دعائے جوشن کبیر

ویکی شیعہ سے
دعائے جوشن کبیر
کوائف
موضوع:خدا کے اسماء اور صفات
مأثور/غیرمأثور:مأثور
صادرہ از:جبرئیل
راوی:امام سجادؑ نے امام حسینؑ سے، امام حسین نے امام علیؑ سے، امام علی نے پیغمبر اکرمؐ سے
شیعہ منابع:جنۃ الامانالبلد الامین
مونوگرافی:شرح الاسماء(ملا ہادی سبزواری)
مخصوص وقت:شب قدر
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین


دعا و مناجات

جوشن کبیر پیغمبر اکرمؐ سے منقول 100 فقروں پر مشتمل اللہ کی 1001 صفات کی حامل دعا ہے۔ اس دعا کو جبرائیل نے پیغمبر خداؐ کو کسی جنگ میں دشمن کے گزند سے محفوظ رہنے کے لئے تعلیم دی تھی۔

اس دعا کو کفعمی نے المصباح اور البلد الامین میں نقل کیا ہے اور علامہ مجلسی نے بحار الانوار اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں کفعمی سے نقل کیا ہے۔

احادیث میں اس دعا کی متعدد فضیلتیں ذکر ہوئی ہیں؛ جن میں اللہ کی امان میں ہونا ذکر ہوا ہے۔ بعض احادیث میں اس دعا کو کفن پر لکھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ علامہ مجلسی نے اپنی کتاب زاد المعاد میں بعض احادیث کے مطابق اس دعا کو شب قدر کے اعمال میں ذکر کیا ہے۔

جوشن کبیر شیعوں کے ہاں رائج اور مشہور دعاؤں میں سے ایک ہے جسے شب قدر میں اجتماعی صورت میں پڑھتے ہیں۔

دعائے جوشن کبیر کی بعض شرحیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں ملا ہادی سبزواری کی شرح الاسماء مشہور ہے۔

فضیلت اور اہمیت

جوشن کبیر شیعوں کے ہاں مشہور دعاؤں میں سے ایک ہے جسے شب قدر میں اجتماعی صورت میں مساجد اور مذہبی مقامات پر پڑھتے ہیں۔[1]

ایک روایت کے مطابق، جو بھی گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے اللہ تعالی اس کو محفوظ رکھتا ہے اور اس کو بہت زیادہ ثواب عطا کرتا ہے اور جو بھی اس کو اپنے کفن پر لکھ دے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے اور جو اس کو رمضان المبارک کی پہلی کو پڑھے اللہ اسے شب قدر کی فضیلت کا ادراک عطا فرماتا ہے اور جو اس کو رمضان کے مہینے میں تین مرتبہ پڑھے وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی حفظ و امان میں رہے گا، اس پر جنت واجب اور جہنم حرام ہوگا۔[2]

کتاب شرح الأسماء، أو، شرح دعاء الجوشن الکبیر؛ تألیف ملا ہادی سبزواری

امام حسینؑ سے منقول ہے کہ امام علیؑ نے انہیں اس دعا کو حفظ کرنے، آپ کے کفن پر لکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی وصیت کی۔[3]

شیعہ محدث علامہ مجلسی اپنی کتاب زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ بعض احادیث کے مطابق اس دعا کو شب قدر؛ 19، 21 اور 23ویں شب قدر کو پڑھنی چاہئے۔[4] شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں علامہ مجلسی کی پیروی کرتے ہوئے اسے شب قدر کے اعمال میں ذکر کیا ہے۔[5]

نزول کا واقعہ

امام سجادؑ اپنے والد ماجد امام حسینؑ سے اور آپؑ اپنے والد ماجد امام علیؑ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ایک جنگ (جنگ احد [6]) میں پیغمبر اکرمؐ بھاری زرہ پہنے ہوئے تھے، موسم اور زرہ کی گرمی آپؐ کے بدن کو اذیت پہنچا رہی تھی، اس اثناء جبرائیل نازل ہوئے اور آپؐ کو خداوند متعال کا سلام پہنچا کر عرض کیا: "اس زرہ کو اپنے بدن سے اتار دیں اور اس کے بجائے یہ دعا پڑھیں جو آپ کے لئے اور آپ کی امت کے لئے امان ہے"۔[7] اس دعا کو اسی بنا پر "جوشن کبیر" (بڑی زرہ) کا نام دیا گیا ہے۔

کفعمی نے جوشن کبیر کو المصباح اور[8] البلد الامین[9] میں نقل کیا ہے۔

دعائے جوشن کبیر کفعمی نے المصباح[10] اور البلد الامین[11] میں نقل کیا ہے۔ اور علامہ مجلسی نے بحار الانوار[12] میں جبکہ شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان[13] میں کفعمی سے نقل کیا ہے۔

