مسودہ:شق الصدر
شَقُّ الصدر یا شَقُّ صدر النبی بعض اسلامی منابع میں موجود ایک اصطلاح کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق، رسول اکرمؐ کے بچپنے میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں آپؐ کے سینہ مبارک چاک کر کے آپؐ کے قلب مبارک کو پاک صاف کیا گیا۔ یہ روایت اہل سنت کے متعدد مصادر میں نقل ہوئی ہے۔
اس واقعے کی تاریخی صحت اور اس کی تفسیر کے سلسلے میں کوئی متفقہ رائے نہیں پائی جاتی ہے۔ اہل سنت علماء کی ایک جماعت نے اسے قبول کیا ہے، جبکہ دوسرے ایک گروہ نے اس کی سند میں تردید کی ہے۔ علمائے شیعہ کی اکثریت نے اس روایت کو رد کیا ہے یا اسے علامتی اور تمثیلی انداز میں تفسیر کیا ہے۔ اس واقعے کی متضمن روایت کے مختلف نسخوں میں اختلاف، بعض کلامی اصولوں اور قرآنی تعلیمات سے عدم مطابقت، پیغمبرؐ کی عصمت سے متصادم ہونا اور بعض تاریخی گزارشات سے ہم آہنگ نہ ہونا، ان دلائل میں شامل ہیں جو اس واقعے کے قطعی ہونے میں شک و شبہ پیدا کرتے ہیں۔
اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ کو اسی روایت سے مربوط قرار دیا ہے؛ تاہم شیعہ مفسرین کی ایک جماعت اس تطبیق کو ناقص یا اطمینان بخش دلیل سے خالی قرار دیتی ہے۔
اہمیت اور پس منظر
شق الصدر سے مراد وہ واقعہ ہے جو حضرت محمدؐ کے بچپنے سے منسوب ہے، جس میں آپؐ کے سینہ کو چاک کر کے آپؐ کے قلب مبارک کو پاک صاف کیا گیا۔[1] یہ داستان اہل سنت کی سیرت اور حدیث کی کتب میں نقل ہوئی ہے۔[2] جن میں صحیح البُخاری،[3] صحیح مُسلم،[4] سُنَن تِرمِذی،[5] اور سُنَن نِسائی.[6] شامل ہیں۔ بعض منابع اس واقعہ کو پیغمبر خداؐ کے ارہاصات (بعثت رسول خداؐ سے پہلے پیش آنے والے خارق العادۃ واقعات) میں شمار کرتے ہیں۔[7]
مفسرین اہل سنت کی ایک جماعت نے سورہ انشراح کی پہلی آیت کو اسی شق الصدر کے واقعہ سے مربوط جانا ہے۔[8] لیکن پندرہویں صدی ہجری کے شیعہ مفسر ناصر مکارم شیرازی اس طرح کی تفسیر کو بلا دلیل قرار دیتے ہیں۔[9] بعض شیعہ محققین نے شق الصدر کی داستان کو اسرائیلیات میں شمار کیا ہے اور اسے پیغمبر اکرمؐ کی اعلیٰ شخصیت کے منافی قرار دیا ہے۔[10] نیز سنی مفسر محمد عبدہ بھی شق الصدر کی روایات کو قطعی نہیں سمجھتے اور ان کا خیال ہے کہ یہ روایات عقائد کے اثبات اور غیب پر ایمان لانے کے لیے مفید نہیں ہیں۔[11]
واقعہ کی تفصیل
اہل سنت کے منابع کے مطابق، پیغمبر خداؐ کے بچپنے میں دو فرشتے انسانی شکل میں آپؐ کے پاس آئے۔[12] انہوں نے آنحضرتؐ کا سینہ چاک کیا، آپؐ کے قلب کو نکالا[13] اور اسے پاک صاف کرنے کے بعد دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔[14] آپؐ کی دایہ (رضاعی والدہ) حلیمہ سعدیہ آپؐ کو ایک کاہن کے پاس لے گئی، جس نے خبردار کیا کہ محمدؐ آئندہ لوگوں کا دین بدل دیں گے۔[15]
بعض روایات کے مطابق، یہ واقعہ پیغمبر اکرمؐ کی حیات میں کئی بار پیش آیا، مثلاً تین سال کی عمر میں، دس سال کی عمر میں، بعثت کے وقت اور معراج کے موقع پر۔[16] بعض کا خیال ہے کہ پیغمبر خداؐ کے بچپنے میں انجام شدہ شق الصدر آنحضرتؐ کو بچپن کی صفات سے پاک کرنے کے لیے تھا، جبکہ بعثت اور معراج سے متعلق شق الصدر آپؐ کی خدا سے قربت میں اضافے کے لیے ہوا۔[17] ابن عاشور نے ان میں سے بعض روایتوں کو عالم خواب سے متعلق قرار دیا ہے۔[18]
شیعہ منابع میں اسی نوعیت کا ایک واقعہ
شیعہ منابع میں اس واقعہ کی روایت مختلف ہے: ابن شہر آشوب نے کتاب المناقب میں نقل کیا ہے کہ پیغمبرؐ حلیمہ سعدیہ کے بچوں کے ساتھ صحرا گئے، وہاں فرشتوں نے آپ کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نہلایا اور پاک و صاف کیا۔ حلیمہ جب محمدؐ سے ملیں تو انہوں نے آپؐ سے ایک نور ساطع ہوتے دیکھا اور مُشک کی خوشبو محسوس کی۔[19] شیعہ مورخ سید ہاشم رسولی محلاتی کے مطابق، یہ روایت دوسرے منابع میں موجود کئ قسم کے اعتراضات سے خالی ہیں۔[20]
