دعائے سحر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


دعائے سحر ان دعاؤں کا عنوان ہے جو رمضان کے دنوں کی صبح کے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں۔ ان دعاؤں میں مشہور ترین وہی دعا ہے جو امام رضا(ع) نے امام محمد باقر(ع) سے نقل کی ہے اور اس کا آغاز "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ بَهَائِكَ بِأَبْهَاهُ وَ كُلُّ بَهَائِكَ بَهِيٌّ" سے ہوتا ہے۔ یہ دعا شیخ عباس قمی کی مفاتیح الجنان میں ماہ مبارک رمضان کے اعمال کے ضمن میں دعائے ابو حمزہ ثمالی سے قبل منقول ہے[1] اور شیعیان اہل بیت رمضان المبارک میں صبح کے اوقات میں اس کی قرائت کا اہتمام کرتے ہیں۔ دعائے سحر پر متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں امام خمینی(رح) کی شرح دعائے سحر بھی شامل ہے۔ یہ دعا دعائے بہاء کے عنوان سے بھی مشہور ہے۔

سند

دعائے سحر ان دعاؤں کا عمومی عنوان ہے کہ ماہ رمضان کے صبح کے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں۔ مشہور ترین دعائے سحر یہی ہے جو امام رضا(ع) نے امام محمد باقر(ع) سے نقل کی ہے اور سید ابن طاؤس نے اقبال الاعمال میں[2] اس دعا کا سلسلۂ سند شیخ طوسی کے واسطے سے علی بن حسن بن فضال اور ابن ابی قرّہ تک پہنچایا ہے اور اس دعا کو ماہ مبارک رمضان کے اعمالِ سَحَر کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ نیز مجلسی نے بحار الانوار[3] اور زاد المعاد[4] میں اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان[5] میں دعائے سحر کو نقل کیا ہے۔

دعائے سحر کی منزلت

ایوب بن یقطین نے امام رضا(ع) کی خدمت میں ایک مکتوب روانہ کیا اور آپ(ع) سے درخواست کی اس دعا کی صحت بیان فرمائیں۔ امام(ع) نے انہیں لکھا:

ہاں! یہ ماہ رمضان کے صبح کے اوقات میں امام محمد باقر(ع) کی دعا ہے۔ میرے والد نے اپنے جد امجد امام محمد باقر(ع) سے نقل کیا کہ اللہ کا "اسم اعظم" اس دعا میں ہے، پس جب بھی دعا کرو، تو دعا کرنے میں بہت کوشش کرو، کیونکہ یہ خفیہ علم سے ہے اور اس کو نا اہلوں سے دور رکھو۔ منافقین، جھٹلانے والے، اور منکرین اس کے اہل نہیں ہیں اور یہ دعائے مباہلہ ہے}}۔[6]

قرائت کا وقت

جیسا کہ امام رضا(ع) کی مذکورہ حدیث[7] میں مذکور ہے، اس دعا کی قرائت کا وقت سحر کا وقت ہے اور شیعہ ماہ رمضان میں سحر کے وقت اس دعا کی قرائت کا اہتمام کرتے ہیں اور ایران کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی یہ دعا صبح کی اذان سے قبل نشر کی جاتی ہے۔

مضامین

دعائے سحر سے اقتباس:
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ عِزَّتِكَ بِأَعَزِّهَا وَ كُلُّ عِزَّتِكَ عَزِيزَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ مَشِيَّتِكَ بِأَمْضَاهَا وَ كُلُّ مَشِيَّتِكَ مَاضِيَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَشِيَّتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ قُدْرَتِكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي اسْتَطَلْتَ بِهَا عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ كُلُّ قُدْرَتِكَ مُسْتَطِيلَةٌ."

ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص345.

دعائے سحر 23 فقروں میں "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ" سے شروع ہوتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کے حسن و جمال، جلال و عظمت، نور، رحمت، کلام، کمال، اسماء، عزت، مشیت، قدرت، علم، قول، تقاضوں، شرف کے مراتب و مدارج، سلطنت، فرمانروائی، اعلی مقام، احسانِ قدیم، آیات، شان اور جبروت کے واسطے درخواست و التجا کی جاتی ہے اور بعدازاں عرض کیا جاتا ہے: "اے پروردگار! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں اس شیئے کے واسطے جس کے واسطے سے جب بھی التجا کروں تو قبول فرماتا ہے، پس اے معبود! میری دعا قبول فرما"۔ دعا کے آخر میں ہدایت کی گئی ہے کہ: "دعا کے بعد، جو بھی حاجت ہو خدا سے طلب کرو، اور یقین جانو کہ برآوردہ ہوگی"۔

شرحیں

دعائے سحر پر مختلف شرحیں لکھی گئی ہیں:

