تشریح ہے۔

استغفارِ انبیاء کے اسباب

  • انبیاء کا استغفار امتوں کے لئے ایک قسم کی تعلیم ہے تا کہ وہ مغفرت طلب کرنے کے ذریعے، گناہوں کا ازالہ کرکے، اللہ کی رحمت کو اپنے شامل حال کردیں۔[87]
  • مقصود ترک اَوْلی کی بنا پر مغفرت طلب کرنا ہے۔[88][89][90] یعنی یہ کہ کبھی وہ نیک کام انجام دیتے ہیں اور اس سے زیادہ بہتر کام کو ترک کردیتے ہیں چنانچہ انہیں اس کے بموجب استغفار کرنا پڑتا ہے۔
  • انبیاء کے استغفار سے مقصود، ان کی امتوں کے گناہوں کا استغفار ہے[91][92][93] یہی بات رسول خاتمؐ کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہے۔[94][95]
  • انبیاء کا استغفار دفع کرنے اور سد باب کرنے کے لئے ہے اور دوسروں کا استغفار ان گناہوں کے لئے ہے جو وہ انجام دے چکے ہیں۔[96][97]
  • چونکہ انبیاء علیہم السلام ـ منجملہ پیغمبر خاتمؐ کی دعوت کے آثار مختلف النوع ہوتے تھے جو لوگوں کے لئے بظاہر المناک تھے، اور وہ اس کو گناہ سمجھتے تھے، چنانچہ انبیاء علیہم السلام خدا سے التجا کرتے تھے کہ یہ آثار لوگوں کی نظروں سے مخفی رہیں، تا کہ وہ ان [انبیاء] پر جرم عائد نہ کریں؛ جیسا کہ مکہ کے باشندے رسول اللہؐ کو جنگ پسند اور اپنی ریت روایات سے بےاعتنا سمجھتے تھے۔ لیکن صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے بعد، حقیقت ان کے لئے آشکار ہوئی، اور جیسا کہ موسی بن عمران کے بارے میں سورہ شعراء کی آیت 14 میں مذکور ہے کہ ""وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ"

[ شعراء–14] " حالانکہ اس قبطی شخص کا قتل گناہ نہیں تھا بلکہ وہ واقعہ ایک مظلوم کی مدد کا نتیجہ تھا؛ لیکن لوگوں کی نظر میں وہ ایک گناہ سمجھا جاتا تھا اور حضرت موسیؑ کا استغفار کا مقصود یہ تھا کہ یہ مسئلہ لوگوں کی نظر سے چھپا رہے تا کہ وہ انہیں مجرم نہ سمجھیں۔[98][99] سورہ اعراف کی آیت 129 ("قَالُواْ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِينَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا" [ اعراف–129] ) میں بھی ارشاد ہے کہ موسیؑ کی قوم انہیں اپنی اذیت کا سبب گردانتی تھی۔

انبیاء کا استغفار اور منصب نبوت

مذکورہ صورتوں کے علاوہ، بعض مواقع پر انبیاء کا استغفار، ان کے اعلی مقام و منزلت کے پیش نظر، یوں بیا ہوا ہے:

  • انبیاء بھی دوسرے انسانوں کی طرح، اپنی زندگی کے فطری احتیاجات کی خاطر، اپنے اوقات کا ایک حصہ مادی احتیاجات ـ جیسے خورد و نوش وغیرہ ـ پورے کرنے میں گذارنے پر مجبور تھے اور چونکہ وہ ان اوقات میں پروردگار کی ملکوت اعلی میں سیر کرنے سے محروم ہوجاتے تھے، اس کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرتے تھے۔[100][101][102]
  • انبیاء اپنے استغفار میں اللہ سے التجا کرتے تھے کہ اس کے سوا کسی اور ـ منجملہ فرشتے، وحی یا اپنے معنوی منازل و مدارج کی طرف توجہ نہ دیں؛ کیونکہ ان امور کی طرف توجہ اللہ کے حضور، اس کے مشاہدے کی راہ میں ایک قسم کا حجاب [اور رکاوٹ] سمجھی جاتی ہے۔[103]
  • چونکہ انبیاء ہر لمحے زیادہ اعلی مدارج و مقامات کی طرف حالت عروج میں ہوتے ہیں، ہر مرتبہ، سابقہ مرحلے سے کہيں زیادہ، استغفار کرتے ہیں۔[104][105][106]

