منا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
منا کا جغرافیایی نقشہ

مِنا مشعر الحرام اور مکہ کے درمیان واقع ہے جہاں حجاج عید قربان کے دن صبح سے بارہ ذی الحجہ تک حج کے بعض اعمال بجاتے ہیں۔ منا میں انجام پانے والے اعمال میں: رمی جمرات، قربانی، حلق یا تقصیر، بیتوتہ وغیرہ شامل ہیں یہ سرزمین حرم کے احاطے میں شامل ہے۔

وجہ نامگذاری

اس سرزمین کو "منا" کہنے کی مختلف علتیں ذکر کی گئی ہیں؛ امام رضا(ع) کی ایک حدیث کے مطابق یہ نام جبرئیل کے کلام سے اخذ کیا گیا ہے جس میں جبرئیل نے حضرت ابراہیم(ع) سے مخاطب ہو کر کہا تھا: تَمَنَّ عَلَی رَبِّکَ مَا شِئْتَ [1] حضرت ابراہیم نے خداوند عام سے اپنے بیٹے کی قربانی کی بجای ایک گوسفند کو بھیجنے کی درخواست کی جسے قربانی کے عنوان سے ذبح کیا جاسکے تو خدا نے ان کی اس تمنا کو پورا فرمایا۔[2]

محل وقوع

"منا" مكہ اور مزدلفہ کے درمیان مسجد الحرام سے 7 کیلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس کی دوسری جانب منطقہ عزیزیہ کا سرنگ موجود ہے جہاں سے منا پیدل جا سکتے ہیں۔

سرزمین منا جو "وادی محسِّر" کو عبور کرنے کے بعد اس کا آغاز ہوتا ہے، تقریبا ۵/۳ کیلومیٹر پر محط دو پہاڑوں کے درمیان واقع ہے جن کا دوسرا سرا مکہ تک جا پہنچتا ہے۔ منا کے حدود اربعہ کو سائن بورڈز کے ذریعے مشخص کیا گیا ہے اور مکہ کی جانب سے "جمرہ عقبہ" منا کی آخری حدود میں شمار ہوتی ہے۔[3] یہ سرزمین حرم کے احاطے میں داخل ہے۔

وادی مُحَسِّر

اصل مضمون: وادی محسر

مُحَسِّر " مشعرالحرام" اور منا کے درمیان واقع ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی حصہ نہیں ہے۔ حُجاج مشعر الحرم میں توقف کرنے کے بعد اسی وادی سے گذر کر منا جاتے ہیں۔ احادیث کی روشنی میں اصحاب فیل اور ابرہہ کی فوج اسی وادی میں ہلاک ہوئے تھے.[4]

جمرات ثلاث

اصل مضمون: جمرات

دینی‌ اصطلاح میں جمرات یا جمرات ثلاث‌ تین مخصوص مقامات کے نام ہیں جو سرزمین مِنا میں واقع ہے جنہیں ستونوں کے ذریعے مشخص کیا گیا ہے اور حج کے دوران حجاج ان میں سے ہر ایک کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔

منا کی قربان گاہ

منا کی قربان گاہ پرانے زمانے میں "وادی محسِّر" کی جانب سے منا کی ابتداء میں واقع تھا۔شدہ بود کہ گویا چیزی از آن در منا نبود. سنہ ۱۴۲۰ ہجری میں قربان‌گاہ منا سے 500 میٹر کے فاصلے پر "مُعَیصم" نامی جگہے پر منتقل کیا گیا ہے۔ جہاں پر یہ قربان گاہ جدید وسائل سے مجہز دنیا کے مختلف ممالک کے حجاج کرام کیلئے خدمات فراہم کرتی ہے۔ لیکن پرانی حگہ پر بھی قربان گاہ کا ایک حصہ موجود ہے۔[5]

منا میں حج کے اعمال

حجاج کرام عید قربان کے دن طلوع آفتاب کے بعد مشعرالحرام سے منا میں داخل ہوتے ہیں جہاں پر جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے اور حلق یا تقصیر کے بعد قربانی کرتے ہیں۔ حلق یا تقصیر کے بعد بہت سارے محرمات احرام حاجی پر حلال ہو جاتی ہیں۔ حجاج کے اوپر واجب ہے گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کو بھی منا میں موجود رہے اور اگلے دن طلوع آفتاب سے غروب تک جمرات ثلاث کو کنکریاں ماریں۔ یہ اعمال ظہور اسلام سے پہلے بھی مرسوم تھے اور ان کی ابتداء حضرت ابراہیم کے زمانے سے ہوئی ہے۔[6]