جوشن کبیر کا فقرہ نمبر 28

یا عِمَادَ مَنْ لا عِمَادَ لَهُ یا سَنَدَ مَنْ لا سَنَدَ لَهُ یا ذُخْرَ مَنْ لا ذُخْرَ لَهُ یا حِرْزَ مَنْ لا حِرْزَ لَهُ یا غِیاثَ مَنْ لا غِیاثَ لَهُ یا فَخْرَ مَنْ لا فَخْرَ لَهُ یا عِزَّ مَنْ لا عِزَّ لَهُ یا مُعِینَ مَنْ لا مُعِینَ لَهُ یا أَنِیسَ مَنْ لا أَنِیسَ لَهُ یا أَمَانَ مَنْ لا أَمَانَ لَهُ ؛
ترجمہ: اے پشت پناہ اس کی جس کی کوئی پشت پناہ نہیں؛ اے سہارا اس کا جس کا کوئی سہارا نہیں؛ اے اثاثہ اس کا جس کا کوئی اثاثہ؛ اے پناہ اس کی جس کی کوئی پناہ نہیں؛ اے فریاد رس اس کا جس کا کوئی فریاد رس نہیں؛ اے فخر اس کا جس کا کوئی فخر نہیں ہے؛ اے عزت اس کی جس کی کوئی عزت نہیں؛ اے مددگار اس کا جس کا کوئی مددگار نہیں؛ اے ساتھی اس کا جس کا کوئی ساتھی نہیں؛ اے مددگار اس کا جس کا کوئی مددگار نہیں؛ اے ہم نشین جس کا کوئی ہم نشین نہیں؛ اے امان و پناہ جس کی کوئی امان و پناہ نہیں ہے۔

دعا کے مندرجات

جوشن کبیر کا فقرہ نمبر 52

ياسُرُورَ الْعارِفينَ، يامُنَى الْمُحِبّينَ، يا اَنيسَ الْمُريدينَ، يا حَبيبَ التَّوَّابينَ، يا رازِقَ الْمُقِلّينَ، يا رَجآءَ الْمُذْنِبينَ، يا قُرَّةَ عَيْنِ الْعابِدينَ، يا مُنَفِّسَ عَنِ الْمَكْرُوبينَ، يا مُفَرِّجَ عَنِ الْمَغْمُومينَ، يا اِلهَ الْأَوَّلينَ وَالْأخِرينَ؛
ترجمہ: اے عارفین کی شادمانی، اے محبین کی آرزو، اے مریدوں کے ہمدم، اے توبہ گاروں کے محبوب، اے ناداروں کے رازق، اے گناہگاروں کی امید، اے عبادت گزاروں کی آنکھوں کی روشنی، اے غمزدگان کا غم مٹانے والے، اے گذرنے والوں اور آنے والوں کے معبود۔

جوشن کبیر کا فقرہ نمبر 99

يا مَنْ لا يَشْغَلُهُ سَمْعٌ عَنْ سَمْعٍ، يا مَنْ لا يَمْنَعُهُ فِعْلٌ عَنْ فِعْلٍ، يا مَنْ لا يُلْهيهِ قَوْلٌ عَنْ قَوْلٍ، يا مَنْ لا يُغَلِّطُهُ سُؤالٌ عَنْ سُؤالٍ، يا مَنْ لا يَحْجُبُهُ شَىْ ءٌ عَنْ شَىْ ءٍ، يا مَنْ لا يُبْرِمُهُ اِلْحاحُ الْمُلِحّينَ، يا مَنْ هُوَ غايَةُ مُرادِ الْمُريدينَ، يا مَنْ هُوَ مُنْتَهى هِمَمِ الْعارِفينَ، يا مَنْ هُوَ مُنْتَهى طَلَبِ الطَّالِبينَ، يا مَنْ لا يَخْفى عَلَيْهِ ذَرَّةٌ فِى الْعالَمينَ؛
ترجمہ: اے وہ جسے ایک استماع دوسرے استماع سے باز نہیں رکھتی، اے وہ جس کے ایک فعل میں دوسرا فعل رکاوٹ نہیں بنتا، اے وہ ایک کلام اس کو دوسے کلام سے غافل نہیں کرتا، اے وہ جسے ایک درخواست دوسری درخواست کی نسبت اشتباہ میں نہیں ڈالتی، اے وہ جس کے لئے ایک چیز دوسری چیز کے سامنے حائل نہیں ہوتی، اے وہ جسے اصرار کرنے والوں کا اصرار تھکا نہیں دیتا، اے وہ جو تلاش کرنے والوں کی منتہائے آرزو ہے؛ اے وہ جو عارفوں کی ہمت کی نقطۂ انتہا ہے، اے وہ طلب کرنے والوں کی طلب کہ نقطۂ آخر ہے، اے وہ جو پوری کائنات میں ایک ذرہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔

یہ دعا 100 فقروں پر اور ہر فقرہ خدا کے 10 اسماء پر مشتمل ہے سوائے فقرہ نمبر 55 کے جس میں 11 نام مندرج ہیں؛ چنانچہ، یہ دعا خداوند متعال کے 1001 اسماء الہیہ پر مشتمل ہے۔[14] دعا کے ہر فقرے کے آخر میں ذیل کی دعا پڑھی جاتی ہے:

"سُبْحَانَك‏ يا لَا إِلَهَ‏ إِلَّا أَنْتَ‏ الْغَوْثَ‏ الْغَوْثَ‏ خَلِّصْنَا مِنَ‏ النَّارِ یا رَبِّ" کتاب بلد الامین ميں مروی ہے کہ ہر فقرے کا آغاز "بِسمِ اللهِ ۔۔۔" سے ہونا چاہئے اور ہر فقرے کے آخر میں یہ دعا پڑھی جائے: "سُبْحَانَك‏ يا لَا إِلَهَ‏ إِلَّا أَنْتَ‏ الْغَوْثَ‏ الْغَوْثَ‏ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَخَلِّصْنَا مِنَ النَّارِ یا رَبِّ یا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكرَامِ یا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

علامہ مجلسی کی کتاب زاد المعاد میں اس دعا کے ہر فقرے کے خواص بیان ہوئے ہیں؛ مثلا تیسرے فقرے کے خواص بتاتے ہوئے کہا گیا ہے: "لِطَلَبِ النُّصْرَةِ وَسَعَةِ الرِّزْق‏[15] چوبیسویں فقرے کے لئے کہا گیا ہے: لِتَنوِيرِ القُلُوبِ وَإُقالَةِ العَثَراتِ[16] اور سینتالیسویں فقرے کے لئے بیان ہوا ہے:"لِنُورَانِیةِ الْقَلْبِ وَالْعَین‏۔[17]

اس دعا میں اللہ کے اسمائے حسنی اور دوسری عبارات قرآن سے ماخوذ ہیں اور انہیں اس انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ مسجع اور موزون ہونے کے علاوہ، بیشتر فقروں میں اسماء اور صفات، آخری حروف کے لحاظ سے ہم شکل اور مشابہ ہیں۔[18]

بعض مکررہ صفات

خداوند متعال کی چھ صفات اس دعا میں دہرائی گئی ہیں:

  • "یا من لم یتخذ صاحبةً ولا ولداً" فقرہ نمبر 62 و 84؛
  • "یا نافع" فقرہ نمبر 9 و 32؛
  • "یا من هو بمن رجاه کریم" فقرہ نمبر 18 و 96؛
  • "یا من هو بمن عصاه حلیم" فقرہ نمبر 18 و 96؛
  • "یا من فضله عمیم" فقرہ نمبر 48 و 98؛
  • "یا انیس من لا انیس له" فقرہ نمبر 28 و 59۔

ممکن ہے کہ صفات خطاؤں اور تحریف و تصحیف کے نتیجے میں دہرائی گئی ہوں اور یہ خطا ابتدائی نسخہ نگاروں کے ہاتھوں انجام پائی ہے اور بعد کے نسخوں میں اس کو دہرایا گیا ہے۔

دعا کی ساختار پر ایک نظر

دعائے جوشن کبیر کی ابتدا اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ سے ہوتا ہے اور ہر تین بند جو اللہ کے نام اور صفات سے شروع ہوتے ہیں ان کے بعد اگلا بند پھر سے اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ... سے شروع ہوتا ہے یعنی اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ سے شروع ہونے والے اگلے بند تک تین بند کا فاصلہ ہے اور یہی سلسلہ پوری دعا میں جاری ہے صرف بند 44 میں جواللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ... سے شروع ہوتا ہے اور اسی عبارت سے شروع ہونے والے اگلے بند (بند نمبر49) تک 4 بند کا فاصلہ ہے اور اسی طرح بند نمبر 29 اور 32 کے مابین دو کا فاصلہ ہے جو اسی عبارت سے شروع ہوتے ہیں۔ اجتماعی طور پر 25 مرتبہ «اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ» کی عبارت اس دعا میں تکرار ہوئی ہے۔[19]