مغفرت طلبی کی مذکورہ صورتیں، ائمۂ معصومین کے سلسلے میں صادق اور جاری ہیں، کیونکہ وہ بھی بہت زیادہ استغفار کرتے تھے؛ جیسے کہ دعائے کمیل میں حضرت علیؑ اور دعائے ابو حمزہ ثمالی میں امام سجادؑ کا استغفار۔[107]

اہل سنت کی رائے

انبیاء کی مغفرت طلبی، اہل سنت کے بعض علماء کی رائے میں، ـ جو حتی کہ ان کے لئے گناہان کبیرہ تک کو ممکن سمجھتے ہیں ـ گناہان کبیرہ کو گناہان صغیرہ میں بدلنے یا گناہان صغیرہ پر اصرار سے محفوظ رہنے کی التجا ہے۔[108]

ان میں سے بعض انبیاء کے لئے گناہان کبیرہ کے ارتکاب کی نفی کرتے ہوئے ان کے استغفار کو گناہان صغیرہ کی بخشش یا ان گناہوں کی مغفرت، گردانتے ہیں جن کا وہ بعثت بہ نبوت و رسالت سے قبل ارتکاب کرچکے ہیں۔[109] تا کہ یوں وہ خطاؤں کی تلافی کریں اور ان کے اعمال کا ثواب نہ گھٹنے پائے۔[110] بعض دوسروں نے ان کے استغفار کو ان سہوی گناہوں سے مغفرت طلبی قرار دیا ہے جو کہ ممکن ہے کہ ان سے سرزد ہوئے ہوں۔[111]

فرشتوں کا استغفار

سورہ شوری کی آیت 5،[112] اور سورہ غافر کی آیت 7،[113] کے مطابق، فرشتے اہل زمین کے لئے استغفار کرتے ہیں اور قرآن میں کہیں بھی ان کے اپنے لئے استغفار کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے۔

بعض لوگ اس کو فرشتوں کے ہر قسم کے گناہ سے طیب و طاہر ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں،[114][115] اور بعض دیگر اس کو رعایتِ ادب سمجھتے ہیں، جہاں دعا کنندہ اپنے آپ کو بھول کر دوسروں کو یاد کرتا ہے۔[116] لیکن یہ صورت خداوند متعال کی طرف سے اپنے رسول کو دیئے ہوئے فرمان سے ہمآہنگ نہیں ہے جہاں اپنے لئے استغفار کو دوسروں پر مقدم رکھا گیا ہے۔[117] مگر یہ کہ کہا جائے کہ مقصود، فرشتوں کا اپنے لئے استغفار کے بعد، دوسروں کے لئے استغفار ہے،[118] تاہم یہ توجہ بھی تقدیر اور حذف اور اصل و قاعدے اور ظاہر، کے خلاف ہے۔

مشرکین کے لئے استغفار سے ممانعت

"مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ" [ توبہ–113] ۔

سورہ توبہ کی آیت 113،[119] پیغمبر خداؐ اور مؤمنین کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے باز رکھتی ہے۔ یہ ممانعت، مشرکین کے لئے، اس لئے ہے کہ ان کے لئے استغفار بالکل بےاثر،[120] اور ان کے حق میں مغفرت چاہنا، بیہودہ اور مہمل ہے۔[121] بعض مفسرین نے مشرکین کے لئے استغفار کی ممانعت کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایمان اور اسلام کی طرف راغب ہونے والوں میں ایک قسم کی مَفسَدَت معرض وجود میں آتی ہے، کیونکہ مشرکین کے لئے استغفار کی قبولیت سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ مؤمنین مشرکین پر کسی قسم کی برتری نہیں رکھتے۔[122] ادھر استغفار، مشرکین کے ساتھ ایک قسم کا اظہار محبت اور اور ان کے ساتھ ایک قسم کا تعلق اور پیوند ہے، جس کے بہت سے پہلؤوں اور صورتوں سے باز رکھا گیا ہے۔[123]

ممنوعیت کی شان نزول

سورہ توبہ کی آیت 113 کی شان نزول کے سلسلے میں مروی ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ کیا آپؐ زمانۂ جاہلیت میں گذرے ان کے آباء و اجداد کے لئے دعائے مغفرت نہیں کریں گے؟ تو خداوند متعال نے یہ آیت کریمہ نازل کرکے ان کا جواب دیا اور فرمایا کہ رسول خداؐ اور مؤمنین کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں۔[124][125]