شق الصدر کے بارے میں اسلامی مذاہب کا نقطہ نظر
علمائے شیعہ کی اکثریت نے شق الصدر کے واقعہ کو رد کیا ہے۔[21] کتاب الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم کے مصنف سید جعفر مرتضی عاملی اسے ایک افسانوی داستان اور دور جاہلیت کی کہانیوں سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔[22] تاہم، شیعہ علماء کی ایک اور جماعت جیسے سید محمد حسین طباطبائی اور ناصر مکارم شیرازی اس واقعہ کو علامتی اور تمثیلی گردانتے ہوئے[23] کہتے ہیں کہ یہ پیغمبرؐ کی روحانی تقویت اور اخلاقی پاکیزگی کو ظاہر کرتا ہے جو اللہ کی مدد سے حاصل ہوئی۔[24] [25]
اس کے برعکس، اہل سنت کے زیادہ تر علماء نے اس واقعہ کو قبول کیا ہے۔[21] اگرچہ ان میں سے بعض نے اس کی صحت پر شک کیا ہے۔[26] ابن حَجَر عسقلانی کا بھی خیال ہے کہ روایت کو اس کے ظاہری معنی پر ہی سمجھنا چاہیے اور اس کی تاویل کرنا درست نہیں ہے۔[27]
نقد و جرح
شق الصدر کے واقعے پر شیعہ اور سنی دونوں علماء نے نقد کیا ہے۔[28] ان میں سے بعض تنقیدی نکات درج ذیل ہیں:
- قرآنی تعلیمات کے ساتھ تضاد: محمود ابو رَیّہ کے مطابق، قرآن پیغمبر خداؐ کو شیطان کے مقابلے میں ایک ناقابل تسخیر شخصیت قرار دیتا ہے اور شق الصدر کا واقعہ اس قرآنی بیان سے ہم آہنگ نہیں ہے۔[29]
- پیغمبرؐ کی عصمت سے متصادم: یہ واقعہ پیغمبر کی عصمت کے عقیدے سے ٹکراتا ہے۔[30]
- اختیار کی محدودیت: اس واقعے سے پیغمبر کے گناہوں سے بچنے کے اختیار پر پابندی اور انہیں غیر حرام کاموں پر مجبور کرنے کا پہلو نکلتا ہے۔[31]
- روایات کی تفصیل میں اختلاف: واقعے کی تفصیلات کا باہمی اختلاف۔[25] تاہم شیعہ محقق سید ہاشم معروف الحسنی کا خیال ہے کہ یہ اختلاف خود واقعہ کے انکار کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ معجزات اکثر انسانی عقل کے ادراک سے بالاتر ہوتے ہیں۔[32]
- روحانی مقام کا ظاہری دھونے اور صفائی سے بے ربط ہونا۔[33]
- بعض تاریخی بیانات سے عدم مطابقت۔[34]
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
- ↑ فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج32، ص205؛ بوطی، فقہ السیرہ، دار الفکر، ص40۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، 1426ھ، ج2، ص165۔
- ↑ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج1، ص78؛ ج2، ص156؛ ج4، ص135؛ ج5، ص52۔
- ↑ حجاج بن مسلم، صحیح مسلم، دار احیاء التراث العربی، ج1، ص147۔
- ↑ ترمذی، سنن الترمذی، 1395ھ، ج5، ص442۔
- ↑ نسائی، سنن النسائی، 1406ھ، ج1، ص217۔
- ↑ فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج32، ص205؛ بوطی، فقہ السیرہ، دار الفکر، ص40۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج32، ص205؛ ابنکثیر، تفسیر القرآن العظیم، 1419ھ، ج8، ص415؛ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج15، ص386۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج27، ص123۔
- ↑ کربلایی پازوکی، «سرگذشت شق صدر النبی از پندار تا حقیقت»، ص113۔
- ↑ رشیدرضا، تفسیر القرآن الحکیم، 1414ھ، ج3، ص292۔
- ↑ ابناسحاق، کتاب السیر و المغازی، 1398ھ، ص51۔
- ↑ ابناسحاق، کتاب السیر و المغازی، 1398ھ، ص51۔
- ↑ ابناسحاق، کتاب السیر و المغازی، 1398ھ، ص51۔
- ↑ طبری، تاریخ الامم و الملوک، دار التراث، ج2، ص163۔
- ↑ ابوریہ، اضواء علی السنۃ المحمدیہ، 1994ء، ص160۔
- ↑ طہطاوی، نہایۃ الایجاز، 2006ء، ص56۔
- ↑ ابنعاشور، التحریر و التنویر، مؤسسۃ التاریخ، ج30، ص361۔
- ↑ ابنشہرآشوب، مناقب آل ابیطالب(ع)، 1379ھ، ج1، ص33۔
- ↑ رسولی محلاتی، درسہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، 1371شمسی، ج1، ص202۔
