امام رضا کی ولی عہدی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
امام رضا کی ولی عہدی
ضریح امام رضا.jpg
نام امام رضا
کنیت ابوالحسن (ثانی)۔
القاب رضا
مولد مدینہ
مسکن مدینہ، مرو
والد امام کاظم
والدہ تکتم
ازواج سبیکہ
اولاد امام محمد تقی علیہ السلام،محمد قانع، حسن، جعفر، ابراہیم، حسین ، عائشہ
وفات 30 صفر المظفر 203ہجری۔
مدفن مشہد
عمر 55 سال.
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


حضرت امام رضا کی ولی عہدی کا سکہ

امام رضا کی ولی عہدی سے مامون کا حضرت امام علی رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عہد بنانا مراد ہے۔مامون نے امام رضا علیہ السلام کو مدینے سے مرو بلا کر اپنی ولی عہدی کی پیشکش کی جسے امام نے قبول نہیں کیا لیکن مامون کے اصرار اور مجبور کرنے کی وجہ سے اس عہدے کو چند شرائط کے ساتھ قبول کر لیا ۔

مرو کی طرف دعوت

تاریخ کے ابتدائی مآخذوں میں مذکور ہے کہ امام رضا نے مدینے سے بصرہ کی جانب سفر شروع کیا[1]۔لیکن متاخر منبعوں میں آیا ہے کہ آپ شروع میں مکہ گئے[2] نیز امام محمد تقی آپ کے ہمراہ تھے۔امام نے خانۂ خدا کو خدا حافظ کیا پھر بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ بہرحال آپ کی بصرہ کی جانب روانگی کی تاریخ201 ق کے محرم 15 تاریخ کے قریب تھی۔

مامون کے دستور کے مطابق فضل بن سہل کا رشتے دار رجاء بن ضحاک امام رضا ؑ کو مدینہ سے خراسان لے کر آیا۔[3] شیخ مفید نے رجاء بن ضحاک کی بجائے جلودی کا نام ذکر کیا ہے ۔[4] مأمون نے ایسے راستے کا انتخاب کیا تھا کہ امام کو شیعہ نشین علاقوں سے نہ گزرنا پڑے کیونکہ اسے اسے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں شیعہ ان کے ساتھ نہ ہوجائیں اسی وجہ سے اس نے حکم دیا تھا کہ امام کو کوفے کے راستے سے نہ لایا جائے بلکہ انہیں بصرے، خوزستان، فارس اور نیشاپور کے راستے سے لایا جائے۔[5]

اطلس شیعہ کے مطابق حضرت امام رضا ؑ کو خراسان لائے جانے کا راستہ یہ تھا:: مدینہ، نقره، ہوسجہ، نباج، حفر ابوموسی، بصره، اہواز، بہبہان، اصطخر، ابرقوه، ده شیر (فراشاه)، یزد، خرانق، رباط پشت بام، نیشاپور، قدمگاه، ده سرخ، طوس، سرخس، مرو.[6]

اس راستے کا مستند ترین اور اہم ترین واقعہ آپ کا حدیث سلسلۃ الذہب کو بیان کرنا ہے ۔[7]

ولی عہدی کی پیشکش

مرو میں امام رضا(ع) مستقر ہونے کے بعد مامون کا ایک قاصد امام رضا(ع) کے پاس آیا اور تجویز دی کہ "میں اپنے آپ کو خلافت سے معزول کرتا ہوں اور خلافت کو آپ کے سپرد کرتا ہوں"، آپ اس سلسلے میں مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ امام(ع) نے سختی سے اس تجویز کی مخالفت کی۔ اس کے بعد مامون نے آپ سے درخواست کی کہ اس کی ولیعہدی قبول کریں اور یہ کہ وہ اپنے بعد خلافت آپ کے سپرد کرے! امام(ع) نے پھر بھی سخت مخالفت کی۔ اس کے بعد مامون نے امام(ع) کو اپنے گھر بلوایا جہاں آپ(ع) اور مامون کے علاوہ فضل بن سہل ذوالریاستین بھی موجود تھا؛ مامون نے کہا: میں مسلمانوں کے امور آپ کے سپرد کرنا چاہتا ہوں اور یہ ذمہ داری اپنے کندھوں سے اٹھانا چاہتا ہوں اور آپ کے کندھوں پر ڈالنا چاہتا ہوں۔