چنانچہ اگر حجاج چاہے تو مذکورہ راتیں منا کی بجای مکہ میں بھی رہ سکتے ہیں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ پوری رات طلوع فجر تک عبادت میں مصروف رہے۔ بعض حجاج پر مذکورہ دو راتوں کے علاوہ تیرہویں ذی الحجہ کی رات بھی منا میں ٹہرنا اور اگلے دن جمرات ثلاث کو کنکریاں مارنا واجب ہے۔

منا میں عمارت بنانے کا حکم

منا کے حوالے سے مورد بحث فقہی مسائل میں سے ایک یہاں پر عمارتیں بنانا جائز ہونا اور نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں وہابی‌ کی طرف سے سعودیہ عربیہ پر قبضے سے پہلے منا میں مختلف عمارتیں موجود تھیں لیکن ان کے بعد کچھ مدت تک انہیں مسمار کیا گیا اور موجودہ دور تک "شیخ عبداللہ بن باز" وہاں پر کسی قسم کی کوئی عمارت بنانے کے مخالف تھے۔ سنہ ۱۴۱۸ ہجری قمری کے بعد وہاں پر فائر پروف خیمے نصب کئے جاتے ہیں جنہیں سالا سال وہیں پر رکھے جاتے ہیں۔[7]

منا کی تاریخی اہمیت

  • ظہور اسلام سے پہلے یہ سرزمین ایک ہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتی تھی۔
  • "وادی محسِّر" جو مزدلفہ اور منا کے درمیان واقع ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابرہہ کی فوج جو خانہ کعبہ کو مسمار کرنے آئی تہی اسی وادی میں "عذاب الہی" میں گرفتار ہوئے اور سب کے سب ہلاک ہو گئے۔
  • پیغمبر اکرم(ص) کی طرف سے مدینہ کے لوگوں کے ساتھ انجام پانے والے عہد و پیمان جو عقبہ اول اور عقبہ دوم کے نام سے معروف ہے اسی جگے پر منقعد ہوئی ہے۔
  • فتح مکہ کے موقع پر پیغمبر اکرم(ص) اسی جگہے پر تشریف فرما تھے اور منا میں مسجد خَیف کے مقام پر آپ نے تقریر فرمائی۔[8]
  • ہجرت کے نویں سال عید قربان کے دن حضرت علی(ع) کے توسط سے آیات برائت کی ابلاغ اسی مقام پر ہوئی تھی۔[9]

منا کے تاریخی مقامات

اسلام سے پہلے اور صدر اسلام میں یہاں پر کئی مساجد موجود تھیں جن میں سے اکثر تخریب ہو چکی ہیں جبکہ بعض اب بھی موجود ہیں۔ ان مساجد میں سب سے زیادہ معروف مسجد خَیف، مسجدُ البَیعَہ، مسجدُ الکَبْش(اَلنَّحْر)، مسجدُ الصَّفائِح اور مسجد الکوثر ہیں۔ [10]

حوالہ جات

  1. وسائل الشیعہ ج۱۶، ص۳۵۵
  2. عیون اخبار الرضا ج۲، ص۹۱
  3. آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۳۵-۴۰، رسول جعفریان
  4. تاریخ و آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۱۸۳
  5. حج و زیارت
  6. حج و زیارت
  7. حج و زیارت
  8. حج و زیارت
  9. البرہان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۷۳۰
  10. تاریخ و آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۱۸۷

مآخذ

  • تاریخ و آثار اسلامی مکہ و مدینہ، اصغر قائدان، نشر مشعر.
  • آثار اسلامی مکہ و مدینہ، رسول جعفریان.
  • عیون اخبار الرضا (علیہ‌السلام)، محمد بن علی الصدوق (م. ۳۸۱ ق.)، بہ کوشش و ترجمہ مستفید و غفاری، اول، تہران، نشر صدوق، ۱۳۷۲ش.
  • وسائل الشیعہ، محمد بن الحسن الحر العاملی (م. ۱۱۰۴ ق.)، اول، قم، مؤسسہ اہل البیت(علیہم السلام)، ۱۴۱۲ق.
  • البرہان فی تفسیر القرآن، سید ہاشم بحرانی (م. ۱۱۰۷ ق.)، اول، قم، مؤسسہ البعثۃ، ۱۴۱۵ق.