- ↑ 21.0 21.1 کربلایی پازوکی، «سرگذشت شق صدر النبی از پندار تا حقیقت»، ص115۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، 1426ھ، ج2، ص171۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج13، ص23؛ و ج20، ص317؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج27، ص123۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج27، ص123۔
- ↑ 25.0 25.1 رسولی محلاتی، درسہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، 1371شمسی، ج1، ص194-195۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابوریہ، اضواء علی السنۃ المحمدیہ، 1994ء، ص158-161؛ غزالی، فقہ السیرہ، 1427ھ، ص65-66؛ ہیکل، حیاۃ محمد، 1428ھ، ص142۔
- ↑ عسقلانی، فتح الباری، 1959ء، ج7، ص205۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابوریہ، اضواء علی السنۃ المحمدیہ، 1994ء، ص158-161؛ غزالی، فقہ السیرہ، 1427ھ، ص65-66؛ ہیکل، حیاۃ محمد، 1428ھ، ص142۔
- ↑ ابوریہ، اضواء علی السنۃ المحمدیہ، 1994ء، ص161۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج6، ص609۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، 1426ھ، ج2، ص169۔
- ↑ حسنی، سیرۃ المصطفی، 1416ھ، ص45۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، 1426ھ، ج2، ص168۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم (ص)، 1426ق، ج2، ص165۔
مآخذ
- آلوسی، محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1415ھ۔
- ابوریہ، محمود، اضواء علی السنۃ المحمدیہ، قاہرہ، دار المعارف، 1994ء۔
- ابناسحاق، محمد، کتاب السیر و المغازی، بیروت، دار الفکر، 1398ھ۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب(ع)، قم، علامہ، 1379ھ۔
- ابنعاشور، محمد بن طاہر، التحریر و التنویر، بیروت، مؤسسۃ التاریخ، بیتا۔
- ابنکثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1419ھ۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، دار طوق النجاۃ، 1422ھ۔
- بوطی، محمد سعید رمضان، فقہ السیرۃ دراسات منہجیۃ علمیۃ لسیرۃ المصطفی علیہ السلام و ما تنطوی علیہ من عظات و مبادی و احکام، بیروت، دار الفکر، بیتا.
- ترمذی، محمد بن عیسی، سنن الترمذی، مصر، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی، 1395ھ۔
- حجاج بن مسلم، مسلم، صحیح مسلم، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا۔
- حسنی، ہاشم معروف، سیرۃ المصطفی، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1416ھ۔
- رسولی محلاتی، ہاشم، درسہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1371ہجری شمسی۔
- رشیدرضا، محمد، تفسیر القرآن الحکیم الشہیر بتفسیر المنار، بیروت، دار المعرفہ، 1414ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1372ہجری شمسی۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، 1387ھ۔
- طہطاوی، رفاعۃ رافع، نہایۃ الایجاز فی سیرۃ ساکن الحجاز، قاہرہ، دار الذخائر، 2006ء۔
- عاملی، جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم (ص)، قم، دار الحدیث، 1426ھ۔
- عسقلانی، ابنحجر، فتح الباری، دار المعرفۃ، بیروت، 1959ء۔
- غزالی، محمد، فقہ السیرہ، دمشق، دار القلم، 1427ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
- کربلایی پازوکی، علی، «سرگذشت شق صدر النبی از پندار تا حقیقت»(شق الصدر کا واقعہ خیال سے حقیقیت تک)، مجلہ کلام اسلامی، شمارہ 31، خزاں 1378ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- نسائی، احمد بن شعیب، سنن النسائی، حلب، مکتب المطبوعات الاسلامیہ، 1406ھ۔
- ہیکل، محمد حسین، حیاۃ محمد، قم، المجمع العالمی لاہل البیت، 1428ھ۔