مسافر

ویکی شیعہ سے
(مسافر کا روزہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
توضیح المسائل2.png
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکٰوۃحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
طہارت کے احکام
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاص
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

مسافر اسلامی فقہ کے مطابق وہ ہے کہ جو شرعی وطن سے دور ہونے کی وجہ سے، اس کے بعض عبادی اعمال پر خاص احکام جاری ہوتے ہیں. شیعہ فقہ میں، مسافر اسے کہا جاتا ہے کہ کم از کم آٹھ فرسخ (٤٠ سے ٤٥ کلو میٹر کے درمیان) اپنے وطن سے دور ہو جائے. سورہ بقرہ کی آیت ١٨٤ اور سورہ نساء کی آیت ١٠١ اور اسی طرح روایات کے مطابق، یہ شخص بعض شرائط کی وجہ سے نماز قصر پڑھے اور روزہ نہ رکھے.

مسافر کون ہے

سورہ بقرہ کی آیت ١٨٤،روزے محدود دنوں میں تم پر واجب ہوئے ہیں اور جو بیمار یا مسافر ہو تو اتنے دن کسی اور زمانے میں روزہ رکھے اور سورہ نساء کی آیت ١٠١اور جب تم سفر کے لیے نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں سے کچھ کم کر دو، اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے، بے شک کافر تمہارے صریح دشمن ہیں یہ دونوں آیات جو شخص سفر کے لئے جاتا ہے اس کے لئے خاص احکام کو بیان کرتیں ہیں. ٣١٢ روایت دو کتاب وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں موجود ہیں کہ جو ان احکام کو بیان کرتی ہیں.

اسلامی فقہ میں مسافر اسے کہا جاتا ہے کہ جس کے اندر درج ذیل شرائط موجود ہوں:

  1. کم از کم آٹھ فرسخ (٤٠ سے ٤٥ کلو میٹر کے درمیان) اپنے وطن سے دور ہو جائے، یا چار فرسخ جائے اور چار فرسخ واپس آئے، اور اس دوران راستے میں کسی جگہ پر دس دن سے زیادہ اقامت نہ کرے.
  2. سفر شروع کرتے وقت آٹھ فرسخ جانے کا ارادہ کیا ہو.
  3. راستے کے دوران اپنا ارادہ ختم نہ کرے.
  4. آٹھ فرسخ سفر کے دوران اپنے وطن سے نہ گزرے اور نہ ہی کسی جگہ پر دس دن یا اس سے زیادہ رکے.
  5. حرام کام کے لئے سفر نہ کرے.
  6. صحرا نشین نہ ہوں جو ہر ایک شہر میں گردش کرتے ہیں.
  7. سفر اس کا حرفہ نہ ہو.

مسافر کی نماز

مسافر اپنی نماز کو قصر پڑھے، یعنی چار رکعت والی نماز کو دو رکعت پڑھے:

نماز مسافر کے احکام

  • مسافر نماز قصر پڑھنے کے لئے ضرور حد ترخص تک پہنچے.
  • جس مسافر نے دس دن ایک جگہ پر رکنے کا ارادہ کیا ہو، اگر دس دن سے زیادہ رک جائے، مثلاً ١٣ یا ١٥ دن رک جائے، جب تک سفر نہیں کیا اور اس جگہ سے نہیں گیا، نماز پوری پڑھے گا اور ضروری نہیں کہ دوبارہ دس دن رکنے کا ارادہ کرے.
  • اگر مسافر اپنی نماز وطن پر پہنچنے سے پہلے قصر پڑھے، تو ضروری نہیں کہ جب اپنے وطن پہنچے تو دوبارہ پوری نماز پڑھے لیکن اگر سفر کے دوران نماز نہ پڑھی تو ضروری ہے کہ پوری نماز پڑھے.
  • اگر کوئی نماز قضاء ہو جائے، تو اسی طرح سے اس کی قضاء بجا لائی جائے، یعنی اگر قصر پڑھنی تھی اور قضا ہو گئی تو قضا بھی قصر ہو گی اور اگر پوری ہو تو، قضا بھی پوری ہو گی.

اساتید اور طالب علموں کی نماز

طالب علموں کے نماز اور روزہ اور وہ افراد جن کے کام کی جگہ اور وطن کے درمیان مسافت شرعی سے زیادہ فاصلہ ہے ان کے لئے خاص احکام ہیں.

خاص دیدگاہ

محمد صادقی تہرانی عصر حاضر کے فقیہ، مسافر کی نماز کو قصر نہیں کہتے اور اس کے روزے کو بھی صحیح سمجھتے ہیں.[1]

مسافر کا روزہ

جو مسافر اپنی چار رکعت نماز کو سفر کے دوران دو رکعت پڑھتا ہے، وہ روزہ نہیں رکھ سکتا اور جو مسافر اپنی نماز کو پورا پڑھتا ہے (جیسے کہ جس شخص کا حرفہ سفر ہو یا کسی کا سفر معصیت رکھتا ہو) اسے سفر کے دوران روزہ رکھنا ہو گا.