امام رضا(ع) نے جواب دیا: اے امیرالمؤمنین تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں، تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں! میں نے یہ ذمہ داری برداشت کرسکتا ہوں اور نہ ہی اس کی قوت رکھتا ہوں۔ مأمون نے کہا: میں اپنے بعد ولیعہدی کا عہدہ آپ کو سونپ دیتا ہوں۔ امام (ع) نے فرمایا: مجھے اس امر سے معاف رکھو۔

یہاں مامون نے دھمکی کے انداز میں امام(ع) سے کہا: عمر بن خطاب نے شورا کو چھ افراد میں قرار دیا جن میں سے آپ کے جدّ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب تھے۔ اور شرط لگائی کہ ان میں سے جو بھی مخالفت کرے اس کا سر قلم کیا جائے۔ کوئی چارہ نہيں ہے اس کے سوا کہ آپ میری تجویز قبول کریں، میں اس کے سوا کوئی اور راستہ اپنے سامنے نہيں پاتا۔

امام(ع) نے جواب دیا: پس میں قبول کرتا ہوں بشرطیکہ "نہ فرمان جاری کروں، نہ کسی کو روکوں، نہ حکم جاری کروں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کروں، کسی کا تقرر کروں نہ ہی کسی کو معزول کروں اور نہ ہی کسی کا منصب تبدیل کروں"۔ مأمون نے امام(ع) کی شرط قبول کرلی۔ [8]

یوں مامون نے روز دوشنبہ (سوموار) 7 رمضان سنہ 201ہجری اپنے ولی عہد کے طور پر امام رضا(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی اور لوگوں کو سیاہ لباس[9] پہننے کے بجائے سبز لباس پہننے پر آمادہ کیا۔[10]، کے بجائے سبز لباس پہننے پر آمادہ کرکے سبز پوش کردیا اور اطراف و اکناف کی طرف بھی احکامات بھجوائے اور امام رضا(ع) کے لئے لوگوں سے بیعت لی گئی اور آپ کا نام ہر منبروں پر خطبے پڑھوائے اور دینار و درہم پر آپ کا نام درج کروایا؛ اور کوئی بھی باقی نہ رہا جس نے سبز لباس نہ پہنا ہو سوائے اسماعیل بن جعفر بن سلیمان بن علی ہاشمی.[11]

مأمون نے خطباء اور شعراء کو دعوت دے کر امام رضا(ع) کی ولیعہدی کے سلسلے میں محفل جشن بپا کی۔ اس محفل میں موجود شعراء میں سے ایک دعبل بن علی خزاعی تھے جنہیں امام رضا(ع) نے انعام سے نوازا۔[12]

مأمون نے عیسی جلودی کو امام رضا(ع) کی بیعت کا فرمان دے کر مکہ روانہ کیا۔ مکہ اس وقت ابراہیم بن موسی بن جعفر کے زیر فرمان آچکا تھا جو خود لوگوں کو مامون کی طرف دعوت دے رہا تھا اور جب عیسی جلودی "سبز نعرہ"اور امام رضا(ع) کی بیعت کی دعوت لے کر مکہ میں وارد ہوا تو اہراہیم بن موسی بن جعفر نے اس کا خیر مقدم کیا اور اہلیان مکہ نے امام رضا(ع) کی بیعت کی اور سب نے سبز لباس زیب تن کیا۔[13]