دوسری شان نزول میں ـ جو شیعہ اور اہل سنت کے مآخذ میں منقول ہے ـ بیان ہوا ہے کہ علیؑ نے ایک مسلمان کو اپنے مشرک ماں باپ کے لئے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا اور اس پر اعتراض کیا، اس نے کہا: تو پھر ابراہیمؑ نے کیوں اپنے مشرک والدین کے لئے خداوند متعال سے مغفرت طلب کی؟ علیؑ اس شخص کا سوال رسول خداؐ کو پہنچایا تو سورہ توبہ کی آیات 113 اور 114 نازل ہوئیں۔[126][127][128]

شان نزول کا ضعف

ایک شان نزول میں آیت 113 میں استغفار کی ممانعت کا تعلق ابوطالبؑ[129][130][131] یا آمنہ،[132][133][134] کے لئے رسول اللہؐ کے استغفار سے ہے حالانکہ محققین نے متعدد دلائل کے ذریعے اس شان نزول کو رد کردیا ہے:

حضرت ابراہیمؑ کا استغفار آزر کے لئے

قرآن کریم سورہ توبہ کی آیت 113 میں مشرکین کے لئے استغفار کی ممنوعیت کے کے بعد، آزر کے لئے ابراہیمؑ کے استغفار کا راز بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ مغفرت طلبی اس وقت سے تعلق رکھتی ہے جب ابراہیمؑ کو ـ ابھی ـ اس کے ایمان لانے کی امید تھی؛ چنانچہ خلیل الرحمن نے اس کو راہ راست پر لانے کے لئے اس کو استغفار کا وعدہ دیا اور اس وعدے کی وفا کی؛ لیکن جب خدا کے ساتھ اس کی دشمنی آشکار ہوئی، تو اس سے بیزاری کا اظہار کیا۔[156] اس سلسلے میں منقولہ روایات کا مضمون یہ ہے کہ ابراہیمؑ نے آزر کے لئے استغفار کو اس کے ایمان لانے سے مشروط کیا، اور جب اللہ کے ساتھ اس کی دشمنی آشکار ہوئی تو آپ نے اس سے برائت و بیزاری ظاہر کی۔[157][158][159][160][161]