  • شرح دعائے سحر، بقلم: شیخ محمد صالح بن میرزا فضل اللہ مازندرانی حائری۔
  • شرح دعائے سحر، بقلم: محمد بن سلیمان تنکابنی۔
  • شرح دعائے سحر، بقلم: مولی ہدایت اللہ بن محمد حسین آشتیانی، بزبان فارسی۔[8]
  • شرح دعائے سحر، بقلم: امام خمینی۔
  • معارف الہی، بقلم: احمد زمردیان۔

بہائیوں کا ناجائز فائدہ

بہائیوں نے اس دعا کے بارے میں بعض تاویلیں کی ہیں جو شیعیان اہل بیت کے ہاں قابل قبول نہیں ہیں اور اسلامی تعلیمات سے ناسازگار ہیں۔[9]

دعا کا متن اور ترجمہ

دُعاءُ السَحَر


اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ بَهَائِكَ بِأَبْهَاهُ وَكُلُّ بَهَائِكَ بَهِيٌّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِبَهَائِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ جَمَالِكَ بِأَجْمَلِهِ وَكُلُّ جَمَالِكَ جَمِيلٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِجَمَالِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ جَلالِكَ بِأَجَلِّهِ وَكُلُّ جَلالِكَ جَلِيلٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِجَلالِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ عَظَمَتِكَ بِأَعْظَمِهَا وَكُلُّ عَظَمَتِكَ عَظِيمَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعَظَمَتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ نُورِكَ بِأَنْوَرِهِ وَكُلُّ نُورِكَ نَيِّرٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ رَحْمَتِكَ بِأَوْسَعِهَا وَكُلُّ رَحْمَتِكَ وَاسِعَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ كَلِمَاتِكَ بِأَتَمِّهَا وَكُلُّ كَلِمَاتِكَ تَامَّةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكَلِمَاتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ كَمَالِكَ بِأَكْمَلِهِ وَكُلُّ كَمَالِكَ كَامِلٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكَمَالِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ أَسْمَائِكَ بِأَكْبَرِهَا وَكُلُّ أَسْمَائِكَ كَبِيرَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَسْمَائِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ عِزَّتِكَ بِأَعَزِّهَا وَكُلُّ عِزَّتِكَ عَزِيزَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ مَشِيَّتِكَ بِأَمْضَاهَا وَكُلُّ مَشِيَّتِكَ مَاضِيَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَشِيَّتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ قُدْرَتِكَ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي اسْتَطَلْتَ بِهَا عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَكُلُّ قُدْرَتِكَ مُسْتَطِيلَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِقُدْرَتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ عِلْمِكَ بِأَنْفَذِهِ وَكُلُّ عِلْمِكَ نَافِذٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعِلْمِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ قَوْلِكَ بِأَرْضَاهُ وَكُلُّ قَوْلِكَ رَضِيٌّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِقَوْلِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ مَسَائِلِكَ بِأَحَبِّهَا إِلَيْكَ وَكُلُّهَا [وَكُلُّ مَسَائِلِكَ‏] إِلَيْكَ حَبِيبَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَسَائِلِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ شَرَفِكَ بِأَشْرَفِهِ وَكُلُّ شَرَفِكَ شَرِيفٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِشَرَفِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ سُلْطَانِكَ بِأَدْوَمِهِ وَكُلُّ سُلْطَانِكَ دَائِمٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِسُلْطَانِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ مُلْكِكَ بِأَفْخَرِهِ وَكُلُّ مُلْكِكَ فَاخِرٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمُلْكِكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ عُلُوِّكَ بِأَعْلاهُ وَكُلُّ عُلُوِّكَ عَالٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعُلُوِّكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ مَنِّكَ بِأَقْدَمِهِ وَكُلُّ مَنِّكَ قَدِيمٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَنِّكَ كُلِّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ آيَاتِكَ بِأَكْرَمِهَا وَكُلُّ آيَاتِكَ كَرِيمَةٌ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِآيَاتِكَ كُلِّهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَا أَنْتَ فِيهِ مِنَ الشَّأْنِ وَالْجَبَرُوتِ وَأَسْأَلُكَ بِكُلِّ شَأْنٍ وَحْدَهُ وَجَبَرُوتٍ وَحْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَا تُجِيبُنِي [بِهِ‏] حِينَ أَسْأَلُكَ فَأَجِبْنِي يَا اللَّهُ۔

