بشر بن غالب اسدی

ویکی شیعہ سے
(بشر بن غالب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بشر بن غالب اسدی
معلومات شخصیت
نام: بشر بن غالب اسدی
لقب: ابو صادق
نسب: بنی‌ اسد
مشہور اقارب: غالب بن بشر اور بشیر بن غالب
مقام سکونت: کوفہ
اصحاب: امام علی (ع)، امام حسن (ع)، امام حسین (ع)، امام سجاد (ع)
سماجی خدمات: نقل دعائے عرفہ اور ذات عِرق نامی جگہ پر امام حسین (ع) سے ملاقات

بشر بن غالب اسدی (حیات: سنہ 66 ھ)، ائمہ معصومین (ع) کے اصحاب میں سے تھے اور آپ کا شمار راویان حدیث میں ہوتا ہے۔ نیز انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ دعائے عرفہ کو امام حسین سے نقل کیا ہے۔ بشر ان افراد میں سے ہیں کہ جنہوں نے امام حسین (ع) سے مکہ اور عراق کے سفر کے دوران ذات عرق نامی مقام پر ملاقات کی اور جب امام حسین (ع) نے عراق کے حالات کے بارے میں معلوم کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور ان کی شمشیریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔ اگرچہ وہ واقعہ کربلا میں امام حسین (ع) کے ساتھ موجود نہیں تھے لیکن بعد میں انہوں نے اس پر افسوس اور اظہار شرمندگی کیا۔

مختصر تعارف

بشر بن غالب اسدی کوفی کہ جن کا لقب ابو صادق تھا[1] آپ، صحابی پیغمر غالب بن بشر اسدی کے بیٹے تھے [2] اور آپ کا تعلق بنی‌ اسد قبیلہ سے تھا۔[3] تاریخی کتب میں ان کی تاریخ اور جای پیدائش کے سلسلہ میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔[4]

احمد بن محمد برقی علم رجال کے ماہر شیعہ عالم (متوفی 280 ھ) نے بشر کو اصحاب پیغمبر (ص) میں شمار کیا ہے۔[5] نیز اسی طرح سید محسن امین (متوفی 1371 ھ) اعیان الشیعة میں اور ابن سعد، نے اپنی کتاب طبقات الکبری، میں بشر کو ان اصحاب میں سے جانتے ہیں کہ جنہوں نے بعد میں کوفہ شہر ہجرت کی تھی۔[6] بعض تاریخی کتب میں بشر بن غالب کو حجاج بن یوسف کے لشکر کا سپہ سالار بھی بتایا گیا ہے کہ جو خوارج کے باغی گروہ سے جنگ کے دوران اس عہدے کا مالک تھا۔[7] اور اسی جنگ میں قتل بھی ہوا کہ جو 76ھ میں واقع ہوئی[8] البتہ بعض رجالی کتب میں بشر بن غالب اسدی نام کے دو فرد ملتے ہیں[9] اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے یہ بشر، وہی مشہور بشر ہی ہوں کہ جو بشیر بن غالب کے بھائی تھے۔

راوی حدیث

احمد بن محمد برقی (متوفی 280 ھ) اور شیخ طوسی (متوفی 460 ھ) علم رجال کے شیعہ مولفین، بشر بن غالب اسدی کو ائمہ معصومین (ع) کے اصحاب اور راویوں میں جانتے ہیں لیکن ان کی زندگی کے بارے میں کوئی معلومات بیان نہیں کی ہیں۔[10] شیخ طوسی نے صرف ان کے اسدی اور کوفی ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور ان کو امام حسین (ع) [11] اور امام سجاد(ع) کے صحابیوں میں جانا ہے۔[12] برقی نے بھی ان کا نام ذکر کرنے کے علاوہ ان کو امام حسن(ع)، امام حسین (ع) و امام سجاد (ع) کے اصحاب کی فہرست میں قرار دیا ہے، اور کہیں پر انہیں امیرالمومنین حضرت علی (ع) کے اصحاب میں شمار کیا ہے جو کوفہ میں رہتے تھے۔[13] بشر بن غالب سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں کہ جو مختلف موضوعات پر روایی اور غیر روایی کتب میں موجود ہیں، جیسے : محبت اہل‌ بیت(ع)،[14] تفسیر قرآن،[15] تلاوت قرآن کا ثواب،[16] اور ظہورامام زمانہ عج سے متعلق روایات۔[17] بعض کتب میں وارد ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی بشیر بن غالب کے ساتھ دعائے عرفہ کو امام حسین (ع) سے نقل کیا ہے۔[18]