حوالہ جات

  1. حمیری، نشوان بن سعید، شمس العلوم، ج8، ص4982۔
  2. ابن منظور، لسان العرب، ج 5، ص26۔
  3. ابن اثیر، النهایة فی غریب الحدیث و الأثر، ج 3، ص373۔
  4. راغب اصفہانی، مفردات، ص609۔
  5. اسکندرانی، کشف الاسرار، ج 2، ص46۔
  6. صقر، احمد، التحریرو التنویر، ج 4، ص92۔
  7. صقر، احمد، التحریرو التنویر، ج 4، ص92۔
  8. راغب اصفہانی، مفردات، ص609۔
  9. زمخشری، الکشاف، ج 2، ص402۔
  10. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج 15، ص158۔
  11. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، ج 2، ص714۔
  12. عبدالباقی، المعجم المفہرس، ص634، "غفر"۔
  13. وَقُولُواْ حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ [ سورہ بقرہ–آیت 58]
  14. وَقُولُواْ حِطَّةٌ وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ [ سورہ اعراف–آیت 161]
  15. کلینی، الکافی، ج2، ص504، ح2۔
  16. کلینی، الکافی، ج2، ص437۔
  17. عبدالباقی، المعجم المفهرس، ص634، "غفر"۔
  18. امیرالمؤمنین، نہج البلاغہ، خطبه 193۔
  19. خرمشاہی، المعجم الاحصائی، ج3، ص1058، "غفر"۔
  20. غافر، آیت7۔
  21. شوری، آیت5۔
  22. تفسیر نمونہ، ج2، ص463۔
  23. "... لِلَّذینَ اتَّقَوا... اَلَّذینَ یقولونَ رَبَّنا اِنَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا" [ آل عمران–16-15] ۔
  24. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج7، ص180۔
  25. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی ج2، ص574۔
  26. طوسی، تہذیب الاحکام، ج‏2، ص98۔
  27. طباطبائی یزدی، العروة الوثقی ج2، ص246۔
  28. نجفی، جواہر الکلام ج7، ص33۔
  29. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج7، ص181۔
  30. نجفی، جواہر الکلام ، ج4، ص289 و ص307 و ص323۔
  31. نجفی، جواہر الکلام ج12، ص131-132۔
  32. حر عاملی، وسائل الشیعۃ ج10، ص304۔
  33. نجفی، جواہر الکلام ج33، ص194-193۔
  34. مناسک حج امام خمینی، حاشیۂ مراجع عظام، مسئلہ 372 و مسئلہ 377۔
  35. نجفی، جواہر الکلام ج33، ص295۔
  36. نجفی، جواهر الکلام ج33، ص160-163۔
  37. نجفی، جواہر الکلام، ج22، ص72۔
  38. خوئی، مصباح الفقاہۃ، ج1، ص519-522۔
  39. [[سورہ توبہ|توبہ، آیت113۔
  40. نجفی، جواہر الکلام ج12، ص47-51۔
  41. امیرالمؤمنین، نہج البلاغہ، حکمت409۔
  42. ہاشمی رفسنجانی، دائرۃ المعارف قرآن کریم، ج3، ص170-171۔
  43. استغفار۔
  44. ہاشمی رفسنجانی، وہی ماخذ، ج3، ص134–135۔
  45. پژوهشکده باقرالعلوم۔
  46. الحویزی، نورالثقلین، ج5، ص38۔
  47. البحرانی، البرہان، ج5، ص65۔
  48. عبدالباقی، المعجم المفهرس، ص634، "غفر"۔
  49. "اَلصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالأَسْحَارِ" [ ؟؟] ترجمہ: جو صبر کرنے والے ہیں اور راست باز ہیں اور اطاعت گزار ہیں اور جو خیرات کرنے والے ہیں اور راتوں کو پچھلے پہر [بوقت سَحَر] مغفرت کی دعائیں کرنے والے ہیں|سورت=آل عمران آیت=17۔
  50. وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ [ ؟؟] ترجمہ:اور پچھلے پہروں کو [بوقت سَحَر] وہ طلب مغفرت کرتے تھے.سورت=ذاریات|آیت=18۔
  51. نجفی، جواہر الکلام، ج12، ص132۔
  52. نوح، آیات 10-12، ہود، آیت 52، اعراف، آیت 96، انفال آیت33۔
  53. وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (ترجمہ: اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان پر عذاب نازل کرے اس حالت میں کہ آپ ان کے درمیان ہیں اور نہ اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا ہے اس حالت میں کہ جب وہ معافی مانگ رہے ہوں) [ انفال–آیت 33] ۔
  54. مکارم، تفسیر نمونہ، ج7، ص154-155۔
  55. امیرالمؤمنین، نہج البلاغہ، حکمت 88۔
  56. فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً (ترجمہ: تو میں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے۔) [ نوح–10] ۔
  57. وَمَن يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّهَ يَجِدِ اللّهَ غَفُوراً رَّحِيماً (ترجمہ: اور جو برائی کرے یا خوداپنے اوپر ظلم کرے، پھراللہ سے بخشش کا طالب ہو تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا پائے گا، مہربان۔) [ نساء–110] ۔
  58. وَاسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ (ترجمہ: اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو، پھر اس کی بارگاہ کی طرف پلٹو [توبہ کرو]، یقینا میرا پروردگار مہربان ہے، [بندوں سے] بڑی محبت والا۔) [ ہود–90] ۔
  59. طبری، جامع البیان، ج5، ص371۔
  60. ابن فہد حلی، عدۃ الداعی، ص265۔
  61. فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً ﴿10﴾ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَاراً ﴿11﴾ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَاراً ﴿12﴾  (ترجمہ: تو میں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے ٭ تا کہ بھیج دے بادل کو تم پر برستا ہوا ٭ اور تمہیں مدد پہنچائے مال اور اولاد کے ساتھ اور قرار دے تمہارے لئے باغ اور قرار دے تمہارے لئے نہریں۔) [ نوح–10-11-12] ۔
