دعائے جوشن صغیر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے جوشن صغیر ایک مفصل دعا ہے جس کو امام موسی کاظم(ع) سے نقل کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس دعا کی قرائت دشمن کے دفع ہوجانے اور بلاؤں اور آزمائشوں سے بچاؤ میں مؤثر ہے۔ دعائے جوشن صغیر ان ادعیہ اور اذکار میں سے ہے جن کی کتابت کفن کے اوپر، از روئے روایات، مستحب ہے۔

دعا کی سند

دعائے جوشن صغیر امام موسی کاظم(ع) سے نقل ہوئی ہے اور اس دعا کو سید ابن طاؤس نے مہج الدعوات میں،[1] کفعمی نے البلد الامین میں،[2] اور مجلسی نے بحارالانوار[3] اور زاد المعاد میں[4] نقل کیا ہے. البلد الامین میں کفعمی کے نسخے اور مہج الدعوات میں سید ابن طاؤس کے نسخے میں مختصر سا فرق ہے اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں جوشن صغیر کو کفعمی کی کتاب البلد الامین سے نقل کیا ہے۔[5]

جب شہید فخّ حسین بن علی نے عباسیوں کے خلاف قیام کیا اور بنو عباس کے گماشتوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، عباسی خلیفہ موسی الہادی نے خاندان رسول(ص) کے زعیم موسی بن جعفر(ع) کے قتل کا فیصلہ کیا۔ علی بن یقطین نے ایک خط کے ذریعے امام کاظم(ع) کو اس سرکاری فیصلے سے آگاہ کیا اور آپ(ع) نے وہ خط اپنے متعلقین اور پیروکاروں کو پڑھ کر سنایا اور فرمایا کہ "اس سلسلے میں تمہاری رائے کیا ہے؟"؛ سب نے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ آپ ظالم و ستمگر سے روپوش ہوجائیں اور اس کی دسترس سے دور ہوجائیں۔ امام(ع) مسکرائے اور کعب بن مالک کے ایک شعر سے تمثیل کرنے کے بعد فرمایا:ڈرو مت کیونکہ عراق سے موصولہ پہلے خط میں ہی موسی بن مہدی کی موت کی خبر آئے گی؛اور پھر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:میں نے دعائے جوشن صغیر پڑھنے کے نتیجے میں خواب میں اپنے جد امجد رسول اللہ(ص) کو دیکھا اور آپ(ص) نے مجھے دشمن کی ہلاکت کی بشارت دی۔[6]

مضامین و مندرجات

دعائے جوشن صغیر سے اقتباس:

"اَللّهُمَّ وَهذا مَقامُ عَبْدٍ ذَليلٍ اعْتَرَفَ لَكَ بِالتَّوْحيدِ وَاَقَرَّ عَلى نَفْسِهِ بِالتَّقْصيرِ فى اَداَّءِ حَقِّكَ وَشَهِدَ لَكَ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ عَلَيْهِ وَجَميلِ عادَتِكَ عِنْدَهُ واِحْسانِكَ اِلَيْهِ فَهَبْ لى يا اِلهى وَسَيِّدِى مِنْ فَضْلِكَ ما اُريدُهُ اِلى رَحْمَتِكَ واَتَّخِذُهُ سُلَّماً اَعْرُجُ فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ وَ امَنُ بِهِ مِنْ سَخَطِكَ بِعِزَّتِكَ وَطَوْلِكَ وَبِحَقِّ نَبِيِّكَ مَحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ
ابن طاؤوس، مهج الدعوات.

دعائے جوشن صغیر 19 فقروں پر مشتمل ہے جن کا آغاز "اِلهى كَمْ مِنْ"، "اِلهي وَكَمْ مِنْ"، "اِلهي وَسَيِّدي وَكَمْ مِنْ"، "مَوْلاىَ وَسَيِّدى وَكَمْ مِنْ" اور "سَيِّدِى وَمَوْلاىَ وَكَمْ مِنْ" جیسی عبارات سے ہوتا ہے اور صرف فقرہ نمبر 18 اور فقرہ نمبر 19 کا آغاز دوسرے جملوں سے ہوتا ہے۔ پہلے فقرے کے آخر سے لے کر تیرہویں فقرے تک نیز انیسویں فقرے کا اختتام "وَاجْعَلْنى لِنَعْماَّئِكَ مِنَ الشّاكِرينَ وَلاِلاَّئِكَ مِنَ الذّاكِرينَ" سے ہوتا ہے لیکن چودہویں سے سترہویں فقرے کا لاحقہ " وَارْحَمْنى بِرحْمَتِكَ يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ" اور اٹھارہویں فقرے کا لاحقہ "يا اَرْحَمَ الرّاحِمينَ" ہے۔