مذہب اور توثیق

بعض محققین کے نظریہ کے مطابق بشر بن غالب کے مذہب کے سلسلہ میں علماء علم رجال کے درمیان کسی طرح کی صراحت موجود نہیں ہے۔[19] اس کے با وجود عبداللہ مامقانی علم رجال کے شیعہ عالم (متوفی 1351ھ) نے بشر کو مجہول الحال بتاتے ہوئے ان کو شیعہ امامیہ مذہب میں شمار کیا ہے۔ [20] شیعہ مشہور عالم سید محسن امین نے محمد بن عمر کشی جو کہ علم رجال کے شیعہ عالم ہیں کے نظریہ پر اعتماد کرتے ہوئے بشر کو عالم، فاضل اور جلیل القدر شخصیت کے طور پر پہچنوایا ہے، لیکن اس کے بعد سید محسن امین مزید لکھتے ہیں کہ اس قسم کی عبارت رجال کشی سے نہیں پائی گئی اور اصولی طور پر اس قسم کے الفاظ کسی راوی کی توثیق کے سلسلہ میں گذشتہ علماء کے درمیان جیسے کشی سے بیان نہیں ہوئے ہیں (چونکہ گذشتہ علماء دقت نظر کے ساتھ کسی راوی کی توثیق صرف عالم و فاضل کہہ کے نہیں کرتے تھے بلکہ سلسلہ اسناد بھی ذکر کرتے تھے) اور یہی سے معلوم ہوتا ہے یہ الفاظ متاخرین کے ہیں۔[21] اس کے باوجود دعای عرفہ کی شہرت سے استناد کرتے ہوئے (چونکہ بشر دعای عرفہ کے ناقلین میں سے ہیں) کہا گیا ہے کہ وہ موثق راویوں میں سے ہیں۔[22]

امام حسین(ع) سے ملاقات

بشر بن غالب نے امام حسین کے مکہ سے عراق کی طرف روانہ ہوتے ہوئے ذات عرق نامی جگہ پر حضرت سے ملاقات کی۔[23] امام حسین (ع) نے عراق کے حالات کے بارے میں اس سے سوال کیا۔ اس نے جواب دیا کہ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی شمشییریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں امام (ع نے اس کے جواب کی تائید کی پھر فرمایا کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔[24]

امام حسین ع کی بشر سے ذات عرق نامی جگہ پر ملاقات
امام حسین (ع): تم نے کوفہ کے لوگوں کو کیسا پایا؟
بشر بن غالب: لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی شمشیریں بنی امیہ کے ساتھ۔
اے برادر اسدی تم نے سچ کہا ! خداوند عالم جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم دیتا ہے۔[25]

بشر بن غالب نے امام حسین اور ابن زبیر کی ملاقات اور گفتگو بھی نقل کی ہے کہ جس میں امام حسین (ع) نے اپنے عراق جانے کے سبب کو بھی بیان کیا ہے.[26] بشر واقعہ کربلا میں موجود نہیں تھے [27] لیکن ابن سعد اپنی کتاب طبقات الکبری میں اس نظریہ کے قائل ہیں کہ بشر واقعہ کربلا کے بعدامام حسین (ع) کی قبرمطہر پر گیا اور حضرت کا کربلا میں ساتھ نہ دینے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔[28] بشر منہال بن عمرو کے ساتھ مختار کے قیام کے دوران 66ھ میں مدینہ گیا اور جس وقت امام سجاد نے منہال سے حرملہ بن کاہل اسدی کے بارے میں گفتگو کی تو یہ بشر وہاں موجود تھا [29] با وجود اس کے کہ وہ مختار ابن ابی عبید ثقفی کے قیام کے آغاز میں ان کے ساتھ تھا لیکن بعد میں ان کا مخالف ہوگیا چنانچہ مختار ثقفی کے حکم سے قید کر دیا گیا۔[30]

حوالہ جات

  1. کشی، اختیار معرفة الرجال، 1409ھ، ج1، ص171؛ شوشتری، قاموس الرجال، 1410ھ، ج11، ص368.
  2. ابن اثیر، اسد الغابہ، 1409ھ، ج4، ص36.
  3. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص69.
  4. نمونہ کے طور پر دیکھیں: ابن سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج6، ص302؛ امین، اعیان الشیعة، 1403ھ، ج3، ص575.
  5. برقی، الرجال، 1376ش، ص8.
  6. امین، اعیان الشیعة، ۱۴۰۳ق، ج۳، ص۵۷۵.
  7. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج6، ص244؛ ابن مسکویہ، تجارب‌ الأمم، 1387ھ، ج2، ص285؛ ابن اثیر، الکامل، 1385ھ، ج4، ص408.
  8. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج6، ص246؛ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، 1408 ج3، ص194.
  9. ابن حجر عسقلانی، لسان المیزان، 2002ء ج2، ص305؛ ذہبی، میزان الاعتدال، 1382ھ، ج1، ص322.
  10. برقی، رجال برقی، 1376ش، ص8؛ طوسی، رجال طوسی، 1373ش، ص99.
  11. طوسی، رجال طوسی، 1373ش، ص99.
  12. طوسی، رجال طوسی، 1373ش، ص110.
  13. برقی، رجال برقی، 1376ش، ص8.
  14. برقی، المحاسن، 1371ھ، ج1، ص61.
  15. ص دوق، الامالی، 1342ش، ص153؛ حسکانی، شواہد التنزیل، 1411ھ، ج1، ص475.
  16. کلینی، الکافی، 1429ھ، ج4، ص611، 621.
  17. نعمانی، الغیبة، 1397ھ ، ص235؛ طوسی، الغیبة، 1411ھ، ص462.
  18. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ ، ج95، ص214.
  19. شرف‌ الدین، مع موسوعات رجال الشیعة، 1411ھ، ج2، ص257.
  20. مامقانی، تنقیح المقال، 1431ھ، ج12، ص297.
  21. امین، اعیان الشیعة، 1403ھ، ج3، ص576.
  22. «بِشْرِ بْنِ غَالِب؛ صحابی جاماندہ از عاشورا»، خبرگزاری بسیج.
  23. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص69.
  24. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص69-70.
  25. ابن اعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص69-70.
  26. ابو الشیخ، طبقات المحدثین، 1412ھ، ج2، ص186.
  27. مولفین ، مع الرکب الحسینی، 1386ھ، ج3، ص190.
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، 1414ھ، (خامسہ1)، ص501.
  29. مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج45، ص375.
  30. صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ج1، ص248.


مآخذ

  • ابن ابی‌ زینب، محمد بن ابراہیم، الغیبة، تہران، نشر صدوق، 1397ھ.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابة فی معرفة الصحابة، بیروت، دارالفکر، 1409ھ.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت،دار صادر، 1385ھ.
  • ابن اعثم کوفی، احمد، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، 1411ھ.
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، لسان المیزان، تحقیق عبدالفتاح ابوغدة، دار البشائر الاسلامیہ، البطعة الاولی، 2002ء.
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و...، تحقیق خلیل شحادة، بیروت، دارالفکر، دوسرا ایڈیشن 1408ھ.
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری (خامسہ۱)، تحقیق محمد بن صامل السلمی، مکتبة الصدیق، الطبعة الاولی، 1414ھ/1993ء.
  • ابن مسکویہ، احمد بن محمد، تجارب الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، 1379ش.
  • ابوالشیخ، عبداللہ بن محمد، طبقات المحدثین بأصبہان و الواردین علیہا، بیروت، مؤسسة الرسالة، دوسرا ایڈیشن ، 1412ھ.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعة، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1403ھ.
  • برقی، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن، قم، دارالکتب الإسلامیة، 1371ھ.
  • برقی، احمد بن محمد، الرجال، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1342ش.
  • 8760386بِشْرِ بْنِ غَالِب؛ صحابی جاماندہ از عاشورا، خبرگزاری بسیج، تاریخ انتشار: 1395/07/19، تاریخ بازدید: 1398/09/04.
  • جمعی از نویسندگان، مع الرکب الحسینی، قم، تحسین، 1386ش.
  • حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران، التابعة لوزارة الثقافة و الإرشاد الإسلامی، 1411ھ.
  • ذہبی، محمد بن احمد، میزان الاعتدال فی نقد الرجال، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالمعرفة، 1382ھ/1963ء.
  • شرف‌ الدین، عبداللہ، مع موسوعات رجال الشیعة، لندن، الارشاد، 1411ھ.
  • شوشتری، محمد تقی، قاموس الرجال، قم، جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة بقم، دوسرا ایڈیشن، 1410ھ.
  • صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چاپ ششم، ۱۳۷۶ش.
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمّد(ص)، قم، چاپ دوم، مکتبة آیةاللہ المرعشی النجفی، 1404ھ.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، 1387ھ.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبة، قم، دار المعارف الإسلامیة، 1411ھ.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، مؤسسة النشر الاسلامی، تیسرا ایڈِشن، 1373ھ.
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی - إختیار معرفة الرجال، مشہد، مؤسسہ نشر دانشگاہ مشہد، 1409ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، قم، دارالحدیث للطباعة و النشر، 1429ھ.
  • مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال فی علم الرجال، قم، موسسہ آل البیت(ع)، 1431ھ.
  • مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، بحارالأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطہار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسرا ایڈیشن، 1403ھ.