ماہ رمضان کی مستحب نمازیں

ویکی شیعہ سے

ماہ رمضان کی مستحب نمازوں سے مراد یومیہ نمازیں، یومیہ نوافل، نماز شب اور ہر مہینے میں پڑھی جانے والی مستحب نمازوں کے علاوہ ہیں جو صرف اسی مہینے کے ساتھ مختص ہیں۔ ان نمازوں میں سے بعض اس مہینے کی ہر رات میں پڑھی جاتی ہیں جبکہ بعض مخصوص دنوں یا راتوں کے ساتھ مختص ہیں۔ اس مہینے کی انیسویں، اکیسویں یا تیئیسویں راتیں شب قدر ہیں جن میں مخصوص نمازیں ہیں۔

ہزار رکعت نمازیں

ماہ رمضان کی مستحب نمازوں میں سے ایک، ہزار رکعتوں پر مشتمل نمازیں ہیں جنہیں دو دو رکعت اور فرادیٰ (بغیر جماعت کے) پڑھی جاتی ہیں؛ ان نمازوں کے طریقہ کار کے سلسلے میں علما کے مابین اختلاف نظر پایا جاتا ہے؛ البتہ ان کے پڑھنے کا مشہور طریقہ یہ ہے: پہلے دو عشروں کی ہر رات میں 20 رکعتیں نمازیں پڑھی جاتی ہیں جن میں سے 8 رکعتوں کو نماز مغرب کے بعد اور 12 رکعتوں کو نماز عشا کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ آخری عشرے میں 30 رکعتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں سے 8 رکعتوں کو نماز مغرب کے بعد جبکہ باقی رکعتوں کو نماز عشا کے بعد پڑھنی ہے۔ ان کی مجموعی تعداد 700 رکعتیں بنتی ہیں۔ باقی 300 رکعتوں میں سے ہر شب قدر 100 رکعت پڑھی جاتی ہیں۔[1]

ہر رات میں دو رکعت نمازیں

کتاب مفاتیح الجنان میں آیا ہے:[2] ماه رمضان کی ہر رات دو ركعت نماز پڑھنا مستحب ہے جس کی ہر ركعت میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید اور سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھی جاتی ہے:

سُبْحانَ مَنْ هُوَ حَفيظٌ لايَغْفُلُ سُبحانَ مَنْ هُوَ رَحيمٌ لايَعْجَلُ سُبْحانَ مَنْ هُوَ قاَّئِمٌ لايَسْهُو سُبْحانَ مَنْ هُوَ دائِمٌ لايَلْهُو (ترجمہ: پاک و منزہ ہے وہ خدا جو نگہبان ہے اور کبھی بھی غفلت کا شکار نہیں ہوتا، منزہ ہے وہ خدائے مہربان جو جلد بازی نہیں کرتا۔ منزہ ہے وہ خدا جو قائم ہے اور فراموشی کا شکار نہیں ہوتا اور منزہ ہے وہ خدا جو دائم ہے اور کسی چیز میں سرگرم نہیں ہوتا۔)

اس کے بعد تسبیحات اربعہ (سبحان الله و الحمدلله و لا اله الا الله و الله اکبر) کو سات مرتبہ پڑھا جائے پھر یہ دعا پڑھی جائے:

سُبْحانَكَ سُبْحانَكَ سُبْحانَكَ يا عَظيمُ اغْفِرْ لِىَ الذَّنْبَ الْعَظيمَ (ترجمہ: خدایا تو ہر عیب و نقص سے منزہ ہے، خدایا! میرے گناہان کبیرہ کو بخش دے۔)

اور آخر میں دس مرتبہ محمد و آل محمد پر صلوات بھیجی جائے۔ احادیث کے مطابق جو شخص اس نماز کو ماہ رمضان کی ہر رات پڑھے خدا اس کے ستر ہزار گناہ معاف کر دیتا ہے۔

ہر رات کی مخصوص نمازیں

اس مہینے کی ہر رات پڑھی جانے والی مخصوص نمازیں کتاب مفاتیح الجنان[3] میں یوں بیان ہوئی ہیں:

رات نماز اور اس کی کیفیت
پہلی چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ توحید
دوسری چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ قدر
تیسری دس رکعت، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید
چوتھی آٹھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ قدر
پانچویں دو رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید اور سلام پھیرنے کے بعد سو مرتبہ صلوات
چھٹی چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد سورہ تَبارَک الَّذی بِیدِہ الْمُلْک
ساتویں چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد تیرہ مرتبہ اِنّا اَنْزَلْناہ
آٹھویں دو رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید اور سلام کے بعد ہزار مرتبہ سُبْحانَ اللّہ
نویں مغرب اور عشاء کے درمیان چھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد سات مرتبہ آیۃ الکرسی اور سلام کے بعد پچاس مرتبہ صلوات
دسویں بیس رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ سورہ توحید
گیارہویں دو رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد بیس مرتبہ اِنّا اَعْطَیناک الْکوْثَرَ
بارہویں آٹھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ اِنّا اَنْزَلْناہ
تیرہویں چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد پچس مرتبہ سورہ توحید
چودہویں چھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد تیس مرتبہ اِذا زُلْزِلَتْ
پندرہویں چار رکعت، جس کی پہلی دو رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید اور دوسری دو رکعت میں حمد کے بعد پچاس مرتبہ سورہ توحید
سولہویں بارہ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد بارہ مرتبہ اَلْہیکمُ التَّکاثُرُ
سترہویں دو رکعت، جس پہلی رکعت میں حمد کے بعد کوئی بھی سورہ چاہے پڑھ سکتا ہے جبکہ دوسری رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید اور سلام کے بعد سو مرتبہ لا اِلهَ اِلا اللّهُ
اٹھارہویں چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد پچس مرتبہ اِنّا اَعْطَیناک الْکوْثَرَ
انیسویں پچاس رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ اِذا زُلْزِلَتْ
بیسویں آٹھ رکعت، کسی بھی سورہ کے ساتھ
اکیسویں آٹھ رکعت، کسی بھی سورہ کے ساتھ
بائیسویں آٹھ رکعت، کسی بھی سورہ کے ساتھ
تیئیسویں آٹھ رکعت، کسی بھی سورہ کے ساتھ
چوبیسویں آٹھ رکعت، کسی بھی سورہ کے ساتھ
پچیسویں آٹھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید
چھبیسویں آٹھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید
ستائیسویں چار رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد سورہ تَبارَک الَّذی بِیدِہ الْمُلْک ایک مرتبہ اگر یہ نہ پڑھ سکے تو پچس مرتبہ سورہ توحید
اٹھائیسویں چھ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد سو مرتبہ آیۃ الکرسی، سو مرتبہ سورہ توحید اور سو مرتبہ سورہ کوْثَرْ اور سلام کے بعد سو مرتبہ صلوات
انتیسویں دو رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ توحید
تیسویں بارہ رکعت، جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد بیس مرتبہ سورہ توحید

شبہائے قدر سے مختص نمازیں

شبہائے قدر میں دو رکعت نمازیں پڑھنا مستحب ہے۔ جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 7 مرتبہ سوری توحید پڑھے اور نماز ختم ہونے کے بعد 70 مرتبہ استغفار(استغفر اللہ و اتوب الیہ) کرے۔[4] حضرت محمدؐ سے منقول ہے کہ جو شخص اس نماز کو بجالائے گا اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ماں باپ کی مغفرت فرمائے گا۔[5] شیخ عباس قمی کے نقل کے مطابق شب قدر میں 100 رکعت نمازیں پڑھنا مستحب ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد بہتر یہ ہے کہ 10 مرتبہ سورہ اخلاص پڑھا جائے۔[6] امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ اکیسویں اور تئیسویں کی شب 100 رکعتیں نماز پڑھنا مستحب ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد 100 مرتبہ سورہ توحید پڑھنا مستحب ہے اور جو شخص اس نماز کو بجالائے اسے آتش جہنم سے نجات ملے گی، بہشت اس کے لیے واجب اور شفاعت کا مستحق ٹھہرے گا۔[7]

ماہ رمضان کی آخری رات کی نماز

حضرت محمدؐ سے منقول ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کی آخری رات میں 10رکعت نمازیں یوں بجالائے کہ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ حمد کے بعد 10 مرتبہ سورہ توحید پڑھے اور ہر رکوع اور سجدہ کے بعد 10 مرتبہ یہ دعا پڑھے: سُبْحانَ اللّٰهِ وَالحَمْدُ للّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ. جب نماز سے فارغ ہوں تو ایک ہزار مرتبہ استغفار کرے اور استغفار کے بعد سر کو سجدے میں رکھ کر یہ دعا پڑھے: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، يَا ذَا الجَلالِ وَالإِكرامِ، يَا رَحْمانَ الدُّنيا وَ الآخِرَةِ وَ رَحِيمَهُما، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، يَا إِلٰهَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، اغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صَلاتَنا وَصِيامَنا وَقِيامَنا. اے حی و قیوم ذات! اے عظمت و فضل اور محبت کے مالک، اے دنیا و آخرت کے عطا کرنے والے اور اے دنیا و آخرت دونوں وقتوں میں رحم کرنے والے، اے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے، اے اولین و آخرین کے معبود، ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری عبادات، روزوں اور قیام و قعود کو قبول فرما۔}} قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث بہ رسالت کیا، جبرائیل نے مجھے اسرافیل کے ذریعے اور اسرافیل نے اپنے پروردگار سے خبر دی کہ حالت سجدہ سے سر اٹھانے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ اس نماز کے بجالانے والے کو بخش دیتا ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کو قبول کرتا ہے اور اس کے سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. مفاتیح الجنان، اعمال شب‌های ماه رمضان، ذیل عمل شانزدهم، ص183 و 184.
  2. قمی، مفاتیح الجنان، دعائے افتتاح کے بعد، ص329.
  3. قمی، مفاتیح الجنان، تیسویں دن کے اعمال کے بعد، ص433.
  4. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، 1409ھ، ج1، ص186.
  5. ابن طاووس، اقبال الاعمال، 1409ھ، ج1، ص186.
  6. مفاتیح الجنان، اعمال مشترک شب‌های قدر، ص225.
  7. شیخ صدوق، فضائل الاشهر الثلاثة، 1396ھ، ص137.
  8. قمی، مفاتیح‌الجنان، اعمال شب آخر ماه رمضان.

مآخذ

  • سید بن طاووس، علی بن موسی بن جعفر، اقبال الاعمال،‌ تهران، دار الکتب الاسلامیه، 1409ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه، فضائل الاشهر الثلاثة، قم، کتاب فروشی داوری، چاپ اول، 1396ھ۔
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، قم، نشر اسوه۔
  • نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل‏، قم، مؤسسه آل البیت(ع)، چاپ اول، 1408ھ۔