ان 19 میں سے ہر فقرے میں دنیا میں مؤمن فرد کی دنیاوی زندگی کی مشکلات اور سختیوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ آیا ہے اور ہر فقرے کے آخر میں دعا کنندہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ رسول اللہ(ص) اور اہل بیت(ع) پر درود و سلام بھیجے اور اس کو اللہ کے شکرگزاروں اور اس کی نعمتوں کے یاد کرنے والوں کے زمرے میں قرار دے۔

علماء کی رائے

محمد تقی مصباح یزدی کی رائے ہے کہ انسان کو دعائے جوشن صغیر کی قرائت کے ذریعے اللہ کی نعمتیں یاد آنے لگتی ہیں اور مناسب یہی ہے کہ ہر ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں ایک بار اس دعا کو پڑھا جائے۔ وہ کہتے ہیں:

بہترین اور مؤثرترین دعاؤں میں سے ایک ـ جس میں مکرر در مکرر اللہ کی نعمتوں کی یادآوری کرائی گئی ہے اور اکابرین نے اس کے دنیاوی اور معنوی اثرات پر تاکید کی ہے ـ دعائے جوشن صغیر ہے اور مناسب ہے کہ انسان اس دعائے شریفہ کو ہفتے میں ایک بار اور کم از کم مہینے میں ایک بار پڑھ لے تاکہ اس واسطے سے اس کو اللہ کی عظیم نعمتیں یاد آئیں جن سے کبھی انسان غافل ہوجاتا ہے۔[7]

قرائت کے اوقات

کتب میں اس دعا کی قرائت کے لئے کسی خاص وقت کا تعین نہیں ہوا ہے لیکن "یہ دعا دشمن کے دفع ہوجانے اور بلاؤں سے محفوظ رہنے میں مؤثر ہے"۔[8]

شرحیں

کفن پر کتابت مستحبّ

کفن پر پورے قرآن، دعائے جوشن کبیر اور دعائے جوشن صغیر لکھنا، مستحب ہے۔[10] ایک حدیث میں امام حسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ جوشن صغیر اور جوشن کبیر کو کفن پر لکھا جاسکتا ہے اور ناف سے نچلے حصے کو ڈھانپنے والے حصے پر نہ لکھا جائے کیونکہ اس صورت میں اس کے نجس ہونے کا احتمال ہے۔[11]

حوالہ جات

  1. ابن طاؤس، مهج الدعوات ومنهج العبادات، ص، 227 ـ 220۔
  2. کفعمی، البلد الأمين و الدرع الحصين، ص326 ـ 332۔
  3. مجلسی، بحارالانوار، ج91، ص319۔
  4. مجلسی، زاد المعاد، ص449ـ442۔
  5. قمی، مفاتیح الجنان، ص196ـ184۔
  6. رجوع کریں: مجلسی، بحارالانوار، ج 91، ص 319؛ قمی، مفاتیح الجنان، ص184۔
  7. مصباح یزدی، سجاده‌های سلوک، ج1، ص405ـ404۔
  8. صدر سید جوادی، دائرة المعارف تشیع، ج7، ص524۔
  9. آقا بزرگ تهرانی، الذریعة، ج13، ص247۔
  10. یزدی، عروة الوثقی، ج 2، ص 76۔
  11. مجلسی، محمدتقی، لوامع صاحبقرانى، ج‏2، ص230۔


مآخذ

  • محمد کاظم، یزدی، عروة الوثقی، ج 2، قم، جامعه مدرسین، 1417ھ‍
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، دار احیاء تراث عربی، بیروت، 1403ھ‍
  • ابن طاووس، على بن موسى‏، مهج الدعوات و منهج العبادات، دار الذخائر، قم، 1411ھ‍
  • كفعمى، ابراهيم بن على عاملى‏، البلد الأمين و الدرع الحصين، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات‏، بيروت‏، 1418ھ‍
  • صدر سید جوادی، احمد، دائره المعارف تشیع، تهران، جلد 7، نشر شهید سعید محبی، 1380ھ ش
  • آقا بزرگ تهرانی، الذریعه الی تصانیف الشیعه، جلد 13، بیروت، دارالاضواء، 1378ھ‍
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ق، 2003ع‍
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تهران، مرکز نشر فرهنگی رجاء، 1369ھ‍ ش
  • مجلسی، محمدتقی، لوامع صاحبقرانی مشهور به شرح فقیه، موسسه اسماعیلیان، قم، 1414ھ‍
  • مصباح، محمد تقی، سجاده‌های سلوک شرح مناجات‌های حضرت سجاد (ع)، ج1، انتشارات موسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی (ره)، قم، 1390ھ‍

بیرونی ربط