مفاتیح الجنان


دُعائے سَحَر


اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری خوبصورتی کے خوبصورت ترین مرتبے کے واسطے، اور تیری ہر خوبصورتی بہت خوبصورت ہے، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری خوبصورتی کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے جمال کے اعلی ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے جمال کے تمام مراتب بہت جمیل ہیں، اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے جمال کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے جلال کے نمایاں ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے جلال کے تمام مراتب نمایاں ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے جلال کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے تیری عظمت کے اعلی ترین مرتبے کے واسطے، اور تیری عظمت کے تمام مراتب بہت عظیم ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عظمت کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نور کے نورانی ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے نور کے تمام مراتب بہت ہی نورانی ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نور کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے وسیع ترین مرتبے کے واسطے؛ اور تیری رحمت کے تمام مراتب بہت وسیع ہے، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کامل ترین کلمات کے واسطے، اور تیرے کلمات کے تمام مراتب کامل ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کلمات کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کمال کے تمام مراتب کے واسطے، اور تیرے کمال کے تمام مراتب کامل ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے کمال کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے اسماء کے سب سے بڑے مرتبے کے واسطے، اور تیرے اسماء کے تمام مراتب بہت بڑے ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے تمام تر اسماء کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت کے عزیز ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے عزت کے تمام مراتب بہت عزیز اور بڑے ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری عزت کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری مرضی اور ارادے کے نافذ ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے ارادے کے تمام مراتب نافذ ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ارادے کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری قدرت کے واسطے جس کے ذریعے تو ہر شیئے پر مسلط ہے، اور تیری تیری قدرت کے تمام مراتب تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری قدرت کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے علم کے نافذترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے علم کے تمام مراتب نافذ ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے علم کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے قول کے پسندیدہ ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے قول کے تمام مراتب بہت پسندیدہ ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے علم کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے ہاں محبوب ترین مسائل کے واسطے، اور وہ سب تیرے ہاں بہت محبوب ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے تمام مسائل کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے شرف کے اعلی ترین مراتب کے واسطے، اور تیرے شرف کے تمام مراتب بہت شریف ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے شرف کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری سلطنت کے بادوام ترین مرتبے کے واسطے، اور تیری سلطنت کے تمام مراتب دائمی ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری سلطنت کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری فرمانروائی کے باعث فخر ترین مرتبے کے واسطے، اور تیری فرمانروائی کے تمام مراتب باعث فخر ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری فرمانروائی کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری برتری کے بلندترین مرتبے کے واسطے، اور تیری برتری کے تمام مراتب بلند ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری برتری اور بلندی کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے احسان کے قدیم ترین مرتبے کے واسطے، اور تیرے احسان کے تمام مراتب بہت قدیمی ہیں، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے احسان کے تمام مراتب کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری آیات و نشانیوں میں بہترین و بزرگ ترین آیت و نشانی کے واسطے، اور تیری ہر آیت اور ہر نشانی بہت بزرگ ہے، اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر آیات اور نشانیوں کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں جاہ و جبروت اور شان و قدرت کے ان مراتب کے واسطے جن کا تو مالک ہے، اے معبود، اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری جاہ و عظمت کے تمام مراتب میں الگ الگ مرتبے کے واسطے، اور تیری عظمت اور جبروت کے تمام مراتب میں، الگ الگ مرتبے کے واسطے؛ اے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں ان اس شیئے کے واسطے جس کے واسطے جب بھی التجا کروں، تو قبول فرماتا ہے، پس اے معبود میری دعا قبول فرما۔

حوالہ جات

  1. قمی، مفاتیح الجنان، دعای سحر معروف، ص331۔
  2. ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص 345۔
  3. مجلسی، بحارالانوار، ج 95، ص 95ـ93۔
  4. مجلسی، زاد المعاد، ص 90 ـ 92۔
  5. قمی، مفاتیح‌الجنان، ص 334 ـ 331۔
  6. ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص 345
  7. ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص 345۔
  8. تهرانی، الذریعه، ج 13، ص 248۔
  9. صدر حاج سید جوادی، دائرة المعارف تشیع، ج7، ص 526۔


مآخذ

  • ابن طاؤس، اقبال الاعمال، بیروت، چاپ اعلمی، 1417ھ ق، 1996ع‍
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ھ ق، 2003ع‍
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، تهران، مرکز نشر فرهنگی رجاء، 1369ھ ش
  • آقا بزرگ تهرانی، الذریعه، جلد 13، بیروت، دارالاضواء، 1378ھ ق
  • طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتهجد، بیروت، چاپ علاءالدین‌ اعلمی‌، 1418ھ ق، 1998ع‍
  • کفعمی‌، ابراهیم ‌بن‌ علی‌، البلدالامین‌ و الدّرع‌ الحصین‌، بیروت‌: چاپ‌ علاءالدین‌ اعلمی‌، 1418ھ ق، 1997ع‍
  • کفعمی‌، ابراهیم ‌بن‌ علی‌، المصباح، بیروت، چاپ علاءالدین‌ اعلمی‌، 1414ھ ق، 1994ع‍
  • صدر سید جوادی، احمد، دائره المعارف تشیع، تهران، جلد 7، نشر شهید سعید محبی، 1380ھ ش

بیرونی روابط