  62. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان ج 10، ص543۔
  63. الفخر الرازی، التفسیر الکبیر، ج30، ص137۔
  64. طباطبائی، المیزان، ج10، ص300۔
  65. وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعاً حَسَناً إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ [ ہود–3] ۔
  66. القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج9، ص4۔
  67. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان ج 10، ص543۔
  68. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (ترجمہ: اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے یہاں [قربت] کے لیے ذریعہ ڈھونڈو [جس سے توسل کرو] اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تم دین و دنیا کی بہتری حاصل کرلو) [ مائدہ–35] ۔
  69. وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّاباً رَّحِيماً (ترجمہ: اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی پیغمبر، مگر اس کے لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب انہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی تھی تو آپ کے پاس آتے اور پھر اللہ سے بخشش کے طلبگار ہوتے اور پیغمبر ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے تو اللہ کو پاتے بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان۔) [ سورہ نساء–آیت 64] ۔
  70. فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ (ترجمہ: تو جانئے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں اور اپنے گناہ کے لئے استغفار کرتے رہئے اور با ایمان مردوں اور باایمان عورتوں کے لئے [مغفرت طلب کرتے رہئے]، اور اللہ جانتا ہے تم لوگوں [میں سے ہر ایک] کے انجام اور تمہاری جائے قرار کو۔) [ محمد–19] ۔
  71. رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (ترجمہ: ہمارے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو، اس دن کہ جب حساب قائم ہو گا۔) [ ابراہیم–41] ۔
  72. رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِناً وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَاراً (ترجمہ: اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور جو میرے گھر میں ایمان رکھتے ہوئے داخل ہو اور تمام با ایمان مردوں اور باایمان عورتوں کو اور ظالموں کے لئے سوا ہلاکت کے کسی بات میں اضافہ نہ کر۔) [ نوح–28] ۔
  73. قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (ترجمہ: انھوں نے [یعنی موسیؑ نے] کہا: پروردگار ! مجھے بخش دے اور میرے بھائی کو اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحیم ہے۔) [ اعراف–151] ۔
  74. ابراہیم، آیت 14، حشر، آیت10۔
  75. مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (ترجمہ: پیغمبر کو اور انہیں جو ایمان لائے ہیں، یہ حق نہیں کہ وہ دعائے مغفرت کریں مشرکوں کے لیے، چاہے وہ اقارب ہی کیوں نہ ہوں، بعد اس کے کہ ان پر ثابت ہو گیا وہ دوزخ والے ہیں) [ توبہ–113] ۔
  76. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص452۔
  77. قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ ﴿97﴾ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿98﴾  (ترجمہ: انہوں نے کہا اے ہمارے والد! ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے سفارش کیجئے، یقینا ہم خطا وار تھے ﴿97﴾ انھوں نے کہا میں تمہارے لیے پروردگار سے بخشش کی التجا کروں گا۔ یقینا وہ بخشنے والا ہے، بڑا مہربان ﴿98﴾) [ یوسف–آیات 97-98] ۔
  78. رَبَّنا فَاغفِر لَنا ذُنوبَنا [ آل عمران–193] ۔
  79. وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُواْ لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَكَانُواْ وَاللّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ﴿146﴾ وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿147﴾ (ترجمہ: اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو جو انہیں اللہ کی راہ میں مصائب پیش آئے، ان پر وہ سست نہ ہوئے اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ عاجزی سے کام لیا اور اللہ صبرو تحمل رکھنے والوں کو دوست رکھتاہے ﴿146﴾ اور نہیں تھا ان کا کوئی قول سوا اس کے کہ وہ کہا کرتے تھے، اے ہمارے پروردگار! ہماری خاطر بخش دے ہمارے گناہوں کو اور خود ہمارے معاملہ میں ہماری فضول کاری کو اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافر گروہ کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ﴿147﴾) [ سورہ آل عمران–آیات 147-146] ۔
  80. طباطبائی، المیزان، ج4، ص41۔
  81. طباطبائی، وہی ماخذ، ج6، ص368۔
  82. طباطبائی، وہی ماخذ، ج18، ص254۔
  83. القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج1، ص211-212۔
  84. طباطبائی، المیزان، ج6، ص367۔
  85. ص، آیت46؛ یوسف، آیت24؛ مریم، آیت51۔