حضرت امام رضا ؑ کی ولی عہدی کے سکے کی پشت

ولی عہدی کا تجزیہ

مأمون نے عراقِ عرب کی ولایت حسن بن سہل کو سونپ دی تھی اور خود مرو میں تعینات رہا۔ علویوں کی ایک جماعت نے خلافت کی لالچ میں عَلَمِ بغاوت بلند کیا اور چونکہ عراقی عوام حسن بن سہل سے ناراض تھے ایک بڑی جماعت نے علویوں کی بیعت کی اور ان کی اطاعت اختیار کی۔ مأمون نے یہ خبر سنی تو خوفزدہ ہوا اور فضل بن سہل ذو الریاستین سے صلاح مشورہ کیا اور فضل کی تجویز پر امام رضا(ع) کو ولی عہد کے طور پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ شاید اس روش سے سادات اور علویوں کو اطاعت گزاری پر آمادہ کرسکے۔[14]

ولیعہدی کا مسئلہ امام رضا(ع) کی سیاسی حیات میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ امام(ع) کی ولیعہدی کے واقعے کا جائزہ لینے کے لئے تاریخ اسلام، تاریخ خلفائے بنو امیہ نیز بنو عباس کے خلفاء کے بر سر اقتدار آنے کی کیفیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ امام رضا(ع) کی شہادت (سنہ 203ہجری) تک اسلامی خلافت کی سرزمینوں کی عمومی صورت حال کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے: اموی حکمران عام طور ظالم اور ستمگر تھے اور خلافت سے ان کا مقصد حکومت کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ صرف عمر بن عبدالعزیز کا رویہ باقی اموی حکمراوں سے کسی قدر مختلف تھا جس کا دور حکومت چندان طولانی نہ تھا۔ این خلفاء کے ظلم و ستم کی وجہ سے اموی حکومت کے خلاف ہر طرف سے بغاوتوں اور بلؤوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ زیادہ تر بغاوتوں کا رنگ مذہبی اور دینی تھا۔ مسلمین دین اسلام اور دینی احکام کے احیاء کے لئے اسلامی سرزمینوں میں رہنے والے دیگر آسمانی ادیان کے پیروکار عدل و مساوات کے نفاذ کے لئے خاندان علی(ع) ـ جنہیں "اہل بیت" کہا جاتا تھا ـ سے امید لگائے بیٹھے تھے۔ عباسیوں نے مسلمانوں کی اس امید کو اپنے مقاد میں استعمال کیا۔ بنو عباس نے ابتداء میں نعرہ لگایا کہ وہ مسلمانوں کو بنو امیہ کے شر سے سے چھڑانے کے لئے آئے ہیں اور انھوں نے اپنی تحریک کئی مراحل میں اہل بیت(ع) کے حق میں تبلیغ اور تشہیر کرکے آگے بڑھائی؛ جس کے چند نمونے درج ذیل ہیں:

  1. ابتدا میں بنو عباس کا علویوں کے حق میں دعوت دینا؛
  2. اہل بیت اور عترت کے حق ميں دعوت دینا؛
  3. آل محمد کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دعوت عام؛
  4. اپنے لئے میراثِ خلافت کا دعوی۔[15]

عباسیوں نے جب حیلہ گری اور فریبکاری کے ذریعے حکومت کو اپنے خاندان میں قائم کیا تو انھوں نے اپنے تمام وعدوں اور نویدوں کو پامال کردیا اور عوام الناس ـ بالخصوص علویوں کے ساتھ ـ بدسلوکی کا آغاز کیا اور ہر بہانے سے انہيں جہاں پایا آزار و اذیت کا نشانہ بنایا، قید کیا یا قتل کیا۔ عباسیوں نے اپنے بنی اعمام یعنی آل ابی طالب(ع) کے ساتھ جو بزدلانہ سلوک روا رکھا اس کی وجہ سے عوام الناس میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی اور اسی رو سے موجودہ نظام کے خلاف بھی بغاوتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مأمون کے زمانے میں سابقہ عباسی خلفاء سے کہیں زیادہ بلؤوں، بغاوتوں اور تحریکوں کو فروغ ملا۔ مأمون جان گیا کہ مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے منجملہ:

  1. علوی شورشوں کو خاموش کرنا؛
  2. علویوں سے عباسی حکومت کو تسلیم کروانا؛
  3. خاندان علوی سے عوام کی روز افزوں محبت اور معاشرے میں ان کے احترام کا خاتمہ کرنا؛ مسلمانوں کے دلوں سے اس محبت و احترام کی جڑیں اکھاڑ پھینکنا اور اس کے لئے ایسی روشیں بروئے کار لانا کہ علویوں کو خبر ہوئے بغیر انہیں عوام کے اندر بےقدر و قیمت کیا جائے۔ مأمون نے خاص طور پر کہا تھا کہ وہ امام رضا(ع) کو عوامی رائے عامہ میں خلافت کے لئے نااہل بنا پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

مأمون کو جب حمید بن مہران اور دوسرے عباسیوں کی طرف سے ملامت کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے کہا: "یہ مرد ہماری آنکھوں سے اوجھل تھا؛ وہ لوگوں کو اپنی جانب بلاتا تھا، اسی بنا پر ہم نے فیصلہ کیا کہ وہ ہمارا ولیعہد بنے تاک وہ ہر چند لوگوں کو اپنی جانب بلائے سب کچھ ہمارے حق میں تمام ہوجائے"۔[16]

امام رضا(ع) مأمون کے ارادوں سے واقف تھے چنانچہ آپ نے خود مأمون سے کہا: تم چاہتے ہو کہ لوگ کہنا شروع کریں کہ "علی بن موسی دنیا اور اقتدار کی طرف بےرغبت نہیں ہے بلکہ یہ دنیا ہے کہ اس کی طرف رغبت نہيں رکھتی؛ کیا تم نہيں دیکھتے کہ کس طرح اس نے اقتدار کی محبت میں ولیعہدی کا عہدہ قبول کیا ہے!"۔[17]
جب لوگوں نے امام(ع) سے ولی عہدی قبول کرنے کا سبب پوچھا تو آپ(ع) نے فرمایا: میں نے یہ عہدہ جبر و اکراہ کی بنا پر قبول کیا ہے۔[18]
امام(ع) نے ولیعہدی کا منصب سنبھالنے کے لئے جو شرطیں رکھ لیں وہ در حقیقت حکومت میں شرکت سے آپ کی بیزاری کے مترادف ہیں؛ کیونکہ امام(ع) نے فرمایا: میں ہرگز کسی کو کسی منصب پر متعین نہ کروں گا، کسی کو معزول نہ کروں گا، نہ کسی رسم و روایت کو توڑوں گا اور موجودہ حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لاؤں گا؛ صرف دور سے حکومت کے معاملے میں مشیر کا کردار ادا کروں گا۔ اس شرط سے معلوم ہوتا ہے کہ امام(ع) نے یہ عہدہ بامر مجبوری قبول کیا تھا۔
علاوہ ازیں بعض منابع میں منقول ہے کہ امام(ع) نے فرمایا: یہ عہدہ انتہا تک نہ پہنچ سکے گا۔
ولایت عہدی کی سند کی پشت پر امام(ع) کے تحریر کردہ فقروں کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام کو یہ سب کچھ ناپسند تھا اور آپ اس کے ناپسندیدہ انجام سے باخبر تھے۔
چنانچہ بہت تھوڑا عرصہ ہی گذرا تھا کہ بغداد میں عباسیوں نے مامون کے خلاف بغاوت کرکے ابراہیم بن مہدی کے ہاتھ پر بیعت کی؛ [مامون کے دھوکے میں آنے والے] علوی بھی سمجھ گئے کہ اس نے یہ کام ایمان کی رو سے انجام نہيں دیا تھا اور ایک بار پھر عباسیون کے خلاف تحریک شروع ہوئی چنانچہ مامون کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ امام رضا(ع) کو راستے سے ہٹا دے۔ [19]