روزے کے احکام

  • وہ مسافر جو اپنی نماز کو قصر پڑھے، اگر کوئی شخص ظہر سے پہلے اپنے شہر سے خارج ہو، تو حد ترخص کے بعد اپنے روزے کو افطار کر دے اور سفر ختم ہونے کے اس روزے کی قضا کرے. لیکن اگر ماہ رمضان میں مسافر اپنے سفر کا آغاز ظہر کے بعد کرے، تو افطار نہیں کر سکتا، بلکہ اس دن کے روزے کو پورا کرے.
  • اگر مسافر ظہر سے پہلے اپنے وطن یا ایسی جگہ جہاں پر دس دن سے زیادہ رکنا ہو پہنچ جائے، تو اس دن کا روزہ پورا کرے، البتہ اس شرط کے ساتھ کے اس سے پہلے کوئی ایسا کام انجام نہ دیا ہو جو روزے کو باطل کرنے کا سبب بنے. لیکن اگر مقصد تک پہنچنے سے پہلے، کوئی ایسا کام کیا ہو جو روزے کو باطل کرتا ہے (جیسے کھانا پینا وغیرہ) تو اس صورت میں اس دن کا روزہ پورا نہ کرے، بلکہ ماہ رمضان کے بعد اس کی قضا بجا لائے.
  • ماہ رمضان میں سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اگر روزے سے فرار کرنے کی نیت سے ہو تو مکروہ ہے.
  • اگر کوئی روزہ رکھنے کی نذر کرے اور اس کے لئے دن معین نہ کرے، تو ایسے روزے کو سفر کے دوران نہیں رکھ سکتا لیکن اگر معین کرے کہ فلان سفر کے دوران روزہ رکھنا ہے ، تو ضروری ہے کہ اس سفر کے دوران اس دن ہی روزہ رکھے جو معین کیا تھا اور اگر نذر کرے کہ اس خاص دن کو اگر مسافر ہو یا نہ ہو روزہ رکھے گا تو اگرچہ وہ دن سفر کے دوران ہو روزہ رکھے.
  • مسافر اپنی حاجت کے لئے، تین دن مدینہ میں مستحبی روزہ رکھ سکتا ہے.
  • اگر کوئی یہ نہ جانتا ہو کہ مسافر کا روزہ باطل ہے، اور وہ سفر کی حالت میں روزہ رکھ لے اور اگر دن کے دوران ہی مسئلے سے آگاہ ہو جائے تو اس کا روزہ باطل ہے لیکن اگر مغرب تک اسے مسئلے کا پتہ نہ چلے تو اس کا روزہ صحیح ہے.
  • اگر بھول جائے کہ مسافر ہے یا اگر یہ بھول جائے کہ مسافر کا روزہ باطل ہے اور سفر کے دوران روزہ رکھ لے، تو اس کا روزہ باطل ہے.
  • اگر مسافر ظہر کے بعد اپنے وطن یا ایسی جگہ پر جہاں دس دن سے زیادہ رکنا ہے پہنچ جائے، تو اس دن کا روزہ نہ رکھے.
  • اگر کوئی مسافر ہو یا کسی دوسرے عذر شرعی کی بناء پر روزہ نہیں رکھ سکتا تو ماہ رمضان میں دن کے وقت پیٹ بھر کر کھانا کھانا یا پانی پینا مکروہ ہے.

اہل سنت کی نظر

اہل سنت کے اکثر علماء، اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایاماً معدودات فَمن کانَ منکم مریضاً اَوْ عَلی سفر فَعِدةٌ مِنْ اَیام اُخَر و علی الّذین یطیقونَه فِدْیةٌ طَعامُ مسکین فمن تطوَّعَ خیراً فهو خیرٌ لَهُ، و اَنْ تَصُوموا خیرٌ لَکُمْ ان کنتم تَعْمَلُون[2]کہتے ہیں کہ مریض اور مسافر کے لئے جائز ہے کہ وہ روزہ افطار کریں اور نماز قصر کریں لیکن اس حکم میں مختار ہیں یعنی ضروری نہیں کہ ایسا کریں.

شیعہ اس جملے فَعِدّةٌ مِنْ اَیامٍ اُخَر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ سفر میں افطار کرنا ضروری ہے، اور یہ کہ روزے کے قضا دوسرے دنوں میں بجا لائی جائے، آیت میں یہ بیان ہوا ہے: اگر کوئی مریض یا مسافر ہو تو، کچھ اور دنوں میں (ماہ رمضان کے علاوہ) روزہ رکھے. اہل بیت(ع) کی روایات اور پیغمبر اکرم(ص) کے کچھ اصحاب جیسے عبدالرحمن بن عوف، عمر بن خطاب، عبداللہ بن عمر، ابوہریرہ اور عروہ بن زبیر کے مطابق سفر کے دوران روزہ رکھنا حرام ہے.[3]فَلَیسَ عَلیکُم جُناحٌ سورہ نساء کی آیت ١٠١ اور فَلا جُناحَ عَلَیهِ سورہ بقرہ کی آیت ١٥٨ سے جو چیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ سفر کے دوران نماز قصر پڑھنا واجب ہے نہ کہ جائز.


حوالہ جات

  1. بلاغ سایٹ
  2. بقره، ۱۸۴
  3. امیرخانی، احمد، آیات الاحکام، ج ۲، ص ۲۷۱