  86. قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿82﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿83﴾ (ترجمہ: اس نے کہا تو قسم ہے تیرے عزت و جلال کی کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا ﴿82﴾ سوا تیرے خاص نکھارے ہوئے بندوں [مُخْلَصِينَ] کے ﴿83﴾۔) [ ص–آیات 82 و 83] ۔
  87. التوبة فی ضوء القرآن، ص194 و ص284 و ص303۔
  88. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج 28، ص61۔
  89. الآلوسی، روح المعانی، مج 14، ج 26، ص84۔
  90. مکارم، تفسیر نمونہ، ج 21، ص452۔
  91. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج 32، ص162۔
  92. الآلوسی، روح المعانی، مج 16، ج 30، ص463۔
  93. علم الہدی، تنزیہ الانبیاء، ص116۔
  94. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج32، ص162۔
  95. الآلوسی، روح المعانی، مج 16، ج 30 ص463۔
  96. صادقی تهرانی، الفرقان، ج 23، ص406۔
  97. رستگار جویباری، البصائر، ج30، ص227 236۔
  98. مکارم، تفسیر نمونہ، ج22، ص19 تا 21۔
  99. طباطبائی، المیزان، ج18، ص254۔
  100. جعفری تبریزی، تفسیر و نقد و تحلیل مثنوی، ج10، ص619۔
  101. الاربلی، کشف الغمه، ص47-48۔
  102. طباطبائی، المیزان، ج6، ص366۔
  103. موحدی، تفسیر موضوعی، ج11، ص160۔
  104. الآلوسی، روح المعانی، مج14، ج26، ص84۔
  105. الآلوسی، وہی ماخذ، مج16، ج30، ص463۔
  106. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج32، ص162۔
  107. طوسی، مصباح المتہجد، ص405، 584۔
  108. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج32، ص162۔
  109. اسکندرانی، کشف الاسرار، ج9، ص191۔
  110. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج32، ص162۔
  111. الآلوسی، روح المعانی، مج16، ج30، ص463۔
  112. ویستَغفِرونَ لِمَن فِي الاَرضِ [ شوری–5] ۔
  113. يَستَغفِرونَ لِلَّذينَ آمَنوا [ غافر–7] ۔
  114. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج27، ص146۔
  115. صادقی تہرانی، تفسیر الفرقان، ج23، ص406۔
  116. صادقی تہرانی، وہی ماخذ، ج23، ص406۔
  117. واستَغفِر لِذَنبِكَ ولِلمُؤمِنينَ [ محمد–19] 2ص۔
  118. صادقی تہرانی، وہی ماخذ، ج23، ص406۔
  119. "مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُواْ أُوْلِي قُرْبَى" [ توبہ–133] ۔
  120. (نساء، آیات48_116۔
  121. طباطبائی، المیزان، ج9، ص351۔
  122. صقر، احمد، التحریر والتنویر، ج11، ص44۔
  123. مکارم، نمونہ، ج8، ص155۔
  124. طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان ج5، ص115۔
  125. مکارم شیرازی، نمونہ، ج8، ص155۔
  126. الطبری، جامع البیان، مج7، ج11، ص60۔
  127. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج16، ص209۔
  128. العیاشی، تفسیر عیاشی، ج2، ص114۔
  129. الطبری، جامع البیان، مج7، ج11، ص56 57۔
  130. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج16، ص208۔
  131. القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج8، ص173۔
  132. زمخشری، الکشاف، ج2، ص315۔
  133. الفخر الرازی، التفسیر الکبیر، ج16، ص208۔
  134. السیوطی، الدرالمنثور، ج4، ص302۔
  135. الخوئی، معجم رجال الحدیث، ج9، ص138-145۔
  136. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج8، ص159۔
  137. الامینی النجفی، الغدیر، ج8، ص56۔
  138. زمخشری، الکشاف، ج2، ص315۔
  139. فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج16، ص208۔
  140. القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج8، ص173۔
  141. عبدہ، تفسیر المنار، ج11، ص57 58۔
  142. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج8، ص158۔
  143. فخر رازی، تفسیر الکبیر، ج16، ص208۔
  144. مکارم شیرازي، تفسیر نمونہ، ج8، ص157158۔
  145. الامینی النجفی، الغدیر، ج8، ص1011۔
  146. شوشتری، مجالس المؤمنین، ج1، ص163۔
  147. الشیخ المفید، اوائل المقالات، ص45 46۔
  148. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج14، ص71۔
  149. الجزری، اسنی المطالب، ص37۔
  150. الامینی النجفی، الغدیر، ج7، ص350 384۔
  151. الجزری، اسنی المطالب، ص33۔
  152. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج14، ص274۔
  153. کلینی، الکافی، ج1، ص448۔
  154. ابن براج، جواہر الفقہ، ص249۔
  155. بحار الانوار، ج35، ص110 و 156۔
  156. "وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ" [ ؟؟] ترجمہ: اور ابراہیم کا دعائے مغفرت کرنا اپنے باپ کے لیے نہ تھا مگر ایک وعدہ کی رو سے جو انہوں نے کیا تھا اس سے مگر جب ثابت ہو گیا ان پر کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے اظہار برات کر دیا، بلاشبہ ابراہیم غم خوار انسان تھے، تحمل سے کام لینے والے۔|سورت= توبہ|آیت=114۔
  157. الحویزی، نورالثقلین، ج2، ص274۔
  158. العیاشی، تفسیر عیاشی، ج2، ص114۔
  159. مجلسی، بحار الانوار، ج11، ص77۔
  160. مجلسی، وہی ماخذ، ج11، ص88۔
  161. مجلسی، وہی ماخذ، ج12، ص15۔

مآخذ

  • قرآن، اردو ترجمہ از سید علی نقی نقوی لکھنوی۔
  • نہج البلاغہ
  • آمال بنت صالح نصير، التوبۃ في ضوء القرآن الكريم، دارلاندلس الخضراء، جدۃ، 1419ھ ق۔
  • البحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن(5 جلد)، موسسہ بعثہ، قم۔
  • الكليني الرازي، ثقۃ الاسلام أبو جعفر محمد بن يعقوب بن اسحاق (المتوفى سنۃ 328- 329ھ ق) المحقق: على اكبر الغفاري، دار الكتب الاسلاميۃ تہران - الطبعۃ الثالثۃ 1388 ھ ق۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحار الانوار (111 جلد)،‌دار احیاء التراث العربی، بی‌جا۔
  • العياشي، محمد بن مسعود، تفسير العیاشی، تحقيق: ہاشم الرسولي المحلاتي، الطبع والنشر: المكتبۃ العلميۃ الاسلاميۃ طہران۔
  • الحمیری، نشوان بن سعید، شمس العلوم و دواء کلام العرب من الکلوم، جلد: 2 ، محقق:اریانی، مطہر بن علی، محقق:عبداللہ، یوسف محمد، محقق:عمری، حسین،‌دار الفکر، دمشق۔
  • خرمشاہی، ڈاکٹر بہاء الدین، المعجم الاحصائی، ج3۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، تفسیر راہنما(روشی نو در ارائہ مفاہیم موضوعات قرآن)، جلد: 20 ، حوزہ علمیہ قم، دفتر تبلیغات اسلامی۔ مرکز فرہنگ و معارف قرآن۔ جمعی از محققان، بوستان کتاب (انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم)، قم،  1386 ھ ش۔
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر؛ دایرہ المعارف قرآن کریم، تہیہ و تدوین مرکز فرہنگ و معارف قرآن، قم، بوستان کتاب، چاپ اول 1382ھ ش
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب (15 جلد)،‌دار الفکر للطباعۃ و النشر و التوزیع-دار صادر، بیروت۔
  • الأميني النجفي، عبدالحسين أحمد، الغدير في الكتاب والسنۃ والأدب، ناشر: الحاج حسن إيراني، دار الكتاب العربي بيروت - لبنان الطبعۃ الرابعۃ 1397ھ ق / 1977ع‍
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات ألفاظ القرآن،‌دار القلم، بیروت-دمشق۔
  • ابن اثیر، مبارک بن محمد، النہایۃ فی غریب الحدیث و الأثر (5 جلد)، موسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، قم1367ھ ش۔
  • اسکندرانی، محمد بن احمد، کشف الأسرار النورانیۃ القرآنیۃ (2 جلد)،‌دار الکتب العلمیہ، بیروت۔
  • رستگار جویباری، یعسوب الدین، تفسیر البصائر، محل نشر : قم، تاریخ نشر: 1382ھ ش
  • صقر، احمد، منہج الامام الطاہر بن عاشور فی تفسیر «التحریرو التنویر»، الدار المصریہ، قاہرہ۔
  • زیر نظر مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ(تفسیر و بررسی تازہ‌ای دربارہ قرآن مجید) (27 جلد)،‌دار الکتب الاسلامیہ، تہران 1380ھ ش۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف عن حقایق غوامص التنزیل و عیون الاقاویل فی وجوہ التاویل(4 جلد)،‌ دار الکتاب العربی، بیروت۔
  • الفخر الرازی، محمد فخرالدین بن عمر، تفسیر مفاتیح الغیب (المعروف بـ التفسیر الکبیر)، دارالفکر للطباعۃ والتوزیع، بیروت 1401 ہ‍ ق/ 1981ع‍
  • الطبراني، سليمان بن أحمد، التفسير الكبير تفسير القرآن الكريم، تحقيق: ہشام البدراني، الطبعۃ الأولى، دار الكتاب الثقافي، إربد- الأردن، 2008ع‍۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن(10 جلد)، ناصر خسرو، تہران، 1372ھ ش۔
  • الشيخ المفيد، محمد بن محمد، اوائل المقالات، دار المفيد للطباعۃ والنشر والتوزيع، الطبعۃ الثانيۃ، بيروت - لبنان، 1414ھ ق / 1993ع‍۔
  • حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین(5 جلد)، اسماعیلیان، قم۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، تفصیل وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسایل الشریعہ (30 جلد)، موسسہ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، قم۔
  • طباطبائی، محمدحسین، تفسیر المیزان(18 جلد)، بنیاد علمی و فکری علامہ طباطبائی، تہران - ایران۔
  • نجفی، محمدحسن بن باقر، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام(43 جلد)،‌دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1362ھ ق۔
  • فیض کاشانی، محمد بن شاہ مرتضی، تفسیر الصافی(5 جلد)، مکتبہ الصدر، تہران۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن (تفسیر طبری) (30 جلد)،‌دار المعرفہ، بیروت۔
  • آلوسی، محمود بن عبد اللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم(16 جلد)،‌دار الکتب العلمیہ، بیروت۔
  • سیوطی، عبد الرحمن بن ابی بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور(6 جلد)، کتابخانہ حضرت آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی(رہ)، قم۔
  • ابن فہد حلی، احمد بن محمد، عدۃ الداعی و نجاح الساعی،‌دار الکتاب الاسلامی، بیروت۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، آیین وہابیت(ویرایش اول)، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، قم، 1364ھ ش۔
  • حسینی نسب، رضا، شیعہ پاسخ می‌دہد، نشر مشعر، تہران1383ھ ش۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور(طبع جدید) (10 جلد)، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، تہران، 1388ھ ش۔
  • جعفری تبریزی، محمد تقی، تفسیر و نقد و تحلیل مثنوی جلال الدین محمد بلخی(جعفری) (15 جلد)، اسلامی، تہران1373ھ ش۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ (30 جلد)، فرہنگ اسلامی، قم - ایران۔
  • موحدی، عبد اللہ، تفسیر موضوعی قرآن، دفتر نشر معارف، قم - ایران۔
  • ابو حیان توحیدی، علی بن محمد، البصایر و الذخایر (10 جلد)،‌دار صادر، بیروت۔
  • الاربلي، على بن عيسى، كشف الغمۃ في معرفۃ الائمۃ، دار الاضواء بيروت – لبنان۔ الطبعۃ الثانيۃ، 1405ھ ق /‍ 1985ع‍۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، محقق، مصحح، موسوی خرسان، حسن، ج‏2، ص 98، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، 1407ھ ق۔
  • عبدہ، شیخ محمّد ؛ رشید رضا، محمّد، تفسیر المنار، قرن چہار۔
  • القرطبی، قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، المعروف بہ تفسیر قرطبی، مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، قم، 1387ھ ش۔
  • الخوئی، ابوالقاسم، مصباح الفقاہہ(موسوعۃ الإمام الخوئی)، موسسہ احیاء آثار الامام الخوئی قدس سرہ (موسسہ الخوئی الاسلامیہ)، قم۔
  • الخوئى، السيد ابو القاسم الموسوي، معجم رجال الحديث وتفصيل طبقات الرواۃ، الطبعۃ الخامسۃ، قم، إيران، 1413ھ ق / 1992ع‍۔
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد(2 جلد)، المکتبہ الاسلامیہ، تہران۔
  • علم الہدی، علی بن الحسین، تنزیہ الأنبیاء علیہم‌السلام‌، محقق فارس حسون کریم، مرکز العلوم و الثقافہ الاسلامیۃ، قم: بوستان کتاب، 1430ھ ق / 1387ھ ش۔
  • شوشتری، نور اللہ بن شریف الدین، مجالس المومنین (2 جلد)، اسلامیہ، تہران؛ 1377ھ ش۔
  • الجزری، محمد بن محمد، أسنی المطالب فی مناقب سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، محقق: امینی، محمد ہادی، جلد: 1 ، مکتبہ الإمام أمیر المؤمنین علیؑ العامہ، اصفہان۔
  • ابن براج، عبدالعزیز بن نحریر، جواہر الفقہ، موسسہ النشر الاسلامی التابعہ لجماعہ المدرسین بقم، قم۔
  • الطباطبائی الیزدی، السید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفۃ 1417ھ ق۔
  • امام خمینی، سید روح اللہ، مناسک حج، (با حواشی سایر مراجع تقلید و استفتائات جدید)، تہیہ و تنظیم: پژوہشکدہ حج و زیارت، گروہ فقہ و حقوق، ویرایش جدید، 1393ھ ش۔