اس دعا کا بند نمبر 35 سب سے منفرد ہے کیونکہ اس میں اللہ کے جو دس نام ذکر ہوئے ہیں ہر پہلا نام دوسرے کے لئے موضوع بن گیا ہے۔یَا مَنْ هُوَ فِی عَهْدِهِ وَفِیٌّ، یَا مَنْ هُوَ فِی وَفَائِهِ قَوِیٌّ، یَا مَنْ هُوَ فِی قُوَّتِهِ عَلِیٌّ، یَا مَنْ هُوَ فِی عُلُوِّهِ قَرِیبٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی قُرْبِهِ لَطِیفٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی لُطْفِهِ شَرِیفٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی شَرَفِهِ عَزِیزٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی عِزِّهِ عَظِیمٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی عَظَمَتِهِ مَجِیدٌ، یَا مَنْ هُوَ فِی مَجْدِهِ حَمِیدٌ.[یادداشت 1]

شرحیں

شیعہ علماء نے دعائے جوشن کبیر پر شرحیں لکھی ہیں،[20] جن میں مشہورترین شرح ملا ہادی سبزواری کی ہے۔ اس شرح میں عرفانی اور فلسفی رنگ عنصر نمایاں ہے۔ یہ شرح دعا کے فقروں کی ترتیب کی بنیاد پر مرتب ہوئی ہے اور فارسی اور عربی اشعار سے بھی استشہاد کیا گیا ہے۔ شارح نے لغوی مباحث میں فیروز آبادی کی کتاب قاموس اللغہ سے بہت رجوع کیا ہے۔ انھوں نے بحث کے تقاضوں کے پیش نظر فلسفی، عرفانی اور کلامی مباحث بھی پیش کئے ہیں۔[21]

دعا کا متن اور ترجمہ

حوالہ جات

  1. اکبری بیرق، «جوشن کبیر»، دائرة المعارف بزرگ اسلامی.
  2. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج91، ص383 و 384؛ قمی، مفاتیح الجنان، اسوہ،‌ ص86.
  3. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج91، ص384؛ قمی، مفاتیح الجنان، اسوہ،‌ ص86.
  4. مجلسی، زاد المعاد، 1423ق، ص127.
  5. قمی، مفاتیح الجنان، اسوہ،‌ ص86 و 226.
  6. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج91، ص398.
  7. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج91، ص382-397.
  8. کفعمی، المصباح، ص247ـ260.
  9. البلد الامین، ص544 ـ 558.
  10. کفعمی، المصباح، 1321ش، ص247-260.
  11. کفعمی، البلد الامین، 1418ق، ص402-411.
  12. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج91، ص382-397.
  13. قمی، مفاتیح الجنان، اسوہ،‌ ص86.
  14. رجوع کریں: کفعمی، المصباح، ص247ـ 260۔
  15. ترجمہ: فتح و نصرت اور وسعت رزق کے لئے؛ مجلسی، زاد المعاد، ص430۔
  16. ترجمہ: قلوب کو نورانی کرنے اور لغزشوں کی بخشش کے لئے؛ وہی ماخذ، ص432۔
  17. ترجمہ: قلب اور آنکھوں کی روشنی کے لئے؛ وہی ماخذ، ص435۔
  18. کفعمی، المصباح، ص247ـ 260۔
  19. متن دعا
  20. رجوع کریں: آقابزرگ طہرانی، ج2، ص66- 67، ج5، ص287، ج13، ص247ـ248۔
  21. سبزواری، شرح الاسماء، ص33۔
  22. مترجم، سید حافظ ریاض نجفی، مفاتیج الجنان ترجمہ اردو۔

نوٹ

  1. اے وہ جو اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہے اے وہ جو اپنی وفا میں قوی ہے اے وہ جو اپنی قوت میں بلند ہے اے وہ جو اپنی بلندی میں قریب ہے اے وہ جو اپنے قرب میں مہربان ہے اے وہ جو اپنے لطف میں کریم ہے اے وہ جو اپنی کرم میں عزت دار ہے اے وہ جو اپنی عزت میں عظیم ہے اے وہ جو اپنی عظمت میں بلند مرتبہ ہے اے وہ جو اپنے مرتبے میں تعریف والا ہے۔

مآخذ

  • طہرانی، آقا بزرگ، الذریعة إلی تصانیف الشیعة.
  • سید ابن طاؤس، رضی الدین ابی القاسم علی بن موسی بن جعفر بن محمد الحسنی الحسینی، مہج الدعوات و منہج العبادات، بیروت، 1399ق.
  • سبزواری، ہادی بن مہدی، شرح الاسماء (شرح دعاء الجوشن الکبیر)، تہران، چاپ نجف قلی حبیبی، 1375 ش.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، البلد الامین و الدّرع الحصین، بیروت، چاپ علاء الدین اعلمی، 1418ق.
  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح، چاپ سنگی [تہران]، 1321، چاپ افست قم، 1405.
  • المجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، زاد المعاد- مفتاح الجنان، مترجم و شارح: علاء الدین الأعلمی، ناشر: مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، بیروت. لبنان 1423ھ‍/2003ع‍

بیرونی روابط