حوالہ جات

  1. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۳، ص۱۷۶؛ کلینی، الکافی، ج ۲، ص ۴۰۷؛ ابن طقطقی، تاریخ فخری، ص ۳۰۰٫
  2. عرفان منش، جغرافیای تاریخی ہجرت امام رضا، ص۲۸
  3. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ۱۳۷۸، ج۲، ص۴۶۵.
  4. مفید، الارشاد، قم، ۱۴۲۸ق، ص۴۵۵.
  5. مطہری، مجموعہ آثار، ج۱۸، ص۱۲۴.
  6. جعفریان، حیات فکری سیاسی امامان شیعہ، ص۹۵.
  7. فضل اللہ، تحلیلی از زندگانی امام رضا، ص۱۳۳.
  8. مفید، الارشاد، صص 455-456.
  9. عباسی سلطنت کے آغاز سے ہی سیاہ لباس کو سرکاری لباس قرار دیا گیا تھا اور یہ سلسلہ مامون کے دور امام رضا(ع) کے ہاتھ پر ارکان حکومت کی بیعت تک جاری تھا جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ عباسی حکومت کی بنیاد رکھنے والے ایرانی سپہ سالار ابو مسلم خراسانی اور اس کے ساتھ سیاہ لباس پہنتے تھے جو یا تو رسول اللہ(ص) کے سیاہ پرچم کی تقلید کرتے ہوئے منتخب کیا گیا تھا یا پھر شہدائے اہل بیت(ع) کی عزاداری کی علامت تھا۔
  10. دائرة المعارف تشیع، ج 1، 1366، صص 440-439.
  11. یعقوبی، ایضا، ص 465.
  12. مفید، الارشاد، صص 458-459.
  13. یعقوبی، التاریخ، ص 466.
  14. دهخدا، لغت نامہ ج 8، 1377، ص 12109، مدخل "رضا"۔
  15. سید جعفر مرتضی حسینی عاملی، زندگی سیاسی ہشتمین امام، 1381، ص 20.
  16. صدوق، عیون اخبار الرضا(ع) ج 2، 1373، صص 309
  17. صدوق، عیون اخبار الرضا ج 2، 1373، صص 314-315.
  18. رجوع کریں: صدوق، عیون الاخبار ج 2، 1373، صص 309، 312-313۔
  19. زندگانی سیاسی ہشتمین امام، تالیف جعفر مرتضی حسینی عاملی، بحوالہ علی اکبر دہ خدا، لغتنامہ، (50 جلدی) ج 25، مدخل "رضا" صص 484 تا 486۔


مآخذ

  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ (علیہم السلام)، قم: انصاریان، ۱۳۸۱.
  • حسینی، جعفر مرتضی، زندگی سیاسی ہشتمین امام، ترجمہ سید خلیل خلیلیان، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۸۱.
  • دائرة المعارف تشیع، ج۱، تہران: بنیاد اسلامی، ۱۳۶۶.
  • دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ دہخدا، ج۸، چاپ دوم از دوره جدید، تہران: دانشگاه تہران، ۱۳۷۷.
  • صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، ترجمہ علی اکبر غفاری، ۲ جلد، تہران: نشر صدوق، ۱۳۷۳.
  • عرفان منش، جلیل، جغرافیای تاریخی هجرت امام رضا علیه‌السلام از مدینہ تا مرو، مشہد: آستان قدس رضوی، بنیاد پژوہشہای اسلامی، ۱۳۷۴.
  • فضل الله، محمدجواد، تحلیلی از زندگانی امام رضا(ع)، ترجمہ محمدصادق عارف، مشہد: آستان قدس رضوی، بنیاد پژوہشہای اسلامی، ۱۳۷۷.
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، ج۱۸، تہران: قم: صدرا، ۱۳۸۱.
  • المفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، قم: سعید بن جبیر، ۱۴۲۸ ق.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی ج۲، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸.